مسودہ:جدال احسن
جِدال احسن سے مراد ایسی گفتگو ہے جس کا مقصد حقیقت کو ثابت کرتے ہوئے بغیر کسی دشمنی اور خصومت کے حریف مقابل کو راہ راست پر لانا ہے۔[1] اس نوعیت کے جدال کو ایمان کا ثبات اور فرد کی فراخ دلی کی علامت سمجھا جاتا ہے اور اس کے مقابلے میں مجادلہ (جسے مذموم جدال کہا جاتا ہے) ہے[2] جس میں انسان اپنی انانیت اور نفسانی برائیوں کی بنیاد پر غصہ یا لالچ وغیرہ کو بروئے کار لاتا ہے۔
جدال احسن فریق مقابل کو حق بات قبول کرنے پر مجبور کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، جبکہ جدال مذموم (مجادلہ) باطل کو ثابت کرنے اور حق کو نظرانداز کرنے کے لیے ہوتا ہے۔[3] ایک دوسرے نقطہ نظر کے مطابق، جدال احسن وہ گفتگو ہے جس میں بحث و مباحثہ کرنے والے دونوں حریف کچھ قبول کردہ اصولوں کے دائرے میں رہ کر علمی طریقوں سے حقیقت کو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں؛ اس انداز میں کہ حریف مقابل کے لیے اسے رد کرنا مشکل ہوجائے۔[4]
قرآنی آیت "وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِي ہِيَ أَحْسَنُ" (اے پیغمبر(ص) آپ اپنے پروردگار کے راستے کی طرف لوگوں کو بلانے کے لیے) بہترین انداز میں بحث و مباحثہ کریں) کو جدال احسن کا قرآنی اصول سمجھا جاتا ہے۔[5] اس آیت کو، سورہ عنکبوت کی آیت 46 کے تناظر میں گفتگو میں اخلاقی طریقے اپنانے کی دعوت کے طور پر تفسیر کیا گیا ہے۔ مفسرین نے جدال احسن کے کچھ معیارات بیان کیے ہیں، جیسے: ادب کا خیال رکھنا،[6] معتبر دلائل کا استعمال؛[7] جیسے قرآن کی آیات اور قطعی براہین)،[8] حقیقت کو دریافت کرنے کا قصد ہو،[9] اور مخاطب کے فہم کے سطح کے مطابق دلیل پیش کرنا۔[10] علامہ طباطبائی نے دونوں حریف مقابل کی حقیقت دریافت کرنے میں دلچسپی کو جدال احسن کی اصلی شرط قرار دیا ہے۔[11]
روایات میں جدال احسن کی تفسیر قرآن کی آیات کے ذریعے بحث کرنے کے طور پر کی گئی ہے[12] اور اہل بیت علیہم السلام کی سیرت عملی بھی مناظرات میں اس اصول کی رعایت پر دلالت کرتی ہے۔[13]
محققین کے مطابق، جدال احسن کا استعمال غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دینے اور اعتقادی شکوک و شبہات کے جوابات دینے میں بھی ہوتا ہے اور علمی اختلافات کو حل کرنے اور اجتہادی مسائل میں مشترکہ نتائج تک پہنچنے میں بھی۔[14] سماجی مفاہمت کو مضبوط بنانا، عقائد کا دفاع کرنا اور ثقافتی روابط کو فروغ دینا بھی اس کے دیگر فوائد میں شمار کیے گئے ہیں۔[15]
حوالہ جات
- ↑ ابنسینا، منطق الشفاء، 1404ھ، ج3، ص15-16؛ مجتبوی، علم اخلاق اسلامی، 1377شمسی، ج3، 378۔
- ↑ مجتبوی، علم اخلاق اسلامی، 1377شمسی، ج3، 378۔
- ↑ ملاصدرا، منطق نوین، 1362ھ، ص676۔
- ↑ اسدعلیزادہ، «اصول و روشہای مناظرہ (جدال احسن)»، ص70۔
