عبد اللہ بن رسول خدا

ویکی شیعہ سے
(عبد اللہ بن محمد سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبداللہ بن رسول خدا (ص)
نام عبدالله بن محمد بن عبدالله
وجہ شہرت فرزند پیغمبر اسلام (ص)
مدفن مکہ
سکونت مکہ
والد حضرت محمدؐ
والدہ خدیجہ بنت خویلد
مشہور اقارب حضرت فاطمہؑ
مشہور امام زادے
حضرت عباس، حضرت زینب، حضرت معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ


عبدالله بن رسول خدا، رسول اکرمؐ اور جناب خدیجہ کے بیٹے تھے جو بچپن میں وفات پاگئے۔ تاریخی کتب کے مطابق عبداللہ کی وفات کے بعد ہی عاص بن وائل نے پیغمبر اکرمؐ کو مقطوع النسل کہا، اس کی بات کے رد عمل میں سورہ کوثر نازل ہوئی۔

اکثر تاریخی کتب نے ان کی ولادت کو بعثت کے بعد لکھا ہے۔[1] لیکن دوسرے قول کے مطابق ان کی ولادت کو بعثت سے پہلے ذکر کیا گیا ہے۔[2] کہا گیا ہے کہ ان کو طیب اور طاہر کا لقب دیا گیا؛[3] کیونکہ یہ نزول وحی کے بعد اور اسلام کے زمانے میں پیدا ہوئے۔[4][نوٹ 1]

عبداللہ بچپنے ہی میں مکہ میں وفات پا گئے۔[5] احمد بن یحیی بلاذری کے قول کے مطابق، ان کی وفات کے بعد، عاص بن وائل نے پیغمبر اکرمؐ کو مقطوع النسل (لا ولد، بے وارث) کہا کہ جن کا کوئی بیٹا زندہ نہیں بچتا ہے۔ اسی وجہ سے سورہ کوثر اور اس کی یہ آیت «إِنَّ شانِئَکَ هُوَ الْأَبْتَر؛ یقینا آپ کا دشمن، بے اولاد ہے»۔[6] اس کی بات کے رد عمل کے طور پر نازل ہوئی۔[7]

الکافی میں نقل ہونے والی کلینی کی روایت کے مطابق، عبداللہ کی وفات کے بعد، جناب خدیجہ رویا کرتی تھیں، پیغمبر اکرمؐ نے ان سے فرمایا:

«کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہوگی کہ اس (عبدالله) کو جنت کے دروازے پر کھڑا پاو اور جب وہ تمہیں دیکھے تو تمہارا ہاتھ پکڑ کر جنت کی بہترین جگہ لے جائے ... خداوند اس سے بہت بلند و بالا ہے کہ جب وہ اپنے بندے کے دل کے پھل کو لے لے اور وہ خدا کی خاطر صبر کرے اور اس کا شکریہ کرے، لیکن خدا اس کو عذاب دے۔»[8]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. ملاحظہ کریں:‌ ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۴۴۵؛ مقریزی، امتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۳۳
  2. سیرہ ابن اسحاق، ۱۴۱۰ق، ص۸۲.
  3. ابن حجر عسقلانی، الاصابہ، ۱۴۱۵ق، ج۳، ص۴۴۵؛ مقریزی، امتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۳۳
  4. امین، أعیان الشیعۃ، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۲۲۳
  5. مقریزی، امتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۳۳
  6. سورہ کوثر، آیہ 3
  7. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ھ، ج۱، ص۱۳۸-۱۳۹
  8. کلینی، الکافی، ۱۳۶۲ شمسی ہجری، ج۳، ص۲۱۹
  1. طبری کے قول کے مطابق، کچھ لوگ اشتباہ کرکے طیب اور طاہر کو پیغمبر اکرمؐ کے دو بیٹے سمجھ بیٹھے ہیں۔(طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۲۷۵)

مآخذ

  • ابن اسحاق، محمد بن اسحاق، سیرۃ ابن إسحاق، قم، دفتر مطالعات تاریخ و معارف اسلامی، چاپ اول، ۱۴۱۰ھ۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ، بیروت،‌ دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ھ۔
  • امین، محسن، اعیان الشیعۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۶ھ۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی، أنساب الأشراف، بیروت،‌ دار الفکر، چاپ اول، ۱۴۱۷ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الهدی، قم، آل البیت، چاپ اول، ۱۴۱۷ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تهران، اسلامیة، چاپ دوم، ۱۳۶۲شمسی ہجری۔
  • مقریزی، احمد بن علی، إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال و الأموال و الحفدۃ و المتاع، بیروت،‌ دار الکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۲۰ھ۔