آیت آمن الرسول

ویکی شیعہ سے
آیت آمن الرسول
آیت کی خصوصیات
آیت کا نامآمن الرسول
سورہبقرہ
آیت نمبر۲۸۵ و ۲۸۶
پارہ۳
شان نزولصحابہ کی دلجویی اور انہیں ایمان کے آداب کی تعلیم
محل نزولمدینہ
موضوعاعتقادی
مضمونخدا کی عبادت کے آداب؛ خدا، انبیاء اور قیامت پر ایمان


آیت آمَنَ الرّسول، سورہ بقرہ کی ۲۸۵ویں اور ۲۸۶ویں آیت کو کہا جاتا ہے جو مسلمانوں کے یہاں نہایت حائز اہمیت ہے۔ حدیثی منابع میں ان دو آیتوں کی فضیلت میں پیغمبر اسلامؐ سے نقل ہونے والی احادیث کے مطابق یہ دو آیتیں شب معراج کو پیغمبر اکرمؐ کے لئے عطا کی گئیں ہیں۔

ان آیتوں کے مضامین کچھ اس طرح ہیں: خدا پر ایمان، انبیاء کی تصدیق، معاد پر ایمان، خدا کی عبادت کا حق ادا کرنا، مؤمنین کی ایمان قلبی اور اطاعت عملی، خدا کی بخشش، بندگان خدا کی استطاعت سے زیادہ حکم نہ دینا۔

شیعہ اور سنی احادیث میں ان دو آیتوں کو رات کے وقت اور بعض مستحب نمازوں میں پڑھنے کی سفارش ہوئی ہے۔ بعض مساجد میں نماز عشاء کے بعد ان آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے۔

متن اور ترجمہ

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْهِ مِن رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُونَ ۚ كُلٌّ آمَنَ بِاللَّـهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِهِ ۚ وَقَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ﴿٢٨٥﴾ لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ ﴿٢٨٦﴾


رسولؐ ان تمام باتوں پر ایمان رکھتا ہے جو ان کے پروردگار کی طرف سے ان پر اتاری گئی ہیں اور مؤمنین بھی (سب) خدا پر اس کے ملائکہ پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم خدا کے رسولوں میں تفریق نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ ہم نے فرمانِ الٰہی سنا اور اس کی اطاعت کی! پروردگار ہمیں تیری مغفرت درکار ہے۔ اور تیری ہی طرف پلٹ کر آنا ہے۔ (285) خدا کسی کو اس کی وسعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا وہ جو (نیکی) کرے گا۔ اس کا نفع اس کو ہوگا اور وہ جو (برائی) کرے گا اس کا نقصان بھی اسی کو ہوگا۔ پروردگار! اگر ہم بھول جائیں یا چوک جائیں تو ہماری گرفت نہ کر۔ پروردگار! ہم پر ویسا بوجھ نہ ڈال جیسا ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ پروردگار! ہم پر وہ بار نہ ڈال جس کے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے۔ اور ہمیں (ہمارے قصور) معاف کر۔ اور ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے۔ اور ہم پر رحم فرما تو ہمارا مالک و سرپرست اعلیٰ ہے۔ کافروں کے مقابلہ میں تو ہی ہماری مدد فرما۔ (286)



سورہ بقرہ 285-286


فضیلت اور مضامین

سورہ بقرہ کی آیت نمبر ۲۸۵ اور ۲۸۶ کو آمَنَ الرَّسُولُ کے جملے کے ساتھ شروع ہونے کی وجہ سے آیات آمَنَ الرَّسول کہا جاتا ہے۔[1] ان دو آیتوں کی فضلیت کے بارے میں شیعہ [2] اور اہل سنت[3] منابع میں احادیث نقل ہوئی ہیں۔ مثلا پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوا ہے کہ معراج کے دن عرش کے نیچے موجود گنجینے میں سے سورہ بقرہ کی آخری دو آیتیں آپ کو بخش دی گئیں۔[4] اسی طرح ان دو آیتوں کو بعض مستحب نمازوں[5] اور رات کے آخری حصے میں سونے سے پہلے[6] پڑھنے کی سفارش ہوئی ہے۔

اہل‌ سنت منابع میں عبداللہ بن عمر کے توسط سے پیغمبر اکرمؐ سے روایت ہوئی ہے کہ نماز عشاء کے بعد ان آیتوں کو دو دفعہ پڑھنا نماز شب سے کفایت کرتی ہے۔[7] اسی بنا پر بعض مساجد جہاں نماز جماعت برپا ہوتی ہے، نماز عشاء کے بعد ان آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے۔[8]

سیدِ قطب اس بات کے معتقد ہیں کہ سورہ بقرہ کا خلاصہ خدا، ملائکہ، انبیاء اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں اور معاد اور مغفرت خدا پر ایمان لانا ہے جو ان دو آیتوں میں بیان ہوا ہے۔[9] اسی بنا پر ان دو آیتوں کے مضامین کو سورہ بقرہ میں بحث ہونے والے اسلامی معارف اور اعتقادات پر تاکید سمجھتے ہیں۔[10]

