جھوٹ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

جھوٹ کے معنی واقع کے بر خلاف اظہار کرنا اور حقیقت کے برعکس بات کرنا ہیں، یہ ایک کبیرہ گناہ ہے اور قرآن اور حدیث میں اس سے منع کیا گیا ہے. حدیث میں، جھوٹ گناہوں کی چابھی اور ایمان کی تباہی کا باعث بنتا ہے. بعض جگہ پر جھوٹ بولنا جائز اور حتی کہ بعض جگہ پر واجب ہے جیسے مجبوری، جنگ اور مومنین کے درمیان صلح وغیرہ کرانا۔

"ان اللہ لا یھدی من ھو کاذب کفار"
(ترجمہ: بے شک اللہ تعالیٰ اسے ہدایت نہیں کرتا جو جھوٹا نا شکر گزار ہو.)

سورہ زمر: آیت ٣

لفظی اور اصطلاحی معنی

جھوٹ کے معنی نادرست بات، [1] حقیقت اور واقعیت کے خلاف،[2] ناحق قول اور کسی سے ایسا قول نقل کرنا ہے جو کہ اس نے نہ کہا ہو.[3] اس کا اصل معاملہ گفتگو کے دوران ہے، گذشتہ ہو یا آئندہ، وعدہ ہو یا اس کے علاوہ. [4] سچ کے خلاف[5] اور واقع کے خلاف خبر اگرچہ جان بوجھ کر ہو یا غلطی سے ہو. [6] اس کے اصطلاحی معنی واقع کے خلاف بات کا اظہار اور حقیقت کے برعکس بات کرنا ہے اور جھوٹ انسان کی سب سے بڑی اور بدترین صفات میں سے ایک ہے. [7]

قرآن کریم کی نظر میں

قرآن کریم کی متعدد آیات میں جھوٹ کی مذمت کی گئی ہے:

  • قرآن کریم کی چند آیات میں آیا ہے کہ جھوٹا انسان خداوند کی لعنت کا مستحق اور پروردگار کے غصے کا حقدار ہے.[8]
  • خداوند سورہ صف میں فرماتا ہے: اے ایمان والو اسے کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو؟ اللہ کے نزدیک بڑی ناپسند بات ہے جو کہو اس کو کرو نہیں[9]
  • قرآن کریم کی ایک اور جگہ پر خداوند متعال فرماتا ہے: صرف وہی لوگ جھوٹ بولتے ہیں جو خداوند کی آیات پر ایمان نہیں رکھتے، (جی ہاں) واقعی جھوٹے وہی لوگ ہوتے ہیں[10] اس آیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، جھوٹے انسان کی خداوند کی نگاہ میں اس قدر مذمت ہوئی ہے کہ اسے بے ایمان کہا گیا ہے اور کوئی بے ایمان فرد مومن نہیں ہو سکتا.
  • قرآن مجید میں آیا ہے: بے شک خداوند جھوٹے اور کفران نعمت کرنے والے کو ہر گز ہدایت نہیں کرتا۔[11]

روایات میں

امام حسن عسکری(ع) فرماتے ہیں

"جُعِلتِ الخَبائِثُ کُلہا فی بَیت وَ جُعِل مِفتاحُہا الکَذِبَ"
(ترجمہ:تمام پلیدی (نجاست) جس گھر میں قرار دی گئی ہو اور اس کی چابی جھوٹ ہے.)

