مندرجات کا رخ کریں

امام حسینؑ اور عمر سعد کی گفتگو

ویکی شیعہ سے

امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے درمیان واقعۂ کربلا سے قبل ہونے والی گفتگو کا تذکرہ مقتل الحسین ابو مخنف سمیت متعدد تاریخی مصادر میں ملتا ہے۔ اس قسم کے گفتگو کے واقع ہونے کو تو عموما تسلیم کیا جاتا ہے تاہم ان کی تعداد، زمان و مکان اور مندرجات کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض مورخین کے مطابق اس ملاقات کی تجویز امام حسینؑ کی جانب سے پیش کی گئی اور دونوں فریق کے کچھ افراد کی موجودگی میں یہ گفتگو انجام پائی۔ ابو مخنف کے مطابق امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے درمیان تین یا چار مرتبہ مختلف اوقات اور مقامات پر گفتگو ہوئی۔ بعض شیعہ مؤرخین کے مطابق یہ ملاقاتیں محرم الحرام کی چوتھی تاریخ سے چھٹی تاریخ کے درمیان ہوئی تھی۔ اس گفتگو کے نتیجے میں عمر سعد کے لشکر میں سے بعض افراد کا امام حسینؑ کے ساتھ ملحق ہونے کی بھی روایات ملتی ہیں جن کے بارے میں بعض محققین تردید کا اظہار کرتے ہیں۔

اس گفتگو کے مندرجات کے بارے میں بھی محققین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض محققین جیسے مہدی پیشوائی عقبہ بن سمعان کی روایت سے استناد کرتے ہوئے امام حسینؑ کی طرف سے یزید کی بیعت کی پیش کش کو رد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امام حسینؑ نے صرف یہ خواہش ظاہر کی تھی کہ انہیں اس علاقے سے نکل جانے دیا جائے۔ اس کے برخلاف بعض محققین ان ملاقاتوں کو جنگ سے اجتناب کی خاطر ہونے والی مذاکرات قرار دیتے ہیں۔ تاہم اس نظریے کو بھی رجبی دوانی اور مروجی طبسی جیسے محققین نے مسترد کیا ہے۔ بعض علماء جیسے آیت اللہ خامنہ ای اور آیت اللہ مکارم شیرازی ان مذاکرات کو عمر بن سعد کی نصیحت، اسے حق کی طرف دعوت دینے اور دشمنوں پر اتمامِ حجت کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

کربلا میں ایک مقام ایسا بھی موجود ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ امام حسینؑ اور عمر بن سعد کی ملاقات کی جگہ تھا۔ یہ مقام محلہ بابُ السّلامہ میں حرم امام حسینؑ کے شمال میں تقریباً 240 میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

واقعۂ کربلا سے قبل امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے مذاکرات

کتاب مقتل الحسین ابومخنف لکھتے ہیں کہ واقعۂ کربلا سے قبل امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے درمیان متعدد گفتگو ہوئی تھیں۔[1] بعض محققین کے نزدیک اس طرح کی گفتگو کا وقوع پذیر ہونا تاریخی طور پر مسلم ہے، البتہ یہ کہ یہ گفتگو کب ہوئی اور ان کے مندرجات کیا تھے اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔[2]

بعض روایات کے مطابق ملاقات کی تجویز امام حسینؑ کی جانب سے پیش کی گئی تھی جسے عمرو بن قرظہ انصاری نے عمر بن سعد تک پہنچایا۔[3] تاہم سبط ابن جوزی اس تجویز کو عمر بن سعد کے بیٹے کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ بیان کیا گیا ہے کہ اس تجویز کے بعد امام حسینؑ اور عمر بن سعد اپنے اپنے بیس ساتھیوں کے ہمراہ دونوں لشکروں کے درمیان ایک مقام پر گفتگو کے لئے جمع ہوئے۔ لیکن ایک روایت کے مطابق آخری ملاقات میں امام حسینؑ کے ساتھ حضرت عباسؑ اور حضرت علی اکبرؑ موجود تھے، جبکہ عمر بن سعد اپنے بیٹے حفص اور غلام لاحق کے ساتھ شریکِ گفتگو تھا۔[4]

