مسودہ:امام حسینؑ کا سر اقدس
| واقعات | |
|---|---|
| امام حسینؑ کے نام کوفیوں کے خطوط • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا | |
| شخصیات | |
| امام حسینؑ علی اکبر • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا • | |
| مقامات | |
| حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ | |
| مناسبتیں | |
| تاسوعا • عاشورا • عشرہ محرم • اربعین • عشرہ صفر | |
| رسومات | |
| زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ • نوحہ • تباکی • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری • عَلَم • سبیل • جلوس عزا • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس |
امام حسینؑ کا سر اقدس واقعۂ کربلا میں آپؑ کے جسمِ مبارک سے جدا کیا گیا، پھر عاشورا کے بعد اسیران کربلا کے ساتھ کوفہ اور شام لے جایا گیا۔ امام حسینؑ کے سر اقدس کو جسم سے جدا کرنے کی نوعیت، اسے مختلف شہروں میں لے جانا یا پھرایا جانا، اس کی بے حرمتی کا مرتک ہونا، اس سے متعلق کرامات کا ظاہر ہونا اور اس کے محلِ دفن میں اختلاف ایسے موضوعات ہیں جن کے بارے میں تاریخی اور حدیثی منابع میں روایات نقل ہوئی ہیں۔
تاریخی روایات کے مطابق امام حسینؑ کی شہادت کے بعد شمر بن ذی الجوشن یا بعض روایات کے مطابق سنان بن انس نے آپؑ کا سر جسمِ مبارک سے جدا کیا۔ عمر بن سعد نے سر مبارک کو دیگر شہدا کے سروں کے ساتھ کوفہ روانہ کیا۔ کوفہ میں ابن زیاد کے حکم سے شہدا کے سروں کو شہر میں پھرایا گیا اس کے بعد انہیں شام منتقل کیا گیا۔ بعض مصادر میں کوفہ سے شام کے راستے میں شہداء کے سروں کو نیزوں پر اٹھا کر لے جانے اور مختلف مقامات پر ٹھہرائے جانے کی روایات نقل ہوئی ہیں۔ تاریخی مصادر میں ابن زیاد اور یزید کی جانب سے امام حسینؑ کے سرِ مبارک کی بے حرمتی کے واقعات بھی بیان ہوئے ہیں۔ بعض شیعہ مصادر میں سرِ امام حسینؑ سے متعلق کچھ کرامات جیسے قرآن مجید کی تلاوت اور سر اقدس سے نور ظاہر ہونے کی روایات بھی ملتی ہیں۔ بعض منابع میں شہدا کے سروں کو مختلف شہروں میں پھرائے جانے کو حکومت بنی امیہ کی جانب سے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنے اور ان کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریکوں کو روکنے کی سیاسی کوشش قرار دیا ہے۔
مختلف شہروں اور ممالک میں ایسے مقامات موجود ہیں جنہیں امام حسینؑ کے سرِ مبارک کے عارضی قیام گاہ اور حفاظت یا تدفین کی جگہ قرار دیا گیا ہے۔ ان میں سے بعض مقامات مقاماتِ رأس الحسین کے نام سے مشہور ہیں۔ ان مقامات میں کربلا کو خاص شہرت حاصل ہے، جہاں مشہور قول کے مطابق 61ھ کے اربعین کے موقع پر سرِ مبارک کو امام حسینؑ کے جسم مبارک سے ملحق کیا گیا۔
مقام و اہمیت
تاریخی اور حدیثی مصادر میں امام حسینؑ کے سرِ مبارک کے بارے میں متعدد روایات نقل ہوئی ہیں؛ جن میں سر مبارک کو جسم سے جدا کرنے کی نوعیت،[1] کوفہ اور شام جیسے شہروں میں پھرایا جانا،[2] سر اقدس کی بے حرمتی،[3] سر اقدس کا قرآن کی تلاوت کرنا[4] اور اس کے محلِ دفن وغیرہ شامل ہیں۔[5]
