حج نا تمام امام حسین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سب غلط چکر لگا رہے ہیں، سوائے ایک کے: وہی سرخ تیر کا نشان ـ حسین ـ اور صرف آپ ہیں جو شہادت کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے طواف کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ (ڈاکٹر شریعتی)

حج ناتمام امام حسینؑ کے آخری حج کو کہا جاتا ہے جسے آپ نے واقعہ کربلا سے پہلے ناقص چھوڑ کر کوفہ کی طرف تشریف لے گے تھے۔ بعض تاریخی مآخذ میں آیا ہے کہ امام حسینؑ نے یزید کے کارندوں کے ہاتھوں گرفتار ہو کر کعبہ کی حرمت پایمال ہونے سے بچنے کے لئے حج کو مکمل کئے بغیر عمرہ تمتع کو عمرہ مفردہ میں تبدیل کر کے روز ترویہ (8 ذی‌الحجہ) کو مکہ سے کوفہ کی طرف حرکت کی؛ لیکن بعض تاریخی شواہد اور احادیث کے مطابق امام حسینؑ نے ابتدا ہی سے عمرہ مفردہ کی نیت کی تھی اور حج کی نیت ہی نہیں کی تھی جسے آپ نے ناقص چھوڑا ہو؛ کیونکہ آپ نے قربانی انجام نہیں دیا اور میقات سے احرام نہیں باندھا اور شروع سے ہی کوفہ جانے کے لئے تیار تھے۔

تاریخی شواہد اور احادیث کی چھان بین

امام حسینؑ کا مدینہ سے مکہ کی طرف خروج کے بارے میں دو نظریے پائے جاتے ہیں، بعض اسے حج ناتمام کا نام دیتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اس بات کے معتقد ہیں کہ امام حسینؑ حج کو عمرہ مفردہ میں تبدیل کر کے مکہ سے خارج ہو گئے، لیکن دوسرے نظریے کے مطابق امام حسینؑ نے شروع سے عمرہ مفردہ کی نیت کی تھی اور حج بجالانے کا ارادہ ہی نہیں تھا۔

واقعۂ عاشورا تاریخ کے آئینے میں
سنہ 60 ہجری قمری
15 رجب وفات معاویہ
28 رجب مدینہ سے امام حسین ؑ کا خروج
3 شعبان امامؑ کا مکہ پہنچنا
10رمضان کوفیوں کا امام حسینؑ کے نام پہلا خط
12 رمضان کوفیوں کے 150 خطوط کا قیس بن مُسْہر، .... کے ذریعے امامؑ کو پہنچنا۔
14‌رمضان ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبداللہ حنفی کے ذریعے بزرگان کوفہ کے خطوط کا پہنچنا
15رمضان مسلم کی مکہ سے کوفہ روانگی
5 شوال کوفہ میں مسلم بن عقیل کا ورود
8 ذی الحج مکہ سے خروج امام حسینؑ
8 ذی الحج کوفہ میں قیام مسلم بن عقیل
9 ذی الحج شہادت مسلم بن عقیل
سنہ 61 قمری
1 محرم قصر بنی مقاتل میں عبیداللہ بن حر جعفی اور و عمرو بن قیس کو امام کا دعوت دینا
2 محرم کربلا میں کاروان امامؑ کا پہنچنا
3 محرم لشکر عمر سعد کا کربلا میں پہنچنا
6 محرم حبیب بن مظاہر کا بنی اسد سے مدد مانگنا
7 محرم پانی کی بندش
8 محرم مسلم بن عوسجہ کا کاروان امام حسینؑ سے ملحق ہونا
9 محرم شمر بن ذی الجوشن کا کربلا پہنچنا
9 محرم امان‌ نامۂ شمر برائے فرزندان ام‌البنین.
9 محرم لشکر عمر سعد کا اعلان جنگ اور امامؑ کی طرف سے ایک رات مہلت کی درخواست
10 محرم واقعہ عاشورا
11 محرم اسرا کا کوفہ کی طرف سفر
11 محرم بنی اسد کا شہدا کو دفن کرنا
12 محرم بعض شہدا کا دفن
12 محرم اسیران کربلا کا کوفہ پہنچنا
19 محرم اہل بیتؑ کی کوفہ سے شام روانگی
1 صفر اہل بیتؑ اور سر مطہر امام حسینؑ کا شام پہنچنا
20 صفر اربعین حسینی
20 صفر اہل بیت کی کربلا میں واپسی
20 صفر اہل بیت کی مدینہ میں واپسی(بنا بر قول)


