مسودہ:شہدائے کربلا کی تدفین
| واقعات | |
|---|---|
| امام حسینؑ کے نام کوفیوں کے خطوط • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا | |
| شخصیات | |
| امام حسینؑ علی اکبر • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا • | |
| مقامات | |
| حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ | |
| مناسبتیں | |
| تاسوعا • عاشورا • عشرہ محرم • اربعین • عشرہ صفر | |
| رسومات | |
| زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ • نوحہ • تباکی • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری • عَلَم • سبیل • جلوس عزا • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس |
شہدائے کربلا کی تدفین سے مراد واقعہ عاشورا کے بعد سنہ 61 ہجری میں امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب و انصار کے اجسادِ مطہرہ کی تدفین ہے۔ شہداء کی تدفین کب، کس طرح اور کن لوگوں نے کی؟، اس سلسلے میں مختلف تاریخی روایات موجود ہیں۔ بعض روایات کے مطابق بنی اسد نے شہداء کے اجساد کو دفن کیا، جبکہ امامیہ روایات کے مطابق امام زین العابدینؑ نے امام حسینؑ کے جسد مطہر کو دفن کیا۔ شہداء کو کربلا ہی میں دفن کیا گیا اور بعض شہدا، مثلاً حضرت عباسؑ، حُر بن یزید ریاحی اور حبیب بن مظاہر کے الگ الگ مزارات ہیں۔ شہدائے کربلا کے سروں کی تدفین کے مقام کے بارے میں بھی مختلف اقوال نقل ہوئے ہیں۔
شہدائے کربلا کی تدفین کا ذکر مقتل اور مصائب کی کتابوں میں بھی ملتا ہے۔ شہداء کے اجساد کا شہادت کے بعد زمین پر باقی رہنا ان کی مظلومیت کے نمایاں پہلو سمجھا جاتا ہے۔ 13 محرم کو بنی اسد کی خواتین کی جانب سے عزاداری کی رسم بھی اسی واقعے کی یاد میں ادا کی جاتی ہے۔
پس منظر اور اہمیت
شہدائے کربلا کی تدفین واقعہ عاشورا کے بعد پیش آنے والے اہم واقعات میں سے ایک ہے، جس کا ذکر تاریخی اور روائی منابع میں ملتا ہے۔[1] اس واقعے کا عقیدتی پہلو بھی اہمیت کا حامل ہے؛ کیونکہ شیعہ امامیہ روایات کے مطابق ہر امام کے بعد اس کی تدفین، اپنے مابعد امام کی ذمہ داریوں میں سے ایک ہے۔ اسی لیے امام زین العابدینؑ کا معجزانہ طور پر کربلا پہنچ کر امام حسینؑ کی تدفین کرنا آپؑ کی امامت کی دلیلوں میں شمار کیا گیا ہے۔[2]
شہادت کے بعد امام حسینؑ اور آپؑ کے اصحاب کے اجساد کا زمین پر باقی رہنا اور تاخیر سے دفن ہونا، مقتل اور مصائب کی کتابوں میں نمایاں طور پر بیان ہوا ہے اور اسے شہدائے کربلا کی مظلومیت کی نشانیوں میں شمار کیا گیا ہے۔ 13 محرم کو بنی اسد کی خواتین کی عزاداری بھی شہداء کی تدفین کی یاد میں منعقد کی جاتی ہے۔[3] نیز شہداء کی قبور کے مقامات کی شناخت نے کربلا میں زیارت گاہوں کے قیام اور امام حسینؑ کی زیارت کی روایت کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔[4]
دفن شہدا کی تاریخ و مقام
شہدائے کربلا کی تدفین کی تاریخ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض منابع میں سنہ 61 ہجری کی 11 محرم کو تدفین کا دن قرار دیا گیا ہے۔[5] اس قول کو اہل سنت کے بعض مورخین[6] اور شیعہ علماء کی ایک تعداد نے بھی قبول کیا ہے۔[7] بعض منابع میں 13 محرم کو تدفین کا دن ذکر کیا گیا ہے۔[8] ایک روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ شہداء کے اجساد عاشورا کے بعد تین دن تک زمین پر پڑے رہے۔[9] تاہم بعض محققین نے اس روایت کو تاریخی اعتبار سے مضبوط شواہد سے خالی قرار دیا ہے۔[10]
اجساد شہداء کی تدفین کا مقام