بعض تاریخی روایات کے مطابق عمرو بن حمق خزاعی کا سر جسے معاویہ کے دور میں جسم سے جدا کرکے مختلف شہروں میں پھرایا گیا تھا،[6] اس کے بعد امام حسینؑ اور آپؑ کے ساتھیوں کے سر وہ پہلے سر تھے جنہیں مختلف شہروں میں پھرایا گیا۔[7] امام حسینؑ کے سرِ مبارک کو نیزے پر اٹھا کر لے جانے کا واقعہ، بشیر بن جذلم سے منسوب ان اشعار میں بھی منعکس ہوا ہے جو انہوں نے امام حسینؑ کے اہلِ بیت کی مدینہ آمد کی خبر دیتے وقت پڑھا تھا۔[8]
شیعہ فقیہ محمد مہدی شمس الدین نے امام حسینؑ اور آپؑ کے ساتھیوں کے سروں کو ان کے جسموں سے جدا کرنے کو ایک سیاسی اقدام قرار دیا ہے، جس کا مقصد لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور امویوں کے خلاف ممکنہ مزاحمتی تحریکوں کو و روکنا تھا۔ انہوں نے اس عمل کو بنی امیہ کی بنی ہاشم سے دشمنی اور امام حسینؑ کی حرمت و تقدس کو ختم کرنے کی کوششوں میں سے ایک بھی قرار دیا ہے۔[9]
امام حسینؑ کے سرِ مبارک سے متعلق روایات عاشورا سے متعلق ادبی فن پاروں میں بھی نمایاں طور پر منعکس ہوئی ہیں۔ مجلسِ یزید کے مصائب، خولی کے تنور کے مصائب، دیر راہب اور سر امام حسینؑ کے درمیان گفتگو، امام حسینؑ کے سر اقدس کا قرآن پڑھنے کا واقعہ، خیزران کی چھڑی سے سر امام حسین کی بے حرمتی اور سرِ مبارک کو مختلف شہروں میں پھرائے جانے کے واقعات امام حسینؑ کی عزاداری کی مجالس میں بیان کئے جاتے ہیں۔
امام حسینؑ کا سر جسم سے کس نے جدا کیا؟
تاریخی روایات کے مطابق جب عمر سعد کے لشکر کے ساتھ جنگ کے دوران امام حسینؑ گھوڑے زمین پر گرے تو شمر بن ذی الجوشن اپنے چند سپاہیوں، جن میں سنان بن انس اور خولی بن یزید بھی شامل تھے، کے ساتھ امامؑ کی جانب بڑھا۔ جب شمر نے ان سے امام حسینؑ کا کام تمام کرنے کا حکم دیا،[10] تو ان میں سے کسی اسے قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد شمر نے خولی کو امامؑ کا سر جدا کرنے کا حکم دیا، لیکن خولی کے ہاتھ اور جسم لرزنے لگے اور وہ یہ کام انجام نہ دے سکا۔ پھر شمر نے[11] اور ایک روایت کے مطابق سنان نے[12] امام حسینؑ کا سر جسمِ مبارک سے جدا کر کے خولی کے حوالے کردیا۔[13]
بعض مصادر میں امام حسینؑ کا سر پشت کی جانب سے جدا کرنے کا عمل شمر کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔[14] شیعہ مصادر، مثلاً بحار الانوار،[15] مقتلِ سید بن طاؤوس[16] اور مناقب آل ابی طالب، ابن شہر آشوب[17] میں امام حسینؑ کا سر پشت کی جانب سے جدا کئے جانے کے واقعے کو حضرت زینبؑ اور امام سجادؑ کے اقوال، نیز زیارت ناحیہ مقدسہ کے ایک فقرے سے مستند قرار دیا گیا ہے۔[18]
سرِ امام حسینؑ کو کوفہ اور شام پھرایا جانا
امام حسینؑ کا سر جسمِ مبارک سے جدا کرنے کے بعد عمر بن سعد نے اسے خولی اور حمید بن مسلم کے حوالے کیا تاکہ وہ اسے کوفہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس لے جائیں۔ تاریخی روایات کے مطابق جب خولی کوفہ پہنچا تو رات ہوچکی تھی اور دار الامارہ کے محل کا دروازہ بند ہو گیا تھا۔ اس لئے وہ سرِ مبارک کو اپنے گھر لے گیا اور اسے گھر کے تنور میں رکھ دیا تاکہ صبح دار الامارہ ابن زیاد کے سامنے پیش کر سکے۔[19]