پہلا نظریہ: عمرہ تمتع

شیعہ علماء کے ایک نظریے کے مطابق امام حسینؑ نے شروع میں حج تمتع کا ارادہ کیا تھا؛ لیکن اسے ناقص چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔ شیخ مفید(متوفی ۴۱۳ھ) اپنی کتاب الارشاد میں لکھتے ہیں:

" جب امام حسینؑ نے عراق جانے کا ارادہ کیا تو پہلے خانہ کعبہ کا طواف کیا صفا اور مروہ کے درمیان سعی انجام دئے پھر اِحرام سے خارج ہو گئے اور اسے عُمرہ کی نیت سے اختتام کو پہنچایا؛ کیونکہ مناسک حج کے دوران گرفتار ہونے کی صورت میں حج کو مکمل نہیں کر سکتا تھا؛ کیونکہ آپ کو حج کے دوران گرفتار کر کے یزید کے پاس لے جانا چاہ رہے تھے؛ اس بنا پر امام حسینؑ اپنے اہل و عیال اور شیعوں کے ساتھ مکہ سے خارج ہو گئے"۔[1]

فتال نیشابوری(متوفی ۵۰۸ھ) اپنی کتاب روضۃ الواعظین،[2] شیخ طبرسی اپنی کتاب اعلام الوری،[3] سیدمرتضی عسکری[4] اور بعض دوسرے مُحَدّثین اور مورخین[5] بھی اس نظریے کے موافقین میں سے ہیں۔

دوسرا نظریہ: عمرہ مفردہ

بعض علماء نظریہ اول کے برخلاف اس بات کے معتقد ہیں کہ امام حسینؑ سرے سے عمرہ تمتع کے لئے مُحرِم نہیں ہوئے تھے اس بنا پر عمرہ تمتع کو عمرہ مفردہ میں تبدیل نہیں کیا، بلکہ امامؑ شروع سے عمرہ مفردہ کی نیت سے مکہ میں داخل ہوئے طوافِ وداع یا ماہ ذی الحجہ کا عمرہ مفردہ ادا کرنے کے بعد مکہ سے خارج ہوگئے۔ اس نظریے کے لئے تاریخی اور حدیثی شواہد پیش کئے گئے ہیں:

دوسرے نظریے کے تاریخی شواہد

  1. امام حسینؑ شروع سے ہی مکہ سے خارج ہونا چاہتے تھے اور کربلا میں اپنی شہادت واقع ہونے سے مطلع تھے؛ کیونکہ مدینہ سے مکہ حرکت کرنے سے پہلے خواب میں پیغمبر اکرمؐ نے ان واقعات سے آپ کو آگاه کیا تھا: "اے حسین! بہت جلد کربلا نامی سرزمین میں قتل اور ذبح ہو جاؤگے"۔[6]
  2. امام حسینؑ نے مدینہ سے مکہ کی طرف عمرہ مفردہ کے مہینے یعنی رجب اور شعبان میں سفر کیا تھا، نہ حج کے مہینوں یعنی شوال، ذی القعدہ اور ذی الحجہ میں۔[7]
  3. امام حسینؑ نے مدینہ سے حرکت کرنے سے تین دن پہلے ابن عباس اور محمد حنفیہ وغیرہ سے ہونے والی گفتگو میں ان سب نے امام کو عراق جانے سے منصرف کرنے کی کوشش کیا نہ کہ سفر حج سے منصرف کرنے کی۔[8] امام نے ابن عباس سے فرمایا: "میں نے ارادہ کیا ہے کہ ایک دو دن کے اندر عراق کا سفر کروں ان شاء اللہ"۔[9] اسی طرح امام نے ذی الحجہ کی ساتویں تاریخ یعنی مکہ سے حرکت کرنے سے ایک دن پہلے فرمایا: "میں کل صبح یہاں سے حرکت کرونگا ان شاء اللہ"۔ اس گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ امام شروع سے حج کا ارادہ نہیں رکھتے تھے، بلکہ عراق کے سفر کے مقدمات فراہم کر رہے تھے۔
  4. امام صادقؑ سے مروی حدیث جس کا تذکرہ حدیثی شواہد میں کیا جائے گا، کے مطابق امام حسینؑ نے عمرہ تمتع کا قصد نہیں فرمایا تھا؛ کیونکہ اس کام کے لئے کسی میقات سے اِحرام باندھنا چاہئے تھا نہ اَدنی الحِل[10] سے۔ کسی بھی تاریخی یا حدیثی منابع میں اس بات کا ذکر نہیں آیا ہے کہ امام حسینؑ نے کسی بھی میقات جو کہ مکہ سے کئی فرسخ دور واقع ہیں، سے احرام باندھا ہو۔
  5. جس حاجی‌ کو دشمن یا کسی اور چیز نے حج سے منع کیا ہو اسے مصدود کہا جاتا ہے۔ حج کے احکام کے مطابق ایسے شخص کو جہاں سے حج سے منع کیا گیا ہے ایک اونٹ، گائیں یا گوسفند کی قربانی دینا چاہئیے اور تقصیر کے بعد احرام سے خارج ہونا چاہئیے۔[11] لیکن امام حسینؑ کے بارے میں نہ قربانی‌ کرنے کے بارے میں کوئی اطلاعات موجود ہیں اور نہ کسی اور چیز کی۔
  6. ابومِخنَف کہتے ہیں: "حسینؑ نے خانہ کعبہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی انجام دیا اور تقصیر کر کے عمرہ سے خارج ہو گیا۔ اس کے بعد کوفہ روانہ ہوا اور ہم دوسرے لوگوں کے ساتھ منا کی طرف چلے گئے"۔[12] یہاں بھی انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ نہیں کیا ہے کہ امامؑ نے حج کو عمرہ مفردہ میں تبدیل کیا ہو۔