بحارالانوار، ج٦٩، ص٢٦٣.
  • پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا: اگر مومن بغیر کسی وجہ کے جھوٹ بولتا ہے تو ستر ہزار فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں اور اس کے دل سے ایک بدبو نکلتی ہے اور وہ بو عرش تک پہنچتی ہے اور خداوند اس جھوٹ کی وجہ سے، اس شخص کے لئے ستر زنا کا گناہ لکھتا ہے جس کا سب سے کم درجہ اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنا ہے.[12]
  • آپ (ص) نے ایک دوسری جگہ پر فرمایا: جھوٹ سے پرہیز کریں، کیونکہ جھوٹ انسان کے چہرے کو سیاہ کردیتا ہے.[13]
  • کسی مرد نے رسول خدا(ص) سے پوچھا: کونسا عمل آگ میں داخل ہونے کا سبب بنتا ہے؟ آپ(ص) نے فرمایا: جھوٹ، کیونکہ جھوٹ فجور کا سبب ہے اور فجور کفر کا اور کفر کے سبب انسان آگ میں ڈالا جائے گا۔[14]
  • جھوٹ بولنے کی وجہ سے انسان کی انسانی شکل ختم ہو جاتی ہے، یعنی اس کی برزخی شکل انسانی نہیں رہتی. رسول خدا(ص) نے حضرت زہراء(س) سے فرمایا: معراج کی رات میں نے ایک عورت کو دیکھا جس کا سر سور کا اور اس کا بدن گدھے کا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ عورت فتنہ پھیلاتی تھی اور جھوٹ بولتی تھی. [15]
  • امام حسن عسکری(ع) نے فرمایا: جس گھر میں ساری پلیدیاں اور نجاست اکھٹی ہوں اس کی چابھی جھوٹ ہے.[16]
  • ایک اور روایت میں پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا ہے کہ انسان کی روحی اور جسمی پستی اور کامیاب نہ ہونے کی اصلی وجہ جھوٹ ہے اور جھوٹ کی شروعات روح کی پستی سے ہوتی ہے. [17]
  • ایک روایت میں حضرت علی(ع) نے فرمایا: خداوند کے نزدیک سب سے بڑا گناہ، جھوٹ بولنے والے کی زبان ہے.[18]

جھوٹ کے نقصانات

جھوٹ کے بعض نقصانات اور پیغام درج ذیل ہیں:

  1. جھوٹے شخص کی بے اعتباری: حضرت علی(ع) نے فرمایا: بہتر یہ ہے کہ مسلمان جھوٹے شخص کے ساتھ دوستی یا رفت و آمد کرنے سے اجتناب کرے، کیونکہ وہ اس قدر جھوٹ بولتا ہے کہ اس کی سچی بات کا بھی کوئی یقین نہیں کرتا. [19]
  2. جھوٹے شخص کا ایمان ختم ہو جاتا ہے: امام باقر (ع) فرماتے ہیں: جھوٹ ایمان کے گھر کو ویران کر دیتا ہے [20]
  3. عزت ختم ہونا: رسول خدا (ص) نے فرمایا: سب سے کم عزت اس شخص کی ہے جو جھوٹ بولتا ہے. [21]
  4. فقر: حضرت علی(ع) نے فرمایا: جھوٹ کی عادت، انسان کو فقیر بنا دیتی ہے. [22]
  5. بھول جانا: امام صادق (ع) فرماتے ہیں: وہ چیز جس کے ذریعے خداوند نے جھوٹے فرد کی مدد کی ہے، وہ بھول جانا ہے.[23]
  6. جہنم اور عذاب الہی: پیغمبر خدا (ص) سے نقل ہوا ہے: ایاکم والکذب فانہ من الفجور و انھما فی النار[24]جھوٹ سے پرہیز کریں کیونکہ جھوٹ فجور اور ستم کاری ہے اور جھوٹا اور فاجر کی جگہ آگ ہے. امیر المومنین علی (ع) نے فرمایا: ثمرہ الکذب المھانہ فی الدنیا والعذاب فی الآخرہ[25] جھوٹ کا ثمرہ، دنیا کی پستی، اور آخرت کا عذاب ہے.

جھوٹ کے مراتب

امام باقر(ع) فرماتے ہیں

"إِنَّ الْکَذِبَ ہُوَ خَرَابُ الْإِیمَانِ"
(ترجمہ:جھوٹ، ایمان کو خراب کر دیتا ہے.)

کافی، جلد٢، ص٣٣٩.

