آیت اصلاح ذات البین

ویکی شیعہ سے
آیت اصلاح ذات البین
آیت کی خصوصیات
آیت کا ناماصلاح ذات البین
سورہحجرات
آیت نمبر9
پارہ26
صفحہ نمبر516
شان نزولاوس و خزرج کے درمیان جھگڑا
محل نزولمدینہ
موضوعاخلاق
مضمونصلح و آشتی
مربوط آیاتآیہ اخوت


آیت اصلاح ذات البین سورہ حجرات کی نویں آیت ہے جومومنین کے دو مخالف گروہوں کے درمیان صلح و آشتی کرانے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اس آیت میں اسلامی معاشرے کے تحفظ و اصلاح، مسلمانوں کی جان و مال و ناموس کی حمایت اور دوسروں کی عزت پائمال نہ کرنے سے متعلق کچھ احکام بیان کئے گئے ہیں۔ عادلانہ معیار کے مطابق مومنین کے دو مخالف گروہوں کے درمیان صلح و آشتی قائم کرنا اور سرکش گروہ سے مقابلہ کرنا اس آیت کے خاص احکام ہیں۔
اس آیت میں چند فقہی قواعد استعمال ہوئے ہیں جیسے دو گروہوں کے مابین صلح و آشتی کروانے کا واجب کفائی ہونا، مصلحین کا سرکش گروہ کے جان و مال کا ضامن نہ ہونا، سرکش گروہ کا مصلح گروہ کے جان و مال کا ضامن ہونا، صلح و آشتی کے لئے طاقت کا استعمال کرنے کے لئے حاکم شرع کی اجازت کا ضروری ہونا۔
یہ آیت اوس اور خزرج کے قبائل کے درمیان ہونے والی لڑائی کے لیے نازل ہوئی ہے۔

آیت اور اس کا ترجمہ

وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَینَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَی الْأُخْرَ‌یٰ فَقَاتِلُوا الَّتِی تَبْغِی حَتَّیٰ تَفِیءَ إِلَیٰ أَمْرِ‌ اللَّهِ ۚ فَإِن فَاءَتْ فَأَصْلِحُوا بَینَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا ۖ إِنَّ اللَّهَ یحِبُّ الْمُقْسِطِینَ


اور اگر مومنین کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دو، پھر اگر ان دونوں میں سے ایک دوسرے پر زیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے، پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو، یقینا اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔



سورہ حجرات: 9


اخلاق
اخلاقی آیات
آیات افکآیہ اخوتآیہ اطعامآیہ نبأآیہ نجواآیہ مشیتآیہ برآیہ اصلاح ذات بینآیہ ایثار
اخلاقی احادیث
حدیث قرب نوافلحدیث مکارم اخلاقحدیث معراجحدیث جنود عقل و جہل
اخلاقی فضائل
تواضعقناعتسخاوتکظم غیظاخلاصخشیتحلمزہدشجاعتعفتانصافاصلاح ذات البینعیب‌پوشی
اخلاقی رذائل
تکبرحرصحسددروغغیبتسخن‌چینیتہمتبخلعاق والدینحدیث نفسعجبعیب‌جوییسمعہقطع رحماشاعہ فحشاءکفران نعمت
اخلاقی اصطلاحات
جہاد نفسنفس لوامہنفس امارہنفس مطمئنہمحاسبہمراقبہمشارطہگناہدرس اخلاقاستدراج
علمائے اخلاق
ملامہدی نراقیملا احمد نراقیمیرزا جواد ملکی تبریزیسید علی قاضیسید رضا بہاءالدینیسید عبدالحسین دستغیبعبدالکریم حق‌شناسعزیزاللہ خوشوقتمحمدتقی بہجتعلی‌اکبر مشکینیحسین مظاہریمحمدرضا مہدوی کنی
اخلاقی مآخذ
قرآننہج البلاغہمصباح الشریعۃمکارم الاخلاقالمحجۃ البیضاءرسالہ لقاءاللہ (کتاب)مجموعہ وَرّامجامع السعاداتمعراج السعادۃالمراقبات


