اذن دخول

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اذن دخول یا اذن ورود، جس کا معنی داخلے کی اجازت ہے، جو کہ معاشرت کے آداب، اور اسی طرح بزرگوں کی زیارت بالخصوص آئمہ معصومین(ع) کی زیارت کے آداب سے ہے.

آداب معاشرت

اذن دخول کا معنی کسی دوسرے ملک میں داخل ہونے کے لئے اجازت لینا ہے، اور یہ معاشرت کے آداب سے ہے. سورہ نور میں کسی کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل ہونے سے منع کیا گیا ہے. [1] اسی طرح قرآن کریم نے پیغمبر(ص) کے گھر بغیر اجازت کے داخل ہونے سے منع کیا ہے. [2] کہا گیا ہے کہ جب جبرئیل پیغمبر اکرم(ص) کی خدمت میں آتے تو دروازے پر کھڑے ہو کر اجازت لیتے. بعض مسجد النبی میں موجود "باب جبرئیل" کو وہی مکان کہتے ہیں جہاں پر جبرئیل کھڑے ہو کر حضور(ص) سے اذن دخول لیتے تھے.[3]

زیارت کے آداب

شیعہ کے مطابق، اذن دخول زیارت کے آداب سے ہے. وہ آئمہ معصومین(ع) کے حرم میں داخل ہوتے وقت دعا پڑھتے ہیں جو اذن دخول سے مشہور ہے. اس دعا کے مطابق، معصومین(ع) کے روح، زائرین کو دیکھتے ہیں اور ان کے اعمال کو مشاہدہ کرتے ہیں. [4] دعا اور زیارات کی کتابوں میں معصومین(ع) کی زیارت کے آداب ذکر ہوئے ہیں، ان آداب میں سے ایک اذن دخول ہے. شیخ عباس قمی نے کفعمی [5] اور مجلسی [6] سے دعائیں نقل کی ہیں جنہیں مفاتیح الجنان میں ذکر کیا ہے. [7]

اذن دخول کا متن

اذن دخول کے نام سے مشہور متن ہے جس میں زائر خدا، پیغمبر(ص)، آئمہ معصومین(ع)، مقرب فرشتوں اور صاحب قبر سے داخل ہونے کی اجازت لیتا ہے عام طور پر یہ متن زیارت گاہ میں داخل ہونے والے دروازے کے ساتھ لکھا ہوتا ہے اور زائرین اس کو پڑھنے کے بعد زیارت گاہ میں داخل ہوتے ہیں.

"اللَّهُمَّ إِنِّي وَقَفْتُ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ بُيُوتِ نَبِيِّكَ صَلَوَاتُكَ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ قَدْ مَنَعْتَ النَّاسَ أَنْ يَدْخُلُوا إِلا بِإِذْنِهِ فَقُلْتَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعْتَقِدُ حُرْمَةَ صَاحِبِ هَذَا الْمَشْهَدِ الشَّرِيفِ فِي غَيْبَتِهِ كَمَا أَعْتَقِدُهَا فِي حَضْرَتِهِ وَ أَعْلَمُ أَنَّ رَسُولَكَ وَ خُلَفَاءَكَ عَلَيْهِمُ السَّلامُ أَحْيَاءٌ عِنْدَكَ يُرْزَقُونَ يَرَوْنَ مَقَامِي وَ يَسْمَعُونَ كَلامِي وَ يَرُدُّونَ سَلامِي وَ أَنَّكَ حَجَبْتَ عَنْ سَمْعِي كَلامَهُمْ وَ فَتَحْتَ بَابَ فَهْمِي بِلَذِيذِ مُنَاجَاتِهِمْ وَ إِنِّي أَسْتَأْذِنُكَ يَا رَبِّ أَوَّلا وَ أَسْتَأْذِنُ رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ ثَانِيا وَ أَسْتَأْذِنُ خَلِيفَتَكَ الْإِمَامَ الْمَفْرُوضَ [الْمُفْتَرَضَ ] عَلَيَّ طَاعَتُهُ فُلانَ بْنَ فُلانٍ(به جای نام صاحب قبر را بگوید) وَ الْمَلائِكَةَ الْمُوَكَّلِينَ بِهَذِهِ الْبُقْعَةِ الْمُبَارَكَةِ ثَالِثا أَ أَدْخُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَ أَدْخُلُ يَا حُجَّةَ اللَّهِ أَ أَدْخُلُ يَا مَلائِكَةَ اللَّهِ الْمُقَرَّبِينَ الْمُقِيمِينَ فِي هَذَا الْمَشْهَدِ فَأْذَنْ لِي يَا مَوْلايَ فِي الدُّخُولِ أَفْضَلَ مَا أَذِنْتَ لِأَحَدٍ مِنْ أَوْلِيَائِكَ فَإِنْ لَمْ أَكُنْ أَهْلا لِذَلِكَ فَأَنْتَ أَهْلٌ لِذَلِكَ" بِسْمِ اللَّهِ وَ بِاللَّهِ وَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَ عَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَ ارْحَمْنِي وَ تُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ [8]