اگرچہ بعض فقہاء جیسے کہ شہید ثانی نے جھوٹ کو کلی طور پر گناہ کبیرہ کہا ہے لیکن اخبار اور روایات کی طرف رجوع کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ جھوٹ کے مراتب ہیں:

  1. خدا، پیغمبر (ص) اور امام (ع) کی طرف جھوٹ کی نسبت دینا، جھوٹ کے بد ترین مرتبے ہیں.
  2. جھوٹی قسم، جھوٹی شہادت اور کتمان شہادت،
  3. وہ جھوٹ جس سے نقصان ہو: مراتب کے لحاظ سے وہ جھوٹ جو گناہ کبیرہ ہے، ہر وہ جھوٹ جس میں نقصان ہو البتہ جتنا نقصان زیادہ ہو گا گناہ کا مرتبہ بھی اتنا ہی بڑا ہو گا اور اس کا عذاب اور نقصان بھی شدید ہو گا.
  4. مذاق کی صورت میں جھوٹ بولنا. [26]

جائز جھوٹ

امام علی (ع) نے اپنے فرزند امام حسن (ع) سے فرمایا:

"إِیاکَ وَ مُصَادَقَةَ الْکَذَّابِ فَإِنَّہُ کَالسَّرَابِ یقَرِّبُ عَلَیکَ الْبَعِیدَ وَ یبَعِّدُ عَلَیکَ الْقَرِیبَ"
(ترجمہ: جھوٹے فرد کی دوستی سے پرہیز کرو کیونکہ وہ سراب کی مانند، دور کو تمہارے نزدیک اور نزدیک کو تم سے دور کر دیتا ہے.)

نہج البلاغہ، ترجمہ شہیدی، ص۳۶۷.

ضرورت کی بناء پر

ضرورت (اکراہ اور اضطرار) کی صورت میں [27] جھوٹ بولا جا سکتا ہے. امام صادق (ع) نے فرمایا: اگر کسی مسلمان سے کسی دوسرے مسلمان کے بارے میں سوال کیا جائے اور وہ اپنی سچائی کی وجہ سے اسے نقصان پہنچائے، تو اس صورت میں اس کا حساب جھوٹے افراد میں ہو گا لیکن اگر جھوٹ بولنے کی وجہ سے دوسرے مسلمان کا فائدہ ہو تو، اس کا شمار سچ بولنے والوں میں ہو گا. [28] بعض روایات میں آیا ہے کہ ظالم حکومت سے مال کی رہائی کی خاطر جھوٹی قسم کھانا جائز ہے، مثال کے طور پر، موثقہ زرارہ میں اس طرح آیا ہے: میں نے امام باقر (ع) سے عرض کیا: اپنے مال کے ساتھ عشار کے کنارے عبور کرتے ہیں، اور وہ کہتے ہیں کہ انکے لئے قسم کھائیں تا کہ وہ ہمارے لئے راستہ کھولیں اور اس کے علاوہ وہ کسی صورت میں ہم سے راضی نہیں ہوتے. (آیا ہم قسم کھا سکتے ہیں؟) امام(ع) نے فرمایا: ان کے لئے قسم کھا لو کیونکہ یہ کام کجھور اور مکھن سے زیادہ میٹھا ہے. [29]

صلح کرانا

لوگوں کے درمیان راضی نامہ کرواتے وقت اگر جھوٹ بولنا پڑھے تو جائز ہے. [30]امام صادق(ع) فرماتے ہیں: جو شخص صلح کی نیت رکھتا ہے، وہ جھوٹا نہیں ہو سکتا. [31]اور فرمایا: ہر جھوٹ کی نسبت انسان سے پوچھا جائے گا سوائے تین مورد میں،.... وہ شخص جو دو افراد کے درمیان صلح کرواتا ہے جیسے کہ اگر ایک طرف سے کوئی بات سنتا ہے تو اسے دوسری طرف نہیں بتاتا، اور اس کا مقصد ان دونوں کے درمیان صلح کروانا ہو.[32]

دشمن کے ساتھ جنگ میں

بعض روایات میں جنگ کے درمیان جھوٹ بولنے کو جائز کہا گیا ہے. پیغمبر اکرم (ص) نے فرمایا: تین مورد میں جھوٹ بولنا صحیح ہے: جنگ میں تدبیر..... [33] امام صادق (ع) نے فرمایا: جھوٹے شخص سے ہر جھوٹ کے بارے میں سوال کیا جائے گا، سوائے تین مورد کے: جو شخص جھوٹ کے ذریعے جنگ میں تدبیر کرتا ہے کہ ایسے جھوٹ کا گناہ نہیں ہوتا ہے. [34]