مشہور روایات کے مطابق امام حسینؑ کو اسی مقام پر دفن کیا گیا جہاں آج آپؑ کا روضہ مبارک واقع ہے۔[11] حضرت علی اکبرؑ کو امام حسینؑ کی پائینی جانب دفن کیا گیا ہے۔[12] حضرت عباسؑ کو مقامِ شہادت ہی پر دوسرے شہداء سے الگ دفن کیا گیا اور آج بھی آپؑ کا مرقد اسی مقام پر موجود ہے۔[13] حضرت علی اصغرؑ کے بارے میں بھی روایات موجود ہیں کہ انہیں امام حسینؑ کی قبر کے قریب دفن کیا گیا ہے۔[14] بعض محققین نے حضرت علی اصغرؑ کو امام حسینؑ کے سینہ مبارک پر دفن کیے جانے والی روایت کو تاریخی شواہد سے خالی قرار دیتے ہوئے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ تعبیر مجازی معنی رکھتی ہے۔[15]
حُر بن یزید ریاحی کو بھی دوسرے شہداء سے الگ دفن کیا گیا ہے۔ بعض روایات کے مطابق ان کے خاندان والوں نے ان کے جسد کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کیا اور وہیں دفن کیا۔[16] حبیب بن مظاہر بھی بنی اسد کے ساتھ اپنے قبائلی تعلق کی وجہ سے دوسرے شہداء سے الگ امام حسینؑ کی قبر کے قریب دفن ہوئے۔[17] امام حسینؑ کے دیگر اصحاب کے بارے میں بھی نقل ہوا ہے کہ انہیں امام حسینؑ کی قبر کے قریب اجتماعی طور پر دفن کیا گیا۔[18]
سرہائے شہدائے کربلا کی تدفین
امام حسینؑ کے سرِ مبارک کے مقام تدفین کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ شیعہ علماء کے درمیان مشہور یہ ہے کہ امام حسینؑ کا سرِ مبارک شام منتقل کیے جانے کے بعد دوبارہ کربلا لایا گیا اور آپؑ کے جسدِ اطہر کے ساتھ دفن کیا گیا۔[19] مصر[20] دمشق،[21] مدینہ[22] اور نجف کو بھی امام حسینؑ کے سرِ مبارک کی تدفین کے مقامات کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔[23] تاہم شہدائے کربلا کے دیگر سروں کے بارے میں بھی اکثر شیعہ علماء نے یہی نظریہ قبول کیا ہے کہ انہیں کربلا واپس لا کر ان کے اجساد کے ساتھ دفن کیا گیا۔[24] اس کے باوجود دمشق کے باب الصغیر قبرستان میں ایک زیارت گاہ ایسی بھی موجود ہے جو شہدائے کربلا کے سروں سے منسوب کی جاتی ہے۔[25]
شہداء کو دفن کرنے والے اور تدفین کا طریقہ
شہدائے کربلا کی تدفین کے بارے میں دو طرح کی روایات موجود ہیں۔ بعض روایات کے مطابق قبیلہ بنی اسد کے وہ افراد جو غاضریہ میں رہتے تھے، عمر بن سعد کے لشکر کے کربلا سے روانہ ہونے کے بعد وہاں پہنچے اور شہداء کے اجساد کو دفن کیا۔[26] بعض روایات میں شہداء کے اجساد پر نماز پڑھنے کا عمل بھی بنی اسد کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔[27] امامیہ روایات[28] کے مطابق امام زین العابدین اسیری کے باوجود معجزانہ طور پر کربلا تشریف لائے اور امام حسینؑ کے جسدِ اطہر کو دفن کیا۔[29] بعض محققین نے ان دونوں طرح کی روایات کو قابل جمع قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق بنی اسد نے شہداء کی تدفین میں شرکت کی، جبکہ امام سجادؑ نے امام حسینؑ کی تدفین میں کردار ادا کیا۔[30]
امام حسینؑ کی تدفین کا طریقہ
بعض روایات میں امام حسینؑ کے جسدِ مبارک کو غسل اور کفن کے بغیر دفن کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔[31] آپؑ کے جسدِ اطہر پر آنے والے شدید زخموں اور آپؑ کے لباس کے لوٹ لیے جانے کو تدفین کے اس طریقے کے مؤثر عوامل میں شمار کیا گیا ہے۔[32] متوکل عباسی کے دور سے متعلق ایک روایت میں بیان ہوا ہے کہ جب امام حسینؑ کی قبر کھولی گئی تو آپؑ کے جسدِ مبارک کے نیچے ایک نیا بوریا موجود پایا گیا۔[33] بعض محققین نے اس روایت کی بنیاد پر احتمال ظاہر کیا ہے کہ تدفین کے وقت امام حسینؑ کے جسدِ مبارک کو بوریا پر رکھا گیا تھا۔[34]
متعلقہ مراسم