یہ بھی نقل کیا گیا ہے کہ جب عمر بن سعد کے لشکر کے بعض افراد امام حسینؑ کے حالات اور موقف سے آگاہ ہوئے تو ان میں سے تیس افراد لشکر سے الگ ہو کر امامؑ کے لشکر میں شامل ہوگئے اور انہوں نے عمر سعد سے مخاطب ہو کر کہا: ’’نواسہ پیغمبرؐ تمہارے سامنے مختلف تجاویز پیش کر رہے ہیں اور تم ان میں سے کسی ایک کو بھی قبول نہیں کرتے؟‘‘[5] البتہ بعض محققین نے اس روایت کی صحت پر شبہ ظاہر کیا ہے۔[6]

واقعہ کربلا سے پہلے ہونے والی والی گفتگو کے وقت اور تعداد کے بارے میں مختلف روایات

واقعہ کربلا سے پہلے ہونے والی ملاقاتوں کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔[7] شیعہ مورخ مہدی پیشوائی کے مطابق شمر بن ذی الجوشن نے کربلا پہنچنے سے پہلے 9 محرم 61 ہجری کو یزید سے ایک ملاقات میں ان ملاقاتوں کی خبر دی تھی، یہاں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مذاکرات اس سے پہلے وقوع پذیر ہو چکے تھے۔[8] تاہم کتاب ترجمۃ الحسین ومقتلہ (تیسری صدی ہجری) میں مذکور ہے کہ امام حسینؑ نے یہ جملات کوفہ کے لشکر کے ساتھ آمنے سامنے ہونے کے بعد ارشاد فرمایا تھا۔[9]

ابومخنف نے ان ملاقاتوں کی تعداد تین یا چار بیان کی ہے، جو مختلف مقامات اور اوقات میں ہوئیں۔[10] اسی طرح شیعہ محقق محمد صادق نجمی کا خیال ہے کہ یہ ملاقاتیں چار سے چھ محرم کے درمیان ہوئی تھیں۔[11]

گفتگو کا متن

نقل خوارزمی کے مطابق امام حسینؑ اور عمر سعد کی گفتگو
امام حسینؑ نے فرمایا: "اے سعد کے بیٹے! کیا تو مجھ سے جنگ کرنا چاہتا ہے، حالانکہ تو مجھے جانتا ہے اور جانتا ہے کہ میرے باپ کون ہے؟ کیا تو اس خدا سے نہیں ڈرتا جس کی طرف تجھے لوٹ کر جانا ہے؟ کیا تو ان لوگوں (بنی امیہ) کا ساتھ چھوڑ کر میرے ساتھ نہیں آنا چاہتا؟ یہ عمل تجھے خدا کے زیادہ قریب کردے گا۔"عمر بن سعد نے جواب دیا: "مجھے اندیشہ ہے کہ اگر میں ایسا کروں تو کوفہ میں میرا گھر منہدم کردیا جائے گا۔ "امامؑ نے فرمایا: "میں اپنے خرچ پر تیرا گھر تعمیر کرادوں گا۔" عمر بن سعد نے کہا: "مجھے ڈر ہے کہ میرا باغ اور نخلستان (کھجور کے باغ) ضبط کرلیا جائے گا۔" امامؑ نے فرمایا: "میں حجاز میں تمہیں اس سے بہتر باغات عطا کروں گا جو تمہارے پاس کوفہ میں ہیں۔" عمر بن سعد نے کہا: "میرے اہل و عیال کوفہ میں ہیں، مجھے خوف ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا۔" امامؑ نے فرمایا: "میں ان کی سلامتی کی ضمانت دیتا ہوں۔" اس کے بعد عمر بن سعد خاموش ہوگیا اور کوئی جواب نہ دے سکا۔ تب امام حسینؑ اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا: "تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ ... خدا تمہیں معاف نہ کرے ... میرا گمان ہے کہ تم عراق کے گندم میں سے بہت کم کھا سکو گے۔" عمر بن سعد نے جواب دیا: "اگر گندم نہ ملے تو جَو ہے۔"[12]

