مقام ابراہیم

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مقام ابراہیم

مَقام ابراہیم خانہ کعبہ کے قریب واقع ایک پتھر کو کہا جاتا ہے جس پر حضرت ابراہیم(ع) کے پاؤں کے نشانات منقوش ہیں۔ قرآن کریم نے اس مقام کو زمین پر خدا کی واضح نشانیوں میں سے قرار دیاتے ہوئے مسلمانوں کو اس مقام پر نماز پڑھنے کی تاکید کی ہے۔ یہ پتھر اس وقت ایک سونے کے فریم میں خانہ کعبہ سے 13 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شیعوں کے مطابق مقام ابراہیم کی اصلی جگہ خانہ کعبہ سے متصل ہے۔

واجب طواف کا محدودہ خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کا درمیانی فاصلہ ہے اور نماز طواف اس کے پیچھے پڑھی جاتی ہے۔

قرآن کی روشنی میں

قرآن کریم کی دو آیتوں میں مقام ابراہیم کی طرف اشارہ ہوا ہے اور اسے روی زمین پر خدا کی واضح نشانیوں میں سے قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو اس مقام پر نماز پڑھنے کی سفارش کی گئی ہے:

  1. سورہ بقرہ آیت نمبر 125: وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاہیمَ مُصَلًّی(:ترجمہ اور حکم دے دیا کہ مقام ابراہیم کو مصّلی بناؤ
  2. سورہ آل عمران آیت نمبر97: فِیہ آیاتٌ بَینَاتٌ مَّقَامُ إِبْرَاہیمَ وَ مَنْ دَخَلَہ کانَ آمِناً(:ترجمہ اس میں کھلی ہوئی نشانیاں مقام ابراہیم علیھ السّلام ہے اور جو اس میں داخل ہوجائے گا وہ محفوظ ہوجائے گا)

ظاہری شکل

مقام ابراہیم کا پتھر

اس مربع نما پتھر کی اونچائی 20 سنٹی میٹر اور طول عرض تقریبا 4 سنٹی میٹر اور اس کا رنگ سفید مائل بہ سرخ اور پیلا ہے۔ اس پتھر پر 10 سنٹی میٹر گہرا پاؤں ک نشان پایا جاتا ہے جس میں انگلیاں واضح دکھائی نہیں دیتیں۔ [1] پرانے زمانی سے لوگوں کا اس پتھر سے متبرک ہونے کیلئے ہاتھ لگانے کی وجہ سے اس کا بالائی حصہ قدرے بڑا ہوا ہے۔ اب بھی اس پتھر پر موجود پاؤں کا نشان 27 سنٹی میٹر لمبا، 14 سنٹی میٹر چوڑا اور گہرائی 22 سنٹی میٹر ہے۔ دو پاؤں کے درمیان ایک سنٹی میٹر کا باریک فاصلہ موجود ہے۔[2]

تاریخ کے آئینے میں

مقام ابراہیم کے اوپر بنایا گیا پرانا لکڑی کا چھت، باب بنی شیبہ

احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ خداوند عالم کی طرف سے حضرت ابراہیم(ع) کو لوگوں کو حج انجام دینے کی طرف بلانے کے حکم کے بعد حضرت ابراہیم(ع) اس پتھر پر کھڑے ہو کر خدا کے حکم کو لوگوں تک پہنچایا اس وقت سے ان کے پاؤں کے نشان اس پتھر پر رہ گیا تھا۔ [3] ایک اور روایت کے مطابق پاؤں کے نشان اس وقت اس پتھر پر رہ گئے تھے جب حضرت ابراہیم علیہ‌السلام اس پتھر پر چڑھ کر خانہ کعبہ کے بالائی حصے کی دیواروں کو بلند کر رہے تھے۔ [4]

اس پتھر کو حَجَرُ الْاَسوَد کی طرح مقدس اور بہشتی پتھروں میں سے قرار دیتے ہیں۔[5] حضرت ابراہیم (ع) اور اسماعیل (ع) اس طرح نماز کیلئے کھڑے ہوتے تھے کہ یہ پتھر ان کے اور خانہ کعبہ کے درمیان قرار پاتا تھا۔ پیغمبر اکرم(ص) بھی مکے میں اسی طرح نماز ادا فرماتے تھے۔[6]