شأن نزول

ان دو آیتوں کی شأن نزول کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب سورہ بقرہ کی آیت نمبر 284 " اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ خواہ تم اس کو ظاہر کرو یا اسے چھپاؤ۔ خدا سب کا تم سے محاسبہ کرے گا۔" نازل ہوئی تو اصحاب کا ایک گروہ غمگین ہوئے کہ کہیں وہ بھی گذشتہ امتوں کی طرح خدا کی نافرمانی نہ کریں۔ اس بنا پر انہوں نے پیغمبر اکرمؐ سے کہا: "ہم میں سے کوئی ایک بھی باطنی وسوسوں سے خالی نہیں ہیں" اسی بنا پر مذکورہ آیتیں نازل ہوئی اور ہمیں ایمان، تضرع اور استغفار کے آداب سکھائے۔[11]

تفسیری نکات

تفسیری منابع کے مطابق آیات آمن الرسول میں موجود تفسیری نکات درج ذیل ہیں:

  • ‌ مؤمنین جو کچھ انبیاء لے آئیں ہیں ان میں کسی تفاوت کے بغیر ایمان رکھتے ہیں۔[12]
  • انبیاء کی خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ وہ خود بھی اپنے مذہب پر ایمان رکھتے تھے، ان کے اعتقادت میں کسی قسم کا کوئی تزلزل نہیں تھا۔ انبیاء خود دوسروں سے پہلے اپنے لائے ہوئے دین پر ایمان لاتے تھے اور سب سے زیادہ ان چیزوں پر استقامت دکھاتے تھے۔[13]
  • خدا کے احکام بندوں کی استطاعت سے زیادہ (تکلیف ما لا یطاق) نہیں ہوتے ہیں۔[14]
  • "سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا" کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمنین قلبی ایمان کے ساتھ عملی طور پر بھی اپنے وظیفے پر عمل کرتے ہیں۔[15]
  • یہ آیتیں خدا کا بندوں پر اور بندوں کا خدا کے اوپر حق پر دلالت کرتی ہیں۔ عبادتْ بندوں پر خدا کا حق ہے اور گناہوں کی بخشش خدا پر بندوں کا حق ہے جسے خدا نے خود اپنے اوپر واجب کیا ہے۔[16]

حوالہ جات

  1. دایرۃ المعارف قرآن، ۱۳۸۲ش، ج۱، ص۴۱۸۔
  2. علامہ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۸، ص۲۳۹؛ قمی، تفسیر القمی، ۱۴۰۴ق، ج۱، ص۹۵۔
  3. ابن‌ کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۵۶۹-۵۷۳۔
  4. ابو عبید الہروی، فضائل القرآن، دمشق، ص۲۳۳۔
  5. ابن‌ طاووس، اقبال‌ الاعمال‏، ۱۴۰۹ق، ج۲، ص۶۶۷، ۶۶۸، ۶۹۱، ۷۲۲۔
  6. ابن‌ کثیر، تفسیر القرآن العظیم، ۱۴۱۹ق، ج۱، ص۵۶۹۔
  7. قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۱۳۶۴ش، ج۳، ص۴۳۳۔
  8. «اشتباہ‌ نويسی و اشتباہ‌ خوانی قرآن در مساجد؛ چہ كسی مسئول است؟»
  9. سید قطب، فی ظلال القرآن، ۱۴۲۴ق، ج۱، ص۳۴۴۔
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۳۹۷۔
  11. واحدی، اسباب النزول القرآن، ۱۴۱۱ق، ص۹۷-۹۸؛ شاہ‌ عبدالعظیمی، تفسیر اثنی عشری، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۵۱۹۔
  12. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲، ص۴۴۰۔
  13. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۳۹۸۔
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۴۰۰-۴۰۱۔
  15. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲، ص۴۴۳۔
  16. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۰ق، ج۲، ص۴۴۳۔

مآخذ

  • ابن‌ طاووس، علی بن موسی، اقبال‌ الاعمال‏، تہران، دار الكتب الاسلاميۃ‏، ۱۴۰۹ھ۔
  • ابن‌ كثير، اسماعيل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، محقق محمد حسين‏ شمس‏ ‌الدين، بیروت، دارالكتب العلميۃ، ۱۴۱۹ھ۔
  • ابو عبید الہروی، فضائل القرآن، دمشق، دار ابن‌ کثیر، بی‌تا۔
  • «اشتباہ‌ نويسی و اشتباہ‌ خوانی قرآن در مساجد؛ چہ كسی مسئول است؟» خبرگزاری بین‌ المللی قرآن، انتشار: ۳ شہریور ۱۳۸۷ش، مشاہدہ: ۸ بہمن ۱۳۹۸شمسی۔
  • سید قطب، فى ظلال القرآن‏، بیروت، دار الشروق، ۱۴۲۵ھ۔
  • شاہ‌ عبد العظیمی، حسین، تفسير اثنى‌ عشرى‏، تہران، میقات، ۱۳۶۳شمسی۔
  • طباطبایی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات‏، ۱۳۹۰ھ۔
  • قرائتی، محسن، تفسیر نور، تہران، مركز فرہنگى درس‌ہايى از قرآن‏، ۱۳۸۸شمسی۔
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لاحکام القرآن، تہران، ناصر خسرو، ۱۳۶۴شمسی۔
  • قمى، على بن ابراہيم‏، تفسیر القمی، تصحیح طيّب‏ موسوى جزائرى، قم، دارالکتاب، ۱۴۰۴ھ۔
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ھ۔
  • مرکز فرہنگ و معارف قرآن،‌ دایرۃ‌ المعارف قرآن کریم، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۲شمسی۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الكتب الاسلامیہ، ۱۳۷۱شمسی۔
  • واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول القرآن‏، بیروت، دار الكتب العلميۃ، ۱۴۱۱ھ۔