دوسرے نظریے کے حدیثی شواہد

  1. حدیث صحیح[13] میں ابراہیم بن عمر الیمانی نقل کرتے ہیں کہ: امام صادقؑ سے سوال ہوا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ مفردہ بجا لا کر اپنے شہر واپس آیا ہے۔ امام نے جواب میں فرمایا: جائز ہے... حسین بن علیؑ نے بھی روز ترویہ عراق کا سفر کیا ہے؛ حالانکہ آپ عمرہ مفردہ کے لئے مُحرِم ہوئے تھے۔[14]
  2. صحیحۂ معاویۃ بن عمار: معاویۃ بن عمار کہتے ہیں کہ امام صادقؑ سے عرض کیا کہ عمرہ تمتع اور عمرہ مفردہ میں کیا فرق ہے؟ امام تے فرمایا: عمرہ تمتع حج کے ساتھ مرتبط ہے جبکہ جو شخص عمرہ مفردہ انجام دیتا ہے جب یہ ختم جائے تو جہاں چاہے جا سکتا ہے اور امام حسینؑ نے ذی الحجہ میں عمرہ مفردہ بجا لایا اس کے بعد روز ترویہ عراق تشریف لے گئے...[15]

سید محسن حکیم کتاب مُستَمسَک العُروہ الوثقی میں،[16] آیت اللہ خویی کتاب المعتمد میں،[17] آیت اللہ گلپایگانی کتاب تقریرات البیع میں[18] اور محقق نجفی جواہر الکلام میں[19] یوں رقم طراز ہیں کہ ان احادیث کے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے کہ امام حسینؑ کا روز ترویہ کو مکہ سے عراق کی طرف تشریف لے جانا مجبوری کی حالت میں نہیں تھا بلکہ امام نے عمرہ مفردہ انجام دیا تھا۔

فقہی آثار

امام حسینؑ کا مکہ سے روز ترویہ خارج ہونا کئی حوالے سے فقہاء کی توجہ کا مرکز قرار پایا ہے۔