تاریخی منابع کے مطابق خلیفہ دوم کے زمانے تک یہ پتھر زمین پر ہی تھا۔ ان کے دور خلافت میں "اُمِّ اَشہل" نامی سیلاب نے اس پتھر کو جابجا کیا لیکن خلیفہ کے حکم سے اس پتھر کیلئے اپنی پرانی جگہ ایک سٹینڈ تیار کیا گیا۔[7] دوسرے صدی ہجری میں اس پتھر کو جو کئی جگہوں سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا تھا چاندی کے ذریعے جوڑا گیا اور اس کے اوپر سونے کا کور چڑھایا گیا۔ بعد میں اس کی مزید حفاظت کی خاطر اس کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد بنایا گیا جس کے چاروں اطارف لوہے سے بی ہوئی پنجرے نصب کئے گئے ہیں۔ سنہ ۱۳۴۶ شمسی تک اس کے اوپر لکڑی کا ایک چھت بنا ہوا تھا جو طواف کرنے والوں کیلئے مزاحمت ایجاد کرتا تھا اسی بنا پر سعودیہ عربیہ کی حکومت مقام ابراہیم کو "باب بنی شیبہ" کے پاس منتقل کرنا چاہتا تھا جو مسلمانوں کی مخالفت کی وجہ سے عملی نہیں ہوا۔ موجودہ دور میں مقام ابراہیم کے اوپر لوہے کا ستون بنایا گیا ہے۔[8][9] اس ستون کے اطراف میں لگے ہوئے شیشوں کے ذریعے پتھر پر منقوش پاؤں کے نشانات کو دیکھ سکتے ہیں[10] مقام ابراہیم خانہ کعبہ سے تقریبا 13 میٹر فاصلے پر واقع ہے۔

اصلی جگہ

مقام ابراہیم کی اصلی جگہے کے بارے میں کئی نظریات موجود ہیں:

اکثر شیعیان اور بعض اہل سنت [11][12] معتقد ہیں کہ مقام ابراہیم زمانہ جاہلیت میں بھی اسی جگہ پر تھا جہاں آجکل ہے لیکن پیغمبر اکرم(ص) نے اسے اس کی اصلی جگہ جو خانہ کعبہ سے ملا ہوا تھا، پلٹایا تھا بعد میں "خلیفہ ثانی" نے مختلف دلائل منجملہ طواف کرنے والوں کے رش کو بہانہ بنا کر اسے پھر اسی مقام پر منتقل کیا جہاں آج کل موجود ہے۔

امام علی(ع) کے دور خلافت میں آپ نے ایک خطبے کی ضمن میں خلفاء ثلاثہ کی غلطیوں اور اشتہابات کا تذکرہ فرماتے ہوئے مقام ابراہیم کی جگہے کی تبدیلی کو انہی اشتبہات میں سے قرار دیا اور فرمایا کہ اگر اکثر صحابہ مجھ علی کو تنہا نہ چھوڑا ہوتا تو ان امور کو پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے کی طرح پلتا دیتا[13]

بعض اہل سنت مورخین معتقد ہیں کہ مقام ابراہیم فتح مکہ تک خانہ کعبہ کے اندر محفوظ تھا اور فتح مکہ کے بعد پیغمبر اکرم(ص) نے اسے باہر نکالا اور خانہ کعبہ کے ساتھ نصب فرمایا۔ اس کے بعد جب سورہ بقرہ کی آیت نمبر 125 نازل ہوئی تو آپ نے اسے موجودہ جگہے پر منتقل فرمایا۔ [14]

اہل سنت کے بعض علماء اس آیت کو خلیفہ دوم کے فضائل میں سے شمار کرتے ہوئے عبداللہ بن عمر سے نقل کرتے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) نے عمر کا ہاتھ تھاما اور انہیں مقام ابراہیم کے قریب لے جا کر فرمایا: یہ مقام ابراہیم ہے. عمر نے کہا: "یا رسول‌اللہ! کیوں اسے "مصلّا" قرار نہیں دیتے ہو؟" اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی "وَ اتَّخِذُوا مِنْ مَقٰامِ إِبْرٰاہیمَ مُصَلًّی[15]

