احمد بن حسین بن عبیداللّه غضائری

ویکی شیعہ سے
احمد بن حسین غضائری
کوائف
مکمل ناماحمد بن‌ حسين‌ بن‌ عبيدالله‌ بن‌ ابراہيم‌ بن‌ عبدالله‌ غضائری
لقب/کنیتابن غضائری
آبائی شہرواسط
تاریخ وفات450 ھ سے پہلے
نامور اقرباءحسین بن عبید اللہ غضائری (والد)
علمی معلومات
اساتذہحسین بن عبیدالله بن غضائری حسن بن محمد بن بندار قمی ابو محمد طلحہ بن علی بن عبدالله بن علالہ ابو الحسین نصیبی۔
شاگردنجاشی و شیخ طوسی
تالیفاترجال بن غضائری فی الجرح فی الموثقین فی ذکر المصنفات فی ذکرالاصول‌ کتاب التاریخ‌۔
خدمات


احمد بن حسین بن عبیداللّه غضائری واسطی بغدادی، ابن غضائری کے نام سے مشہور چوتھی و پانچویں صدی ہجری کے شیعہ امامیہ محدث و رجالی اور نجاشی و شیخ طوسی کے معاصر ہیں۔ الضعفاء نامی کتاب کے مصنف ہیں جو رجال بن غضائری کے نام سے مشہور ہے۔

زندگی نامہ

ابن غضائری کی تاریخ ولادت معلوم نہیں ہے۔ لفظ غضائری کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ یہ کلمہ غضائر سے منسوب ہے (بعض اسے غضیرہ کی جمع مانتے ہیں) اسی سے غضائریان منسوب ہیں۔[1] ان کے والد حسین بن عبید الله غضائری اپنے زمانے کے فقہا اور ماہرین علم رجال میں شمار ہوتے تھے نیز بہت سی تالیفات کے مالک تھے۔ تراجم اور رجالی کتب کے مطابق احمد (ابن غضائری) نجاشی کے استاد تھے۔[2] ان کی کنیت ابو الحسن اور ابو الحسین دو طرح سے ذکر ہوئی ہے۔

وفات

نجاشی کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابن غضائری کی وفات ان سے پہلے ہوئی ہے۔ نجاشی کی وفات سنہ 450 ہجری میں واقع ہوئی ہے۔ شیخ طوسی نے الفہرست میں ذکر کیا ہے کہ ابن غضائری کی وفات 40 سال کے سن سے پہلے جوانی کے عالم میں ہوئی ہے۔

اقوال علما

  • مدرس تبریزی: ابن غضائری ان مشائخ امامیہ کے ثقات اور اکابرین میں سے ہیں جو توثیق اور تعدیل کے محتاج نہیں ہیں۔[3]
  • شیخ حر عاملی: ابن غضائری کو شیخ طوسی کے معاصرین اور علامہ حلی کے موثق افراد میں شمار کرتے ہیں۔[4]
  • سید محمد باقر خوانساری: بہت زیادہ اوصاف و کمالات کے مالک جیسی تعبیر سے ان کی مدح کرتے ہیں۔[5]
  • محمد تقی شوشتری: ابن غضائری کو ناقدینِ رجال اور روایات کا محقق سمجھتے ہیں جو علم رجال میں وسیع معلومات کا احاطہ رکھنے والی شخصیت ہیں۔[6]
  • یاقوت حموی: یہ بزرگ اہل سنت عالم انہیں ادبا اور فضلا میں شمار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: ان کی تحریر اس قدر خوبصورت تھی کہ وہ ابن مقلہ سے رقابت کرتی تھی۔[7]

اساتید اور شاگرد

اساتید :

  • ابو محمد طلحہ بن علی بن عبداللہ بن علالہ
  • ابو الحسین النصیبی
  • حسین بن عبیدالله بن غضائری (والد)
  • حسن بن محمد بن بندار قمی
  • احمد بن عبدالواحد[8]

شاگرد

نجاشی ابن غضائری کے شاگردوں میں سے تھے۔[9]

الضعفاء معروف کتاب الرجال

آثار اور تألیفات

ان کی معروف‌ ترین کتاب الرجال ہے جو الضعفاء و کتاب فی الجرح‌ کے ناموں سے جانی جاتی ہے لیکن رجال بن غضائری‌ کے نام سے مشہور ہے۔ اگرچہ شیعہ علما اس کتاب کے ابن غضائری یا ان کے والد کی طرف منسوب ہونے میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔

شیخ طوسی نے ان کی طرف دو کتابوں کی نسبت دی ہے۔[10] سید محسن امین عاملی فی الجرح، فی المؤثقین، فی ذکر المصنفات، فی ذکرالاصول‌ اور کتاب التاریخ‌ نامی کتابوں کو ابن غضائری کی تالیفات میں شمار کرتے ہیں۔[11] سید حسن صدر نے پانچ کتابوں کو ان کی تالیفات کہا ہے۔[12]

حوالہ جات

  1. امین، اعیان الشیعہ، ج۶، ص۸۴.
  2. رجال نجاشی، ص۲۶۹؛ طوسی، الفہرست، ص۳۲.
  3. خوانساری، روضات الجنات، ج۸، ص۱۳۳.
  4. حر عاملی، امل الآمل، ج۲، ص۱۲.
  5. خوانساری، روضات الجنات، ج۱، ص۴۷.
  6. شوشتری، الاخبار الداخلیہ، ص۹۶.
  7. حموی، معجم الادباء، ج۲، ص۲۵۳.
  8. ابن غضائری، رجال ابن غضائری، ص۱۵.
  9. ابن غضائری، رجال ابن غضائری، ص۱۵.
  10. طوسی، الفہرست، ص۳۲.
  11. امین، اعیان الشیعہ، ج۲، ص۵۶۵.
  12. صدر، تأسیس الشیعہ، ص۲۶۹.

منابع

  • ابن غضائری، احمد بن حسین، رجال ابن غضائری، قم، دار الحدیث، ۱۴۲۲ هـ ق.
  • امین، سید محسن، اعیان الشیعہ، بیروت، دار التعارف.
  • شوشتری، محمد تقی، الاخبار الداخلیہ، تہران، ۱۳۹۰ هـ ق.
  • حموی، یاقوت بن عبداللہ، معجم الادباء، بیروت، دار الغرب الاسلامی، بی‌تا.
  • صدر، سید حسن، تاسیس الشیعہ لعلوم الاسلام، تہران، اعلمی، ۱۳۷۵ ش.
  • عاملی، شیخ حر، امل الآمل، بغداد، مکتبہ الاندلس.
  • طوسی، محمد بن حسن، الفہرست، نشر الفقاہہ، ۱۴۱۷ هـ ق.
  • نجاشی، احمد بن علی، اسماء مصنفی الشیعہ، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۱۶ هـ ق.
  • مدرس تبریزی، محمد علی، ریحانۃ الادب فی تراجم المعروفین بالکنیہ او اللقب، تہران، خیام، ۱۳۶۹ش.