شہدائے کربلا کے سر مبارک کوفہ پہنچنے کے بعد ابن زیاد کے حکم دیا کہ شہداء کے سروں کو نیزوں پر اٹھا کر شہر میں پھرایا جائے۔[20] اس کے بعد زحر بن قیس جعفی نے شہدا کے سروں اور اسیران کربلا کو شام میں یزید کے پاس لے گیا۔[21]

جن مقامات پر سر مبارک کو رکھا گیا
مصادر میں تکریت، وادی النخلہ، موصل، نصیبین، عین الوردہ، حمص، حماۃ، عسقلان، بعلبک[22] اور حلب[23] جیسے مقامات کو شہدائے کربلا کے سروں کے توقف گاہ یا انہیں منتقل کرنے کے راستے کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ بعد میں ان میں سے بعض مقامات کو زیارت گاہوں کی حیثیت حاصل ہوگئی اور وہ مقاماتِ رأس الحسین کے نام سے مشہور ہوئے۔[24] ان مقامات میں مشہد النقطہ حلب،[25] مسجد جامع اموی دمشق،[26] مسجد حنانہ نجف اشرف،[27] مقام رأس الحسین عسقلان[28] اور مقامِ رأس الحسین قاہرہ مصر[29] شامل ہیں۔
سرِ امام حسینؑ کی بے حرمتی
تاریخی مصادر میں ابن زیاد اور یزید کی جانب سے امام حسینؑ کے سرِ مبارک کی بے حرمتی کے واقعات نقل ہوئے ہیں۔ ان روایات کے مطابق ابن زیاد نے دار الامارہ کوفہ میں چھڑی سے امام حسینؑ کے دانتوں[30] اور سرِ مبارک کی بے حرمتی کی[31] اور آپؑ کی داڑھی کے رنگ میں تبدیلی کی طرف اشارہ کیا۔[32] اسی طرح اس نے حکم دیا کہ امام حسینؑ اور دیگر شہدا کے سروں کو نیزوں پر چڑھا کر کوفہ میں پھرایا جائے۔[33]
فضل بن شاذان نیشاپوری نے امام رضاؑ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق یزید نے امام حسینؑ کے سرِ مبارک کے سامنے شراب نوشی اور شطرنج جیسے لہو و لعب کے ذریعے مستی کا مظاہرہ کیا اور امام حسینؑ، امام علیؑ اور پیغمبر اسلامؐ کی توہین کی۔ اس کے بعد اس نے شراب کی باقی مقدار سرِ مبارک کے پاس رکھے برتن میں انڈیل دی۔[34] پھر اس نے خیزران کی چھڑی سے امامؑ کے دانتوں پر ضربیں لگائیں۔[35] بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ یزید کے حکم پر امام حسینؑ کے سرِ مبارک کو اس کے محل کے دروازے پر لٹکایا گیا[36] اور شہدا کے سروں کو تین دن تک دمشق میں سولی پر لٹکائے رکھا گیا۔[37]
سرِ امام حسینؑ کی کرامات
بعض مصادر میں امام حسینؑ کے سرِ مبارک سے ظاہر ہونے والی کرامات کے واقعات نقل ہوئے ہیں۔ شیخ مفید کے مطابق جب ابن زیاد کے حکم پر امام حسینؑ کے سرِ مبارک کو کوفہ میں پھرایا جا رہا تھا تو زید بن ارقم نے سنا کہ سرِ امام حسینؑ سورہ کہف کی آیت 9 کی تلاوت کر رہا ہے۔[38] اسی طرح طبری آملی نے نقل کیا ہے کہ حارث بن وکیدہ، جو سرِ مبارک کو اٹھا کر لے جانے والوں میں شامل تھا، نے نے بھی سر مبارک سے قرآن پڑھتے ہوئے سنا اور امامؑ نے اس سے گفتگو بھی کی۔[39]