اس بحث کی تمام روایات سند کے لحاظ سے کمزور ہيں. اور فرض بھی کر لیا جائے کہ روایات صحیح ہیں تو ان کا مطلب یہ بنے گا کہ دشمن کے ساتھ جنگ کے دوران ایک مسلمان مختلف تدابیر، حربوں اور حیلوں کے ذریعے دشمن کو مغلوب کر سکتا ہے. اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ دشمن کو پسپا کرنے اور دین و ملک کا دفاع کرنے کی اہمیت، صدق و کذب کی اہمیت سے کہیں زیادہ ہے، لہذا کہا جا سکتا ہے کہ اس قسم کی استثناء بالکل عین قواعد کے مطابق ہے، خاص طور پر جب ضرورت بھی اسی چیز کی مقتضی ہو، تو اس صورت میں پہلے مورد میں بھی شامل ہو گا.[35]


اپنی فیملی سے جھوٹا وعدہ کرنا؟

روایات میں اپنی فیملی سے جھوٹا وعدہ کرنا حالانکہ اس کام کے انجام دینے کا ارادہ نہ ہو، یہ جھوٹ جائز کہا گیا ہے: امام صادق (ع) فرماتے ہیں: جھوٹے انسان سے ہر جھوٹ کے بارے میں ایک دن سوال کیا جائے گا فقط تین مورد کے علاوہ... وہ مرد جو اپنی فیملی کو وعدہ دیتا ہے اور اسے ان کے لئے پورا نہیں کرتا. [36] رسول خدا(ص) سے روایت وارد ہوئی ہے کہ جھوٹ تین جگہ پر صحیح ہے... اور اپنی بیوی کو وعدہ دینا[37] اہل تشیع کے بڑے فقہاء اپنی بیوی سے جھوٹ بولنے کو جائز نہیں سمجھتے[38] ہیں اور اس کے علاوہ یہ روایات کچھ جہت کی بناء پر صحیح نہیں ہیں:

  1. یہ روایات ان روایات کی صریح طور پر مخالفت کرتی ہیں جن میں ایسا وعدہ جو کہ پورا نہ کر سکتے ہو اس سے منع کیا گیا ہے. جیسا کہ امام کاظم (ع) فرماتے ہیں: جب بچوں سے وعدہ کرو تو اس وعدے کو وفا کرو...[39]
  2. یہ روایات، وہ تمام دلائل جو ہر طرح کے وعدوں کی مخالفت کرنے کو صحیح نہیں کہتے، ان سے مطابقت نہیں رکھتیں. [40]
  3. جو روایات بیان ہوئی ہیں انکی سند ضعیف ہے، [41] اور ان سے ایسا کوئی حکم جو قواعد و اصول کے خلاف ہو استنباط نہیں کر سکتے.
  4. ان روایات پر عمل کرنا تربیتی لحاظ سے درست نہیں ہے بالخصوص بچوں کو جھوٹ اور وعدہ کے خلاف ورزی کی تشویق کرنے کے معنی میں سے ہے. [42]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. برگزیدہ فرہنگ قرآن، ص۳۶۹.
  2. مصطفوی، ج ۱۰، ص۳۴.
  3. شعرانی، ۲۳۱
  4. راغب اصفہانی، ص۷۰۴.
  5. ابن منظور، ص۵۰، معلوف، ۶۷۸.
  6. قیومی، ص۶۷.
  7. محمد امین، ص۶۷.
  8. نور، ۷.
  9. مکارم شیرازی، صف،۲-۳.
  10. مکارم شیرازی، نحل،۱۰۵.
  11. مکارم شیرازی، زمر،۳.
  12. مجلسی، ج ۶۹، ص۲۶۳.
  13. محدث نوری، ج ۹، ص۵۰.
  14. مستدرک، ج۹، ص۸۹
  15. عیون اخبارالرضا، ص۵۲۰.
  16. بحار الانوار، ج ۶۹، ص۲۶۳
  17. مجلسی، ج ۶۹، ص۲۶۲.
  18. کاشانی، ج۵، ص۲۴۳.
  19. کلینی، ج ۲، ص۳۴۱.
  20. کافی، ج ۶، ص۳۳۹.
  21. مستدرک الوسائل، ج ۹، ص۸۷.
  22. قمی، ج ۷، ص۴۵۵.
  23. کلینی، ج ۲، ص۳۴۱.
  24. مستدرک الوسائل، ج ۹، ص۸۸
  25. غرر الحکم، ص۲۲۰
  26. دستغیب، ۲۸۵ ـ ۲۸۱
  27. مکاسب محرمہ، ج۲، ص۲۱.
  28. مستدرک الوسائل، ج۹، ص۹۵.
  29. من لایحضرہ الفقیہ، ج۳، ص۳۶۳.
  30. مکاسب محرمہ، ج۲، ص۳۱.
  31. کافی، ج۲، ص۲۱۰.
  32. کافی، ج۲، ص۳۴۲.
  33. من لایحضرہ الفقیہ، ج۴، ص۳۵۹.
  34. کافی، ج ۲، ص۳۴۲.
  35. http://www.ensani.ir/storage/Files/20121231090802-9615-29.pdf
  36. کافی، ج ۲، ص۳۴۲.
  37. من لایحضرہ الفقیہ، ج۴، ص۳۵۹.
  38. المکاسب المحرمة(امام خمینی)، ج ۲، ص۱۴۰؛ طباطبائی حکیم، سید محسن، منہاج الصالحین (المحشی للحکیم)، ج ۲، ص۱۵.
  39. بحارالانوار، ج۱۰۱، ص۷۳.
  40. اسراء، ۳۴.
  41. خمینی، مکاسب محرمہ، ج۲، ص۱۴۰
  42. http://www.ensani.ir/storage/Files/20121231090802-9615-29.pdf


