سورہ بقرہ آیت نمبر 154
| آیت کی خصوصیات | |
|---|---|
| سورہ | سورہ بقرہ |
| آیت نمبر | 154 |
| پارہ | 2 |
| شان نزول | پس از جنگ بدر |
| محل نزول | مدینہ |
| موضوع | اعتقادی |
| مضمون | مردہ نخواندن کُشتگان راہ خدا |
| مربوط آیات | سورہ آلعمران آیت نمبر 169، سورہ آلعمران آیت نمبر 170. |
سورہ بقرہ آیت نمبر 154، شہداء کو زندہ اور ابدی حیات (برزخی حیات) سے سرفراز قرار دیتی ہے، جو انسانی عقل کی ادراک سے بالاتر ہے۔ کہا گیا ہے کہ یہ آیت اسی سورہ کی پچھلی آیات سے مربوط ہے، جو صبر کے بارے میں ہیں؛ کیونکہ دین کے قیام کے لئے اللہ کی راہ میں جہاد کو صبر کے اعلی نمونے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
بعض مفسرین کے مطابق یہ آیت جنگ بدر کے شہداء کے بارے میں نازل ہوئی ہے، لیکن بیشتر مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ حکم تمام شہداء پر لاگو ہوتا ہے۔ یہ آیت اور سورہ آل عمران کی 169ویں جیسی آیات حق و باطل کے معرکے میں مسلمانوں کے جذبہ مزاحمت اور قربانی کو مضبوط کرنے والے عوامل میں سے ایک کے طور پر جانی جاتی ہے۔
شہداء کی ابدی زندگی
سورہ بقرہ آیت نمبر 154، شہداء کی ابدی حیات کا ذکر کرتی ہے اور اپنے مخاطبین سے انہیں مردہ نہ کہنے کی تلقین کرتی ہے۔[1] یہ آیت جو درحقیقت مشرکین اور کافروں کے ساتھ جہاد کا حکم دیتی ہے، مسلمانوں کو میدانِ کارزار میں شرکت کی ترغیب دینے کے لئے، شہادت کے بعد ابدی زندگی کی حقیقت کو ایک الٰہی بشارت کے طور پر پیش کرتی ہے۔[2]
اس آیت میں اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو محض عمر کا ضیاع نہیں سمجھا گیا، بلکہ شہداء کو اللہ کے نزدیک زندہ بتایا گیا ہے۔[3]اور شہداء کی اس زندگی کے حالات کو سمجھنا ان لوگوں کے لئے ناممکن قرار دیا گیا ہے جو انہیں مردہ سمجھتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس حقیقت کے ادراک کو کامل ایمان کے حامل خردمندوں اور عقلمندوں کی خصوصیات میں سے قرار دیا ہے۔[4]
«وَ لا تَقُولُوا لِمَنْ یقْتَلُ فی سَبیلِ اللَّہِ أَمْواتٌ بَلْ أَحْیاءٌ وَ لکنْ لا تَشْعُرُون»
اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کیے جاتے ہیں، انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں۔ مگر تمہیں (ان کی زندگی کی حقیقت کا) شعور (سمجھ) نہیں ہے۔![5]
اس آیت کو سورہ آل عمران آیت نمبر 169 سے مشابہ قرار دیا گیا ہے[6] اور یہ برزخی حیات کے وجود پر دلالت کرتی ہے۔[7] کہا گیا ہے کہ اسلام میں جہاں شہداء کے اجساد ذاتی طہارت میں دیگر مومنین کے اجساد پر نمایاں فوقیت رکھتے ہیں وہاں ان کی روحیں بھی برزخ اور قیامت کے تکاملی اور شہودی سفر میں بلند درجات کی حامل ہیں اور دیگر اہل ایمان کی روحوں پر فضیلت رکھتی ہیں۔[8]
بعض اہل سنت مفسرین نے اس آیت سے استدلال کرتے ہوئے شہید کو غسل اور نماز جنازہ سے بے نیاز قرار دیا ہے۔[9] اس کے علاوہ بہت سے روائی تفاسیر میں مربوطہ احادیث کو اس آیت کے معنی کی وضاحت میں مورد توجہ قرار دیا گیا ہے۔[10]
صبر کے ساتھ آیت کا ربط
سورہ بقرہ آیت نمبر 154 صبر اور استقامت سے مربوط آیات کے بعد نازل ہوئی ہے اور بعض محققین کے مطابق ان کے مضمون میں قریبی ربط موجود ہے۔[11] اس بنا پر اللہ کے دشمنوں سے مقابلہ کرنا اور دین کے قیام میں جان و مال کی قربانی پیش کرنا صبر کے مظاہر میں سے ہیں۔[12] یہاں تک کہ کہا گیا ہے کہ انسان ایمان اور صبر کے ایک مقام پر پہنچنے کے بعد، موت کو بھی قابل برداشت سمجھتا ہے، اللہ کی راہ میں قتل ہونے کو ایک بڑی کامیابی سمجھتے ہوئے اسے آسانی سے گلے لگاتا ہے۔[13]