امام حسینؑ اور عمر بن سعد کے درمیان ہونے والی گفتگو کے مندرجات کے بارے میں تاریخی مصادر میں مختلف روایات ملتی ہیں۔[13] تیسری صدی ہجری کے مورخ طبری کے مطابق دونوں فریق نے اپنے ساتھیوں سے الگ ہو کر گفتگو کی تھی اس لئے لشکر کے دیگر افراد ان باتوں کی تفصیلات سے نا واقف تھے اور محض قیاس آرائیاں کی ہیں۔[14]

اس سلسلے میں عقبہ بن سمعان، جن کا شمار امام حسینؑ کے مستقل ساتھیوں میں ہوتا ہے، امام حسینؑ کی طرف سے یزید کی بیعت کرنے کی پیش کش پر مبنی دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق امامؑ نے صرف یہ تجویز پیش کی تھی کہ انہیں اس علاقے سے نکل جانے دیا جائے تاکہ لوگوں کی سرنوشت اور انکا انجام واضح ہوجائے۔[15]

مہدی پیشوائی مختلف روایات کا جائزہ لینے کے بعد عقبہ بن سمعان کی روایت کو صحیح قرار دیتے ہیں۔[16] ان کے نزدیک امام حسینؑ کی اموی حکومت اور یزید کے خلاف ثابت شدہ روش اس بات کی تائید کرتی ہے کہ بیعت یا یزید کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے متعلق روایات درست نہیں ہیں۔ پیشوائی کے مطابق بعض گزارشیںحرّ بن یزید ریاحی کے لشکر ملاقات یا عمر بن سعد کے ساتھ گفتگو کے دوران بیعت کی پیش کش سے متعلق تاریخی روایات دراصل تاریخی تحریف اور یزید کی حکومت کو مشروعیت دینے کی کوشش ہیں۔[17] وہ مزید کہتے ہیں کہ امام حسینؑ کی جانب سے یزید کی بیعت کے انکار پر مبنی متعدد تاریخی شواہد اس قسم کی روایات کے بطلان کو ثابت کرتے ہیں۔[18]

شیعہ فقیہ محمد سروش محلاتی امام حسینؑ سے گفتگو کے بعد عمر بن سعد کی طرف سے یزید کو لکھے گئے خط کو اس گفتگو کو سمجھنے کی کنجی قرار دیتے ہیں۔[19] ان کے مطابق امام حسینؑ نے اس گفتگو میں یزید کی بیعت یا مذاکرات کے لئے ان سے ملاقات کی پیشکش کی تھی۔ سروش محلاتی کے مطابق یزید کی بیعت سے انکار پر مشتمل امامؑ کے سابقہ بیانات اس موقف سے متعارض نہیں ہے کیونکہ ان کے بقول ان دونوں بیانات کے زمینی اور معروضاتی حالات ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔[20] محلاتی ائمہ اہل بیتؑ کو مختلف حالات میں مختلف سیاسی حکمتِ عملی اختیار کرنے والے کارکشتہ سیاسی اور مذہبی رہنما مانتے ہیں۔[21]

تاہم اس نظریے کو متعدد محققین جیسے محمد حسین رجبی دوانی اور محمد علی مروجی طبسی مسترد کرتے ہیں۔[22] ان کے مطابق یزید کے نام عمر بن سعد کے خط میں جو تجاویز پیش کی گئیں، وہ حقیقت پر مبنی نہ تھیں بلکہ عمر سعد کی طرف سے جنگ کو ختم کرنے اور اپنے ذاتی مفادات حاصل کرنے کی ایک کوشش تھیں۔[23] مزید براں طبری کی روایت کے مطابق، شمر کے ذریعے یزید کا جواب موصول ہونے کے بعد عمر بن سعد نے خود اعتراف کیا کہ اس کے خط میں مذکور باتیں حقیقت پر مبنی نہیں تھیں۔[24]

اس گفتگو کے مقاصد کے بارے میں مختلف آراء

اس گفتگو کے اصل وقوع کو قبول کرنے والے محققین اس کے مقصد کے بارے میں مختلف آراء پیش کی ہیں:

  • نصیحت و خیرخواہی: اسلامی جہوریہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای امام حسینؑ اور عمر سعد کے درمیان ہونے والی گفتگو کو ’’مذاکرات‘‘ قرار دینے کو سطحی سوچ اور عوامی نوعیت کے نقطۂ نظر کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس بات کے قائل ہیں کہ یہ گفتگو درحقیقت عمر ابن سعد کی ہدیات کے لئے بطور نصیحت انجام پائی ہے۔[25] شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ مکارم شیرازی بھی اسی رائے کے حامی ہیں اور اس گفتگو کا بنیادی مقصد عمر بن سعد کو اس کی غلطی سے آگاہ کرنا قرار دیتے ہیں۔[26]
  • مذاکرات: محمد سروش محلاتی کے مطابق یہ گفتگو جنگ اور خونریزی سے بچنے کے لیے ایک سیاسی مذاکرات تھی۔ بعض تاریخی روایات کی روشنی میں وہ امام حسینؑ کی طرف سے یزید سے ملاقات کی پیشکش کو جنگ کے خاتمے کے لئے ایک طرح کی مذاکرات قرار دیتے ہیں۔[27] ایران کے سابق صدر حسن روحانی بھی اس گفتگو کو مدنظر رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ واقعہ کربلا ہمیں منطق اور اصول و ضوابط کے دائرے میں تعمیری تعامل اور مذاکرات کا درس دیتا ہے۔[28]
  • اتمامِ حجت: آیت اللہ مکارم شیرازی کے مطابق ان ملاقاتوں کا ایک اہم مقصد دشمن پر اتمامِ حجت کرنا تھا، تاکہ بعد میں کوئی شخص یہ عذر پیش نہ کر سکے کہ اسے حق و باطل کی حقیقت معلوم نہ تھی۔[29]

مقامِ گفتگوی امام حسینؑ و عمر بن سعد

امام حسینؑ کی عمر سعد کے ساتھ گفتگو سے منسوب مقام

کربلا میں ایک تاریخی زیارتگاہ موجود هے جو امام حسینؑ و عمر بن سعد کی گفتگو کے مقام سے منسوب ہے، یہ مقام باب السلامہ کے علاقے میں واقع بازار کے آخری حصے میں واقع ہے۔[30] یہ مقام حرمِ امام حسینؑ کے شمال میں تقریباً 240 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ روایت ہے کہ واقعہ کربلا سے قبل امام حسینؑ اور عمر بن سعد کی ملاقات اسی مقام پر ہوئی تھی۔ اس عمارت کی تعمیر 1113ھ میں ہوئی اور بعد میں 1352ھ، 1378ھ اور 1423ھ میں اس کی مرمت و توسیع کی گئی۔[31]

