آیت بیعت رِضوان یا آیت بیعت سورہ فتح کی اٹھارویں آیت کو کہا جاتا ہے جس میں خدا بیعت رِضوان میں شرکت کرنے والے مؤمنین پر اپنی خشنودی کا اعلان فرماتا ہے۔ اہل‌ سنت علماء صحابہ کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے اسی آیت سے استناد کرتے ہیں؛ لیکن شیعہ مفسرین اس بات کے معتقد ہیں کہ اس آیت میں خدا کی رضایت اس بات پر موقوف ہے کہ صحابہ اپنی عہد و پیمان پر قائم و دائم رہیں اس بنا پر اس آیت سے مراد صرف وہ اصحاب ہیں جنہوں نے آخری عمر تک اس عہد و پیمان کا لحاظ رکھا۔ شیعہ مفسرین کے مطابق سورہ فتح کی آیت نمبر 10 مذکورہ آیت کے بعد نازل ہوئی ہے جس میں خدا نے پيغمبر اکرمؐ کی اطاعت اور پیمان‌ شکنی سے پرہیز کرنے کو مومنین پر اپنی رضایت کے لئے شرط قرار دیا ہے۔

آیت بیعت رضوان
آیت کی خصوصیات
آیت کا نامآیت بیعت رضوان • آیت رضوان • آیت بیعت
سورہسورہ فتح
آیت نمبر18
پارہ26
موضوعاعتقادی
مضمونبیعت رضوان
مرتبط موضوعاتسورہ فتح آیت نمبر 10

آیت بیعت رضوان کے مطابق خداوندعالم بیعت رضوان میں پیغمبر اکرمؐ کی بیعت کرنے والے مومنین کو اجر عظیم عطا فرماتا ہے جن میں خدا کی خشنودی، سکون قلب اور قریب الوقوع فتح شامل هیں۔ اسی طرح بعد والی آیت میں کثیر جنگی غنایم سے بہرہ مند ہونے کا وعدہ بھی دیا گیا ہے اور مفسرین کے مطابق یہ وعدہ جنگ خیبر میں پورا ہوا۔

وجہ تسمیہ اور اہمیت

سورہ فتح کی اٹھارویں آیت جس میں بیعت رضوان کا واقعہ بیان ہوا ہے "آیت بیعت رضوان" یا "آیت بیعت" کے نام سے موسوم ہے۔[1] اہل‌ سنت علماء تمام صحابہ کی عدالت کو ثابت کرنے کے لئے اس آیت سے استناد کرتے ہیں۔[2]

متن و ترجمہ

لَقَدْ رَضِيَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِى قُلُوبِہِمْ فَأَنزَلَ السَّكِينَۃَ عَلَيْہِمْ وَأَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِيبًا


بےشک اللہ مؤمنین سے راضی ہوا جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ(ص) سے بیعت کر رہے تھے تو اس نے جان لیا جو کچھ ان کے دلوں میں تھا۔ پس اس نے ان پر سکون و اطمینان نازل کیا اور انہیں انعام میں ایک قریبی فتح عنا یت فرمائی۔۔



سورہ فتح: آیت 18


بیعت رضوان

سانچہ:اصلی بیعت رضوان یا بیعت شَجَرہ پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ بعض اصحاب کے اس عہد و پیمان کو کہا جاتا ہے جو سنہ 6 ہجری کو مکہ کے قریب منعقد ہوا۔ تیسری صدی ہجری کے مورخ اور السّیرۃُ النَّبویہ کے مصنف ابن‌ ہشام کے مطابق اس واقعے میں پیغمبر اکرمؐ اپنے بعض اصحاب کے ساتھ عمرہ کی قصد سے مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے لیکن مشرکین قریش نے انہیں مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس موقع پر پیغمبر اکرمؐ اور مشرکین مکہ کے درمیان وفود اور پیغامات کا تبادلہ ہوا اسی اثناء میں پیغمبر اکرمؐ کے بھیجے ہوئے نمائندے کو قتل کئے جانے کی خبر پھیلی جس کے باعث پیغمبر اکرمؐ نے اپنے اصحاب سے بیعت لیا اور انہوں نے آخری سانس تک پیغمبر اکرمؐ کا ساتھ دینے کا عہد کیا۔ یہ واقعہ آخر کار صلح حُدَیبیّہ تک منتج ہوا جس کی بنا پر مسلمان اس سال حج پر نہیں جائیں گے لیکن اگلے سال خانہ کعبہ کی زیارت اور حج کے لئے مکہ جا سکیں گے۔[3]

مضمون؛ بیعت‌ کرنے والوں کا انعام

اس آیت میں خداوندعالم نے بیعت رضوان میں پیغمبر اکرمؐ کی بیعت کرنے والے مؤمنین پر اپنی رضایت اور خشنودی کا اعلان کیا ہے۔[4] اس آیت کے مطابق خداوند عالم ان باوفا مؤمن صحابہ کو 3 اجر عطا فرماتا ہے جنہوں نے حساس لمحات میں پیغمبر اکرمؐ کی بیعت اور حمایت کا اعلان کیا:

  1. ان پر خدا کی خشنودی: «رَضِيَ اللَّہ»؛
  2. سکون قلب: «فَأَنْزَلَ السَّكِينَۃَ عَلَيْہِمْ»: خدا نے ان کو ایسا سکون عطا کیا کہ دشمنوں کے نرغے میں اپنے وطن سے دور دیار غربت میں بغیر کسی اسلحہ اور تیاری کے کسی قسم کا کوئی خوف و هراس میں مبتلا نہ ہوئے اور پہاڑ کی طرح ثابت قدم اور استوار رہے؛
  3. قریب الوقوع فتح: «أَثَابَہُمْ فَتْحًا قَرِيبًا»:اکثر مفسرین کے مطابق اس فتح سے مراد فتح خیبر ہے کیونکہ فتح خیبر ساتویں ہجری کے اوائل میں صلح حُدَیبیّہ کے چند مہینوں بعد نصیب ہوئی۔ اسی طرح "وَ مَغانِمَ کَثِیرَۃً یَأْخُذُونَہا" کی عبارت جو بعد والی آیت میں آئی ہے جنگ خیبر میں مسلمانوں کو ملنے والے جنگی عنائم کی طرف اشاره ہے۔[5]

عدالت صحابہ کے اثبات کے لئے آیت سے استناد

اہل‌ سنت کے بعض علماء اس آیت کو تمام صحابہ کی عدالت پر دلیل قرار دیتے ہیں۔[6] اہل‌ سنت علماء کا کہنا ہے کہ صحابہ کرام پر خدا کی خشنودی اور رضایت اس بات کی دلیل ہے کہ تمام اصحاب عادل تھے اور کہتے ہیں کہ جس پر خدا راضی ہو اس پر کبھی بھی خدا کا غصب نہیں ہو گا۔[7] لیکن شیعہ علماء کے مطابق یہ آیت صحابہ کی عدالت پر دلالت نہیں کرتی؛ کیونکہ اس آیت میں خدا کی خشنودی اور رضایت فقط ان اصحاب تک محدود ہے جو بیعت رضوان میں حاضر تھے اور آخری عمر تک اس عہد و پیمان پر باقی رہے نہ تمام اصحاب۔[8] اسی طرح تمام اصحاب کی عدالت کا نظریہ سورہ توبہ کی آیت نمبر 101 کے ساتھ بھی سازگار نہیں ہے؛ کیونکہ مذکورہ آیت میں بعض اصحاب کو منافق قرار دیا گیا ہے۔[9]

شیعہ مفسرین کے مطابق اس آیت میں خدا کی خشنودی اور رضایت اس بات پر موقوف ہے کہ صحابہ پیغمبر اکرمؐ کی اطاعت اور پیروی میں ثابت قدم رہیں۔[10] تفسیر قمی کے مؤلف علی بن ابراہیم قمی کے مطابق سورہ فتح کی آیت نمبر 10 جو کہ مذکورہ آیت کے بعد نازل ہوئی ہے، میں خدا نے مؤمنین پر اپنی رضایت اور خشنودی کو ان کی طرف سے پيغمبر اکرمؐ کی اطاعت اور پیمان‌ شکنی سے پرہیز کرنے کے ساتھ مشروط قرار دیا ہے۔[11]

حوالہ جات

  1. دفتر تبلیغات اسلامی، فرہنگنامہ علوم قرآن، ص۳۴۷۔
  2. مراجعہ کریں: ابن‌حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ھ، ج۱، ص۱۶۲-۱۶۳۔
  3. ابن‌ہشام، السیرۃ النبویۃ، دارالمعرفہ، ج۲، ص۳۰۸-۳۱۶۔
  4. قمی، تفسیر القمی، دارالسرور، ج۲، ص۳۱۵۔
  5. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ہجری شمسی، ج۲۲، ص۶۶-۶۸۔
  6. خطیب بغدادی، الکفایہ، المکتبۃ العلمیہ، ج۱، ص۶۴؛ ابن‌حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵ھ، ج۱، ص۱۶۲-۱۶۳۔
  7. ابن‌عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ھ، ج۱، ص۴۔
  8. طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج۹، ص۳۲۹۔
  9. سورہ توبہ، آیہ۱۰۱۔
  10. قمی، تفسیر القمی، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۳۱۵؛ طباطبایی، المیزان، اسماعیلیان، ج۱۸، ص۲۹۲۔
  11. قمی، تفسیر القمی، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۳۱۵۔

مآخذ

  • ابن‌حجر عسقلانی، احمد بن علی، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، تحقیق عادل احمد عبدالموجود، علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ھ۔
  • ابن‌عبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دار الجیل، ۱۹۹۲م/۱۴۱۲ھ۔
  • ابن‌ہشام، عبدالملک بن ہشام، السيرۃ النبويۃ، دارالمعرفہ، بی‌تا۔
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، الکفایہ فی علم الروایۃ، تحقیق ابوعبداللہ السورقی و ابراہیم حمدی المدنی، مدینہ، المکتبۃ العلمیہ، بی‌تا۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، اسماعیلیان، بی‌تا۔
  • طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تحقیق احمد قصیر عاملی، مقدمہ آقابزرگ تہرانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، تصحیح طیب موسوی جزائری، قم، دارالکتاب، چاپ سوم، ۱۴۰۴ھ۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، چاپ سی و دوم، ۱۳۷۴ہجری شمسی۔