مسلم بن عوسجہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابو حجل
مسلم بن عوسجہ
وفات 10 محرم الحرام
کربلا
وجۂ وفات شہادت
مدفن کربلا(گنج شہدا)
رہائش کوفہ
قومیت عرب
وجہِ شہرت صحابئ رسول اللہ(ص) اور امام حسینؑ
مذہب شیعہ

مسلم بن عوسجہ، "بنی اسد" قبیلے سے تعلق رکھتے تھے. ان کی کنیت "ابو حجل" مذکور ہوئی ہے. آپ اصحاب رسول خدا میں سے ہیں، نیز حضرت امام حسین کے اصحاب میں سے بھی ہیں جنہوں نے کربلا میں حضرت امام حسین ؑ کی نصرت میں مقام شہادت حاصل کیا. واقعۂ کربلا سے پہلے مسلم بن عقیل کے قیام میں قبیلۂ مذحج اور بنی اسد کی سربراہی ان کے ہاتھ میں تھی. آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کربلا میں موجود تھے اور آپ کا بیٹا بھی کربلا کے شہیدوں میں سے ہے.

خاندانی تعارف

ابوحجل، مسلم بن عوسجۃ بن سعد بن ثعلبۃ بن دودان بن اسد بن خزیمہ اسدی [1] کوفہ[2] سے حضرت امام حسین ؑ کے اصحاب میں سے ہیں. منابع کے مطابق آپ کا شمار شریف، عابد، اہل مروت اور سخی افراد میں سے ہوتا تھا[3].

مسلم بن عوسجہ بنی اسد قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ۔ ان کی کنیت ابو حجل مذکور ہوئی ہے ۔اصحاب رسول خدا میں سے ہیں نیز حضرت امام حسین کے اصحاب میں سے بھی ہیں جنہوں نے کربلا میں حضرت امام حسین ؑ کی نصرت میں مقام شہادت حاصل کیا۔واقعۂ کربلا سے پہلے مسلم بن عقیل کے قیام میں قبیلۂ مذحج اور بنی اسد کی سربراہی ان کے ہاتھ میں تھی۔آپ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کربلا میں موجود تھے اور آپ کا بیٹا بھی کربلا کے شہیدوں میں سے ہے ۔

فضائل

آپ ان افراد میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ کی زیارت کا شرف حاصل کیا اور صدر اسلام کے ان شجاعان عرب میں سے ہیں جنہوں نے آذربائیجان اور دیگر علاقون کی فتح میں مسلمان لشکر کی ہمراہی کی [4]۔انہوں نے رسول اللہ سے روایات بھی نقل کی ہیں[5]۔ ایک نقل کے مطابق کربلا میں عاشورا کے روز پہلے شہدا میں سے آپ کا شمار ہوتا ہے [6]۔

مسلم بن عقیل کے قیام کے بعد کچھ عرصہ مخفی رہنے کے بعد اپنے اہل عیال کے ہمراہ کربلا میں حضرت امام حسین ؑ کے ساتھ مل گئے[7] ۔

کوفہ

مسلم بن عقیل کی کوفہ آمد کے موقع پر ان کے لئے اسلحہ کی جمع آوری اور مسلم کیلئے بیعت حاصل کرتے تھے [8]۔

بعض منابع کے مطابق مسلم بن عقیل کوفہ میں پہلے مسلم بن عوسجہ کے گھر مقیم ہوئے[9] اور انکے گھر لوگ مسلم بن عقیل سے ملنے اور حضرت امام حسین ؑ کی بیعت کرنے جاتے نیز خون کے آخری قطرے تک امام کی حمایت کی یقین دہانی کرواتے تھے۔ اس بات کی اطلاع حضرت امام حسین کو جب ملی تو آپ نے مکہ سے کوفہ کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا ۔ان تمام مراحل میں مسلم بن عوسجہ نے اہم کردار ادا کیا[10] ۔

عبید اللہ بن زیاد کا جاسوس معقلمسلم بن عوسجہ کے ذریعے مسلم بن عقیل کے مخفی مقام سے آگاہ ہوا[11]۔

مسلم بن عقیل نے ہانی بن عروہ کی گرفتاری کے بعد اپنے ساتھیوں کو منظم کیا اور مذجح اور بنی اسد کی فرماندہی مسلم بن عوسجہ کے حوالے کی [12]۔

