حضرت ابراہیم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حضرت ابراہیمؑ
حضرت ابراہیم آتش نمرود میں، استاد فرشچیان کا فنی شاہکار
قرآنی نام: ابراہیم
کتاب کا نام: صحف
مشہوراقارب: اسماعیلاسحاقہاجرسارہآذرتارخ
معجزات: چار پرندوں کا واقعہ
ہم عصر پیغمبر: حضرت لوط
دین: حنیف
مخالفین: نمرود
اہم واقعات: حضرت اسماعیل کی قربانی
اولوالعزم انبیاء
محمدؐابراہیمنوحعیسیموسی

حضرت ابراہیم علیہ السلام جو کہ ابراہیم خلیل کے نام سے مشہور ہیں اور دوسرے اولوالعزم پیغمبر ہیں. آپ (ع) اپنے بیٹے اسماعیل کے ذریعے تمام عرب کے، اور اپنے دوسرے بیٹے اسحاق کی ذریعے بنی اسرائیل کے جد امجد، مانے جاتے ہیں.

نام

ابراہیم کے نام کو دینی اور غیر دینی منابع میں مختلف شکلوں میں اور مختلف شہروں میں ہر شہر کے رسم و رواج کے مطابق کبھی نام سے کچھ کم کرتے ہوئے تو کبھی اس میں کچھ بڑھاتے ہوئے شہرت ملنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ هلال‌ خصیب‌ کے علاقے میں بہت اہمیت کا حامل نام تھا. عہد عتیق میں ابرام آیا ہے. [1] جوالیقی نے اِبراہام‌، اِبراہم‌(ہ ساکن)، اِبراہم‌(ہ مکسور) کی شکل میں اس نام کو لکھا ہے اور ساتھ میں کہا ہے کہ یہ نام بہت پرانا اور غیر عربی نام ہے.[2] لگتا ہے سب سے پہلے جہاں پر اس نام کو ابراہیم سے یاد کیا ہے وہ قرآن ہی ہے.

ابراہیم کا معنی

ابرام کے معنی کے بارے میں، پہلا بخش (اب) والد کے معنی سے ہے. اسی طرح دوسرا بخش دوست یا بلند مرتبہ یا عالی مرتبہ کے معنی سے ہے. اس طرح ابرام کا معنی عالی یا متعالی والد ہو گا.[3] اور ابرھام کا معنی یعنی مختلف امتوں کے والد اور اس کا ریشہ (اصل) عامیانہ ہے، اگرچہ رھام کے لئے عربی میں مختلف اور بے شمار ریشے موجود ہیں. عربی میں ابراہیم کے لئے اور بھی بہت معنی بیان ہوئے ہیں جیسے کہ نووی نے ابراہیم کا معنی سریانی یعنی پدر رحیم کہا ہے اسی طرح کسی نے ابراہیم کو سپید چہرہ کہا ہے اگرچہ یہ معنی صحیح شمار نہیں ہوتے.[4]

خاندان

عہد عتیق کی روایت کے مطابق ابراہیم کا تعلق جریرہ العرب کے قبیلے آرامی سے ہے.[5] اور بعض محققان نے ابراہیم کو آموریانی کہا ہے جو کہ جزیرہ عرب سے عراق اور شام کی طرف گئے[6] آرامیھا حران کے نزدیک بلیخ اور خابور کے مقام پر زندگی بسر کرتے تھے اور ظاہراً دوسری ہجری کے اوسط میں اور نام سے ایک شہر رونما ہوا اور اکثر آرامیوں نے شہر کی طرف مہاجرت کی، لیکن جب اور دوسرے قبیلوں کے حملے سے ویران ہو گیا دوبارہ سب مہاجر اپنے اصلی وطن کی طرف واپس لوٹ گئے. ابراہیم کے والد اس خاندان میں سے تھے جنہوں نے اور کے بعد حران کی جانب مہاجرت کی[7] جس طرح کہ آرمیان کی ہجرت کے بارے میں بیان ہوا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابراہیم کے خاندان نے دوسری ہجری قمری کے اوائل میں اس علاقے سے کوچ کیا[8] مورخان اور مولفان قدیم نے بھی حران کو ابراہیم کے والد کا وطن کہا ہے. [9]