مآخذ

  • مرکز فرہنگ و معارف قرآن؛ برگزیده فرہنگ قرآن، قم، انتشارات بوستان کتاب، ۱۳۸۷ش، چاپ اول،.
  • مصطفوی، حسن؛ التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، الدائره العامۃ للمراکز و العلاقات الثقافیہ، ۱۳۶۸.
  • شعرانی، ابوالحسن، نثر طوبی، تہران، انتشارات اسلامیہ.
  • الاصفہانی، الراغب، مفردات الفاظ القرآن، دمشق، دارالقلم، ۱۴۱۲، الطبعۃ الاولی.
  • ابن منظور، لسان العرب، لبنان- بیروت،‌دار احیاء التراث العربی، ۱۴۱۹، طبعہ الثالثہ، الجزء الثانی عشر.
  • معلوف، لویس، المنجد فی اللغۃ، تہران، انتشارات اسلام، ۱۳۸۰، چاپ دوم.
  • قیومی، مصباح اللغۃ، مصر، ۱۳۱۳.
  • امین، محمد، آفات زبان، تہران، افست کیا.
  • مجلسی، محمد باقر، بحارالانوار، بیروت، لبنان، مؤسسہ الوفاء، ۱۴۰۳.
  • محدث نوری، مستدرک الوسائل، قم، مؤسسہ آل البیت، ۱۴۰۸.
  • دستغیب، گناہان کبیره، جامعہ مدرسین، قم، ۱۳۷۵.
  • فیض کاشانی، ملا محسن،المحجۃ البیضاء،قم،دفتر انتشارات اسلامی.
  • کلینی، محمد بن یعقوب،اصول کافی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ،۱۳۶۳.
  • قمی، شیخ عباس، سفینہ البحار، تہران، فراہانی،۱۳۶۳.
  • ابن بابویہ، محمد بن علی، من لایحضره الفقیہ،تہران، صدوق،۱۳۶۷-۱۳۶۹.
  • شیخ حر عاملی، وسائل الشیعۃ، قم، مؤسسہ آل البیت لإحیاء التراث، ۱۴۰۹.
  • الحرانی، ابن محمد الحسن بن علی بن الحسین بن شعبہ، تحف العقول عن آل الرسول، قم، انتشارات شفق.
  • ابن بابویہ، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا، ترجمہ روغنی قزوینی، مسجد جمکران، قم، ۱۳۸۹.