مندرجات کا رخ کریں

سورہ فتح آیت نمبر 1

ویکی شیعہ سے
سورہ فتح آیت نمبر 1
آیت کی خصوصیات
آیت کا نامآیت فتح مبین
سورہفتح
آیت نمبر1
پارہ26
شان نزولصلح حدیبیہ اور اسے کے بعد کے واقعات
محل نزولمدینہ
موضوعپیغمبر اکرمؐ کو فتح مبین کی بشارت
مضمونصلح حدیبیہ
مربوط آیاتسورہ محمد کی آیت نمبر 35 اور 38


سورہ فتح آیت نمبر 1 یا آیت فتح مبین، پیغمبر اکرمؐ کو نمایاں فتح کی بشارت دیتی ہے۔ مفسرین فتح مبین کے مصداق کے بارے میں مختلف آراء رکھتے ہیں: اکثر مفسرین اسے صلح حدیبیہ کے فوائد اور نتائج کی طرف نسبت دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں قریش کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا گیا اور فتح مکہ و فتح خیبر کی راہ ہموار ہوئی۔

دوسرا گروہ فتح مبین سے مراد فتح مکہ یا فتح خیبر لیتے ہیں، جبکہ بعض اسے اسلام کی روحانی اور معنوی فتح، یعنی دلیل، برہان اور معجزات کے ذریعے اسلام کا مخالفین پر غلبہ، کے طور پر تفسیر کرتے ہیں۔

اجمالی تعارف

سورہ فتح کی پہلی آیت نبی مکرم اسلامؐ کو "فتح مبین" کی بشارت دیتی ہے۔ یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی اور "آیت فتح مبین" کے نام سے مشہور ہے۔[1] بعض روایات کے مطابق یہ فتح پیغمبر اکرمؐ کے نزدیک دنیا اور اس کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب تھی۔[2]

إِنّا فَتَحْنا لَکَ فَتْحاً مُبِیناً
(اے رسول(ص)) بےشک ہم نے آپ(ص) کو ایک فتحِ مبین (نمایاں فتح) عطا کی ہے۔

تفسیری منابع میں اس فتح کو اسلام کی ترویج اور مسلمانوں کی اجتماعی حیثیت کی مضبوطی میں گہرے اثرات کا حامل قرار دیا گیا ہے۔[3]

فتح مبین کی تفسیر

اس آیت میں "فتح مبین" سے کس واقعے کی طرف اشارہ ہے، اس بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔[4]

صلح حدیبیہ اور اس کے بعد کی فتوحات

اکثر مفسرین[5] کا ماننا ہے کہ "فتح مبین" سے مراد صلح حدیبیہ کے فوائد اور نتائج کی طرف اشارہ ہے۔[6] یہ صلح فتح مکہ اور فتح خیبر کی راہ ہموار کرنے کا سبب بنی[7] اور اس کے نتیجے میں قریش نے پہلی بار اسلام اور مسلمانوں کو باقاعدہ طور پر تسلیم کیا۔[8] اسی طرح مسلمانوں اور مشرکین کے درمیان رابطہ برقرار ہوا جس کے نتیجے میں بعض افراد نے اسلام قبول کیا۔[9] تفسیر قمی میں امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک روایت میں صلح حدیبیہ اور اس کے بعد کے واقعات کو اس آیت کے نزول کا سبب بتائے گئے ہیں۔[10]

بعض مفسرین نے اس آیت میں "فتح" سے مراد اسلام کی روحانی اور معنوی فتح لیا ہے۔ یعنی اسلام دلیل، برہان اور معجزات کے ذریعے اپنے مخالفین پر غالب آیا ہے۔[11] محمد جواد مغنیہ کے مطابق اس آیت میں "فتح" کسی خاص زمان یا مکان تک محدود فتح کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ اسلام کی بلندی، مسلمانوں کی طاقت اور اسلام کے مخالفین کے زوال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔[12]

بعض مفسرین نے "فتح مبین" کو فتح مکہ سے تفسیر کیا ہے۔ اہل سنت مفسر فخر رازی نے سورہ محمد کی آخری آیات (آیات 35 اور 38) میں موجود "اَعْلَون" کی عبارت کی بنیاد پر فتح مکہ کو مسلمانوں کی برتری کا سبب قرار دیتے ہوئے اسے "فتح مبین" کا مصداق بتایا ہے۔[13]

طبرسی اور علامہ طباطبائی کے نقل کے مطابق بعض مفسرین نے "فتح مبین" سے مراد فتح خیبر لیتے ہوئے مذکورہ آیت کو قریبی فتح سے متعلق قرار دیا ہے۔[14]

حوالہ جات

  1. طبرسی، مجمع البیان، 1415ھ، ج9، ص181۔
  2. طبرسی، مجمع البیان، 1415ھ، ج9، ص181؛ مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج7، ص82؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج22، ص9۔
  3. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج22، ص9۔
  4. فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج28، ص65؛ مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج7، ص83۔
  5. آلوسی، روح المعانی، 1415ھ، ج13، ص239؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج22، ص9۔
  6. نمونہ کے لئے: طبرسی، مجمع البیان، 1415ھ، ج9، ص182؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج28، ص65؛ طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج18، ص252۔
  7. طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج18، ص252–253؛ مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج22، ص17۔
  8. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، 1374شمسی، ج22، ص14–15۔
  9. نمونہ کے لئے: طبرسی، مجمع البیان، 1415ھ، ج9، ص182؛ حویزی، تفسیر نور الثقلین، 1415ھ، ج5، ص48۔
  10. قمی، تفسیر القمی، 1404ھ، ج2، ص309۔
  11. فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج28، ص65؛ طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج18، ص253۔
  12. مغنیہ، التفسیر الکاشف، 1424ھ، ج7، ص83؛ مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن، 1368شمسی، ج9، ص16۔
  13. فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج28، ص65۔
  14. طبرسی، مجمع البیان، 1415ھ، ج9، ص184؛ طباطبایی، المیزان، 1393ھ، ج18، ص253۔

مآخذ

  • محمود بن عبداللہ، آلوسی، روح المعانی، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، 1415ھ۔
  • عبد على بن جمعۃ، حویزی، تفسیر نور الثقلین، قم، اسماعیلیان، چوتھی اشاعت، 1415ھ۔
  • سید محمدحسین، طباطبایی، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، 1393ھ۔
  • فضل بن حسن، طبرسی، مجمع البیان، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، پہلی اشاعت، 1415ھ۔
  • محمد بن عمر، فخر رازی، التفسیر الکبیر، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ھ۔
  • علی اکبر، قرشی، قاموس قرآن، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، 1412ھ۔
  • علی بن ابراہیم، قمی، تفسیر القمی، قم، دار الکتاب، تیسری اشاعت، 1404ھ۔
  • حسن، مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، پہلی اشاعت، 1368ہجری شمسی۔
  • ناصر، مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامیۃ، 1374ہجری شمسی۔
  • محمدجواد، مغنیہ، التفسیر الکاشف، بیروت، دار الکتاب الاسلامی، 1424ھ۔