الحسن و الحسین امامان قاما او قعدا
امام حسینؑ کے حرم میں حدیث "الحسن و الحسین قاما او قعدا" کا کتبہ | |
| حدیث کے کوائف | |
|---|---|
| موضوع | امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی امامت |
| صادر از | حضرت محمدؐ |
| شیعہ مآخذ | علل الشرایع، الارشاد، الفصول المختارۃ من العیون و المحاسن (کتاب)، کفایۃ الاثر |
| مشہور احادیث | |
| حدیث سلسلۃ الذہب • حدیث ثقلین • حدیث کساء • مقبولہ عمر بن حنظلۃ • حدیث قرب نوافل • حدیث معراج • حدیث ولایت • حدیث وصایت • حدیث جنود عقل و جہل • حدیث شجرہ | |
الْحَسَنُ وَ الْحُسَینُ إِمَامَانِ قَامَا أَوْ قَعَدَا رسول اکرمؐ سے مروی ایک حدیث ہے جو امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی امامت کی طرف اشارہ کرتی ہے، چاہے وہ قیام کریں یا قعود (بیٹھ جائیں)۔ یہ حدیث حسنین علیہما السلام کی امامت پر نص کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اس حدیث میں "قیام" سے مراد امام حسینؑ کا حق کے قیام اور ظلم کی نابودی کے لیے مبارزہ ہے اور "قعود" سے مراد امام حسن علیہ السلام کا معاویہ کے ساتھ صلح کرنا ہے۔
حدیث کا یہ مضمون شیعہ امامیہ، زیدیہ اور اسماعیلیہ منابع میں تین روایات کے ساتھ آیا ہے: پہلی، امام حسن علیہ السلام سے جو معاویہ کے ساتھ صلح کی حکمت بیان کرتے ہوئے؛ دوسری، ابوایوب انصاری سے جنگ جمل میں امام علی علیہ السلام کی حقانیت بیان کرنے کے لیے؛ اور تیسری، ابوذر غفاری سے رسول خداؐ کی آخری عمر کے دنوں میں۔ محدثین نے اس حدیث کو صحیح، مشہور اور دوسری روایات کے ذریعے تأیید شدہ قرار دیا ہے۔ یہ حدیث مسلمانوں کے یہاں مورد اجماع احادیث میں سے بھی شمار ہوتی ہے۔
حدیث کی مختلف روایات اور اہمیت
حدیث "الْحَسَنُ وَ الْحُسَینُ إِمَامَانِ قَامَا أَوْ قَعَدَا"؛ امام حسنؑ اور امام حسینؑ دونوں امام ہیں چاہے قیام کریں یا صلح کریں؛ پیغمبر اکرمؐ سے منقول ہے۔[1] یہ حدیث شیخ صدوق،[2] شیخ مفید،[3] خَزّاز قمی،[4] ابن عُقدہ کوفی [5]اور قاضی نعمان مغربی[6] کی کتابوں میں نقل ہوئی ہے۔
شیخ صدوق کی کتاب میں منقول ایک روایت کے مطابق، امام حسنؑ نے معاویہ کے ساتھ صلح کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں اس حدیث کا حوالہ دیا اور اپنی صلح کو "قعود" کا مصداق قرار دیا۔[7] ابن عقدہ کوفی کی روایت میں، جنگ جمل کے دوران بعض لوگوں نے ابو ایوب انصاری پر اعتراض کیا کہ وہ مسلمانوں کے مقابلے میں کیوں جنگ کررہے ہیں؛ تو انہوں نے یہ حدیث سنائی۔[8] خزاز قمی نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ ابوذر غفاری نے رسول اکرمؐ کی آخری عمر میں آنحضرتؐ سے یہ حدیث سنی تھی۔[9] ابن عقدہ، خزاز قمی اور قاضی نعمان[10] کی روایات میں "و أَبوهما خیرٌ منهما؛ اور ان کا باپ ان دونوں سے بہتر ہے" کا جملہ بھی آیا ہے۔
شیخ مفید نے روایت کو "ابْنَای هذَانِ إِمَامَانِ قَامَا أَوْ قَعَدَا؛ میرے یہ دونوں بیٹے امام ہیں چاہے وہ قیام کریں یا بیٹھ جائیں" کے الفاظ میں نقل کیا ہے[11] اور اسے حسنین علیہما السلام کی امامت پر نص قرار دیا ہے۔[12] اس حدیث کو شیعہ منابع میں امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی امامت کے ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔[13]
قیام اور قعود کا مفہوم
علامہ مجلسی نے روایت میں "قیام" (کھڑے ہونے) سے مراد امامت اور معاشرے کی قیادت کی ذمہ داری سنبھالنا لیا ہے جبکہ «قعود» (بیٹھنے) سے مراد کسی اعلیٰ مصلحت یا تقیّہ کی بنا پر اس ذمہ داری سے وقتی طور پر دستبردار ہونا بیان کیا ہے۔[14] مرتضی مطہری کے نزدیک قیام سے مراد امام حسینؑ کی انقلابی جدوجہد اور ظلم کے خلاف قیام ہے، جبکہ قعود سے مراد امام حسنؑ کا معاویہ کے ساتھ مصلحتاً صلح کرنا اور حالات کے مطابق انتظار کی روش اختیار کرنا ہے۔[15] شیعہ محقق راضی آل یاسین نے بھی اپنی تالیف "کتاب صلح الحسنؑ" میں صلح کے اسباب کے تاریخی تجزیے کے ضمن میں اسی روایت سے استدلال کیا ہے۔[16]
روایت کی اسناد اور اعتبار