مقتلِ خوارزمی میں ابومخنف سے نقل کیا گیا ہے کہ جب خولی امام حسینؑ کے سرِ مبارک کو اپنے گھر لے گیا اور اسے تنور میں چھپا کر رکھا تو اس کی بیوی نے نور کا ایک ستون دیکھا جو سرِ مبارک سے آسمان کی طرف بلند ہو رہا تھا، جب کہ پرندے اس کے گرد پرواز کر رہے تھے۔[40] الخرائج والجرائح میں بھی آیا ہے کہ ابن زیاد کے کارندے امام حسینؑ کا سرِ مبارک شام لے جاتے ہوئے ایک مسیحی راہب کے پاس پہنچے۔ انہوں نے آرام کرتے کے وقت امامؑ کا سر ایک صندوق میں رکھ کر راہب کے پاس چھوڑ دیا، جس پر راہب نے اس سے نور نکلتے ہوئے دیکھا۔[41]
محلِ دفن
شیعہ اور اہلِ سنت مصادر میں امام حسینؑ کے سرِ مبارک کے محلِ دفن کے بارے میں مختلف روایات نقل ہوئی ہیں؛ جن میں کربلا،[42] نجف،[43] مدینہ،[44] دمشق،[45] کوفہ،[46] رقہ،[47] عسقلان،[48] قاہرہ[49] اور مرو[50] شامل ہیں جنہیں بعض مصادر میں امام حسینؑ کے سرِ مبارک کی تدفین کی جگہ قرار دیا گیا ہے۔[51] ان روایات میں سرِ مبارک کو کربلا میں پیکرِ امام حسینؑ سے ملحق کئے جانے کا قول زیادہ مشہور ہے، جس کے مطابق یہ واقعہ 61ھ کے اربعین کے موقع پر پیش آیا۔[52]
حوالہ جات
- ↑ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج5، ص453۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص113–114؛ ابن طاؤوس، اللہوف، ص189۔
- ↑ شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا(ع)، ج2، ص22۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص117۔
- ↑ محمدی رے شہری، شہادت نامۂ امام حسینؑ...، ص726–728۔
- ↑ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج3، ص258۔
- ↑ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ج10، ص483۔
- ↑ ابن طاؤوس، الملہوف، ص227۔
- ↑ شمس الدین، انصار الحسین، الدار الاسلامیہ، ص228–229۔
- ↑ بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص203؛ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج5، ص452–453؛ ابن کثیر، البدایۃ والنہایۃ، ج8، ص187–189۔
- ↑ مفید، الارشاد، ج2، ص112؛ طبرسی، اعلام الوریٰ، ج1، ص469۔
- ↑ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج5، ص453؛ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ج10، ص473–474؛ مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص61۔
- ↑ مفید، الارشاد، ج2، ص112؛ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج5، ص453؛ ابن سعد، الطبقات الکبریٰ، ج10، ص473–474۔
- ↑ خوارزمی، مقتل الحسین، ج2، ص41–42۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، ج45، ص60 اور ص174۔
- ↑ سید بن طاؤوس، الملہوف علی قتلی الطفوف، ص181۔
- ↑ ابن شہر آشوب، المناقب، ج4، ص113۔
- ↑ مجلسی، بحار الانوار، ج101، ص319۔
- ↑ ابومخنف، وقعۃ الطف، ص258؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص206؛ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج5، ص455۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص117–118؛ ابومخنف، وقعۃ الطف، ص264۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص118۔
- ↑ بیضون، موسوعۃ کربلا، مؤسسۃ الاعلمی، ج2، ص334–338۔
- ↑ حسینی جلالی، مزارات اہل البیت و تاریخہا، ص236۔
- ↑ حسینی جلالی، مزارات اہل البیت و تاریخہا، ص270۔