کربلا

بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلم بن عوسجہ کے اہل خانہ بھی کربلا میں موجود تھے ۔مؤرخین کے بقول خلف بن مسلم بن عوسجہ آپکا ہی بیٹا تھا جو اپنے باپ کے ہمراہ کربلا میں شہید ہوا۔تاریخ میں یوں مذکور ہے کہ ایک جوان حضرت امام حسین ؑ کی حمایت میں خیمہ سے باہر آیا تو اس کی والدہ بھی اس کے پیچھے آئی یہ نوجوان مسلم بن عوسجہ کا ہی بیٹا تھا[13]۔

شب عاشور

شب عاشور جب امام حسین ؑ نے اپنی بیعت سے اپنے ہمراہیوں کو آزاد کر دیا تو سب لوگ اپنی اپنی محبت اور وابستگی کے مطابق حضرت کے سامنے اپنی محبت کا اظہار کر رہے تھے ۔ بنی ہاشم کے نوجوانوں کے بعد سب سے پہلے مسلم بن عوسجہ کھڑے ہوئے اور یوں مخاطب ہوئے :

اے ابا عبد اللہ ! کیا آپ ہمیں اپنی بیعت سے آزاد کر رہے ہیں؟ بارگا الہی میں اس اپنے حق کی ادائیگی کا ہم کیا جواب دیں گے ؟ہم آپ کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑیں گے کسی صورت نہیں چھوڑیں گے یہانتکہ میں اپنا نیزہ دشمنوں کے سینوں میں پیوست نہ کر دوں اور اس قدر شمشیر نہ چلالوں کہ وہ میرے ہاتھ سے چھوٹ جائے حتی کہ ہاتھ میں اسلحہ نہ ہونے کی صورت میں دشمنوں پر پتھروں سے حملہ آور ہوں گا ۔خدا کی قسم ! آپ سے جدا نہیں ہوں گا یہاںتک کہ خدا کے سامنے یہ ثابت نہ کردوں کہ میں نے آپ کے بارے میں حرمت رسول اللہ کی پاسداری کی ہے ۔اللہ کی قسم ! اگر میں یہ جان لوں کہ میں قتل ہو جاؤں گا پھر زندہ کیا جاؤں گا پھر مجھے جلا کر خاکستر کردیا جائے گا اور پھر زندہ کیا جائے گا اور ایسا ستر مرتبہ کیا جائے گا تو تو بھی میں کسی صورت میں آپ سے جدا نہیں ہوں گا یہاتک آپ کی نصرت میں شہادت کے درجے پر فائز ہو جاؤں۔ جب مجھے ایک بار زندگی ملی ہے تو میں کیوں نہ ایسا کروں ۔ اس کے بعد ہمیشگی خوشبختی اور کرامت ہے[14]۔

حضرت امام حسین ؑ نے ایک ایک صحابی کا شکریہ ادا کیا۔

روز عاشورا

شیخ مفید نے نقل کیا ہے :

روز عاشورا حضرت امام حسین ؑ اور انکے اصحاب نے خیام کی حفاظت کیلئے خیام کی پشت پر خندق کھود کر آگ روشن کی ۔ شمر بن ذی الجوشن نے آگے شعلے بلند ہوتے دیکھ کر بلند آواز میں کہا : اے حسین ! قیامت سے پہلے ہی آگ جلا لی ہے ۔امام نے فرمایا : یہ کون ہے لگتا ہے شمر ہے ؟ جواب دیا گیا ہاں وہی ہے ۔امام نے سورۂ مریم کی 70ویں آیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:اے چرواہے کے بیٹے!تو اس آگ کیلئے سزاوار ہے ۔ مسلم بن عوسجہ نے فرزند رسول سے اسے تیر مارنے کی اجازت طلب کی اور کہا وہ میرے تیر کی مار میں ہے اور میرا تیر خطا نہیں جائے گا۔ امام نے جواب میں فرمایا : میں جنگ کا آغاز نہیں کرنا چاہتا لہذا تیر مت مارو[15]۔

مسلم بن عوسجہ کی زندگی کے اہم واقعات میں سے وہ عارفانہ اشعار ہیں جو اہل بیت کے بار میں ان کی عمیق معرفت کے بیانگر ہیں جو انہوں نے کربلا میں مبارزے کے موقع پر پڑھے۔

