مندرجات کا رخ کریں

الامامة و التبصرة من الحیرة (کتاب)

ویکی شیعہ سے
کتاب الامامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ
مشخصات
مصنفابن‌ بابویہ (شیخ صدوق کے والد)
سنہ تصنیفچوتھی صدی ہجری
مذہبشیعہ
طباعت اور اشاعت
ناشرمؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث
مقام اشاعتبیروت
سنہ اشاعت1412ھ

الامامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ، (اردو:امامت اور حیرت سے بصیرت تک) شیعہ عقائد میں امامت اور امام مہدی کی غیبت پر تحریر کی گئی قدیمی ترین تالیفات میں سے ایک ہے، جسے علی بن حسین بن موسی بن بابویہ المعروف ابن بابویہ، (شیخ صدوق کے والد ) کی طرف نسبت دی گئی ہے، تاہم اس نسبت میں اختلاف پایا جاتا ہے اور بعض اہلِ علم کے نزدیک یہ کتاب در اصل دو مختلف کتابوں کا مجموعہ ہے۔ یہ تصنیف غیبت صغری کے آغاز میں شیعہ معاشرے میں پیدا ہونے والی فکری حیرت اور سرگردانی کے جواب میں لکھی گئی ہے اور اس کے مخاطبین وہ افراد ہیں جو اصل امامت کو تو تسلیم کرتے ہیں مگر امام کے مصداق کے بارے میں شک و تردد کے شکار ہیں۔

مصنف نے مذکورہ کتاب کی تألیف میں حدیثی اور کلامی دو اسلوب کو تلفیق کر کے پہلے عقلی احتمالات اور فرضیوں پر بحث کی ہے، پھر روایات کی روشنی میں امامت اور غیبت کے مسئلے کو واضح کیا ہے۔ یہ کتاب 86 احادیث کے ضمن میں ایک مقدمہ اور 23 ابواب پر مشتمل ہے، جس میں امام کی ضرورت، مختلف شیعہ فرقوں کے نظریات کا تنقیدی جائزہ اور امام مہدیؑ کی امامت کا اثبات جیسے موضوعات پر بحث کی گئی ہے۔ کتاب کے آخر میں شیخ صدوق کی طرف سے بعض روایات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

اس کتاب کے خطی نسخے سید محمد علی روضاتی اور آیت‌ اللہ مرعشی نجفی کے کتابخانوں میں محفوظ ہیں اور مختلف علمی اداروں نے تحقیق اور تصحیح کے بعد شائع کیا ہے۔ سب سے پہلے علامہ مجلسی نے اپنی معروف تصنیف بحار الانوار میں اس کتاب سے روایت نقل کی ہے۔

مقام اور اہمیت

الامامۃ و التبصرۃ من الحیرۃ ایک عربی تصنیف ہے جسے علی بن حسین بن موسی بن بابویہ (شیخ صدوق کے والد) (متوفی 329ھ) کی طرف نسبت دی گئی ہے۔[1] یہ کتاب غیبتِ صغریٰ کے ابتدائی دور میں شیعوں کی فکری سرگردانی کے جواب میں تحریر کی گئی ہے۔[2] یہ کتاب شیعہ عقائد میں امامت اور امام مہدیؑ کی غیبت کے موضوع پر تحریر کی گئی اہم منابع میں شمار ہوتی ہے۔[3] اس کے مخاطبین وہ لوگ ہیں جو امامت کے عقیدہ کو تو تسلیم کرتے ہیں مگر امام کے مصداق میں شک و تردید کے شکار ہیں۔[4]

مصنف نے حدیثی اور کلامی دو اسلوب کو تلفیق کرکے پہلے عقلی احتمالات اور فرضیوں کو پیش کیا ہے اس کے بعد روایات سے استدلال کرتے ہوئے امامت اور امام مہدیؑ کی غیبت کو ثابت کیا۔[5]