ترجمہ: اے معبود! میں تیرے نبی کے گھر کے دروازوں میں سے ایک دروازے پر حاضر ہوں ان پر اور ان کی آل(ع) پر تیری رحمت نازل ہو.تو نے لوگوں کو آنحضرت(ص)کی اجازت کے بغیر ان کے گھروں میں داخل ہونے سے منع کیا ہے اور تیرا فرمان ہے اے ایمان والو!داخل نہ ہوا کرو نبی کے گھروں میں مگر اس وقت جب تمہیں اجازت مل جائے.اے اللہ بے شک میں اس حرم میں مدفون ہستی کا ان کی غیبت میں ایسے ہی معتقد ہوں جیسے میں ان کے ظہور میں معتقد تھا اور میں جانتا ہوں کہ تیرا رسول(ص) اور تیرے خلفاء کہ ان سب پر سلام ہو وہ زندہ ہیں اور تیرے ہاں رزق پاتے ہیں وہ مجھے دیکھ رہے ہیں میری معروضات سن رہے ہیں اور میرے سلام کا جواب دے رہے ہیں اور بے شک تو نے میرے کانوں کو ان کا کلام سننے سے روکا ہے اور ان سے راز و نیاز کرنے میں میرے فہم کو کھول رکھا ہے اور اے میرے رب پہلے میں تجھ سے اجازت مانگتا ہوں کہ خدا رحمت کرے ان پر اور ان کی آل(ع) پر اور میں اجازت مانگتا ہوں تیرے خلیفہ اور امام سے جن کی اطاعت مجھ پر واجب ہے. (فلان بن فلان کی جگہ ان امام(ع) کا نام لیا جائے) پھر ان فرشتوں سے جو اس بارگاہ کے نگہبان ہیں جو پر برکت ہے آیا میں اندر آ جاؤں، اے اللہ کے رسول(ص) آیا میں اندر آ جاؤں، اے خدا کی حجت(ع) آیا میں اندر آ جاؤں، اے خدا کے مقرب ملائکہ جو قبر مطہر کے پاس مقیم ہیں پس اے میرے مولا(ع) مجھے اندر آنے کی اجازت دیجئے ایسی بہترین اجازت جو آپ نے اپنے دوستوں میں سے کسی کو دی ہو اگرچہ میں اس کے لائق نہیں ہوں لیکن آپ اجازت دینے کے اہل ہیں" خدا کے نام سے، خدا کی راہ میں اور حضرت رسول(ص) خدا کی ملت پر کہ رحمت کرے اللہ ان پر اور ان کی آل(ع) پر اے معبود!مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما اور میری توبہ قبول کر کہ بے شک تو بڑا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے.

حوالہ جات

  1. سوره نور، آیات۲۶-۲۸.
  2. سوره احزاب، آیہ ۵۳.
  3. مجلہ فرہنگ زیارت، فروردین ۱۳۸۸، ش۱، انتشار: ۵ اردیبہشت ۱۳۹۴، بازبینی: ۲۶ اردیبہشت ۱۳۹۶ش.
  4. کفعمی، المصباح، ۱۴۰۵ق، ص۴۷۲-۴۷۳.
  5. کفعمی، المصباح، ۱۴۰۵ق، ص۴۷۲-۴۷۳.
  6. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۷، ص۳۷۱.
  7. محدث قمی، مفاتیح الجنان،‌ ۱۳۸۵ش، باب سوم (زیارات)، ص۴۶۵-۴۶۷.
  8. کفعمی، المصباح، ۱۴۰۵ق، ص۴۷۲-۴۷۳؛ محدث قمی، مفاتیح الجنان،‌ ۱۳۸۵ش، باب سوم (زیارات)، ص۴۶۵.


مآخذ

  • کفعمی، ابراہیم بن علی، المصباح، قم، دارالرضی، ۱۴۰۵ق.
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان،‌مؤسسۃ انصاریان مرکز للطباعۃ و النشر للمجمع العالمی لاہل البیت، ۱۳۸۵ش/۱۴۲۷ق.
  • مجلسی، محمدباقر، بیروت، داراحیاءالتراث العربی، ۱۴۰۳ق.