احیاء

ویکی شیعہ سے
(شب بیداری سے رجوع مکرر)
سورہ مزمل

احیا یا شب بیداری رات گزارنے اور ساری رات یا رات کا زیادہ حصہ عبادت کی غرض سے سوئے بغیر گزارنے کو کہا جاتا ہے۔ آیات اور روایات میں اسے تہجد اور قیام لیل کہا گیا ہے اور یہ مستحب ہے جس پر بہت ساری آیات اور روایات دلالت کرتی ہیں۔ دعاؤں کی کتابوں میں بہت ساری راتوں کو نماز، دعا، استغفار، قرآن مجید کی تلاوت کرتے ہوئے بیدار رہنے کو مستحب قرار دیا ہے جن میں جمعہ کی رات، شب قدر، پندرہ رجب، پندرہ شعبان کی راتیں قابل ذکر ہیں۔

شب بیداری کی تعريف

پوری رات یا رات کا زیادہ حصے کو بیداری کی حالت میں گزارنے کو احیاء کہا جاتا ہے۔[1]

مترادف الفاظ

احیاء کے متردف بعض الفاظ بھی ہیں۔ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہی:

  • قيام : عربی میں رات کو نماز میں گزارنے کیلیے استعمال ہوتا ہے جیسا کہ سورہ مزمل میں ارشاد باری تعالی ہوتا ہے:يَا أَيُّہَا الْمُزَّمِّلُ قُمِ اللَّيْلَ إِلاَّ قَلِيلاً نِصْفَہُ أَوِ انقُصْ مِنْہُ قَلِيلاً أَوْ زِدْ عَلَيْہِ ورَتّل القرآن ترتيلا
    ترجمہ:اے میرے چادر لپیٹنے والے رات کو اٹھو مگر ذرا کم، آدھی رات یا اس سے بھی کچھ کم کر دو یا کچھ زیادہ کردو اور قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر باقاعدہ پڑھو۔[2]مقدس اردبیلی کہتے ہیں کہ آیت یہ کہہ رہی ہے کہ اے مزمل نبوت کے کپڑے اور عباء کے ساتھ نماز کے لیے ساری رات شب بیداری کرو یا قیام نماز شب کیلیے کنایہ ہے۔[3]
  • تہجد: نیند اور بیداری دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اور متضاد معانی پر دلالت کرتا ہے۔[4] قرآن میں آیا ہے: وَمِنَ الَّيْلِ فَتَہَجَّدْ بِہِ نَافِلة لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَاماً مَّحمُوداً
    ترجمہ:اور رات کے ایک حصہ میں قرآن کے ساتھ بیدار رہیں یہ آپ کے لئے اضافہ خیر ہے عنقریب آپ کا پروردگار اسی طرح آپ کو مقام محمود تک پہنچادے گا۔[5]
  • بيتوتہ: اللہ تعالی نے شب بیداری کے لیے اس لفظ کو بھی استعمال کیا ہے: وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّہِمْ سُجَّداً وَقِيَاماً
    ترجمہ:یہ لوگ راتوں کو اس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے رب کی بارگاہ میں کبھی سربسجود رہتے ہیں اور کبھی حالت قیام میں رہتے ہیں۔ [6]فیومی کہتا ہے کہ یہ بیتوتہ ممکن نہیں مگر شب بیداری کے ساتھ ... فراء کہتا ہے: جب کوئی شخص رات گزارے اطاعت میں ہو یا معصیت میں تو اسے بیتوتہ کرنا کہا جاتا ہے۔ ليث کہتا ہے: جس نے بیتوتہ کو سونے کے معنی میں استعمال کیا تو اس نے غلطی کیا ہے، کیا نہیں سنا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ رات کو ستاروں کے تکتے گزارا۔ اور جو ستاروں کو تکتا ہے کیسے سوتا ہے۔[7]