حوالہ جات

  1. ↑ أبومخنف، مقتل الحسین، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ج1، ص100۔
  2. ↑ «متن کامل تحلیل سروش محلاتی از ملاقات امام حسین(ع) با عمر سعد»، شفقنا نیوز ایجنسی۔
  3. ↑ سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ج2، ص152۔
  4. ↑ خوارزمی، مقتل الحسین، ج1، ص347۔
  5. ↑ ابن قتیبہ دینوری، الامامۃ والسیاسہ، ج2، ص11و12۔
  6. ↑ پیشوایی، مقتل جامع سیدالشہداء، ج1، ص709۔
  7. ↑ پیشوایی، مقتل جامع سیدالشہداء، ج1، ص709۔
  8. ↑ پیشوایی، مقتل جامع سیدالشہداء، ج1، ص709۔
  9. ↑ ابن سعد بغدادی، ترجمۃ الحسین ومقتلہ، ص69۔
  10. ↑ أبومخنف، مقتل الحسین، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ج1، ص100۔
  11. ↑ «چه سخنانی بین امام حسین و عمر سعد در خیمه میان دو لشگر رد و بدل شد؟»، آنلائن نیوز ایجنسی۔
  12. ↑ خوارزمی، مقتل الحسین، ج1، ص347۔
  13. ↑ پیشوایی، مقتل جامع سیدالشہداء، ج1، ص710و711۔
  14. ↑ طبری، تاریخ الطبری، ج5، ص413۔
  15. ↑ طبری، تاریخ الرسل والملوک، ج5، ص415۔
  16. ↑ پیشوائی، مقتل جامع سیدالشہداء، ج1، ص710-711۔
  17. ↑ پیشوائی، مقتل جامع سیدالشہداء، ج1، ص710-711۔
  18. ↑ پیشوائی، مقتل جامع سیدالشہداء، ج1، ص709۔
  19. ↑ «متن کامل تحلیل سروش محلاتی از ملاقات امام حسین(ع) با عمر سعد»، شفقنا نیوز ایجنسی۔
  20. ↑ «متن کامل تحلیل سروش محلاتی از ملاقات امام حسین(ع) با عمر سعد»، شفقنا نیوز ایجنسی۔
  21. ↑ «متن کامل تحلیل سروش محلاتی از ملاقات امام حسین(ع) با عمر سعد»، شفقنا نیوز ایجنسی؛ «چه سخنانی بین امام حسین و عمر سعد در خیمه میان دو لشگر رد و بدل شد؟»، آنلاین خبر نیوز ایجنسی۔
  22. ↑ رجبی دوانی، «مذاکره امام حسین(ع) و «عمر سعد» خطرناک‌ترین تحریف واقعه کربلاست»، خبرگزاری تسنیم؛ «گفت‌وگوی امام حسین(ع) با عمرسعد؛ موعظه یا مذاکره؟/ نقدی بر سخنان سروش محلاتی»، بین الاقوامی قرآنی نیوز ایجنسی ایکنا۔
  23. ↑ تسنیم نیوز ایجنسی، مظاهری، نقدی بر ادعای مذاکره امام حسین با عمر سعد، راسخون ویب سائٹ۔
  24. ↑ طبری، تاریخ الرسل والملوک، ج5، ص415۔
  25. ↑ خامنه‌ای، «بیانات در دیدار فرماندهان و کارکنان نیروی دریایی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی و خانواده‌های آنان»، دفتر حفظ و نشر آثار آیت‌الله خامنه‌ای کی آفیشل ویب سائٹ۔
  26. ↑ مکارم شیرازی، عاشورا ريشه‌ها، انگيزه‌ها، رويدادها، پيامدها، ج۱، ص۳۸۸.
  27. ↑ «متن کامل تحلیل سروش محلاتی از ملاقات امام حسین(ع) با عمر سعد»،شفقنا نیوز ایجنسی۔
  28. ↑ «هشدار رییس جمهور نسبت به اجرای ناصحیح امر به معروف و نهی از منکر»، ایسنا نیوز ایجنسی۔
  29. ↑ مکارم شیرازی، عاشورا ريشه‌ها، انگيزه‌ها، رويدادها، پيامدها، ج۱، ص۳۸۸۔
  30. ↑ فقیه بحرالعلوم و خامه‌یار، زیارتگاه‌های عراق (معرفی زیارتگاه های مشهور در کشور عراق)، ج۱، ص۲۶۴.
  31. ↑ فقیہ بحرالعلوم و خامہ یار، زيارتگاہہاى عراق (معرفى زيارتگاہ ہاى مشہور در كشور عراق)، ج1، ص246۔