کافروں اور مشرکوں کے خلاف جد و جہد کی ترغیب
اس آیت اور قرآن کی دیگر آیات میں شہادت کے مسئلے کو حق و باطل کے معرکے میں ایک کلیدی اور برتر عامل کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ ایک ایسا عامل جو جنگی سازوسامان اور عسکری صلاحیت سے بالاتر ہے اور سب سے خطرناک دشمنوں اور ان کے ہتھیاروں کے اوپر فتح حاصل کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔[14] اسی وجہ سے مسلمانوں نے ہمیشہ کفار کے ساتھ جنگ کو، چاہے فتح کے ساتھ ہو یا اللہ کی راہ میں شہادت کے ساتھ، حتمی کامیابی اور سعادت سمجھا ہے۔[15]
اس عقیدے نے مسلمانوں میں ناقابل تسخیر جذبہ[16] اور استواری پیدا کی ہے اور انہیں دین اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے جان کی قربانی دینے پر آمادہ کیا ہے۔[17] آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق اس عقیدے نے ایران کے اسلامی انقلاب کے دوران بھی ایک مؤثر کردار ادا کیا اور ظاہری محدودیتوں کے باوجود، عظیم طاقتوں کے خلاف ایرانی عوام کی فتح کا سبب بنا۔[18]
شان نزول
بعض مفسرین کے مطابق یہ آیت غزوہ بدر کے بعد اس جنگ کے شہداء کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔[19] جس طرح سورہ آل عمران آیت نمبر 169 غزوہ احد کے شہداء کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔[20] بعض تاریخی شواہد بھی جنگ بدر میں بعض صحابہ کی شہادت کا اس آیت سے تعلق کی گواہی دیتی ہے۔[21] جنگ بدر میں بعض مسلمانوں کی شہادت کے بعد، کچھ لوگوں نے انہیں مردہ قرار دیا جس پر اللہ نے اس آیت میں انہیں شہداء کو مردہ کہنے سے منع کیا۔[22]
آیت کے مخاطب کے بارے میں مختلف آراء موجود ہیں۔ ایک گروہ اسے مسلمانوں اور مومنین سے جبکہ دوسرا گروہ اسے کافروں اور منافقوں سے مخاطب سمجھتے ہیں۔[23] بعض مفسرین مختلف آیات اور احادیث سے استدلال کرتے ہوئے اس آیت کو مشرکوں کے اس دعوے کا جواب سمجھتے ہیں جس میں وہ پیغمبر اکرمؐ کے صحابہ کی شہادت کو بے معنی اور ان کی زندگی کا خاتمہ مانتے تھے۔[24] بعض مفسرین نے شہادت کے مختلف نمونے پیش کرتے ہوئے، مذکورہ آیت کے شان نزول کو شہدائے بدر کے تک محدود نہیں سمجھتے ہیں ا اور اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ حکم اللہ کی راہ میں جان دینے والے تمام افراد پر لاگو ہوتا ہے۔[25]
موت کے بعد شہید کی زندگی کی کیفیت
شہداء کی ابدی حیات کی کیفیت اور نوعیت کے سلسلے میں مفسرین کے درمیان مختلف آراء پائے جاتے ہیں:[26]
طبرسی مجمع البیان میں،[27] علامہ طباطبایی المیزان میں،[28] اور اہلسنت مفسرین جیسے فخر رازی تفسیر الکبیر میں[29] اور آلوسی تفسیر روح المعانی میں،[30] مختلف آراء کا جائزہ لینے کے بعد اس ابدی حیات سے مراد برزخی زندگی لیتے ہیں۔
اگرچہ یہ آیت شہداء کی برزخی زندگی کا ذکر کرتی ہے، لیکن بعض مفسرین کے مطابق اس قسم کی حیات اور زندگی صرف شہداء کے ساتھ مختص نہیں،[31] بلکہ تمام مومنین اور کافروں پر بھی لاگو ہوتی ہے۔[32]