- ↑ حسینی جلالی، مزارات اہل البیت و تاریخہا، ص236۔
- ↑ حسینی جلالی، مزارات اہل البیت و تاریخہا، ص223۔
- ↑ طوسی، الامالی، ص682؛ مجلسی، بحار الانوار، ج97، ص454۔
- ↑ Petersen, Bones of Contention: Muslim Shrines in Palestine، ص108–110؛ قزوینی، آثار البلاد و اخبار العباد، ص222۔
- ↑ حسینی جلالی، مزارات اہل البیت و تاریخہا، ص272۔
- ↑ شیخ صدوق، الامالی، ص165۔
- ↑ طبری، تاریخ الطبری، ج5، ص393۔
- ↑ بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص226۔
- ↑ ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص189–190۔
- ↑ شیخ صدوق، عیون أخبار الرضا(ع)، ج2، ص22۔
- ↑ ابن طاؤوس، اللہوف، ص214۔
- ↑ خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج2، ص81۔
- ↑ ذہبی، تاریخ الاسلام، ج5، ص107۔
- ↑ شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص117۔
- ↑ طبری آملی، نوادر المعجزات، ص246۔
- ↑ خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج2، ص114؛ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ج5، ص455۔
- ↑ راوندی، الخرائج والجرائح، ج2، ص578–579۔
- ↑ قاضی طباطبائی، تحقیق دربارہ اولین اربعین حضرت سیدالشہدا(ع)، ص165؛ محمدی رے شہری، شہادت نامۂ امام حسینؑ...، ص727؛ تاریخ قیام و مقتل جامع سیدالشہدا، ج2، ص574–578 اور 587–589۔
- ↑ کلینی، الکافی، ج4، ص571–572؛ ابن قولویہ، کامل الزیارات، ص35–36۔
- ↑ نویری، نہایۃ الارب، المؤسسۃ المصریۃ العامۃ، ج20، ص480۔
- ↑ ذہبی، تاریخ الاسلام، ج5، ص107؛ خوارزمی، مقتل الحسین، ج2، ص83۔
- ↑ سبط بن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج1، ص191–192۔
- ↑ سبط بن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص208۔
- ↑ Petersen, Bones of Contention: Muslim Shrines in Palestine، ص108–110؛ عمرانی، الانباء فی تاریخ الخلفاء، ص54؛ قزوینی، آثار البلاد و اخبار العباد، ص222۔
- ↑ ابن عبدالظاہر، الروضۃ البہیۃ الزاہرۃ، ص30۔
- ↑ نویری، نہایۃ الارب، المؤسسۃ المصریۃ العامۃ، ج20، ص477۔
- ↑ محمدی رے شہری، شہادت نامۂ امام حسینؑ...، ص726–728۔
- ↑ قاضی طباطبائی، تحقیق دربارہ اولین اربعین حضرت سیدالشہدا(ع)، ص165؛ محمدی رے شہری، شہادت نامۂ امام حسینؑ...، ص727۔
مآخذ
- ابنجوزی، یوسف بن قزاوغلی، تذکرۃ الخواص من الامۃ بذکر خصائص الائمۃ، قم، انتشارات مجمع جہانی اہل بیت، 1426ھ۔
- ابنسعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1410ھ۔
- ابنشہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، محقق محمدحسین آشتیانی و ہاشم رسولی محلاتی، قم، نشر علامہ، 1379ھ۔
- ابنعبدالظاہر، عبداللہ، الروضۃ البہیۃ الزاہرۃ فی خطط المعربۃ القاہرۃ، مصر (قاہرہ)، مکتبۃ الدار العربیۃ للکتاب، 1417ھ۔
- ابنقولویہ، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، مصحح عبدالحسین امینی، نجف، دارالمرتضویۃ، 1356ھ۔
- ابنکثیر، اسماعیل بن عمر، البدایہ و النہایہ، بیروت، دارالفکر، 1407ھ۔