إن تسألوا عنی فإنی ذو لَبَد و ان بیتی فی ذری بنی اسد
فمن بغانی حائد عن الرشد و کافر بدین جبار صمد[16]
ترجمہ: اگر میرے بارے میں سوال کرتے ہو تو میں وہی صاحب شجاعت شیر ہوں اور بنی اسد میرا قبیلہ ہے ۔جو بھی مجھ پہ ستم کرے گا وہ حق سے روگردان ہے اس نے خدائے بے نیاز سے کفر کیا ہے ۔

شہادت

روز عاشور عمر بن سعد نے لشکر کے دائیں حصے کا علم عمرو بن حجاج کے سپرد کیا تھا اس حصے نے حضرت امام حسین کے اصحاب با وفا پر حملہ کیا ۔دونوں میں لڑائی شروع ہوئی تو دونوں طرفیں اسی دوران فرات کی طرف چلے گئے ۔ مسلم بن عوسجہ اس حملہ میں موجود تھے ۔مسلم بن عبد اللہ ضبائی اور عبدالرحمان بن ابی خشکارہ نے مسلم بن عوسجہ پر حملہ کیا اور آپ کو سخت زخمی کر دیا ۔حضرت مسلم بن عوسجہ جب خون میں غلطان تھے تو حضرت امام حسین اور حبیب بن مظاہر آپ کے سرہانے پہنچے ۔امام نے اسے کہا :اے مسلم! خدا تم پر رحمت نازل کرے ۔اور پھر اس آیت فَمِنهُم مَن قَضی نَحبَهُ و مِنهُم مَن یَنتَظِر و ما بَدّلوا تَبدیلاً کی تلاوت فرمائی۔ حبیب بن مظاہر اسکے قریب ہوئے اور کہا :تمہارا قتل ہونا میرے لئے نہایت سخت ہے لیکن میں تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہوں۔مسلم بن عوسجہ نہایت نہیف آواز میں کہا :میں بھی تمہیں خیر کی بشارت دیتا ہوں ۔ حبیب نے کہا: اگر تمہاری خدا حافظی کا وقت قریب نہ ہوتا میں تم سے اس بات کو دوست رکھتا تھا کہ تم مجھے وصیت کرو تا کہ میں حق دینی اور رشتہ داری کا حق ادا کرتا ۔مسلم بن عوسجہ نے امام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حبیب سے کہا:میں تمہیں اس شخص(یعنی امام حسین ؑ) کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ جب تک تمہارے بدن میں جان باقی ہے اس سے دفاع کرنااور اپنے قتل ہونے تک اس کی مدد اور حمایت سے ہاتھ نہ کھینچنا۔ حبیب نے جواب میں کہا : میں تمہاری وصیت پر عمل کروں گا اور تمہاری آنکھوں کو روشن کروں[17]۔

زیارت نامہ

غیر معروف زیارت ناحیہ میں آیا ہے :

السَّلَامُ عَلَی مُسْلِمِ بْنِ عَوْسَجَةَ الْأَسَدِی الْقَائِلِ لِلْحُسَینِ وَ قَدْ أَذِنَ لَهُ فِی الِانْصِرَافِ أَ نَحْنُ نُخَلِّی عَنْک وَ بِمَ نَعْتَذِرُ إِلَی اللَّهِ مِنْ أَدَاءِ حَقِّک وَ لَا وَ اللَّهِ حَتَّی أَکسِرَ فِی صُدُورِهِمْ رُمْحِی وَ أَضْرِبَهُمْ بِسَیفِی مَا ثَبَتَ قَائِمُهُ فِی یدِی وَ لَا أُفَارِقُک وَ لَوْ لَمْ یکنْ مَعِی سِلَاحٌ أُقَاتِلُهُمْ بِهِ لَقَذَفْتُهُمْ بِالْحِجَارَةِ ثُمَّ لَمْ أُفَارِقْک حَتَّی أَمُوتَ مَعَک وَ کنْتَ أَوَّلَ مَنْ شَرَی نَفْسَهُ وَ أَوَّلَ شَهِیدٍ مِنْ شُهَدَاءِ اللَّهِ قَضَی نَحْبَهُ فَفُزْتَ وَ رَبِّ الْکعْبَةِ شَکرَ اللَّهُ لَک اسْتِقْدَامَک وَ مُوَاسَاتَک إِمَامَک إِذْ مَشَی إِلَیک وَ أَنْتَ صَرِیعٌ فَقَالَ یرْحَمُک اللَّهُ یا مُسْلِمَ بْنَ عَوْسَجَةَ وَ قَرَأَ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضی نَحْبَهُ وَ مِنْهُمْ مَنْ ینْتَظِرُ وَ ما بَدَّلُوا تَبْدِیلًا لَعَنَ اللَّهُ الْمُشْتَرِکینَ فِی قَتْلِک عَبْدَ اللَّهِ الضَّبَابِی وَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَشْکارَةَ الْبَجَلِی
زیارت ناحیہ کے اس بیان کے مطابق مسلم بن عوسجہ پہلے شہدا میں سے ہے کہ جس نے اپنے پیمان وفا کو کو پورا کیا۔اور امام حسین ؑ نے کعبہ کی قسم کھا کر کہا ہے کہ وہ رستگاروں میں سے ہے اور جنہوں نے مسلم بن عوسجہ کے قتل میں حصہ لیا امام نے ان پر نفرین کی ہے[18] ۔

