قتیل العبرات

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حدیث "أنَا قَتیلُ العَبَرَةِ" کی ایک خطاطی

قَتیلُ العَبَرات، آنسوؤں کے مقتول کے معنی میں ہے اور یہ امام حسین علیہ السلام کے القاب میں سے ایک ہے۔

یہ لقب قَتیلُ العَبَرَة کی صورت میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ امام حسینؑ وہ شہید ہیں جن کی یاد بھی گریہ آور ہے اور ان کے سوگ میں آنسو بہانا ثواب کا باعث بھی ہے اور کربلا کے زندہ رہنے کا سبب بھی۔

یہ لقب، شیعہ ائمہ کی احادیث میں ذکر ہوا ہے۔ امام حسینؑ نے خود بھی فرمایا ہے:

أنَا قَتیلُ العَبَرَةِ لایذکُرُنی مُؤمنٌ الا استَعبَرَ

(میں کشتہ اشک ہوں، کوئی مومن مجھے یاد نہیں کرے گا مگر یہ کہ اس کی آنکھوں میں آنسو جاری ہو جائیں گے)۔[1]

اسی طرح امام صادقؑ نے زیارت اربعین میں امام حسینؑ کو یوں سلام کیا ہے:

السَّلَامُ عَلَی الْحُسَیْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهِیدِ السَّلَامُ عَلَی أَسِیرِ الْکُرُبَاتِ وَ قَتِیلِ الْعَبَرَاتِ

(سلام ہو مظلوم و شہید حسین پر، سلام ہو کرب کے قیدی اور اشکوں کے مقتول پر).[2]

یہ صفت، زیارت نامہ میں بھی آپ کے لئے ذکر ہوئی ہے۔ جیسے: و صل علی الحسین المظلوم، الشهید الرشید، قتیل العبرات و اسیر الکربات۔

(سلام ہو مظلوم حسین، لائق شہید، آنسوؤں کے مقتول، کرب و اندوہ کے قیدی پر)۔[3]

حوالہ جات

  1. شیخ صدوق، الامالی، ۱۴۰۰ق، ص۱۱۸.
  2. شیخ طوسی، تہذیب الأحکام، ۱۴۰۷ق، ج۶، ص۱۱۳.
  3. محدث قمی، مفاتیح الجنان، زیارت مخصوص اول.


مآخذ

  • شیخ طوسی، تہذیب الأحکام، محقق، مصحح، موسوی خرسان، تہران، دارالکتب الإسلامیۃ، چاپ چہارم، ۱۴۰۷ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، الامالی، موسسہ الاعلمی للمطبوعات، بیروت، ۱۴۰۰ھ۔
  • محدث قمی، عباس، مفاتیح الجنان۔