شب بیداری کا حكم

عبادت میں پوری رات یا رات کا زیادہ حصہ گزارنا مستحب ہے۔ اور آیات و روایات کا اطلاق اس بات پر دلالت کرتا ہے۔ جیسا کہ سورہ فرقان میں ارشاد ہوتا ہے۔وَالَّذِينَ يَبِيتُونَ لِرَبِّہِمْ سُجَّداً وَقِيَاماً
ترجمہ:یہ لوگ راتوں کو اس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے رب کی بارگاہ میں کبھی سربسجود رہتے ہیں اور کبھی حالت قیام میں رہتے ہیں۔ [8]اور سورہ زمر میں بھی ارشاد ہوتا ہے: أَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ آنَاءَ اللَّيْلِ سَاجِداً وَقَائِماً يَحْذَرُ الْآخِرَة وَيَرْجُو رَحْمَة رَبِّہِ
ترجمہ: کیا وہ شخص جو رات کی گھڑیوں میں سجدہ اور قیام کی حالت میں خدا کی عبادت کرتا ہے اور آخرت کا خوف رکھتا ہے اور اپنے پروردگار کی رحمت کا امیدوار ہے،[9] ان آیات میں اور ان کے علاوہ دیگر آیات ساری رات جاگنے کو شامل کرتی ہیں اس کے علاوہ رسول خداؐ کی روایات بھی ہیں جس میں آپؐ کا ارشاد ہوتا ہے:كل عين باكية يوم القيامة إلاّ ثلاث أعين: عين بكت من خشية اللّہ‏، وعين غضّت عن محارم اللّہ‏، وعين باتت ساہرة في سبيل اللّہ‏
یعنی قیامت کے دن تین آنکھوں کے علاوہ ہر آنکھ اشکبار ہوگی: اللہ کے خوف میں رونے والی آنکھ، حرام نظر سے بچنے والی آنکھ، اور اللہ کی راہ میں بیدار رہنے والی آنکھ۔[10]

نماز شب

شب بیداری کے اہم مصادیق میں نماز شب ہے اور بہت ساری روایات میں نماز شب کی فضیلت، فوائد، وقت اور طریقہ کا ذکر آیا ہے ان روایات میں سے امام صادقؑ سے منقول ہے : «شرف المؤمن صلاة الليل، وعز المؤمن كفُّہ الأذى عن الناس
[11] ترجمہ: مومن کا شرف نماز شب میں اور عزت لوگوں کی اذیت سے اسے بچا رکھنا ہے۔

شب بیداری کی بعض مستحب راتیں

شب قدر

سورہ قدر

شب قدر کی عظمت کے پیش نظر اس میں شب بیداری مستحب ہے، ارشاد ہوتا ہے:لَيْلَة الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَ لْفِ شَہْرٍ . . . سَلاَمٌ ھِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ
ترجمہ:شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں ملائکہ اور روح القدس اسُن خدا کے ساتھ تمام امور کو لے کر نازل ہوتے ہیں یہ رات طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے، [12] امام باقرؑ سے روایت ہوئی ہے کہ آپ فرماتے ہیں:من أحيى ليلة القدر غفرت لہ ذنوبہ، ولو كانت ذنوبہ عدد نجوم السماء، ومثاقيل الجبال، ومكاييل البحار
[13] یعنی جس نے شب قدر کو شب بیداری میں گزارا اللہ تعالی اس کے گناہوں کو معاف کرتا ہے اگرچہ تعداد میں آسمان کے ستاروں، وزن میں پہاڑوں اور کیل میں سمندر کے برابر ہی کیوں نہ ہوں۔

رمضان کی آخری دس راتیں

رمضان کے مہینے کی آخری دس راتیں اس مہینے کی سب سے افضل راتیں ہیں،[14]اور یہ اعتکاف کے لیے بھی بہترین وقت ہے،[15] پس ان میں بیدار رہنا، عبادت انجام دینا مستحب ہے جس طرح سے رسول اللہؐ انجام دیا کرتے تھے امام صادقؑ سے منقول ہے: كان رسول اللّہ‏ؐ إذا دخل العشر الأواخر شدّ المئزر، واجتنب النساء، وأحيى الليل، وتفرّغ للعبادۃ۔
[16] آپ آخری دس راتوں میں عمامہ باندھتے تھے، عورتوں سے اجتناب کرتے اور راتوں کی جاگتے رہتے اور عبادت انجام دیتے تھے۔