ہر سال 13 محرم کو حرم امام حسینؑ میں بنی اسد کی خواتین کی عزاداری کے عنوان سے ایک مراسم منعقد ہوتا ہے جو شہدائے کربلا کی تدفین کی یاد تازہ کرتا ہے۔[35] اس مراسم میں خواتین کفن اور بوریا سے بھری چٹائی سے بنی ٹوکریاں اٹھا کر،[36] «لبیک یا حسین» کے نعرے بلند کرتے ہوئے عزاداری کرتی ہیں۔[37]
اسی نوعیت کی بعض رسومات ایران کے مختلف شہروں میں «قتل الحسین» کے عنوان سے بھی منعقد کی جاتی ہیں۔[38]
حوالہ جات
- ↑ مسعودی، مروج الذہب، 1409ء، ج3، ص63؛ مقرم، مقتل الحسین(ع)، ص1979، ص319۔
- ↑ محمدی ریشہری، دانشنامہ امام حسین بر پایہ قرآن، حدیث و تاریخ، 1388شمسی، ج7، ص436۔
- ↑ «فریاد "لبیک یا حسین" زنان قبیلہ بنیاسد در حرم سیدالشہدا طنینانداز شد»، خبرگزاری مہر۔
- ↑ محمدی ریشہری، دانشنامہ امام حسین بر پایہ قرآن، حدیث و تاریخ، 1388شمسی، ج7، ص436۔
- ↑ بلاذری، انساب الاشراف، 1977ء، ج3، ص205؛ طبری، تاریخ الأمم والملوک، 1967ء، ج5، ص455؛ مسعودی، مروج الذہب، 1409ء، ج3، ص63۔
- ↑ بلاذری، انساب الاشراف، 1977ء، ج3، ص205؛ ابناثیر، الکامل فی التاریخ، 1965ء، ج4، ص80۔
- ↑ ابن شہر آشوب؛ مناقب آلابیطالب، 1376ھ، ج4، ص112؛ سید بن طاوس؛ الملہوف علی قتلی الطفوف، 1988ء، ص107۔
- ↑ مقرم، مقتل الحسین(ع)، ص1979، ص319۔
- ↑ بلعمی، تاریخ نامہ طبری، 1403شمسی، ج4، ص712
- ↑ پیشوایی، مقتل جامع سید الشہداء، 1389شمسی، ص900-903۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص114؛ طبرسی؛ اعلام الوری بأعلام الہدی، 1390ھ، ج1، ص417؛ مجلسی، جلاء العیون، 1383شمسی، ص380۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج2، ص114؛ اربلی، کشف الغمۃ، 1382شمسی، ج3، ص168۔
- ↑ مقرم، مقتل الحسین(ع)، 1979ء، ص319-321؛ مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، 1403ھ، ج45، ص169۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج45، ص169۔
- ↑ قاضی طباطبایی، تحقیق دربارہ اولین اربعین حضرت سیدالشہدا(ع)، 1385شمسی، ص95۔
- ↑ مقرم، مقتل الحسین(ع)، ص1979ء، ص321؛ امین، اعیان الشیعہ، 1362شمسی، ج1، ص613۔
- ↑ امین، اعیان الشیعہ، 1362شمسی، ج1، ص613۔
- ↑ کشی، رجال الکشی، 1409ھ، ص463-464۔
- ↑ قاضی طباطبایی، تحقیق دربارہ اولین اربعین حضرت سیدالشہدا(ع)، 1385شمسی، ص29؛ سید بن طاووس، الملہوف علی قتلی الطفوف، 1988ء، ص112؛ نجفی، جواہر الکلام، 1362شمسی، ج20، ص93۔
- ↑ امین، لواعج الاشجان، 1996ء، ص191۔
- ↑ بلاذرى، أنساب الأشراف، 1996ء، ج3، ص214۔
- ↑ حنبلی، شذرات الذہب، 1406ھ، ج1، ص275؛ ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، 1408ھ، ج8، ص204۔
- ↑ ابنقولویہ، كامل الزیارات، 1398ھ، ص35۔
- ↑ مقرم، مقتل الحسین(ع)، 1979ء، ص470۔
- ↑ عالمی، حسین نفس مطمئنہ، 1372شمسی، ص365۔
- ↑ شیخ مفید؛ الارشاد، 1413ھ، ج2، ص114؛ طبرسی، اعلام الوری بأعلام الہدی، 1390ھ، ج1، ص417۔
- ↑ شیخ مفید؛ الارشاد، 1413ھ، ج2، ص114؛ طبرسی، اعلام الوری بأعلام الہدی، 1390ھ، ج1، ص417۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج27، ص288-291۔
- ↑ کشی، رجال الکشی، 1409ھ، ص463-464؛ مجلسی، جلاء العیون، 1383شمسی، ص380۔
- ↑ محمدی ری شہری، دانشنامہ امام حسین بر پایہ قرآن، حدیث و تاریخ، 1388شمسی، ج7، ص437۔
- ↑ طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1967ء، ج5، ص455-456؛ بلاذری، انساب الاشراف، 1977ء، ج3، ص206۔
- ↑ طبری، تاریخ الامم و الملوک، 1967ء، ج5، ص455-456؛ بلاذری، انساب الاشراف، 1977ء، ج3، ص206۔
- ↑ شیخ طوسی، الامالی، 1414ھ، ص326، ح653۔
- ↑ پیشوایی، مقتل جامع سید الشہداء، 1389شمسی، ص900-903۔