اہل سنت کے بعض اور افراد معتقد ہیں کہ حضرت ابراہیم کے زمانے سے اب تک مقام ابراہیم موجودہ جگہے پر موجود ہے۔[16]

عصر ظہور میں مقام ابراہیم کی جگہ

امام صادق(ع) سے منقول ایک حدیث میں آیا ہے کہ امام زمانہ(عج) جب ظہور فرمائیں گے تو مقام ابراہیم کو اس کی اپنی اصلی جگہ پر منتقل فرمائے گا۔[17]

مقام طواف کی حدود

اصل مضمون: طواف
مقام ابراہیم، خانہ کعبہ

کافی میں منقول ایک حدیث [18] میں مقام ابراہیم کا اپنی اصلی جگہے سے جابجا ہونے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طواف کی حدود خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کا موجودہ مکان بیان ہوئی ہے۔ اکثر شیعہ فقہاء طواف کی حدود ے کو یہی قرار دیتے ہیں۔[19] لیکن رش کی وجہ سے مخصوص شرائط کے تحت اس حصے سے باہر طواف کرنے کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کے مقابلے میں بعض افراد اس حصے کو مستحب قرار دیتے ہیں۔[20][21]

اہل سنت خانہ کعبہ کے طواف کرتے وقت کسی خاص فاصلہ کی رعایت کرنے کو لازم نہیں سمجھتے ہیں۔[22]

نماز طواف

اصل مضمون: نماز طواف

نماز کیلئے مقام ابراہیم کو قبلہ قرار دینا حضرت ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام کے زمانے سے لے کر پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے تک چلا آرہا ہے[23] اور قرآن میں مسلمانوں کو اس کی طرف نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ [24]

فقہ شیعہ میں نماز طواف واجب (طواف زیارت اور طواف نساء) کو مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھنا ضروری ہے۔[25] وہ اشخاض جو کسی شرعی غذر کی وجہ سے مسجد الحرام کی دوسری منزل میں طوال کرتے ہیں لیکن مسجد الحرام کی صحن میں مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں تو ان کے بارے میں ففہاء کے فتوں میں اختلاف پایا جاتا ہے۔[26] نماز طواف مستحب کو مسجدالحرام میں کسی بھی جگہ پڑھ جا سکتی ہے۔

حوالہ جات

  1. جعفریان، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص۹۹
  2. سایت حج
  3. صدوق، علل الشرایع، قم، مكتبۃ الداوری، ص۴۲۳
  4. ازرقی، اخبار مكہ، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۵۹؛ نیشابوری، تـفسیر غـرائب القـرآن، ج۱، ص۳۹۵
  5. ابو علی الفضل بن حسن الطبری، مجمع البیان، بـیروت،‌دار احـیاء التراث العربی، ج۱، ص۲۰۳؛ ازرقی، اخبار مكہ، مكہ، دارالثقافہ، ۱۴۰۳ ہـ. ق.، ج۲، ص۲۹
  6. ابو علی الفضل بن حسن الطبری، مجمع البیان، بـیروت،‌ دار احـیاء التراث العربی، ج۱، ص۲۰۳؛ ازرقی، اخبار مكہ، مكہ، دارالثقافہ، ۱۴۰۳ ہـ. ق.، ج۲، ص۲۹
  7. اخبار مكہ، تـرجمہ دكتـر مـحمود مہدوی دامغانی، تہران، چاپ و نشر بنیاد مستضعفان، ۱۳۶۸ہـ. ش. ج۲، ص۳۲۷
  8. سایت حج
  9. التاریخ القویم، ج۴، ص۵۲
  10. فضل الحجرالاسود و مقام ابراہیم،سائد بکداش، صص۱۰۵-۱۰۴
  11. بلاذری، انساب الاشراف، ج۱۰، ص۳۳۴
  12. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۲۱۵
  13. کلینی، کافی، ج۸، ص۵۸، ح۲۱؛ شیخ صدوق، علل الشرایع، ج۲، ص۴۲۳؛ الارشاد شیخ مفید، ج۲، ص۳۸۳
  14. کردی مکی، التاریخ القویم، ج۳، ص۳۴۹؛ ابن بطوطہ، رحلۃ، ج۱، ص۳۷۴؛ ابن جبیر، رحلۃ، ص۵۵
  15. فتح الباری، ج۱، ص۶۹
  16. ازرقی، اخبار مکہ، ج۲، ص۳۳ و ۳۲۷
  17. اذا قام القائم ہدم المسجد الحرام حتی یردّہ الی اساسِہ وحوّل المقام إلی الموضع الذی کان فیہ. الارشاد شیخ مفید، ج۲، ص۳۸۳
  18. کافی، کلینی، چاپ دارالحدیث، ج۸، ص۵۸۹
  19. مختلف الشیعہ، علامہ حلی، ج۴، ص۱۸۳
  20. مناسک حج محشی، صص۳۳۶-۳۳۸ و ۵۹۲-۵۹۳
  21. طواف اور اس کی حدود مسلمان فقہاء کی نگاہ میں
  22. الفقہ علی المذاہب الاربعہ، عبدالرحمن جزیری، ج۱، صص۸۵۹-۸۶۰
  23. مجمع البیان، فضل بن حسن طبری، ج۱، ص۲۰۳
  24. سورہ بقرہ، آیہ ۱۲۵
  25. مناسک حج، م۷۹۶
  26. مناسک حج، م۲/۸۰۰