شب عید فطر اور عید اضحی

عید قربان ان دو راتوں کو بھی فقہا نے اللہ تعالی کی اطاعت، نماز، دعا اور ذکر وغیرہ میں گزارنے کے استحباب کو بیان کیا ہے،[17]استحباب پر دلالت کرنے والی روایات میں سے ایک غياث بن إبراہيم کی روایت ہے جنہوں نے امام صادقؑ اور امام باقرؑ سے نقل کیا ہے کہ:امام علی بن الحسین عید فطر کی رات کو نماز میں بسر کرتے تھے اور رات بھر مسجد میں گزارتے تھے۔[18]

حلبی نے امام صادقؑ سے شب عید الاضحی کو مزدلفہ میں شب بیداری کی فضیلت کے بارے میں نقل کیا ہے کہ: اگر اس رات کو بیدار رہ سکو تو شب بیداری کرو، چونکہ ہم تک یہ خبر پہنچی ہے کہ اس رات مومنوں کی دعا کے لیے ان کے لیے شہد کی طرح کی دوا ہے اور اللہ تعالی کہتا ہے میں تمہارا پروردگار ہوں اور تم میرے بندے، تم نے اپنا حق ادا کیا ہے اور اب میرے اوپر حق بنتا ہے کہ تمہاری دعا قبول کروں۔ جو اس رات گناہ بخشوانا چاہے تو اس کے گناہ ختم ہوتے ہیں اور جو مغفرت کا ارادہ کرتا ہے اس کی مغفرت ہوجاتی ہے۔[19]

رجب کی بعض راتیں

رجب کا مہینہ بڑی برکتوں کا مہینہ ہے، اور اس مہینے کے بارے میں رسول خدا کا ارشاد ہوتا ہے: رجب کا مہینہ اللہ کااصم مہینہ ہے اور اسے اصم اس لیے کہا گیا ہے کہ حرمت اور اللہ کے ہاں فضیلت میں کوئی بھی مہینہ اس کے برابری نہیں کر سکتا... [20]

رجب کے مہینے کی راتوں کی شب بیداری کے بارے میں امام علیؑ سے روایت ہوئی ہے کہ:جس کسی نے رجب کی راتوں میں سے کسی ایک رات میں سے شب بیداری کی تو اللہ اسے جہنم سے آزاد کرتا ہے اور ستر ہزار گناہ گار لوگوں کے لیے اس کی شفاعت کو قبول کرتا ہے... [21]

بعض روایات رجب کی راتوں میں سے دو راتوں میں شب بیداری کے استحباب کی بہت تاکید کرتی ہیں اور وہ راتیں درج ذیل ہیں:

  • رجب کے مہینے کی پہلی رات الليلۃ: ابن طاووسکہتا ہے کہ یہ رات بڑی عظیم المرتبت اور عظیم نعمتوں والی رات ہے اس رات اللہ اراد کرتا ہے کہ اس کے بندے اللہ کی اطاعت کریں رات کو عبادت میں گزار کر، سعادت اور نجات اور نعمتوں کو طلب کر کے۔[22]

امیر المومنینؑ سے روایت ہے کہ: سال کی چار راتوں میں نفس کو فارغ رکھنے پر تعجب کرتے تھے۔ ان میں سے رجب کی پہلی رات، شب عید قربان، عید فطر کی رات اور پندہ شعبان کی رات ہیں۔[23]

  • پندرہ رجب کی رات: ابن طاووس کہتا ہے: اس رات کی فضیلت بہت بڑی، مقام بڑا شریف ہے اور اس کو عبادت میں گزارنا چاہیے۔[24]

نبی اکرمؐ سے روایت ہے کہ جو شخص رجب کے ایام بیض میں روزہ رکھے اور راتوں کو شب بیداری کرے اور پندرہ رجب کی رات کو سو رکعت اور ہر رکعت میں حمد کے بعد دس مرتبہ قل ہو اللّہ‏ أحد پڑھے۔ نماز سے فارغ ہو کر ستر مرتبہ استغفار کرے تو اس سے زمین و آسمان کے بلا دور ہونگے۔ پھر اس کے بعد بہت سارا ثواب بھی بیان ہوا ہے اور فرمایا ہے: یہ سب اس شخص کے لیے ہے جس نے ایام بیض میں روزہ رکھا ہو اور راتوں کو شب بیداری کی ہو اور اس میں یہ نماز پڑھی ہو۔ اور یہ اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے۔[25]