  1. حج سے مربوط ابحاث میں سے ایک بحث یہ ہے کہ ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں مکہ سے خارج ہونا جائز ہونا اور نہ ہونا ہے۔ امام صادقؑ سے مروی حدیث کے مطابق جو شخص مکے میں داخل ہوتا ہے اور ذی‌الحجہ تک مکہ میں رہتا ہے اس شخص کے لئے ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں مکہ سے خارج ہونا جائز نہیں ہے بلکہ اسے مکہ میں بیٹھ کر حج انجام دینا ضروری ہے۔[20] ابن براج نے اس حدیث اور اس سے مشابہ احادیث کو مد نظر رکھتے ہوئے فتوا دیا ہے کہ اگر کوئی شخص روز ترویہ مکہ میں ہو تو اسے حج کے لئے احرام باندھنا واجب ہے اور منا جا کر حج کو مکمل کرنا واجب ہے۔[21] بعض دوسرے فقہاء بعض احادیث [22] سے استناد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایسا شخص ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں مکہ سے خارج ہو سکتے ہیں یہاں تک کہ اگر کوئی مجبوری نہ بھی ہو۔[23]
  2. اسی طرح حج کے باب میں مطرح مباحث میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آیا واجب نیت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟۔ بعض فقہا کہتے ہیں کہ واجب نیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا اس قول کی بنا پر امام حسینؑ کا عمرہ تمتع کو عمرہ مفردہ میں تبدیل کرنا فقہی قواعد سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔[24] لیکن اگر کوئی فقیہ یہ ثابت کرے کہ امام حسینؑ نے عمرہ تمتع کی نیت کو عمرہ مفردہ میں تبدیل کیا تھا تو اس صورت میں یہ فقہی قانون مخدوش ہو جائے گا۔
  3. حج کے باب میں مطرح ہونے والے ابحاث میں سے ایک اور بحث ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں عمرہ مفردہ کی انجام دہی کا جائز ہونا اور نہ ہونا ہے۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں عمرہ مفردہ انجام دینا جائز نہیں ہے[25] جبکہ اس کے مقابلے میں بعض فقہاء بعض احادیث سے استناد کرتے ہوئے مدعی ہیں کہ ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں عمرہ مفردہ انجام دینا صحیح ہے۔[26] اگر ثابت کریں کہ امام حسینؑ نے عمرہ مفردہ انجام دیا تھا تو اس صورت میں دوسرا قول ثابت ہو گا۔

حوالہ جات

  1. مفید، الارشاد، ۱۳۹۹ق، ج۲، ص۶۶۔
  2. فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، منشورات رضی، ص۱۷۷۔
  3. طبرسی، إعلام الوری، مؤسسہ آل البیت، ج۱، ص۴۴۵۔
  4. ملاحظہ کریں: عسکری، معالم المدرستین، ۱۴۰۱ق، ج۳َ ص۵۷۔
  5. رجوع کریں: مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۵، ص۹۹۔ بحرانی، العوالم، مطبعۃ امیر، ص۲۱۳۔ قندوزی، ینابیع المودہ،‌ دار الاسوۃ، ج۳، ص۵۹۔
  6. صدوق، الامالی، ۱۴۰۴ق،ص۱۵۲؛ شریف قرشی، حیاۃ الامام الحسین(ع)، ۱۳۳۴ق، ص۲۵۹۔
  7. ابومخنف، مقتل الحسین(ع)، ۱۳۹۸ق، ص۶۲-۶۸۔
  8. دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸ق، ص۲۴۳-۲۴۵۔
  9. ابومخنف، مقتل الحسین(ع)، ۱۳۹۸ق، ص۶۴۔
  10. میقات‌ہای اہل مکہ و نیز میقات عمرہ مفردہ کہ عبارت‌اند از: تنعیم، حدیبیہ، جعرانہ۔
  11. رجوع کریں: خمینی، تحریر الوسیلہ، ۱۳۶۹ق، ج۱، ص۴۵۸۔ ہمو، مناسک حج با حواشی مراجع معاصر، ۱۳۸۲ش، مسائل ۱۳۷۰ و ۱۳۷۲۔
  12. ابومخنف، مقتل الحسین(ع)، ۱۳۹۸ق، ص۶۶۔
  13. یہ حدیث دو سند کے ساتھ آئی ہے: ایک شیخ طوسی(کتاب الاستبصار، ج۲، ص۳۲۷) کے توسط سے اس سند میں یہ حدیث صحیح ہے۔ دوسری سند شیخ کلینی (کتاب الکافی، ج۴، ص۵۳۵) کے توسط سے، یہ سند ایک طرح سے معتبر اور دوسری جہت سے صحیح ہے۔
  14. أنہ سئل عن رجل خرج فی أشہر الحج معتمراً ہم خرج إلی بلادہ؟ قال: لابأس وإن حج من عامہ ذلک و أفرد الحج فلیس علیہ دم، وإن الحسین بن علی(ع) خرج یوم الترویۃ إلی العراق و کان معتمرا (کلینی، الکافی، ج۴، ص۵۴۵۔ طوسی، الاستبصار، ۱۴۰۱ق، ج۲، ص۳۲۷)۔
  15. قال قلت لابی عبداللہ(ع): من أین افتق المتمتع و المعتمر؟ فقال: إن المتمتع مرتبط بالحج و المعتمر إذا فرغ منہا ذہب حیث شاء و قد اعتمر الحسین(ع) فی ذی الحجہ ثم راح یوم الترویۃ إلی العراق و الناس یروحون إلی منی، ولا بأس بالعمرۃ فی ذی الحجہ لمن لایرید الحج (کلینی، الکافی، ج۴، ص۵۳۵، طوسی، الاستبصار، ۱۴۰۱ق، ج۲، ص۳۲۸)۔
  16. حکیم، مستمسک العروۃ، ۱۴۰۴ق، ج۱۱، ص۱۹۲۔
  17. ج۲، ص۲۳۶۔
  18. گلپایگانی، تقریرات البیع، اصدار الثالث للگلبایگانی، ج۱، ص۳۵۵۔
  19. نجفی، جواہر الکلام، ۱۴۰۵ق، ج۲۰، ص۴۶۱۔
  20. حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ۱۴۱۶ق، ج ۱۴، باب ۷، ص۳۱۲۔
  21. سبزواری، ذخیرۃ المعاد، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ج۲، ص۶۹۷۔
  22. حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ۱۴۱۶ق، باب: ۷ من أبواب العمرۃ الحدیث: ۲۔
  23. تبریزی، التہذیب، ۱۴۲۳ق، ج‌۱، ص۳۲۹
  24. یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۲۸ق، ج‌۲، ص۵۴۱۔
  25. حر عاملی، وسائل الشیعۃ، ۱۴۱۶ق، ج ۱۴، ص۳۱۳۔
  26. خلخالی، موسوعۃ الامام الخوئی، ۱۴۰۵ق، ج‌۲۷، ص۱۸۷۔