شان نزول اور تعارف

سورہ حجرات کی نویں آیت میں مومنین کے دو مخالف گروہوں کے درمیان صلح اور آشتی کرانے کے طریقے بیان ہوئے ہیں۔[1] اس آیت کے شان نزول میں دو روایتیں نقل ہوئی ہیں۔ طبرسی کی نظر میں اس آیت کی شان نزول؛ عرب کے دو قبیلوں اوس و خزرج کے درمیاں کھجور کی چھالوں اور جوتوں سے ہونے والی لڑائی ہے[2] اور بعض اس آیت کا شان نزول عبد اللہ بن رواحہ اور عبداللہ بن ابی کے واقعہ کو سمجھتے ہیں۔ اس روایت کے مطابق ایک دن انس نے پیغمبر اسلامؐ سے عرض کی کہ وہ عبد اللہ ابن ابی سے ملاقات کے لئے جائیں۔ پیغمبرؐ اپنے گدھے پر سوار ہوئے اور عبد اللہ کے گھر کی طرف چل پڑے۔ جب پیغمبرؐ عبداللہ کے پاس پہنچے اس نے پیغمبرؐ سے کہا: یہاں سے دور ہو جاؤ کیونکہ تمہاری سواری کی بدبو اور گرد و خاک سے مجھے تکلیف ہو رہی ہے۔ [[عبد اللہ ابن رواحہ انصاری جو وہیں موجود تھے یہ سن کر آگ بگولہ ہوئے اور انہوں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا جس کے بعد دونوں کے قبیلے والے ایک دوسرے کی حمایت میں آمنے سامنے آگئے اور انہوں نے پتھروں، لکڑیوں اور جوتوں سے ایک دوسرے پر حملہ کیا۔یہی موقع تھا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی اور مومنین کو حکم دیا کہ ان کے درمیان صلح و آشتی برقرار کریں۔[3]

آیت کا مضمون

صادقانہ امن اور بھائی چارہ ایمان کے بنیادی نتائج ہیں۔ اسی لیےان کی حفاظت کو اسلامی معاشرے کی حفاظت کے لیے ایک ضروری امر جانا گیا ہے۔[4] یہ اُن آیات میں سے ہے جو اسلامی معاشرے کے اصلاح و تحفظ، دوسرے انسانوں کی جان، مال اور ناموس کی حفاظت، لوگوں کی آزادی کی حفاظت اور ان کے احترام کو برقرار رکھنے کے لئے اس آیت میں کچھ احکام بیان کئے گئے ہیں: 1۔ اگر دو مومن گروہوں کے درمیان لڑائی اور دشمنی پیدا ہو تو ان کے درمیان صلح اور آشتی کروائی جائے۔ پیغمبر اکرمؐ نے اصلاح ذات البین کو اپنی امت کے بہترین اور با فضیلت ترین کام کے عنوان سے متعارف کروایا ہے یہاں تک کہ آپ اسے درجے کے اعتبار سے نماز، روزہ اور صدقہ سے بھی بالاتر سمجھتے ہیں۔[5] 2۔ اگر ایک گروہ کے ساتھ ظلم اور زیاتی ہوئی ہے تو اس مظلوم گروہ کے ساتھ مل کر دوسرے سے جنگ کی جائے تاکہ صلح واشتی اور خدا کے فرمان کی طرف لوٹ آئیں۔[6] 3۔ جب جنگ ختم ہو جائے تو ان کے درمیان عدالت کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔[7] اس آیت میں خدا مومنین سے چاہتا یے کہ جب بھی دو مومن گروہوں کے درمیان لڑائی، تنازعہ یا جنگ ہو یا جنگ کا خدشہ ہو یا لڑائی جنگ میں تبدیل نہ ہوئی ہو تو ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ان دو گروہوں کے درمیان صلح و اشتی قائم کی جائے۔ اس کام کو واجب کفائی جانا گیا ہے۔[8] مخالف گروہ کے درمیان صلح کو قائم کرنے کا کام مرحلہ وار اور تدریجی طور پر انجام دینا چاہیے۔ اس طرح سے کہ پہلے زبان سے نصحیت کی جائے اور انہیں امن کی دعوت دی جائے، اگر یہ کارآمد نہ ہو تو عملی صورت می لڑائی ختم کرنے کا اقدام کیا جائے۔[9] آیت کے آخر میں خداوند نےاصلاح بین ذات کو عادلانہ بنیاد پر انجام دینے کا حکم دیا ہے۔ علامہ طباطبائی کے مطابق اصلاح بین ذات کو عدل کی بنیاد پر انجام دینے سے مراد یہ ہے کہ جنگ کے بعد اس کے نتائیج سے صرف نظر نہ کیا جائے بلکہ احکام الٰہی کو ہر ایک کے لیے یعنی جس سے زیادتی ہوئی ہے یا جس کا حق ضائع ہوا ہے، جیسے کسی سے کوئی قتل ہوا یا مال و عزت لوٹی گئی تو وہاں عدالت کے تقاضوں کو پورا کیا جائے اور جس نے ظلم کیا ہے اس سے مظلوم کو حق دلوایا جائے۔[10]

