"فقہ امامیہ" کے نسخوں کے درمیان فرق
Waziri (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م ←کتاب |
Waziri (تبادلۂ خیال | شراکتیں) م ←کتاب |
||
| سطر 15: | سطر 15: | ||
=== کتاب=== | === کتاب=== | ||
{{اصلی|قرآن}} | {{اصلی|قرآن}} | ||
[[فقہ]] اور [[اصول]] کی اصطلاح میں کتاب سے مراد، قرآن کریم ہے جو احکام کی تشریع اور فقہی منابع کا پہلا اور سب سے اہم منبع ہے۔ قرآن آسمانی قوانین کا مجموعہ اور [[حدیث|احادیث]] کے صحیح اور غلط ہونے کا معیار تھا اور رہے گا۔ اسی وجہ سے [[پیغمبر اکرم]] پر نازل ہونے کے دور سے اب تک اور ہمیشہ کے لئے "قرآن" احکام کا پہلا سرچشمہ اور مآخذ کے عنوان سے اسلامی فقہاء اور مجتہدوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور رہے گا۔ [[اجتہاد]] اور فقاہت کی تاریخ خود اس مدعا پر گوہی دیتی ہے۔ <ref>جناتی، محمدابراہیم، منابع اجتہاد از دیدگاہ مذاہب اسلامی، ص۶؛ بہ نقل خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۶۴۱</ref> فقہ میں قرآن کا اہم کردار [[آیات الاحکام]] سے مربوط ہے۔ مشہور ہے کہ 500 آیتیں قرآن کریم میں فقہی مباحث سے متعلق ہیں جنہیں آیات الاحکام کہا جاتا ہے۔<ref>جناتی، محمدابراہیم، منابع اجتہاد از دیدگاہ مذاہب اسلامی، ص۱۳، ۱۴؛ بہ نقل خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۶۴۱</ref> | [[فقہ]] اور [[اصول]] کی اصطلاح میں کتاب سے مراد، قرآن کریم ہے جو احکام کی تشریع اور فقہی منابع کا پہلا اور سب سے اہم منبع ہے۔ قرآن آسمانی قوانین کا مجموعہ اور [[حدیث|احادیث]] کے صحیح اور غلط ہونے کا معیار تھا اور رہے گا۔ اسی وجہ سے [[پیغمبر اکرم]] پر نازل ہونے کے دور سے اب تک اور ہمیشہ کے لئے "قرآن" احکام کا پہلا سرچشمہ اور مآخذ کے عنوان سے اسلامی فقہاء اور مجتہدوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور رہے گا۔ [[اجتہاد]] اور فقاہت کی تاریخ خود اس مدعا پر گوہی دیتی ہے۔ <ref>جناتی، محمدابراہیم، منابع اجتہاد از دیدگاہ مذاہب اسلامی، ص۶؛ بہ نقل خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۶۴۱</ref> فقہ میں قرآن کا اہم کردار [[آیات الاحکام]] سے مربوط ہے۔ مشہور ہے کہ 500 آیتیں قرآن کریم میں فقہی مباحث سے متعلق ہیں جنہیں آیات الاحکام کہا جاتا ہے۔<ref>جناتی، محمدابراہیم، منابع اجتہاد از دیدگاہ مذاہب اسلامی، ص۱۳، ۱۴؛ بہ نقل خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۶۴۱</ref> | ||
نسخہ بمطابق 23:23، 11 جنوری 2017ء
| یہ تحریر توسیع یا بہتری کے مراحل سے گزر رہی ہے۔تکمیل کے بعد آپ بھی اس میں ہاتھ بٹا سکتے ہیں۔ اگر اس صفحے میں پچھلے کئی دنوں سے ترمیم نہیں کی گئی تو یہ سانچہ ہٹا دیں۔اس میں آخری ترمیم Waziri (حصہ · شراکت) نے 8 سال قبل کی۔ |
| بعض عملی اور فقہی احکام |
|---|
فقہ اسلامی اصطلاح میں اس علم کو کہا جاتا ہے جس میں شریعت کے عملی احکام سے بحث کی جاتی ہے۔ فقہی احکام کو ادلہ اربعہ یعنی قرآن ، سنت، اجماع اور عقل کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ اہل سنت اور اہل تشیع دونوں مکاتب فکر میں صدر اسلام سے اب تک علم فقہ کئی ادوار سے گزری ہے۔ ان دو نوں مذاہب کے درمیان مشترکہ دور کو دورہ تشریع کہا جاتا ہے جو پیغمبر اکرم(ص) کی حیات طیبہ کا دور ہے۔
مفہوم شناسی