مآخذ

  • «متن کامل تحلیل سروش محلاتی از ملاقات امام حسین(ع) با عمر سعد» (امام حسینؑ اور عمر بن سعد کی ملاقات کے بارے میں محمد سروش محلاتی کا مکمل تجزیہ)، شفقنا نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 17 اکتوبر 2016ء، تاریخ اخذ: 1 جون 2026ء۔
  • «چه سخنانی بین امام حسین و عمر سعد در خیمه میان دو لشگر رد و بدل شد؟» (دو لشکر کے درمیان موجود خیمے میں امام حسین اور عمر سعد کے درمیان کیا گتفگو ہوئی؟) آنلائن نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 18 اکتوبر 2015ء، تاریخ اخذ: 1 جون 2026ء۔
  • أبومخنف الازدی، لوط بن یحیی، مقتل الحسین، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، بے تا۔
  • ابن سعد بغدادی، محمد بن سعد، ترجمہ الامام الحسين ومقتلہ عليہ السلام، قم، مؤسسۃ آل البيت عليہم السلام لإحياء التراث، بے تا۔
  • ابن قتیبۃ الدینوری، ابومحمد عبداللہ بن مسلم، الإمامۃ والسياسۃ المعروف بتاريخ الخلفاء، بیروت، دارالاضواء، 1410ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری: تاریخ الرسل والملوک، مصر، دار المعارف، 1387ھ، 1967ء.
  • پیشوایی، مہدی، مقتل جامع سیدالشہداء، قم، مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، 1397ہجری شمسی۔
  • خامنہ ای، سیدعلی،«بیانات در دیدار فرماندهان و کارکنان نیروی دریایی سپاه پاسداران انقلاب اسلامی و خانواده‌های آنان» (سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی بحریہ کے کمانڈروں، اہلکاروں اور ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے موقع پر خطاب) آیت اللہ خامنہ‌ای کے آثار کے تحفظ و اشاعت کے دفتر کی ویب گاہ، تاریخ درج مطلب: 7 اکتوبر 2015ء، تاریخ اخذ: 1 جون 2026ء۔
  • خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین، قم، انوار الہدی، 1423ھ۔
  • «مذاکره امام حسین(ع) و عمر سعد» (امام حسینؑ اور عمر سعد کے درمیان گفتگو)، تسنیم نیوز ایجنسی، 15 اکتوبر 2016ء، تاریخ اخذ: 1 جون 2026ء۔
  • سبط ابن جوزی، یوسف بن قزاوغلی، تذكرۃ الخواص من الأمۃ بذكر خصائص الأئمہ، قم، مرکز چاپ و نشر مرکز جہانی اہل بیت علیہ السلام، 1426ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاريخ الطبری تاريخ الرسل والملوک وصلہ تاريخ الطبری، بے جا، بے تا۔
  • فقیہ بحرالعلوم، محمدمہدی و خامہ یار، احمد، زیارتگاہ ہای عراق (عراق میں موجود مشہور زیارتگاہوں کا تعارف)، تہران، سازمان حج و زیارت، حوزہ نمایندگی ولی فقیہ در امور حج و زیارات، بے تا۔
  • «گفت‌وگوی امام حسین(ع) با عمرسعد؛ موعظه یا مذاکره؟/ نقدی بر سخنان سروش محلاتی» (امام حسینؑ کی عمرسعد سے گفتگو؛ موعظہ یا مذاکرہ؟/ سروش محلاتی کے کلام پر تنقید)، ایکنا بین الاقوامی قرآنی نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 10 اکتوبر 2019ء، تاریخ اخذ: 1 جون 2026ء۔
  • مظاہری، «نقدی بر ادعای مذاکره امام حسین با عمر سعد» (امام حسین کا عمر سعد سے مذاکرات کا تنقیدی جائزہ)راسخون ویب سائٹ، تاریخ درج مطلب: 3 اکتوبر 2017ء، تاریخ اخذ: 1 جون 2026ء۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، عاشورا ريشہ ہا، انگيزہ ہا، رويدادہا، پيامدہا، قم، بے نا، 1387شمسی۔
  • «هشدار رییس جمهور نسبت به اجرای ناصحیح امر به معروف و نهی از منکر» (امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے غلط نفاذ کے بارے میں صدرِ جمہوریہ کا انتباہ) ایسنا نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب: 22 اکتوبر 2014ء، تاریخ اخذ: 1 جون 2026ء۔

«راهبردهای امام حسین(ع) در نهضت کربلا» (واقعہ کربلا میں امام حسینؑ کی حکمت عملی) تسنیم نیوز ایجنسی، تاریخ درج مطلب:‌ 11 ستمبر سنہ 2019ء، تاریخ اخذ: 1 جون 2026ء۔