والد

ابراہیم کے والد کے نام میں قرآن اور مفسران کے درمیان اختلاف ہے. عہد عتیق میں اس نام کو ترح کہا ہے[10] اور قرآن نے آزر کہا ہے.[11] مفسران اور لغت شناسان نے اس واژہ کو بیگانہ اور معرب کہا ہے.[12] آج کے دور میں کہا گیا ہے کہ یہ نام العاذار (العاذر، الیعزر) تحریف ہوا ہے اور عہد عتیق کے مطابق ابراہیم خادم کا نام تھا[13] اور قرآن کی تفسیر میں اس کے بارے میں اختلاف ہے، کچھ تفسیر کے مطابق آزر حضرت ابراہیم کے والد کا نام ہے جب کہ بعض نے اس کی نفی کی ہے. اور بعض مفسرین اور مورخین نے ابراہیم کے والد کا نام تارح ذکر کیا ہے.[14] اور آزر کا نام جو قرآن میں بیان ہوا ہے کچھ روایات کے مطابق خود پیغمبر اسلام(ص) نے اس کی تائید کی ہے.[15] بعض نے آزر کو یار اور انباز کا معنی دیا ہے. اس صورت میں یہ آیت [۱۴][۱۵]«واِذْقال‌َ اِبراهیم‌ُ لِاَبیہِ آزَرَ اَتَتَّخِذُ اَصناماً...»"[16] اس طرف اشارہ کرے گی کہ ابراہیم کے والد بتوں کی پرستش میں قوم کے یار اور انباز تھے. اور بعض نے آزر کا نام بتی کو دیا ہے جس کی پوجا ابراہیم کے والد کرتے تھے، اور مذکورہ آیت میں «اصناماً» کو اس کا بدل کہا ہے،[17] بعض دیگر نے تارح کو ابراہیم کے والد اور آزر کو ابراہیم کا چچا کہا ہے اور تذکر دیا ہے کہ عربی میں اب کو چچا کے لئے بھی استعمال کرتے ہیں، اگرچہ قرآن نے اسماعیل کو یعقوب کا والد معرفی کیا ہے. ظاہراً آخری وجہ پیغمبر اسلام(ص) کی حدیث کے تحت بیان ہوا ہے جس میں آپ(ص) نے فرمایا:‌« نَقَلَنی‌ اللّہُ مِن‌ اَصلاب‌ِ الطّاهرین‌ِ الی‌ اَرحام‌ِ الطّاهرات‌ِ...» پیغمبر اکرم(ص) کے سب نیاکان موحد تھا. اس لئے طوسی نے اس کے بعد کہ نسب شناسان نے ابراہیم کے والد کو تارح کہا ہے، آزر کو ابراہیم کی جد مادری سے نسبت دی ہے. اس باب کے بارے میں اور بھی روایات موجود ہیں، جیسے کہ ایک روایت میں آزر کے کلمے کی نکوہش کی ہے [18] لیکن رازی نے ان تمام توجہیات کو بی اساس کہا ہے اور اشارہ کیا ہے کہ اگر آزر کا نام جو کہ قرآن میں ابراہیم کے والد کو کہا گیا ہے، درست نہ ہوتا تو پیغمبر(ص) کے زمانے میں یہودی آپ(ص) کو ضرور تکذیب کرتے کیونکہ یہود آپ(ص) کو ہمیشہ تکذیب کرتے تھے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نام یہودیوں کی نگاہ میں درست تھا. اور اس کے آخر میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اگر تارح کو ابراہیم کے والد کے عنوان سے قبول کر لیں تو یہ بھی ماننا پڑھے گا کہ تارح اور آزر میں سے ایک آپ کا نام اور ایک آپ کا لقب تھا.[19] جیسے کہ اسرائیل یعقوب کا لقب تھا.[20]

ولادت اور زادگاہ کی تاریخ

ابراہیم کی ولادت کے بارے میں کوئی خاص سند یا خاص تاریخ کا ذکر نہیں ہوا ہے [21] زمانے جدید میں اکثر مورخین نے سنہ ٢٠ ق کو ابراہیم کی ولادت کی تاریخ کہا ہے اور بعض نے اس کو ١٩٩٦ ق کہا ہے.[22]

پیدائش

ابراہیم کی ولادت کی جگہ کے بارے میں اختلاف ہے. عہد عتیق کے مطابق ابراہیم کی ولادت اور میں ہوئی [23] لیکن بعض نے آپ کی محل ولادت کو الورکاء (اوروک) اور بعض اسلامی منابع کے مطابق کوثی نام دکے شہر جو کہ جدید دور میں تل ابراہیم کے نام سے مشہور ہے وہاں ہوئی ہے.[24] اور ابن بطوطہ (ص١٠١) میں (برس یا نمرود کا برس، بابل کے مقام) عراق میں ابراہیم کی ولادت ہوئی تھی. اور ابراہیم کی جای ولادت کو حران بھی کہا گیا ہے. [25] یا سب محقیقین اس بات پر متفق ہیں کہ اور میں ابراہیم کی ولادت ہوئی اور وہی پر آپ بڑے ہوئے.