فقہ
فقہ کے معنی فہم، علم اور عقلمندی کے ہیں۔[1] اصطلاح میں بھی فقہ سے مراد اسلامی منابع سے ادلہ اربعہ کے ذریعے کسی چیز سے متعلق حکم شرعی یا مکلف کی عملی ذمہ داری کے بارے میں آگاہی حاصل کرنے کے ہے۔[2]
حکم شرعی
حکم، فقہ کی اصطلاح میں، اس شرعی خطاب یا فرمان کو کہا جاتا ہے جو بلواسطہ یا بلاواسطہ مکلف کے افعال سے وابستہ ہے۔[3] شرعی احکام کی مختلف درجہ بندی اور اقسام ہیں جن میں "حکم وضعی" اور "حکم تکلیفی" اس کی مشہور قسمیں ہیں۔ "احکام اولی" ، "احکام ثانوی" ،"احکام حکومتی" اور "احکام ولائی" اس کی دیگر قسمیں ہیں۔
فقہی منابع اور ادلہ احکام
جن منابع کے ذریعے سے شرعی احکام تک پہنچا جاسکتا ہے ان کو فقہی منابع اور احکام کے ادلہ کہا جاتا ہے اور یہ ادلے شیعوں کے ہاں چار یعنی قرآن، سنت، عقل اور اجماع ہیں ۔ لیکن اخباری صرف اور صرف کتاب اور سنت کو حجت اور معتبر جانتے ہیں اور اجماع اور عقل کو نہیں مانتے۔[4]
کتاب
فقہ اور اصول کی اصطلاح میں کتاب سے مراد، قرآن کریم ہے جو احکام کی تشریع اور فقہی منابع کا پہلا اور سب سے اہم منبع ہے۔ قرآن آسمانی قوانین کا مجموعہ اور احادیث کے صحیح اور غلط ہونے کا معیار تھا اور رہے گا۔ اسی وجہ سے پیغمبر اکرم پر نازل ہونے کے دور سے اب تک اور ہمیشہ کے لئے "قرآن" احکام کا پہلا سرچشمہ اور مآخذ کے عنوان سے اسلامی فقہاء اور مجتہدوں کی توجہ کا مرکز رہا ہے اور رہے گا۔ اجتہاد اور فقاہت کی تاریخ خود اس مدعا پر گوہی دیتی ہے۔ [5] فقہ میں قرآن کا اہم کردار آیات الاحکام سے مربوط ہے۔ مشہور ہے کہ 500 آیتیں قرآن کریم میں فقہی مباحث سے متعلق ہیں جنہیں آیات الاحکام کہا جاتا ہے۔[6]
البتہ شرعی احکام کو قرآن مجید سے حاصل کرنے کے لئے زبان و ادب سے متعلق علوم (جیسے عربی زبان، علم نحو، علم معانی اور بیان)، قرآنیات (جیسے ناسخ و منسوخ ، محکم و متشابہ)، اسباب نزول، مبادی فقہ اور اصول فقہ جیسے علوم پر عبور حاصل ہونا ضروری ہے۔
سنت
حوالہ جات
- ↑ فراہیدی، ج۳، ص۳۷۰
- ↑ مشکینی، ص۱۸۰
- ↑ جمعی از پژوہشگران، ج۳، ص۳۵۰
- ↑ جمعی از پژوہشگران، ج۱، ص۳۲۵
- ↑ جناتی، محمدابراہیم، منابع اجتہاد از دیدگاہ مذاہب اسلامی، ص۶؛ بہ نقل خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۶۴۱
- ↑ جناتی، محمدابراہیم، منابع اجتہاد از دیدگاہ مذاہب اسلامی، ص۱۳، ۱۴؛ بہ نقل خرمشاہی، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، ج۲، ص۱۶۴۱
مآخذ
- خرمشاہی، بہاءالدین، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، تہران، دوستان-ناہید، ۱۳۷۷ش.
- ربانی، محمد حسن، فقہ و فقہای امامیہ در گذر زمان، تہران، چاپ ونشر بین الملل، ۱۳۸۶ش.
- کریمی نیا، محمد مہدی، آشنایی با مہمترین مکاتب و دورہہای فقہی شیعہ، مجلہ معرفت، شمارہ ۹۳، ص۴۳-۵۹.
- مشکینی، علی، اصطلاحات فقہی و اصولی، قم، الہادی، ۱۴۱۶ق، چاپ ششم.
- مظفر، محمد رضا، اصول فقہ، قم، اسماعیلیان، ۱۳۷۵ش، چاپ پنجم.
- مظفر، محمدرضا، اصول فقہ، قم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، چ۴، ۱۳۷۰ش.
- شہابی، محمود، ادوار فقہ، تہران، وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، بیتا.
- جناتی، محمد ابراہیم، ادوار فقہ و کیفیت بیان آن، تہران، موسسہ کیہان، ۱۳۷۴ش.
- ابوزہرہ، محمد، تاریخ المذاہب الفقہیہ،دار الفکر العربی، ۱۹۷۱م.