مسروق بن وائل حضرمی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

مسروق بن وائل حضرمی واقعہ کربلا میں لشکر عمر بن سعد کے اس لشکر میں شامل تھا جو گھوڑوں پر سوار تھے۔ یہ گھڑ سو ار روز عاشورا امام حسین ؑ کا سر حاصل کرنے کے لیے عمر سعد کے فوج میں سب سے آگے تھا۔ لیکن ابن حوزہ کے امام حسین ؑ سے روبرو ہونے اور اس کی موت کے منظر کو دیکھ کر اس نے میدان جنگ کو چھوڑ دیا۔ ابو مخنف نے ابن حوزہ کی موت کے واقعے اور مسروق کی میدان جنگ سے کنار کشی کو دو سلسلوں سے نقل کیا ہے۔

واقعہ کربلا

مسروق روز عاشورا لشکر عمر بن سعد میں تھا۔ اس امید سے کہ امام حسین ؑ کا سر اسے نصیب ہو اور وہ عبید اللہ ابن زیاد کے نزدیک اعلی مقام حاصل کر سکے ،عمر سعد کے گھڑسوار لشکر میں سب سے آگے تھا۔ اس نے امام حسین ؑ اور ابن حوزہ کے درمیان ہونے والی گفتگو کو سنا اور امام حسین نے ابن حوزہ کو بد دعا دی، اس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہوگیا، تو مسروق نے میدان جنگ سے کنارہ کشی اختیار کی اور کہا : میں نے اس خاندان میں وہ چیزیں دیکھی ہیں کہ اب میں ان سے کبھی نہیں جنگ کروں گا ۔[1]

واقعہ کی روایت

مسروق بن وائل نے ابن حوزہ کی امام حسین ؑ کے ساتھ رویے اور امامؑ کی اس کے لئے بدعا (لعنت) کو بیان کیا ہے۔وہ عمر ابن سعد کے لشکر میں اپنے سب سے آگے ہونے کا مقصدامام حسین ؑ کا سر حاصل کرنے کوبیان کرتا ہے۔۔[2] ابو مخنف نے یہ روایت عطا بن سائب کے ذریعے سے اس کے بھائی عبد الجبار بن وائل سے نقل کی ہے۔۔[3] مسروق ،ابن حوزہ کے امام حسین ؑ کے ساتھ رویے اور اس کی موت کو اس طرح بیان کرتا ہے: میں ان اولین سواروں میں سے تھا جو امام حسین ؑ کی طرف روانہ ہوئے۔ میں نے اپنے آپ سے کہا :"آگے بڑھنے والوں میں رہتا ہوں۔ شاید اس طرح سر امام حسینؑ کو حاصل کر سکوں اور ابن زیاد کے نزیک کوئی مقام منزلت حاصل کر سکوں۔ ہم جونہی امام حسینؑ کے قریب پہنچے ابن حوزہ کی جماعت کا ایک شخص آگے آیا اور اس نے پوچھا: "تمہارے درمیان حسینؑ ہیں ؟"امام حسین ؑ خاموش رہے اور ابن حوزہ نے دوسری بار سوال دہرایا۔امام حسینؑ اسی طرح خاموش رہے جب اس نے تیسری بار پوچھا؟ تو امام حسینؑ نے فرمایا :"اس سے کہو ہاں یہ حسین ؑ ہے ۔کیا چاہتے ہے ؟"ابن حوزہ نے کہا: "اے حسینؑ آگاہ ہو جاو کہ تم جہنم میں جا رہے ہو "امام حسین ؑنے فرمایا" ہرگز نہیں میں پروردگار غفور و رحیم اور تواب اور جو قابل پرستش ہے، کی جانب جا رہا ہو ں" پھر امامؑ نے پوچھا:" تم کون ہو"اس نے کہا :"ابن حوزہ" ۔پھر امام حسین نے اس طرح اپنے ہاتھ بلند کئے کہ ان کے بغل کی سفیدی کپڑوں سے عیاں تھی۔امام ؑ نے فرمایا :"اللھم حزہ الی النار " خدایا!اسے واصل جہنم کردے۔ابن حوزہ کو غصہ آ گیا اور اس نے گھوڑے کو ان کی جانب ایڑ لگائی لیکن اس کے اور حسینؑ کے درمیان نہر تھی۔ اس کے پاوں رکاب میں تھے۔اس نے گھوڑے سے جست لگا کر امامؑ پر حملہ کرنا چاہا لیکن پانی میں گر پڑا۔ اس کے پیر، پنڈلیاں اور رانیں الگ ہوگئیں اور باقی حصہ رکاب میں پھنسا رہ گیا۔»[4]

حوالہ جات

  1. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۳۱؛ ابن اثیر، الکامل، ج۴، ص۶۶؛ ابومخنف، وقعۃ الطف، ص۲۲۰؛ مقرم، مقتل الحسین، ص۲۴۱۔
  2. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۳۱؛ ابن اثیر، الکامل، ج۴، ص۶۶؛ ابومخنف، وقعۃ الطف، ص۳۵، ۲۲۰؛ مقرم، مقتل الحسین، ص۲۴۱ ۔
  3. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۳۱؛ ابومخنف، وقعة الطف، ص۳۵، ۵۹۔
  4. طبری، تاریخ، ج۵، ص۴۳۱؛ ابومخنف، وقعۃ الطف، ص۲۲۰؛ قمی، نفس المہموم، ۲۳۴۔


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، دارصادر، بیروت، ۱۳۸۵ق/۱۹۶۵ء۔
  • ابومخنف کوفی، وقعۃ الطف، جامعہ مدرسین، چاپ سوم، قم، ۱۴۱۷ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق: محمدأبوالفضل ابراہیم، دارالتراث، بیروت، ۱۳۸۷ھ/۱۹۶۷ء۔
  • قمی، عباس، نفس المهموم ، المکتبۃ الحیدریۃ، نجف، ۱۴۲۱ھ۔
  • مقرم، عبدالرزاق، مقتل الحسین علیہ السلام، المقرم، مؤسسۃ الخرسان للمطبوعات، بیروت، ۱۴۲۶ھ۔