آیت سے حاصل ہونے والے فقہی احکام

بعض فقہا نے اس آیت سے متعدد فقہی احکام کا استنباط کیا ہے:

  • مسلمان مخالف گروہوں کے درمیان صلح و صفائی ایک واجب کفائی ہے۔
  • سرکش گروہ سے پہلے مرحلے میں گفتگو کے نتائج حاصل نہ ہونے کی صورت میں مسلحانہ جنگ کرنا جائز ہے۔
  • سرکشوں اور باغیوں کا خون اور مال جو ان حالات میں ضائع ہو گا دوسرا گروہ کے لیے اس کی بھرپائی ضروری ہے۔
  • اصلاح کے لیے گفتگو کے مرحلے میں حاکم شرع سے اجازت لینا ضروری نہیں ہے لیکن سختی سے عمل کی صورت میں جہاں خون ریزی بھی ہو اس کے لیے حاکم شرع سے اجازت لینا ضروری ہے۔
  • اگر سرکش گروہ مصلح گروہ میں سے کسی کا خون بہائے یا ان کے مال کو غارت کرے تو وہ اس کا ضامن ہوگا۔
  • جنگ کا مقصد کیونکہ دو مومن گروہوں کی اصلاح ہے اس لئے اس میں جنگی قیدی اور مال غنمیت کا مسئلہ پیش نہیں آئے گا اور جنگ کے خاتمے پر قیدیوں کو آزاد کیا جائے گا اور ان کا مال واپس لوٹایا جائے۔[11]

وابستہ مضامین

حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۲، ص۱۶۶-۱۶۷
  2. طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۹، ص۱۹۹.
  3. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۱ھ، ص۴۰۸-۴۰۹.
  4. صادقی تہرانی، الفرقان، ۱۴۰۶ھ، ج۲۷، ص۲۳۵.
  5. پاینده، نہج الفصاحہ، ۱۳۸۲ش، ص۲۴۰.
  6. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۲، ص۱۶۷.
  7. مغنیہ، تفسیر الکاشف، ۱۴۲۴ھ، ج۷، ص۱۱۳.
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۲، ص۱۶۶-۱۶۸.
  9. فیض کاشانی، تفسیر الصافی، ۱۴۱۵ھ، ج۵، ص۵۰.
  10. طباطبائی، المیزان، ۱۳۹۰ھ، ج۱۸، ص۴۶۹.
  11. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲۲، ص۱۷۰-۱۷۲.

مآخذ

  • پاینده، ابوالقاسم، نہج الفصاحہ، تہران، دنیای دانش، ۱۳۸۲ش۔
  • صادقی تہرانی، محمد، الفرقان فی تفسیر القرآن، قم، فرہنگ اسلامی، ۱۴۰۶ھ۔
  • طباطبائی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیا التراث العربی، ۱۳۹۰ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش۔
  • فیض کاشانی، محمد بن شاه مرتضی، تفسیر الصافی، تہران، مکتبہ الصدر، ۱۴۱۵ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • مغنیہ، محمدجواد، تفسیر الکاشف، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۲۴ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب العلمیہ، ۱۳۷۱ش۔
  • واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن، محقق کمال بسیونی زغلول، بیروت،‌ دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۱ھ۔