- ابنعبدالبر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، 1422ھ۔
- ابیمخنف کوفی، لوط بن یحیی، وقعۃ الطف، محقق محمدہادی یوسفی غروی، قم، جامعہ مدرسین، اشاعت سوم، 1367ہجری شمسی۔
- بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض الزرکلی، بیروت، دارالفکر، 1417ھ۔
- بیضون، لبیب، موسوعۃ کربلاء، بیروت، موسسۃ الاعلمی، بے تاریخ۔
- حسینی جلالی، محمدحسین، مزارات اہل البیت و تاریخہا، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، 1415ھ۔
- خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین، قم، نشر انوارالہدی، 1423ھ۔
- ذہبی، شمس الدین، تاریخ الإسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، بیروت، دار الکتاب العربی، 1409ھ۔
- راوندی، سعید بن ہبہاللہ، الخرائج و الجرائح، قم، مؤسسۃ الإمام المہدی(ع)، 1409ھ۔
- سید بن طاووس، علی بن موسی، الملہوف علی قتلی الطفوف، محقق فارس تبریزیان، قم، دار الاسوۃ لطباعۃ و النشر، 1417ھ۔
- شمسالدین، محمدمہدی، انصار الحسین، بیروت، دار الاسلامیۃ، بے تاریخ۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، الأمالی، تہران، کتابچی، اشاعت ششم، 1376ہجری شمسی۔
- شیخ صدوق، محمد بن علی، عیون أخبار الرضا(ع)، تہران، نشر جہان، 1378ھ۔
- طبرسی، اعلام الوری بأعلام الہدی، قم، موسسہ آل البیت لاحیاء التراث، 1417ھ۔
- طبری آملی، محمد بن جریر، نوادر المعجزات فی مناقب الأئمۃ الہداۃ، قم، دلیل ما، 1385ہجری شمسی۔
- طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، 1967ء۔
- طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، نشر دارالثقافہ، 1414ھ۔
- قاضی طباطبایی، محمدعلی، تحقیق دربارہ اول اربعین حضرت سید الشہدا علیہ السلام، تہران، سازمان چاپ و انتشار وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، 1383ہجری شمسی۔
- قزوینی، زکریا بن محمد، آثار البلاد و اخبار العباد، بیروت، دار صادر، 1998ء۔
- کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیۃ، 1407ھ۔
- گروہی از تاریخپژوہان، تاریخ قیام و مقتل جامع سیدالشہدا، زیر نظر مہدی پیشوایی، قم، انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، گیارہویں اشاعت، 1395ہجری شمسی۔
- مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، موسسہ الوفاء، 1403ھ۔
- محمدی ریشہری، محمد، شہادتنامہ امام حسین بر پایہ منابع معتبر برگرفتہ از دانشنامہ امام حسین علیہ السلام، قم، موسسہ دارالحدیث، 1390ہجری شمسی۔
- مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم، دارالہجرہ، 1409ھ۔
- مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفہ حجج اللہ علی العباد، قم، انتشارات کنگرہ جہانی شیخ مفید، 1413ھ۔
- نویری، احمد بن عبدالوہاب، نہایہ الأرب فی فنون الأدب، مصر (قاہرہ)، وزارۃ الثقافۃ و الارشاد القومی، الموسسۃ المصریۃ العامۃ، بے تاریخ۔
- Petersen, Andrew, Bones of Contention: Muslim Shrines in Palestine، Springer، Singapore، 2017ء۔