شب برائت

پندرہ شعبان کی رات بڑی عظمت والی رات ہے جس کی عظمت اہل بیتؑ کی روایات میں ذکر ہوئی ہے۔ اسی رات کو امام زمانہ عج کی ولادت ہوئی ہے۔ اس رات کے بارے میں شیخ مفید کہتا ہے کہ یہ وہ عظمتوں کی رات ہے اس میں جو خیر و برکات نزول ہونے کی علامت قرار دی گئی ہے۔[26]

امام زین العابدینؑ اس رات کو ذکر اور استغفار میں گزارتے تھے۔ زید بن علی ابن الحسینؑ سے روایت ہوئی ہے کہ : اس رات امام زین العابدین ہم سب کو جمع کرتے تھے اور اس رات کو تین حصوں میں تقسیم کرتے تھے ایک حصے میں ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ پھر آپ دعا کرتے تھے اور ہم آمین کہتے تھے۔ پھر آپ استغفار کرتے تھے اور ہم بھی استغفار کرتے تھے اور اللہ سے جنت مانگتے تھے یہاں تک کہ صبح ہوجاتی تھی۔[27]

امام باقرؑ سے اس رات کی فضیلت کے بارے میں روایت ہوئی ہے کہ: یہ رات شب قدر کے بعد سب سے افضل رات ہے اسی رات میں اللہ اپنے بندوں پر فضل عظا کرتا ہے اور اپنے کرم سے انہیں بخشدیتا ہے تو اس رات میں اللہ کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو کیونکہ اس رات اللہ تعالی کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ کہ وہ کسی سائل کو بھی رد نہ کرے اگر کوئی گناہ کا مطالبہ نہ کرے تو۔ اور یہ وہ رات ہے جسے اللہ ہے ہم اہل بیت کے لیے قرار دیا ہے جس طرح سے شب قدر اللہ نے اپنی نبی کے لیے قرار دیا ہے۔ تو اس رات میں دعا اور حمد و ثنا پر زور دو۔... [28]

شب عاشورا

بہت ساری ایسی روایات آئی ہیں کہ جن میں شب عاشورا کو نماز، دعا، استغفار اور قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے شب بیداری کرنے کے استحباب پر تاکید ہوئی ہے۔ ختمی المرتبت کا فرمان ہے: جس نے شب عاشورا کو شب بیداری کی گویا اس نے پورے فرشتوں کے برابر اللہ کی عبادت کی او اس پر عمل کرنے والے کا اجر ستر سال کے ثواب کے برابر ہے۔[29]

سید الشہداؑ نے شب عاشورا کو بیداری میں گزارا اور اپنے بھائی عباس سے کہا: اگر تم ان سے ایک رات کی مہلت مانگ سکو تو اور ایک رات ہم سے دور رہتے تو اس ایک رات میں ہم اللہ کی عبادت کرتے اور ان سے دعا مانگتے اور استغفار کرتے اور اللہ جانتا ہے کہ میں اس کے لیے نماز، قرآن کی تلاوت اور دعا و استغفار کو پسند کرتا ہوں[30]پس اس رات کو قیام، رکوع اور سجود میں گزارا۔[31]

شب جمعہ

شیخ مفید کہتے ہیں: اللہ تعالی نے شب جمعہ کو باقی راتوں پر اور روز جمعہ کو دوسرے دنوں پر بڑی فضیلت دی ہے، مگر یہ کہ کسی دن یا رات کو خود نے زیادہ فضیلت دی ہو۔(جیسے شب قدر) پس شب جمعہ کو اللہ نے شرافت اور عظمت بخشی ہے اور اس رات میں نیک اعمال کا زیادہ سے زیادہ انجام دینا مستحب ہے۔[32]