انتسابِ کتاب

علامہ مجلسی پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے اپنی تصنیف بحار الانوار میں اس کتاب سے روایت نقل کی ہے۔[6] تاہم اس کتاب کی نسبت کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے: بعض علماء جیسے علامہ مجلسی اسے ابن بابویہ(شیخ صدوق کے والد) کی تصنیف قرار دیتے ہیں،[7] اگرچہ نجاشی (متوفی: 450ھ)،[8] شیخ طوسی (متوفی: 460ھ)[9] اور ابن شہر آشوب (متوفی: 588ھ)[10] نے بھی ابن بابویہ کی طرف اسی عنوان کی ایک کتاب نسبت دی ہیں۔ لیکن عبد اللہ افندی (متوفی: 1130ھ)،[11] محدث نوری (متوفی: 1320ھ)،[12] حجت کوہ کمرہ‌ای (متوفی: 1372ھ)[13] اور آقابزرگ تہرانی (متوفی: 1389ھ)،[14] جیسے رجالی علماء کا خیال ہے کہ موجودہ نسخہ ابن بابویہ کی تصنیف نہیں، کیونکہ اس میں ایسے راویوں کی احادیث شامل ہیں جو ابن بابویہ کے بعد کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔

آیت‌اللہ شبیری زنجانی (کتاب شناس اور رجالی) کے مطابق وہ نسخہ جو علامہ مجلسی کے پاس تھا، دراصل دو کتابوں الامامۃ و التبصرۃ (ابن بابویہ کی تصنیف) اور جامع الاحادیث (قدیم علماء میں سے کسی کی تصنیف) کا مجموعہ تھا۔ خود علامہ مجلسی نے اپنی کتاب کے مقدمے میں وضاحت کی ہے کہ پہلا حصہ ابن بابویہ کی تصنیف ہے اور دوسرا کسی دوسرے مؤلف کی تصنیف ہے،[15] لیکن بعد میں ان کے بعض شاگردوں نے دوسرے حصے کو بھی ابن بابویہ سے منسوب کر دیا ہے۔[16]

کتاب الامامۃ و التبصرۃ کی ایک تصویر جو علامہ مجلسی کے پاس تھا ان کی دستخط کے ساتھــ یہ نسخہ اصفہان میں سید محمدعلی روضاتی کے کتابخانے میں محفوظ ہے

اس کتاب کا اصل نسخہ حسین بن علی حمیری کے قلم سے سنہ 479ھ میں تحریر کیا گیا تھا جو اب مفقود ہو چکا ہے، لیکن اس سے استنساخ شدہ دو نسخے محفوظ ہیں:[17]

  • پہلا نسخہ: علامہ مجلسی کا ہے، جس کی کتابت رجب سن 1097ھ میں ہوئی ہے اور یہ نسخہ اصفہان میں سید محمدعلی روضاتی کے کتابخانے میں محفوظ ہے جو براہ راست حمیری کے نسخے سے استنساخ شدہ ہے۔[18]
  • دوسرا نسخہ: علامہ مجلسی کے شاگرد عبداللہ بحرانی کا ہے[19] جو عوالم العلوم و المعارف میں نقل کیا گیا ہے۔[20] اور بحرانی کے بقول خود مصنف کے قلم سے تحریر کردہ ایک نسخے سے اقتباس کیا گیا ہے۔[21] یہ نسخہ کتابخانہ آیت‌ اللہ مرعشی نجفی میں محفوظ ہے۔[22]

مندرجات

کتاب ایک مقدمہ اور 23 ابواب پر مشتمل ہے اور مجموعی طور پر 87 روایات نقل کی گئی ہے:

  • مقدمہ: دین سمجھنے کے لئے امام کی ضرورت پر تاکید؛[23]
  • باب 1: حضرت آدمؑ کی جانشینی (1 روایت)؛[24]
  • باب 2: زمین کبھی حجت خدا سے خالی نہیں رہتی (15 روایات)؛[25]
  • باب 3: امامت، عہد الٰہی ہے (4 روایات)؛[26]
  • باب 4: امامت آل محمدؑ کے ساتھ مخصوص ہے (8 روایات)؛[27]
  • باب 5: امامت امام حسینؑ کی نسل اور ذریہ میں ہے (8 روایات)؛[28]
  • باب 6 تا 17: غیر اثناعشری شیعہ فرقوں کے نظریات کا تنقیدی جائزہ (23 روایات)؛[29]
  • باب 18 تا 22: جاہلیت کی موت، امام کی معرفت، امام کے بعد کی ذمہ داریاں، امام کا انکار اور حقیقی امام کے ساتھ غیر الٰہی امام کو شریک قرار دینا جیسے مباحث (12 روایات)؛[30]
  • باب 23: نوادر (7 روایات)۔[31]

کتاب کے آخر میں شیخ صدوق کی ان کے والد سے منقول روایات کو اضافہ کیا گیا ہے جو امام مہدیؑ کی امامت کے بارے میں ہیں۔[32]

کتاب شناسی

یہ کتاب متعدد علمی اداروں اور ناشران کے زیرِ اہتمام مرتب و شائع ہوئی ہے، جن میں نمایاں ہیں:

  • مؤسسہ آل‌البیتؑ: تحقیق و تصحیح: سید محمدرضا حسینی جلالی، ماخذ: علامہ مجلسی اور شیخ عبداللہ بحرانی کے دو نسخے۔[33]
  • مدرسہ الامام المہدیؑ (قم): تحقیق و تصحیح: محمدباقر موحد ابطحی [34]
  • دار زین‌العابدین[35]

اس کتاب کا فارسی ترجمہ سجاد خانی آرانی نے کیا ہے جو انتشارات مجلسی کے زیرِ اہتمام شائع ہوا۔[36]

حوالہ جات

  1. مجلسی، بحار الانوار، ج1، ص6؛ ابطحی، مقدمه الامامة و التبصره، 1404ھ، ص11۔
  2. حسین‌زاده شانه‌چی، اوضاع سياسى اجتماعى و فرهنگى شيعه در غيبت صغرى‌، 1386ش، ج1، ص314و334۔
  3. حسین‌زاده شانه‌چی، اوضاع سياسى اجتماعى و فرهنگى شيعه در غيبت صغرى‌، 1386ش، ج1، ص334؛ ابطحی، مقدمه الامامة و التبصره، 1404ھ، ص11۔
  4. مروجی طبسی و لطفی، «معرفی کتاب الامامة والتبصرة من الحیرة»، انتظار۔
  5. حسینی جلالی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1412ھ، ص104-106؛ مروجی طبسی و لطفی، «معرفی کتاب الامامة والتبصرة من الحیرة»، انتظار۔
  6. حسینی جلالی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1412ھ، ص93۔
  7. مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج1، ص6۔
  8. نجاشی، رجال النجاشی، 1365ش، ص261۔
  9. طوسی، الفهرست، 1417ھ، ص157۔
  10. ابن‌شهرآشوب، معالم العلماء، 1380ھ، ص100۔
  11. افندی، ریاض العلماء، 1401ھ، ج4، ص5-7۔
  12. نوری، خاتمه مستدرک، 1415ھ، ج3، ص282-283۔
  13. دوانی، مفاخر اسلام، 1363ش، ج8، ص179-182۔
  14. آقابزرگ تهرانی، الذریعه، 1403ھ، ج2، ص341۔
  15. مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج1، ص6۔
  16. «کتاب «الإمامة و التبصرة» و نقل بحارالأنوار از آن»، پایگاه اطلاع‌رسانی آیت‌الله العظمی شبیری زنجانی۔
  17. حسینی جلالی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1412ھ، ص95-96۔
  18. حسینی جلالی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1412ھ، ص93-94۔
  19. حسینی جلالی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1412ھ، ص97۔
  20. حسینی جلالی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1412ھ، ص94-96۔
  21. حسینی جلالی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1412ھ، ص96۔
  22. حسینی جلالی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1412ھ، ص94-96؛ خانی آرانی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1386ش، ص11۔
  23. ابن‌بابویه، الامامة و التبصره، 1404ھ، ص7-23۔
  24. ابن‌بابویه، الامامة و التبصره، 1404ھ، ص21-24۔
  25. ابن‌بابویه، الامامة و التبصره، 1404ھ، ص25-36۔
  26. ابن‌بابویه، الامامة و التبصره، 1404ھ، ص37-39۔
  27. ابن‌بابویه، الامامة و التبصره، 1404ھ، ص40-46۔
  28. ابن‌بابویه، الامامة و التبصره، 1404ھ، ص47-58۔
  29. ابن‌بابویه، الامامة و التبصره، 1404ھ، ص59-81۔
  30. ابن‌بابویه، الامامة و التبصره، 1404ھ، ص82-91۔
  31. ابن‌بابویه، الامامة و التبصره، 1404ھ، ص92-96۔
  32. ابن‌بابویه، الامامة و التبصره، 1404ھ، ص97-160۔
  33. حسینی جلالی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1412ھ، ص118-120۔
  34. موحد ابطحی، مقدمه الامامة و التبصره، 1404ھ، ص32۔
  35. الامامه و التبصره من ‌الحیره، کتاب گیسوم۔
  36. خانی آرانی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیره، 1386ش، ص12۔