مہاجرت

قرآن کریم کی روایت کے مطابق، ابراہیم نے جب بتوں کی پوجا عام تھی اس زمانے میں لوگوں کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف دعوت دی.[26] اور یہ قرآنی روایت یہود کے درمیان معروف تھی اور یوسفوس نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے [27]اور یہودی کتب میں اس کے بعد والے دور کے بارے میں بھی دیکھا گیا ہے.[28] بعض روایت کے مطابق یہ واقعہ ابراہیم کا اپنی قوم کے ساتھ مناقشے کے وقت پیش آیا در واقع ابراہیم کا اپنی قوم کو خداوند کی واحدنیت کی دعوت کے وقت تھا (طوسی ٤/١٨٥، ١٨٦) مسعوی کے بقول، حضرت ابراہیم کی بیوی سارہ اور آپ کا بھانجا لوط اور بیٹا ھاران وہ پہلے تھے جنہوں نے حضرت ابراہیم کی دعوت کو قبول کیا.[29] اور ابراہیم کی اسی دعوت کو جو کہ آپ نے اپنی قوم، والد و... دی قرآن کے مطابق اسی کام نے آپ کو مہاجرت پر مجبور کیا اور اس کو ادیان سامی میں خاص اہمیت حاصل ہے. اور عہد عتیق میں اس مہاجرت کے بارے میں کوئی خاص بات نہیں کی گئی اور حران کی جانب حرکت کوحضرت ابراہیم کے والد سے نسبت دی گئی ہے. کہ جنہوں نے اپنے بیٹے ھاران کی وفات کے بعد، اور سے ہجرت کی اور اپنے خاندان والوں کو ترک کر دیا.[30] قرآن میں اس ہجرت کے جغفرافیائی مقصد کے بارے میں کچھ بیان نہیں ہوا ہے لیکن مہاجرت کی وجہ کو بخوبی بیان کی ہے.

یکتا پرستی کی دعوت

ابراہیم نے سب سے پہلے آزر کو یکتا پرستی کی دعوت دی تھی. قرآن کریم کی سورت میں اس دعوت کے بارے میں آیا ہے، جیسے کہ دیکھا جائے گا کہ ابراہیم نے دو بار آزر کے ساتھ اس کی قوم کے دین کے بارے میں مناقشہ کیا ہے، اور دو بار کے بعد آزر نے ابراہیم کو اپنے سے دور کیا اور حضرت ابراہیم نے ہجرت کی. آزر کی پہلی مخالفت کی وجہ حضرت ابراہیم کا بتوں کو توڑنا اور پھر اس کا قصور بڑے بت پر نسبت دینا اور قوم کو کہنا کہ اس کی وجہ بڑے بت سے ہی سوال کیا جائے جب کہ بت بولنے پر قادر نہیں اور قوم اس حجت پر خاموش ہو گئے، اور آخر میں حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا. پرودگار نے آگ کو آپ کے لئے ٹھنڈا کر دیا اور لوط کے ہمراہ آپ کو قوم کی جنگ سے نجات دی.[31]


حوالہ جات

  1. ال برایٹ، ۳ ؛ سوسہ، ۲۳۳
  2. المعرب‌، ۱۳
  3. جودائیکا
  4. نووی ص‌ ۱۳۶
  5. سوسہ، ۲۵۲
  6. کلر
  7. اپشتاین‌، ۱۱ ؛ سوسہ، ۴۴۶
  8. سوسہ، ۲۵۲
  9. طبری‌، تاریخ‌، ۱/۳۴۶؛ نووی‌، ۱(۱)/۱۰۱
  10. پید، ۱۱: ۲۴، متن‌ عبری‌؛ قس‌
  11. انعام‌ /۶/۷۴
  12. جوالیقی‌، ۱۵
  13. پید، ۱۵: ۲؛ جفری‌،۵۳-۵۵
  14. مثلاً: ابن‌ ہشام‌، ۱/۲، ۳؛ طبری‌، تاریخ‌، ۱/۳۴۶؛ ابن‌ قتیبہ، ۳۰
  15. بخاری‌، ۴/۱۳۹
  16. انعام‌
  17. میبدی‌، ۳/۴۰۲
  18. طوسی‌،۴/۱۷۵؛ رازی‌، ۱۳/۳۸؛قرطبی‌،۷/۲۲؛ میبدی‌، ۳/۴۰۲
  19. ۱۳/۳۷، ۳۸
  20. میبدی‌، ۳/۴۰۱؛ محمد شاکر، ذیل‌المعرب‌ جوالیقی‌، ۳۵۹
  21. پید، ۱۱: ۲۶
  22. ہاکس‌، ۴؛ قس‌: سوسہ، ۲۵۰، ۲۵۱
  23. پید، ۱۱: ۲۸-۳۰
  24. طبری‌، تاریخ‌، ۱/۲۵۲؛ یاقوت‌، ذیل‌ کوثی‌
  25. ثعلبی‌، ۷۲
  26. انعام‌ /۶/۷۶-۷۹
  27. دائرة المعارف‌ دین‌۱
  28. جودائیکا،II/۱۱۷
  29. مروج‌، ۱/۵۷
  30. پید، ۱۱: ۲۸-۳۲
  31. انبیاء /۲۱/۵۶ -۷۱