آیت اللہ مکارم شیرازی تفسیر نمونہ میں شہداء کی برزخی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے، برزخ میں دیگر افراد کے مقابلے میں ان کے کچھ امتیازات کا ذکر کرتے ہیں جو کہ خدا کی رحمت اور مختلف نعمتوں سے بہرہ مند ہونا ہے[33] تفسیر الکاشف کے مصنف مغنیہ اس بات کے معتقد ہیں کہ اس آیت میں شہید کی ابدی زندگی کا ذکر، اس کے بلند مقام کو یاد دلانے اور شہادت کی ترغیب دینے کے لئے ہے، ورنہ تمام نیک و بد انسان آخر کار اپنے رب کی طرف لوٹیں گے اور ابدی زندگی سے سرفراز ہوں گے۔[34]
شہداء کی برزخی زندگی کی نوعیت
شہداء کی برزخی زندگی کی کیفیت کے بارے میں مختلف آراء پیش کی گئی ہیں۔ بہت سے علماء، محققین اور قدیم مفسرین نے شہداء کی زندگی کو حقیقی زندگی قرار دیتے ہوئے انہیں جسم اور روح کا حامل قرار دیا ہے۔[35]
شیخ طوسی اپنی کتاب التبیان میں قیامت تک کی زندگی کو حقیقی زندگی قرار دینے کے قول کو صحیح قول قرار دیتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ بعض متاخر کمزور آراء کے علاوہ مفسرین کے درمیان اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر اختلاف نہیں ہے۔[36] بعض مفسرین نے امام صادقؑ سے ایسی احادیث کا بھی حوالہ دیا ہے جن میں شہادت کے بعد کی زندگی کو دنیاوی زندگی کی طرح ایک مثالی جسم اور روح کا حامل قرار دیا ہے۔[37]
اس کے مقابلے میں ایک گروہ کا خیال ہے کہ موت کے بعد کی زندگی، محض روحانی اور جسم سے پاک برزخی زندگی ہے۔ وہ ایسی احادیث کا حوالہ دیتے ہیں جن میں شہداء کی روح کو اللہ کے نزدیک زندہ اور اخروی نعمتوں سے مستفید قرار دی گئی ہے؛ جس طرح آل فرعون کی روحیں اخروی عذاب میں ہیں۔[38]
بعض مفسرین نے اس حیات کی کیفیت کو عقل کی ادراک سے ماورا قرار دیا ہے[39] اور ان کا ماننا ہے کہ شہیدوں کی برزخی زندگی کی نوعیت کے بارے میں کوئی دقیق معلومات دستیاب نہیں ہیں اور انسان اسے سمجھنے کا پابند نہیں ہے۔[40] بلکہ اس کی شناخت کا واحد راستہ وحی ہی ہوگا۔[41]
اس بنا پر، یہ آیت ان لوگوں کے لیے ایک واضح جواب ہے جو یہ خیال کرتے ہیں کہ قرآن میں روح کی بقا اور برزخی زندگی کے بارے میں کوئی معلومات میسر نہیں ہے۔[42]
شہادت کے مفہوم میں وسعت
ایران کے رہبر اعلی آیت اللہ خامنہ ای سورہ بقرہ آیت نمبر 154 سے استدلال کرتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ جو شخص اللہ کی راہ میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتا ہے، وہ شہید محسوب ہوتا ہے، چاہے وہ میدانِ جہاد میں ہو یا لوگوں کی خدمت کے راستے میں۔ ان کے بقول یہ آیت جنگی آیات کے سیاق میں نہیں ہے، لہذا یہ میدانِ جنگ کے مجاہدین کے سات مختص نہیں ہے۔ اس بنا پر جو شخص مثال کے طور پر ملک کی حفاظت یا اسلامی نظام حکومت کی ترقی کی راہ میں کوشش کرتے ہوئی اپنی جان دے، تو اس آیت کے عمومی مفہوم کو مد نظر رکھتے ہوئے اس شخص کو بھی شہید کا عنوان دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایران کے آٹھویں صدر، سید ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر حادثے میں انتقال کے موقع پر کہی۔[43]
حوالہ جات
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ش، ج1، ص520۔
- ↑ حسینی ہمدانی، انوار درخشان، 1404ھ، ج2، ص38-39۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج4، ص127۔
- ↑ حسینی ہمدانی، انوار درخشان، 1404ھ، ج2، ص39-40۔
- ↑ سورہ بقرہ، آیہ 154، ترجمہ مکارم شیرازی۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج4، ص127؛ مغنیہ، تفسیر الکاشف، 1424ھ، ج1، ص242۔