بہت ساری روایات میں شب جمعہ کی فضیلت بیان ہوئی ہے ان میں سے ایک حدیث جس میں امام صادقؑ فرماتے ہیں: ہر جمعہ کی رات کے آغاز سے آخر تک اللہ تعالی عرش سے ندا دیتا ہے: کیا کوئی مومن بندہ ہے جو طلوع فجر سے پہلے مجھ سے آخرت یا دنیا مانگے اور میں اس کی دعا قبول کروں؟ کیا کوئی مومن بندہ ہے جو طلوع فجر سے پہلے توبہ کرے اور میں اس کی توبہ قبول کروں؟ کیا ہے کوئی مومن بندہ جس کو رزق کی کمی ہے اور طلوع فجر سے پہلے مجھ سے وافر رزق مانگے اور میں اسے عطا کروں؟ کیا کوئی بیمار مومن بندہ ہے جو طلوع فجر سے پہلے مجھ سے شفا مانگے اور میں اسے شفا بخشدوں؟ کیا کوئی مومن مغموم اور قیدی ہے جو طلوع فجر سے پہلے ان سے نجات مانگے اور میں اسے آزادی اور خوشی عطا کروں؟ کیا کوئی مظلوم مومن ہے جو طلوع فجر سے پہلے مجھ سے ظالم کی گرفت کی دعا کرے اور میں اس کی مدد اور ظالم کی گرفت کروں؟ امامؑ فرماتے ہیں کہ یہ ندا فجر طلوع ہونے تک دی جاتی ہے۔[33]

شب بیداری اور ناتوان لوگ

شب بیداری کا اصل مقصد منصوص اور ماثور عبادتوں اور دیگر نیک اعمال کے ذریعے، اللہ تعالی کی قربت اور خوشنودی کا حصول ہے، اس لئے جس پر نیند کاغلبہ ہو یا مریض ہو اور بیدار نہیں رہ سکتا ہو تو اسے چاہیے کہ نیند کے آداب کی رعایت اور اپنی نیت کو پاک کر کے اللہ کی خوشنودی حاصل کرے اس طرح سے کہ اس کی نیند غافل لوگوں کی نیند نہ ہو اور یہ شب بیداری کی فضیلت کے حصول کے لیے حد اقل چیز ہے۔ سید ابن طاووس شب بیداری کے اعمال بیان کرنے کے بعد کہتا ہے کہ اگر آپ پر نیند غالب آئے تو اللہ کی عظمت کے قرب کی نیت سے سوئے تاکہ اس طرح سے زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت انجام دینے میں مددگار ثابت ہوسکے۔اگر آپ نے ایسا کیا تو پوری رات کی شب بیداری حاصل کیا ان شاء اللہ۔[34]

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ج 14، ص 214.
  2. المزمل: 2 - 4.
  3. اردبيلي، زبدۃ البيان، ص 93.
  4. الجوہري، الصحاح، ج 2، ص 555.
  5. الإسراء: 79.
  6. الفرقان: 64.
  7. الفيومي، المصباح المنير، ص 67.
  8. الفرقان: 64.
  9. الزمر: 9.
  10. الحر العاملي، وسائل الشيعۃ، ج 7، ص 75 - 76.
  11. الحرالعاملي، وسائل الشيعۃ، ج 8، ص 148.
  12. القدر: 3.
  13. النوري، مستدرك الوسائل، ج 7، ص 457.
  14. المحقق الحلي، المعتبر، ج 2، ص 368.
  15. النراقي، مستند الشيعۃ، ج 10، ص 544.
  16. الحر العاملي، وسائل الشيعۃ، ج 10، ص 311.
  17. العلامۃ الحلي، تذكرۃ الفقہاء، ج 4، ص 158 و الشہيد الثاني، الروضۃ البہيۃ، ج 2، ص 276.
  18. ابن طاووس، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، ج‌1، ص 463.
  19. الحر العاملي، وسائل الشيعۃ، ج 14، ص 19 - 20.
  20. الحر العاملي، وسائل الشيعۃ، ج 10، ص 475.
  21. الحر العاملي، وسائل الشيعۃ، ج 10، ص 478.
  22. ابن طاووس، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، ج 3، ص 172 - 189.
  23. الحر العاملي، وسائل الشيعۃ، ج 7، ص 478.
  24. ابن طاووس، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، ج 3، ص 234 - 352.
  25. المجلسي، بحار الأنوار، ج 94، ص 50.
  26. المفيد، المقنعۃ، ص 226.
  27. الحر العاملي، وسائل الشيعۃ، ج 8، ص 110.
  28. الطوسي، الأمالي، ص 297.
  29. ابن طاووس، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، ج3، ص 45.
  30. المفيد، الإرشاد، ج 2، ص 90 - 91.
  31. الجزائري، رياض الأبرار في مناقب الأئمۃ الأطہار، ج 1، ص 221.
  32. المفيد، المقنعۃ، ص 153.
  33. الصدوق، من لا يحضرہ الفقيہ، ج‌ 1، ص 421.
  34. ابن طاووس، الإقبال بالأعمال الحسنۃ، ج 2، ص 190.