شیخ مفید اور قاضی نعمان نے اس روایت کی سند ذکر نہیں کی ہے؛[17] تاہم شیخ صدوق کی روایت میں ابنِ عقدہ کوفی اور خزّاز قمی کے ذریعے اس کی سند بیان کی گئی ہے۔[18] شیخ صدوق کی روایت ابو سعید عقیصا کے واسطے سے امام حسنؑ سے منقول ہے۔
ابنِ ابی جمہور نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔[19] علامہ مجلسی کے نزدیک بھی یہ روایت دیگر مستند اور مشہور روایات[20] سے تائید شدہ ہے۔[21] اسی طرح ابن شہرآشوب کے مطابق اس روایت کا رسول خداؐ سے منقول ہونا اہلِ قبلہ کے درمیان محلِ اجماع ہے۔[22]
حوالہ جات
- ↑ بحرانی اصفہانی، عوالم العلوم، 1382شمسی، ص321۔
- ↑ شیخ صدوق، علل الشرایع، 1385شمسی، ج1، ص211۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج1، ص30؛ شیخ مفید، الفصول المختارۃ، 1413ھ، ص303۔
- ↑ خزاز رازی، کفایۃ الاثر، 1401ھ، ص36-38۔
- ↑ ابنعقدہ کوفی، فضائل أمیر المؤمنین علیہالسلام، 1424ھ، ص166-168۔
- ↑ ابنحیون، دعائم الاسلام، 1385ھ، ج1، ص37۔
- ↑ شیخ صدوق، علل الشرایع، 1385شمسی، ج1، ص211۔
- ↑ ابنعقدہ کوفی، فضائل أمیر المؤمنین علیہالسلام، 1424ھ، ص166-168۔
- ↑ خزاز رازی، کفایۃ الاثر، 1401ھ، ص36-38۔
- ↑ ابنحیون، دعائم الاسلام، 1385ھ، ج1، ص37۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج1، ص30؛ شیخ مفید، الفصول المختارۃ، 1413ھ، ص303۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج1، ص30۔
- ↑ طبرسی، إعلام الوری، 1390ھ، ص210؛ شیخ حر عاملی، اثبات الہداۃ، 1425ھ، ج2، ص154 و ج4، ص33۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج44، ص16۔
- ↑ «بیانات در نشست سہجانبہ با شہید مطہری و دکتر شریعتی»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہای۔
- ↑ آلیاسین، صلح الحسن علیہالسلام، 1412ھ، ص199-200۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، 1413ھ، ج1، ص30؛ شیخ مفید، الفصول المختارۃ، 1413ھ، ص303۔
- ↑ شیخ صدوق، علل الشرایع، 1385ش، ج1، ص211؛ ابنعقدہ کوفی، فضائل أمیر المؤمنین علیہالسلام، 1424ھ، ص166؛ خزاز رازی، کفایۃ الاثر، 1401ھ، ص36 و ص114۔
- ↑ ابنابیجمہور، عوالی اللئالی، 1405، ج3، ص129-130۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج43، ص278۔
- ↑ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج35، ص266۔
- ↑ ابنشہرآشوب، مناقب آل ابیطالب، 1379ھ، ج3، ص394؛ مجلسی، بحارالانوار، 1403ھ، ج43، 291۔
مآخذ
- آلیاسین، راضی، صلح الحسن علیہالسلام، بیروت، الاعلمی فی المطبوعات، 1412ھ۔
- ابنابیجمہور، محمد بن زین الدین، عوالی اللئالی العزیزیۃ فی الأحادیث الدینیۃ، قم، دار سیدالشہداء، 1405ھ۔
- ابنحیون، نعمان بن محمد مغربی، دعائم الإسلام و ذکر الحلال و الحرام و القضایا و الاحکام، قم، آل البیت، 1385ھ۔
- ابنشہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابیطالب، قم، علامہ، 1379ھ۔
- ابنعقدہ کوفی، احمد بن محمد، فضائل أمیر المؤمنین علیہالسلام، قم، دلیل ما، 1424ھ۔
- بحرانی اصفہانی، عبد اللہ بن نوراللہ، عوالم العلوم و المعارف والأحوال- الإمام علی بن أبی طالب علیہالسلام، قم، مؤسسۃ الإمام المہدی عجّل اللہ تعالی فرجہ الشریف، 1382ہجری شمسی۔
- «بیانات در نشست سہجانبہ با شہید مطہری و دکتر شریعتی»، سایت دفتر حفظ و نشر آثار آیت اللہ خامنہای، تاریخ بازدید 17 دی 1402ہجری شمسی۔
- خزاز رازی، علی بن محمد، کفایۃ الأثر فی النصّ علی الأئمۃ الإثنی عشر، قم، بیدار، 1401ھ۔
- شیخ حر عاملی، محمد بن حسن، إثبات الہداۃ بالنصوص و المعجزات، بیروت، الاعلمی فی المطبوعات، 1425ھ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، علل الشرایع، قم، کتابفروشی داوری، 1385ہجری شمسی۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
- شیخ مفید، محمد بن محمد، الفصول المختارۃ، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، 1390ھ۔
- مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1403ھ۔