- ↑ صادقی تہرانی، الفرقان، 1365ش، ج2، ص226۔
- ↑ حسینی ہمدانی، انوار درخشان، 1404ھ، ج2، ص40۔
- ↑ ابنعربی، احکام القرآن، بیروت، ج1، ص46۔
- ↑ رجوع کریں: سیوطی، الدر المنثور، 1404ھ، ج1، ص155۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ش، ج1، ص520۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج4، ص127۔
- ↑ جعفری، تفسیر کوثر، 1376ش، ج1، ص402۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ش، ج1، ص522۔
- ↑ حسینی ہمدانی، انوار درخشان، 1404ھ، ج2، ص38-39۔
- ↑ قرشی، تفسیر احسن الحدیث، 1377ش، ج1، ص281۔
- ↑ حسینی ہمدانی، انوار درخشان، 1404ھ، ج2، ص38-39۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ش، ج1، ص522۔
- ↑ بیضاوی، أنوار التنزیل، 1418ھ، ج1، ص114؛ قمی مشہدی، کنز الدقائھ، 1368ش، ج2، ص196؛ ثعلبی، الکشف و البیان، 1422ھ، ج2، ص22۔
- ↑ بغوی، معالم التنزیل، 1420ھ، ج1، ص185۔
- ↑ ابناثیر، أسد الغابۃ، 1409ھ، ج1، ص258، ج4، ص136؛ ابنحجر عسقلانی، الإصابۃ، 1415ھ، ج1، ص498، ج5، ص371۔
- ↑ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، 1408ھ، ج2، ص237؛ بغوی، معالم التنزیل، 1420ھ، ج1، ص185۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج4، ص127۔
- ↑ آلوسی، روح المعانی، 1415ھ، ج1، ص418۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، 1369ش، ج2، ص252؛ قرائتی، تفسیر نور، 1388ش، ج1، ص237۔
- ↑ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، 1408ھ، ج2، ص237؛ آلوسی، روح المعانی، 1415ھ، ج1، ص418۔
- ↑ برای اطلاعات بیشتر رجوع کنید بہ: طبرسی، مجمع البیان، 1372ش، ج1، ص433–435۔
- ↑ برای اطلاعات بیشتر رجوع کنید بہ: طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج1، ص345–350۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج4، ص126۔
- ↑ آلوسی، روح المعانی، 1415ھ، ج1، ص418۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، 1369ش، ج2، ص252؛ بیضاوی، أنوار التنزیل، 1418ھ، ج1، ص114۔
- ↑ طیب، اطیب البیان، 1369ش، ج2، ص252۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ش، ج1، ص521–522۔
- ↑ مغنیہ، تفسیر الکاشف، 1424ھ، ج1، ص242۔
- ↑ ابوالفتوح رازی، روض الجنان، 1408ھ، ج2، ص237؛ آلوسی، روح المعانی، 1415ھ، ج1، ص418۔
- ↑ شیخ طوسی، التبیان، بیروت، ج2، ص35۔
- ↑ حویزی، نور الثقلین، 1415ھ، ج1، ص142۔
- ↑ بیضاوی، أنوار التنزیل، 1418ھ، ج1، ص114؛ بغوی، معالم التنزیل، 1420ھ، ج1، ص185۔
- ↑ بیضاوی، أنوار التنزیل، 1418ھ، ج1، ص114۔
- ↑ مغنیہ، تفسیر الکاشف، 1424ھ، ج1، ص241–242۔
- ↑ آلوسی، روح المعانی، 1415ھ، ج1، ص418۔
- ↑ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1371ش، ج1، ص522۔
- ↑ خامنہای، بیانات در مراسم سیوپنجمین سالگرد امام خمینی، دفتر حفظ و نشر آثار آیتاللہ خامنہای۔
مآخذ
- ابناثیر، علی بن محمد، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دارالفکر، 1409ھ۔
- ابنحجر عسقلانی، احمد بن علی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، تحقیق عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1415ھ۔
- ابنعربی، محمد بن عبداللہ، احکام القرآن، بیروت، دارالجیل، بیتا.
