آیت نبأ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیت نبأ
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: آیت نبأ
سورہ: حُجُرات
آیت نمبر: 6
پارہ: 26
صفحہ نمبر: 516
شان نزول: ولید بن عُقبہ کی جھوٹی خبر
محل نزول: مدینہ
موضوع: فقہی، اخلاقی
مرتبط موضوعات: حجیت خبر واحد

آیت نَبَأ، سورہ حجرات کی آیت نمبر 6 کو کہا جاتا ہے۔ اصول فقہ میں خبر واحد کی حجیت میں اس آیت سے بحث کی جاتی ہے۔ اکثر مفسرین قبیلہ بنی‌ المُصطَلَق کی طرف سے زکات نہ دینے سے متعلق ولید بن عُقبہ کی جھوٹی خبر کو اس آیت کی شأن نزول قرار دیتے ہیں۔ اس واقعے اور آیت نبأ کے نازل ہونے کے بعد جب مسلمانوں نے اس خبر کے بارے میں تحقیق کی تو اس کے صحیح ہونے کی تصدیق ہوئی۔

آیت کا متن اور ترجمہ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ
اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔


شأن نزول

مفسرین اس آیت کے لئے دو شأن نزول ذکر کرتے ہیں: اکثر مفسرین لکھتے ہیں کہ یہ آیت ولید بن عُقبہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے جسے پیغمبر اکرمؐ نے قبیلہ بنی المُصطَلَق کے پاس زکات لینے کے لئے بھیجا تھا۔[1] طبرسی مجمع البیان میں لکھتے ہیں کہ جب قبیلہ بنی مصطلق اس بات سے آگاہ ہوئے کہ رسول خداؐ کا نمائندہ ان کی طرف آ رہا ہے، اس کا استقبال کے لئے آگے آئے، لیکن ولید نے زمانہ جاہلیت میں اس قبیلے کے ساتھ موجود دشمنی کی وجہ سے یہ خیال کیا کہ یہ لوگ اسے قتل کرنے آ رہے ہیں۔ اس بنا پر وہ پیغمبر اکرمؐ کے پاس واپس آیا اور کہا: انہوں نے زکات ادا کرنے سے انکار کیا۔ پیغمبر اکرمؐ نے ان سے مقابلہ کرنے کا ارادہ کیا اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی اور مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا کہ جب بھی کوئی فاسق کوئی خبر لے آئے تو اس کی تحقیق اور چھان بین کیا کرو۔[2]

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ آیت پیغمبر اکرمؐ کی زوجہ ماریہ قبطیہ پر لگائی گئی تہمت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس واقعے میں مجرم کو سزا دینے کا اختیار حضرت علیؑ کو دیا گیا تھا، اس سلسلے میں آپ نے پیغمبر اکرمؐ سے سوال کیا اگر میری تحقیق اور مشاہدات لوگوں کے کہنے کے برخلاف ہو تو کیا میں ان شایعات پر عمل نہ کرنے میں صاحب اختیار ہوں؟ اس پر پیغمبر اکرمؐ نے آپ کو ایسا کرنے کی اجازت دی تھی۔ آخر میں آپ کو معلوم ہوا کہ کوئی غلطی کسی سے سرزد نہیں ہوئی اور یہ سب افواہ اور جھوٹ ہے۔[3]

آیت نبأ اور خبر واحد کی حجیت

اصول فقہ میں خبر واحد کی حجیت کو ثابت کرنے کے لئے آیت نبأ سے بحث کی جاتی ہے۔[4] البتہ علمائے اصول اس آیت کے ذریعے خبر واحد کی حجیت کو ثابت کرنے میں اتفاق‌ نظر نہیں رکھتے۔ محمد حسین نائینی خبر واحد کی حجیت کو ثابت کرنے کے لئے اس آیت سے اسنتاد کرنے کو صحیح سمجھتے ہیں[5] لیکن شیخ انصاری اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ آیت خبر واحد کی حجیت پر دلالت نہیں کرتی۔[6]

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۲، ص۱۵۳۔
  2. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۱۹۸۔
  3. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۱۹۸و۱۹۹
  4. مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، ۱۳۸۹ش، ص۶۲۔
  5. نائینی، فوائد الاصول، ۱۳۷۶ش، ج‌۳، ص۱۸۷۔
  6. شیخ انصاری، فرائد الاُصول، ۱۴۱۶ق، ص۱۱۶-۱۳۶۔


مآخذ

  • انصاری، مرتضی بن محمدامین، فرائد الاُصول، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۶ق۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصرخسرو، ۱۳۷۲ش۔
  • مرکز اطلاعات و مدارک اسلامی، فرہنگ‌نامہ اصول فقہ، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۹ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، ج۱، تہران،‌ دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۳۷۴ش۔
  • نائینی، محمدحسین، فوائد الاصول، قم، جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم، چاپ اول، ۱۳۷۶ش۔