اسکے علاوہ نیمۂ شعبان [19] اور دیگر زیارت میں بھی مسلم بن عوسجہ کا نام آیا ہے[20] ۔

حوالہ جات

  1. سماوی، ابصارالعین فی انصار الحسین، ص۱۳۵
  2. مقرم، مقتل الحسین، ص۱۷۷.
  3. شیخ طوسی، رجال، ص۸۰.
  4. زرکلی، خیرالدین، اعلام، ج ۷، ص۲۲۲.
  5. أبو مخنف، مقتل الحسین(ع)، پاورقی، ص۱۳۶ـ ۱۳۸.
  6. ابی مخنف، وقعة الطف، ص۲۲۵.
  7. سماوی، ابصارالعین، ص۱۳۷.
  8. قمی، شیخ عباس، نفس المهموم، ص۱۲۰.
  9. ابن کثیر، البدایه و النهایه، ج ۸، ص۱۵۲.
  10. ابن کثیر، البدایه و النهایه، ج۸، ص۱۶۳.
  11. ابی مخنف، وقعة الطف، ص۲۲۵.
  12. قرشی، موسوعة سیرةاهل البیت(ع)، ج ۱۳، ص۳۸۰.
  13. حائری، محمد مهدی، ج۱، ص۴۸.
  14. سید بن طاووس، لهوف، ص۱۱۷.
  15. مفید، الارشاد، ص۴۴۹.
  16. سماوی، ابصارالعین، ص۱۳۹.
  17. سید بن طاووس، لهوف، ص۱۳۳.
  18. سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ص۵۰.
  19. مجلسی، بحارالانوار، ج ۹۸، صص ۲۷۱، ۲۷۲، ۳۴۰.
  20. سید بن طاوس، اقبال الاعمال، ص۲۲۹.


ماخذ

  • ابن کثیر، البدایہ والنہایہ، داراحیاءالتراث العربی.
  • ابی مخنف، لوط بن یحیی بن سعید بن مخنف، وقعہ الطف، قم، موسسہ نشر اسلامی، ۱۳۶۷ش.
  • حائری، محمد مہدی، شجرة طوبی، نجف، منشورات المکتبہ الحیدریہ.
  • زرکلی، خیرالدین، الاعلام، بیروت، دارالعلم للملایین، ۱۹۹۲م.
  • سماوی، محمد بن طاہر سماوی، ابصارالعین فی انصارالحسین، ترجمہ عباس جلالی، قم، انتشارات زائر، ۱۳۸۱ش.
  • سید بن طاووس، علی بن موسی بن جعفر بن طاووس، اقبال الاعمال، بیروت، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۹۹۶م.
  • سید بن طاووس، علی بن موسی بن جعفر بن طاووس، لہوف، ترجمہ بخشایشی، قم، دفتر نوید اسلام، ۱۳۷۸ش.
  • قرشی، باقر شریف، موسوعہ سیرةاہل بیت(ع)، قم، دارالمعروف، ۲۰۰۹م.
  • قمی، شیخ عباس، نفس المہموم، ترجمہ کمره‌ای، تہران، چاپ اسلامیہ، ۱۳۷۶ش.
  • مفید، محمدبن‌ محمدبن‌ نعمان‌، الارشاد، ترجمہ ساعدی خراسانی، تہران، انتشارات اسلامیہ، ۱۳۸۰ش.