- ↑ ملاحظہ کیجیے: مظفر، شرح منطق مظفر، 1386شمسی، ج2، ص328؛ مظفر، دلائل الصدق، 1422ھ، مقدمہ، ص11؛ عباسیمقدم و فلاح مرقی، «معناشناسی و ملاکشناسی جدال احسن قرآنی»، ص49۔
- ↑ طوسی، التبیان، دار احیاء التراث العربی، ج6، ص440۔
- ↑ فخر رازی، التفسیر الکبیر، 1420ھ، ج20، ص287۔
- ↑ طبرسی، مجمع البیان، 1372شمسی، ج6، ص605۔
- ↑ پانیپتی، التفسیر مظہری، 1412ھ، ج5، ص390؛ مغنیہ، تفسیر کاشف، 1424ھ، ج4، ص565۔
- ↑ حقی برسوی، تفسیر روح البیان، دار الفکر، ج5، ص97۔
- ↑ طباطبایی، المیزان، 1390ھ، ج12، ص371-372 و ج16، ص138۔
- ↑ حویزی، تفسیر نورالثقلین، 1415ھ، ج3، ص95۔
- ↑ جلائی نوبری، «جدال احسن از دیدگاہ امام رضا(ع)»، ص135۔
- ↑ جلائی نوبری، «جدال احسن از دیدگاہ امام رضا(ع)»، ص134.
- ↑ اسدعلیزادہ، «اصول و روشہای مناظرہ (جدال احسن)»، ص75۔
مآخذ
- ابنسینا، حسین بن عبداللہ، منطق الشفاء، تحقیق: جمعی از محققان، قم، کتابخانہ آیتاللہ مرعشی نجفی، 1404ھ۔
- مجتبوی، سید جلال الدین، علم اخلاق اسلامی، تہران، انتشارات حکمت، چاپ چہارم، 1377ہجری شمسی۔
- اسدعلیزادہ، اکبر، «اصول و روشہای مناظرہ (جدال احسن)»، در نشریہ مبلغان، شمارہ189، 1394ہجری شمسی۔
- پانیپتی، ثناءاللہ، تفسیر مظہری، کویتہ پاکستان، مکتبہ رشدیہ، 1412ھ۔
- جلائی نوبری، حسین، «جدال احسن از دیدگاہ امام رضا(ع)»، در نشریہ مطالعات راہبردی انسانی و اسلامی، شمارہ25، 1399ہجری شمسی۔
- حقی برسوی، اسماعیل، تفسیر روح البیان، بیروت، دارالفکر، بیتا۔
- حویزی، عبدعلی، تفسیر نورالثقلین، تصحیح: ہاشم رسولی، قم، اسماعیلیان، 1415ھ۔
- طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسہ العلمی للمطبوعات، 1390ھ۔
- طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح: فضلاللہ یزدی، ہاشم رسولی، تہران، ناصرخسرو، 1372ہجری شمسی۔
- طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، تصحیح: احمد حبیب عاملی، محمدحسن آقابزرگ تہرانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بیتا۔
- عباسیمقدم، مصطفی و محمد فلاح مرقی، «معناشناسی و ملاکشناسی جدال احسن قرآنی»، در نشریہ پژوہشہای زبانشناختی قرآن، شمارہ1، سال ہفتم، 1397ہجری شمسی۔
- فخررازی، محمد، التفسیر الکبیر، بیروت، دار احیاء التراث العربی، 1420ھ۔
- مظفر، محمدحسن، دلائل الصدق لنہج الحق، تصحیح: موسسہ آل البیت(ع)، قم، موسسہ آل البیت(ع)، 1422ھ۔
- مظفر، محمدرضا، شرح منطق مظفر، تصحیح: علی محمدی، قم، امام حسن بن علی(ع)، 1386ہجری شمسی۔
- مغنیہ، محمدجواد، تفسیر کاشف، قم، دار الکتاب الاسلامی، 1424ھ۔
- ملاصدرا، محمد صدرالدین، منطق نوین مشتمل بر اللمعات المشرقیہ فی الفنون المنطقیہ، مترجم: عبدالمحسن مشکوہالدینی، تہران، آگاہ، 1362ہجری شمسی۔