مآخذ

  • القرآن الكريم.
  • ابن طاووس، رضي الدين، الإقبال بالأعمال الحسنۃ فيما يعمل مرۃ في السنۃ، المحقق والمصحح: جواد القيومي الأصفہاني، قم - إيران‌، الناشر: انتشارات دفتر تبليغات اسلامى حوزہ علميہ قم‌، ط 1، 1415 ہ‍.
  • ابن منظور، محمد بن مكرم‌، لسان العرب‌، المحقق والمصحح: أحمد فارس صاحب الجوائب‌، بيروت - لبنان‌، الناشر: دار الفكر للطباعۃ والنشر والتوزيع - دار صادر‌، ط 3، 1414 ہ‍.
  • الأردبيلي، أحمد بن محمد، زبدۃ البيان في أحكام القرآن، المحقق والمصحح: محمد باقر‌ البہبودي، طہران – إيران، المكتبۃ الجعفريۃ لإحياء الآثار الجعفريۃ، ط 1، د.ت.
  • الجزائري، نعمۃ اللہ، رياض الأبرار في مناقب الأئمۃ الأطہار، بيروت - لبنان، الناشر: مؤسسۃ التاريخ العربي، ط 1، ‏1427 ہـ - 2006 م.
  • الجوہري، إسماعيل بن حماد‌، الصحاح - تاج اللغۃ وصحاح العربيۃ‌، المحقق والمصحح: أحمد عبد الغفور العطار‌، بيروت- لبنان‌، الناشر: دار العلم للملايين‌، ط 1، 1410 ہ‍.
  • الحر العاملي، محمد بن الحسن، تفصيل وسائل الشيعۃ إلى تحصيل مسائل الشريعۃ، قم – إيران، مؤسسۃ آل البيتؑ، قم، ط 1، 1409 ہ‍.
  • الشہيد الثاني، زين الدين بن علي، الروضۃ البہيۃ في شرح اللمعۃ الدمشقيۃ، المحشّٰى: محمد كلانتر، قم - إيران‌، الناشر: كتابفروشى داورى‌، 1410 ہـ.
  • الصدوق، محمد بن علي، من لا يحضرہ الفقيہ، قم – إيران، انتشارات دفتر تبليغات إسلامي حوزہ علميہ قم، ط 2، 1413 ہ‍.
  • الطوسي، محمد بن الحسن، الأمالي، تحقيق وتصحيح: قسم التحقيقات في مؤسسۃ البعثۃ، قم- إيران‌، الناشر: دار الثقافۃ‌، ط 1، 1414 ہـ.
  • العلامۃ الحلي، الحسن بن يوسف، تذكرۃ الفقہاء، تحقيق وتصحيح: محققو مؤسسۃ آل البيتؑ، قم- إيران‌، الناشر: مؤسسۃ آل البيت، ط 1، 1414 ہ‍.
  • الفيومي، أحمد بن محمد، المصباح المنير في غريب الشرح الكبير، قم - إيران، الناشر: منشورات دار الرضي‌، ط 1، د.ت.
  • المجلسي، محمد باقر، بحار الأنوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہارؑ، بيروت - لبنان‌، الناشر: مؤسسۃ الطبع والنشر‌، ط 1، 1410 ہ‍.
  • المحقق الحلي، جعفر بن الحسن‌، المعتبر في شرح المختصر،‌ تحقيق وتصحيح: محمد على الحيدري- سيد مہدي شمس الدين- السيد أبو محمد مرتضوي- السيد علي الموسوي، قم- إيران، الناشر: مؤسسۃ سيد الشہداءؑ، ط 1، 1407 ہ‍.‌
  • المفيد، محمد بن محمد، المقنعۃ، قم – إيران، كنگرہ جہانى ہزارہ شيخ مفيد، ط 1، 1413 ہ‍.
  • النراقي، أحمد بن محمد مہدي، مستند الشيعۃ في أحكام الشريعۃ، قم – إيران، مؤسسۃ آل البيتؑ، ط 1، 1415 ہ‍.