- ↑ «فریاد "لبیک یا حسین" زنان قبیلہ بنیاسد در حرم سیدالشہدا طنینانداز شد»، خبرگزاری مہر۔
- ↑ «زنان قبیلہ بنیاسد بہ عزاداری پرداختند» خبرگزاری دفاع مقدس۔
- ↑ «فریاد "لبیک یا حسین" زنان قبیلہ بنیاسد در حرم سیدالشہدا طنینانداز شد»، خبرگزاری مہر۔
- ↑ «آیینہای عاشورایی در مازندران»، خبرگزاری ایرنا۔
مآخذ
- «آیینہای عاشورایی در مازندران»(مازندران میں عاشورائی رسومات)، ایرنا خبر رساں ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 6 ستمبر 2019ء، تاریخ مشاہدہ: 10 جولائی 2026ء۔
- ابنشہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابیطالب، نجف، مکتبۃ الحیدریہ، 1376ھ۔
- ابنکثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1408ھ۔
- ابناثیر، علی بن ابیالکرم، الکامل فی التاریخ، دار صادر، بیروت، 1965ء۔
- ابنقولویہ، جعفر بن محمد، كامل الزيارات، نجف، دار المرتضویہ، 1398ھ۔
- اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الائمہ، تہران، انتشارات اسلامیہ، 1382ہجری شمسی۔
- امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دارالتعارف، 1362ہجری شمسی۔
- امین، سید محسن، لواعج الاشجان فی مقتل الحسین(ع)، بیروت، دار الامیر للثقافۃ و العلوم، 1996ء۔
- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، بیروت، دارالتعارف، 1977ء۔
- بلعمی، ابوعلی، تاریخ نامہ طبری، تہران، انتشارات آگاہ، 1403ہجری شمسی۔
- پیشوایی، مہدی، مقتل جامع سید الشہداء، قم، مؤسسہ آموزشی پژوہشی امام خمینی، 1389ہجری شمسی۔
- حنبلی، عماد، شذرات الذہب، بیروت و دمشق، دار ابن کثیر، 1406ھ۔
- خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین(ع)، قم، انوار الہدی، 1381ہجری شمسی۔
- «زنان قبیلہ بنیاسد بہ عزاداری پرداختند»(بنی اسد کی خواتین نے عزاداری کی)، دفاع مقدس خبر رساں ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 10 جولائی 2024ء، تاریخ مشاہدہ: 10 جولائی 2026ء۔
- سید بن طاوس، الملہوف علی قتلی الطفوف، قم، نشر المعد، 1988ء۔
- شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دارالثقافہ، 1414ھ۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الارشاد، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، انتشارات اسلامیہ، 1390ھ۔
- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم والملوک، بیروت، دار التراث، 1967ء۔
- عالمی، محمدعلی، حسین نفس مطمئنہ (از مدینہ تا کربلا)، تہران، انتشارات ہاد، 1372ہجری شمسی۔
- «فریاد "لبیک یا حسین" زنان قبیلہ بنیاسد در حرم سیدالشہدا طنینانداز شد»(حرمِ سید الشہداء میں قبیلہ بنی اسد کی خواتین کی فریادِ «لبیک یا حسینؑ» گونج اٹھی)، مہر خبر رساں ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 28 نومبر 2012ء، تاریخ مشاہدہ: 10 جولائی 2026ء۔
- قاضی طباطبایی، سید محمدعلی، تحقیق دربارہ اولین اربعین حضرت سیدالشہدا(ع)، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، 1385ہجری شمسی۔
- کشی، محمد بن عمر، رجال الکشی، مشہد، نشر دانشگاہ مشہد، 1409ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، جلاء العیون، تہران، چاپ سنگی، 1383ہجری شمسی۔
- محمدی ری شہری، محمد، دانشنامہ امام حسین بر پایہ قرآن، حدیث و تاریخ، قم، دار الحدیث، 1388ہجری شمسی۔
- مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، قم، دارالہجرہ، 1409ھ۔
- مقرم، عبدالرزاق الموسوی، مقتل الحسین(ع)، بیروت، دارالکتاب الاسلامیہ، 1979ء۔
- نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1362ہجری شمسی۔