مآخذ

  • آقابزرگ تهرانی، الذریعة الی تصانیف الشیعة، بیروت، دار الاضواء، 1403ھ۔
  • ابن‌بابویه، علی بن حسین، الامامة و التبصره من الحیرة، (تصحیح و تحقیق: محمدباقر موحد ابطحی)، قم، مدرسه امام مهدی(عج)، 1404ھ۔
  • ابن‌شهرآشوب، محمد بن علی، معالم العلماء فی فهرست کتب الشیعة و أسماء المصنّفین‌ قدیما و حدیثا، نجف، مطبعه حیدریه، 1380ھ۔
  • افندی، عبدالله بن عیسی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، قم، مطبعة خیام، 1401ھ۔
  • الامامه و التبصره من ‌الحیرة، کتاب گیسوم، تاریخ اخذ: 11 آبان 1404ہجری شمسی۔
  • حسین‌زاده شانه‌چی، حسن، اوضاع سياسى اجتماعى و فرهنگى شيعه در غيبت صغرى‌، قم، پژوهشگاه علوم و فرهنگ اسلامى دفتر تبليغات اسلامى حوزه علميه قم‌، 1386ہجری شمسی۔
  • حسینی جلالی، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیرة، بیروت، مؤسسة آل‌البیت لاحیاء التراث، 1412ھ۔
  • خانی آرانی، سجاد، مقدمه الامامة و التبصرة من الحیرة، قم، انتشارات مجلسی، 1386ہجری شمسی۔
  • دوانی، علی، مفاخر اسلام، تهران، امیر کبیر، 1363ہجری شمسی۔
  • طوسی، محمد بن حسن، الفهرست، قم، نشر الفقاهه، 1417ھ۔
  • «کتاب «الإمامة و التبصرة» و نقل بحارالأنوار از آن»، پایگاه اطلاع‌رسانی آیت‌الله العظمی شبیری زنجانی، تاریخ اخذ: 30 اکتوبر 2025ء۔
  • مروجی طبسی، نجم‌الدین طبسی و محمدمهدی لطفی، «معرفی کتاب الامامة و التبصرة من الحیرة»، نشریه انتظار، بهار 1385ش، شماره18۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، مؤسسة الوفاء، 1403ھ۔
  • موحد ابطحی، محمدباقر، مقدمه الامامة و التبصره من الحیرة، قم، مدرسه امام مهدی(عج)، 1404ھ۔
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، موسسه انتشارات اسلامی وابسته به جامعه مدرسین حوزه علمیه، 1365ہجری شمسی۔
  • نوری، حسین، خاتمة المستدرک، قم، مؤسسة آل‌البیت لاحیاء التراث، 1415ھ۔