ورع

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اخلاق
مکارم اخلاق.jpg


اخلاقی آیات
آیات افکآیت اخوتآیت استرجاعآیت اطعامآیت نبأ


اخلاقی احادیث
حدیث قرب نوافلحدیث مکارم اخلاقحدیث معراج


اخلاقی فضائل
تواضعقناعتسخاوتکظم غیظاخلاصحلممزید


اخلاقی رذائل
تکبرحرصحسدجھوٹغیبتچغل خوریبخلعاق والدینحدیث نفسعجبسمعہریامزرید


اخلاقی اصطلاحات
جہاد نفسنفس لوامہنفس امارہنفس مطمئنہمحاسبہمراقبہمشارطہگناہدرس اخلاقمزید


علمائے اخلاق
ملامہدی نراقیملا احمد نراقیسید علی قاضیسید رضا بہاءالدینیدستغیبمحمدتقی بہجت


اخلاقی مصادر

قرآننہج البلاغہمصباح الشریعۃمکارم الاخلاقالمحجۃ البیضاءمجموعہ ورامجامع السعاداتمعراج السعادہالمراقباتمزید

وَرَعْ یا پرہیزگاری اور تقوی انسان کے اندر ایک ایسی حالت ہے جو نفس کی مکمل حفاظت اور لغزش کے خوف پر جاکر ختم ہوتی ہے- ورع تقوی سے اونچا ایک مقام ہے کیونکہ انسان اس حالت میں شبہوں اور حتی حلال کاموں سے کہ جو ممکن ہے گناہ پر جاکر ختم ہوں ان سب سے دوری اختیار کرتا ہے- علمائے شیعہ نے ورع کے لئے کچھ مراتب بیان کئے ہیں منجملہ: ورع توبہ اور توبہ کرنے والے، ورع صالحین، ورع متقین اور ورع سالکین- روایات میں ورع کے لئے کچھ علامتیں ذکر ہوئی ہیں جیسے ایمان کا مضبوط ہونا حرام محرمات سے انسان کی حفاظت اہل‌بیت علیہم السلام کی مدد اور یقین کے برترین مقام پر پہنچنا-

ورع کا مفہوم‌

ورع اپنے آپ کو محرمات سے بچانا اور گناہ سے دوری-[1] پرہیزگاری و پارسائی،[2] اور محرمات کے ارتکاب کے ڈر سے شبہوں سے پرہیز [3] معنی کئے ہیں روایات میں ورع محرمات کو انجام دینے سے پرہیز اور شبہوں سے دوری کرنا سمجھتے ہیں-[4] امام خمینی نے ورع کی تعریف میں فرمایا ہے: ورع نفس کی مکمل حفاظت اور لغزشوں سے ڈرنا یا حق النفس کے احترام کی خاطر اس پر سختی کرنا-[5]

تقوی اور ورع کا فرق

لغت کی کتابوں میں ورع اور تقوی کے ایک ہی معنی ہیں-[6] لیکن روایات میں ورع کے لئے مراتب اور درجات بیان ہوئے ہیں-[7] تقوی واجبات کی ادائیگی اور حرام کاموں سے دوری ورع کا پہلا درجہ سمجهاگیا ہے اس طرح سے ورع کا درجہ تقوی کے درجے سے بڑا درجہ بتایا گیا ہے کہ اس مقام تک پہنچنے کے لئے نہ صرف گناہوں سے پرہیز کیا جائے بلکہ شبہناک اور حلال کاموں کہ جو ممکن ہے گناہ کا زمینہ فراہم کرنے میں مدد کریں ان سے دوری کی جائے-[8]

ورع کے مراتب

علامہ مجلسی نے ورع کے لئے چار درجے ذکر کئے ہیں :

  • ورع توبہ‌کنندگان: وہ چیز جو انسان کو گناه اور فسق سے خارج کرتی ہے اور گواہی کے قبول ہونے کا سبب بنتی ہے-
  • ورع صالحان: اس درجہ میں انسان شبہات سے دوری کرتا ہے تاکہ اس کے لیے گناه کا زمینہ ظاہر نہ ہو-
  • ورع متقین: انسان کے اندر ایک حالت ہے کہ وہ حلال اور مباح کام کہ جو ممکن ہے حرام پر جاکر ختم ہوں ان سے دوری کرتا ہے-
  • ورع سالکان و صدیقین: اس ڈر سے غیر خدا سے روگردانی کہ زندگی کا ایک لمحہ کسی ایسے کام میں صرف نہ ہوجائے جو تقرب خدا کا باعث نہ ہو اگر چہ یقین ہے کہ حرام پر جاکر ختم نہیں ہوگا-[9]

امام خمینی بهی کبائر سے دوری کو ورع عامہ محرمات کے واقع ہونے کے ڈر سے شبہات سے دوری کو ورع خاصہ مباحات سے پرہیز گناہ سے دوری کی دلیل کو ورع زہد اہل زہد مقامات کے حصول کے لئے دنیا کو ترک کردینا ورع اہل سلوک باب‌الله و شهود جمال‌الله کے حصول کے لئے مقامات کے ترک کرنے کو ورع مجذوبین اور مقصد پر توجہ سے اجتناب کو ورع اولیاء سمجھتے ہیں-[10]

  1. ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ذیل واژه ورع.
  2. دهخدا، لغت‌نامه، ۱۳۷۷ش، ذیل واژه ورع.
  3. انوری، فرهنگ بزرگ سخن، ۱۳۸۱ش، ذیل واژه ورع.
  4. برای نمونه کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۵، ص۱۰۸؛ تمیمی آمدی، غرر الحکم، ۱۴۱۰ق، ص۱۲۵.
  5. امام خمینی، چهل حدیث، ۱۳۷۸ش، ص۲۰۶.
  6. طریحی، مجمع البحرین، ۱۴۱۶ق، ذیل واژه وقا؛ راغب اصفهانی، المفردات، ۱۴۱۲ق، ذیل واژه وقایه.
  7. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۷، ص۱۰۰.
  8. ملاحویش آل غازی، بیان المعانی، ۱۳۸۲ق، ج۳، ص۵۵.
  9. مجلسی، مراة العقول، ۱۴۰۴ق، ج۸، ص۵۲-۵۳؛ مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۶۷، ص۱۰۰
  10. امام خمینی، چهل حدیث، ۱۳۷۸ش، ص۴۷۴.