- ابوالفتوح رازی، حسین بن علی، روض الجنان و روح الجنان فی تفسیر القرآن، مشہد، آستان قدس رضوی، چاپ اول، 1408ھ۔
- آلوسی، سید محمود، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم، تحقیق علی عبدالباری عطیہ، بیروت، دارالکتب العلمیہ، چاپ اول، 1415ھ۔
- بغوی، حسین بن مسعود، معالم التنزیل فی تفسیر القرآن، تحقیق عبدالرزاق المہدی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، چاپ اول، 1420ھ۔
- بیضاوی، عبداللہ بن عمر، أنوار التنزیل و أسرار التأویل، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ اول، 1418ھ۔
- ثعلبی، احمد بن محمد، الکشف و البیان المعروف تفسیر الثعلبی، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ اول، 1422ھ۔
- جعفری، یعقوب، تفسیر کوثر، قم، موسسہ انتشارات ہجرت، چاپ اول، 1376ہجری شمسی۔
- حسینی ہمدانی، سید محمد، انوار درخشان، تحقیق محمد باقر بہبودی، تہران، لطفی، چاپ اول، 1404ھ۔
- حویزی، عبدعلی بن جمعہ، تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، چاپ چہارم، 1415ھ۔
- خامنہای، سید علی، «بیانات در مراسم سی و پنجمین سالگرد امام خمینی»، مندرج در سایت خامنہای دات آی ار، تاریخ درج 14 خرداد 1403ہجری شمسی، تاریخ اخذ: 30 تیرماہ 1404ہجری شمسی۔
- سیوطی، عبدالرحمن بن ابیبکر، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، قم، کتابخانہ عمومی آیتاللہ العظمی مرعشی نجفی(رہ)، چاپ اول، 1404ھ۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، بیتا.
- صادقی تہرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن بالقرآن، قم، انتشارات فرہنگ اسلامی، چاپ دوم، 1365ہجری شمسی۔
- طباطبایی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، چاپ دوم، 1390ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تہران، ناصر خسرو، چاپ سوم، 1372ہجری شمسی۔
- طیب، عبدالحسین، اطیب البیان فی تفسیر القرآن، تہران، انتشارات اسلام، چاپ دوم، 1369ہجری شمسی۔
- فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر (مفاتیح الغیب)، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، چاپ سوم، 1420ھ۔
- قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مرکز فرہنگی درسہایی از قرآن، چاپ اول، 1388ہجری شمسی۔
- قرشی، سید علی اکبر، تفسیر احسن الحدیث، تہران، بنیاد بعثت، 1377ہجری شمسی۔
- قمی مشہدی، محمد بن محمدرضا، تفسیر کنز الدقائق و بحر الغرائب، تحقیق حسین درگاہی، تہران، سازمان چاپ وانتشارات وزارت ارشاد اسلامی، چاپ اول، 1368ہجری شمسی۔
- مغنیہ، محمدجواد، التفسیر الکاشف، قم، دارالکتاب الإسلامی، چاپ اول، 1424ھ۔
- مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، چاپ دہم، 1371ہجری شمسی۔