المزار الکبیر (کتاب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
المزار الکبیر (کتاب)  
کتاب المزار الکبیر.jpg
زبان عربی
موضوع دعا
ناشر موسسه نشر اسلامی

المزار الکبیر [الَمزاُر الکَبِیر] عربی زبان کی کتاب، محمد بن جعفر مشہدی (متوفٰی 610 ہجری) کی تالیف ہے جو مختلف النوع زیارات کا مجموعہ ہے جنہیں معصومین(ع) کے مشاہد مشرفہ اور مراقد منور میں پڑھا جاتا ہے۔

المزار کو آٹھ قسموں (حصوں) میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر قسم کئی ابواب پر مشتمل ہے۔ یہ تالیف زیارت، مقدس مقامات اور اسلامی مہینوں کے آداب اور دعاؤں کے قدیم مآخذ میں سے ہے۔ بہت سے نامی گرامی شیعہ علماء نے اس کتاب پر اعتماد کیا ہے اور اس میں منقولہ روایات، زیارات، اعمال اور دعاؤں کو اپنی تالیفات میں نقل کیا ہے۔

درباره مؤلف

مفصل مضمون محمد بن جعفر المشہدی ابو عبداللّہ محمد بن جعفر بن على المشہدى الحائرى المعروف بہ محمد بن مشہدی اور ابن مشہدى چھٹی صدی ہجری کے شیعہ علماء میں سے ہیں۔ وہ حدیث کے مشہور مشائخ میں سے ہیں اور ان کا نام بہت سی اجازات میں دیکھا جاسکتا ہے ہرچند ان کی شخصیت کے بارے میں کافی شافی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔[1]

اسباب تالیف

مؤلف خود کتاب کے مقدمے میں لکھتے ہیں: میں نے یہ کتاب ابوالقاسم ہبۃ اللہ بن سلمان نامی شخص کی درخواست پر تالیف کی ہے اور اس میں مسجد کوفہ کی زیارات و اعمال، رجب، شعبان اور رمضان کے اعمال اور ان مہینوں میں واردہ دعاؤں، ہر شب و روز کے مخصوص اعمال، ایام ہفتہ کی دعاؤں، یومیہ نمازوں کی تعقیبات اور بعض دیگر دعاؤں کو اکٹھا کیا۔

مؤلف بعض زیارت اور دعاؤں میں امام معصوم تک کے راویوں کا تذکرہ بھی کرتے ہیں۔[2]

کتاب کا ڈھانچہ

المزار الکبیر ذیل کے آٹھ حصوں میں مرتب کی کئی ہے اور ہر حصہ کئی ابواب پر مشتمل ہے:

آخر میں کتاب کی تفصیلی فہرست مندرج ہے۔[3]

اعتبار کتاب

ابن مشہدی کی کتاب المزار الکبیر قدیم ترین کتب میں سے ہے جس پر اکابرین شیعہ ـ منجملہ سید بن طاؤس نے مصباح الزائر میں، عبدالکریم بن طاؤس نے فرحۃ الغرٰی میں اور علامہ مجلسی نے بحار میں نیز دیگر علماء نے اپنی کتب میں ـ اعتماد کیا ہے۔ علامہ مجلسی نے ان کی کتاب کو المزار الکبیر کا عنوان دیا ہے اور کہا ہے کہ "میں نے اس کتاب میں منقولہ روایات کو دیکھ کر سمجھ لیا کہ یہ معتبر کتاب ہے۔[4]

نسخہ جات اور اشاعت

پاورقی حاشیے

  1. مقدمه کتاب المزار۔
  2. المزار الکبیر، ص18۔
  3. فهرست کتاب۔
  4. المزار الکبیر، ص18.
  5. طہرانی، آقا بزرگ، الذریعه، ج20، ص324۔
  6. بررسی اعتبار کتاب المزار الکبیر ابن المشهدی۔


مآخذ

  • طهرانی، آقابزرگ، الذریعه، بیروت، دارالاضواء.
  • مشهدی، محمد بن جعفر، المزار الکبیر، تحقیق جواد قیومی اصفهانی، قم، قیوم، 1419 ہجری قمری۔
  • مشهدی، محمد بن جعفر، المزار الکبیر، تحقیق جواد قیومی اصفهانی، قم، موسسه النشر الاسلامی، 1378 ہجری شمسی۔