مآخذ

  • ابن بطوطہ، رحلۃ ابن بطوطۃ، رباط، اكادیمیۃ المملكۃ المغربیۃ، ۱۴۱۷ق
  • ابن جبیر، رحلۃ ابن جبیر، بیروت،‌ دار و مكتبۃ الہلال، بی‌تا.
  • ابن حجر عسقلانی، فتح الباری، بیروت، دارالمعرفۃ، ۱۳۷۹ق
  • ابن سعد، الطبقات الكبری، بیروت،‌ دارالكتب العلمیہ، ۱۴۱۸ق
  • ازرقی، اخبار مكہ، تـرجمہ دكتـر مـحمود مہدوی دامغانی، تہران، چاپ و نشر بنیاد مستضعفان، ۱۳۶۸ش
  • ازرقی، اخبار مكہ، مكہ مكرمہ، دارالثقافۃ، ۱۴۰۳ق
  • بلاذری، انساب الاشراف، بہ كوشش زكار و زركلی، بیروت،‌ دار الفكر، ۱۴۱۷ق
  • الجزیری، عبدالرحمن و دیگران، الفقہ علی المذاہب الاربعہ و مذہب اہل البیت (علیہم السلام)، اول، بیروت، الثقلین، ۱۴۱۹ق.
  • جعفریان، رسول، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، نشر مشعر
  • درگاہی، مہدی و عندلیبی، رضا، مقام ابراہیم و جایگاہ آن در فقہ، پژوہشکدہ حج و زیارت، نشر مشعر، تہران، ۱۳۹۳ش
  • سائد بکداش،‌ فضل الحجرالاسود و مقام ابراہیم، دار البشائر الاسلامیہ، بیروت، ۱۴۲۶ق
  • شیخ صدوق، علل الشرائع، قم، كتابفروشی داوری، ۱۳۸۵ش
  • طبرسی، مجمع البیان، بـیروت،‌ دار احـیاء التراث العربی
  • كردی مكی، محمد طاہر، التاریخ القویم، بیروت، دارالخضر، ۱۴۲۰ق
  • کلینی، محمد بن یعقوب، کافی، دارالحدیث، قم، ۱۴۲۹ق
  • مقالہ: مقام ابراہیم و سیر تاریخی آن، مہدی پیشوایی و حسین گودرزی، مجلہ میقات حج، شمارہ ۲۳، بہار ۱۳۷۷ش
  • محمودی، محمدرضا، مناسک حج مطابق فتاوای امام خمینی و مراجع معظم تقلید، مرکز تحقیقات حج بعثہ مقام معظم رہبری، نشر مشعر، چاپ چہارم، ۱۳۸۷ش
  • نیشابوری، نظام الدین، تـفسیر غـرائب القـرآن، حاشیہ تفسیر طبری، بیروت،‌ دار احیاء تراث العربی