مآخذ

  • ابومخنف، لوط بن یحیی، مقتل الحسین(ع)، قم، مطبعۃ العلمیۃ، ۱۳۹۸ق.
  • بحرانی، عبداللہ، کتاب العوالم الامام الحسین(ع)، قم، مدرسہ امام مہدی مطبعۃ امیر، [بی‌تا].
  • تبریزی، جواد، التہذیب فی مناسک العمرۃ و الحج، قم،‌ دار التفسیر، ۱۴۲۳ق،
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعۃ، قم، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ۱۴۱۶ق،
  • حکیم، سیدمحسن، مستمسک العروۃ، قم، نشر مکتبۃ السید مرعشی، ۱۴۰۴ق.
  • خلخالی، سید محمدرضا، موسوعۃ الامام الخوئی، مؤسسۃ الخوئی الإسلامیۃ، ۱۴۰۵ق.
  • خمینی، روح‌اللہ، تحریر الوسیلہ، قم، مؤسسہ مطبوعاتی اسماعیلی، ۱۳۶۹ق.
  • خمینی، روح‌اللہ، مناسک حج با حواشی مراجع معظم تقلید، حوزہ نمایندگی ولی فقیہ در امور حج، ۱۳۸۲ش.
  • خویی، سیدابوالقاسم، المعتمد، کتاب الحج، اصدار الثالث للگلبایگانی.
  • دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، قم، منشورات شریف رضی، ۱۳۶۸ق.
  • سبزواری، محمد باقر، ذخیرۃ المعاد فی شرح الارشاد، قم، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، بی‌تا.
  • شریف قرشی، باقر، حیاۃ الامام الحسین(ع)، نجف اشرف، مطبعۃ الآداب، ۱۳۳۴ق.
  • صدوق، أبی جعفر محمد بن علی، الامالی، تہران، الاسلامیہ، ۱۴۰۴ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الہدی، قم، مؤسسہ آل البیت، [بی‌تا].
  • طوسی، شیخ محمد بن حسن، الاستبصار فیما اختلف من الاخبار، بیروت، دارالصعب دارالتعارف، ۱۴۰۱ق.
  • عسکری، سیدمرتضی، معالم المدرستین، بیروت، مؤسسہ نعمان، ۱۴۰۱ق.
  • فتال نیشابوری، محمد بن احمد، روضۃ الواعظین، قم، منشورات رضی، [بی‌تا].
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع المودۃ لذوی القربی،‌ دار الاسوۃ للطباعۃ و النشر.
  • کلینی، ابی جعفر محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح علی‌اکبر غفاری، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ.
  • گلپایگانی، سیدمحمدرضا، تقریرات البیع، اصدار الثالث للگلبایگانی.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، مؤسسہ وفاء، ۱۴۰۳ق.
  • مفید، محمد بن نعمان، الارشاد، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۹ق.
  • نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام فی شرح شرائع الاسلام، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، ۱۴۰۵ق.
  • یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، قم، مدرسہ امام علی بن ابیطالب(ع)، ۱۴۲۸ق.