سید حیدر آملی

ویکی شیعہ سے
سید حیدر آملی
آٹھویں صدی ہجری کے شیعہ عارف اور مفسر
سید حیدر آملی کی آرامگاہ
سید حیدر آملی کی آرامگاہ
کوائف
مکمل نامسید حیدر بن علی بن حیدر علوی حسینی
لقب/کنیتبہاءالدین • سید حیدر آملی
نسبامام سجادؑ
تاریخ ولادتتقریبا 720ھ
آبائی شہرآمل ایران
تاریخ وفاتسنہ 787ھ کے بعد
مدفنآمل ایران
علمی معلومات
مادر علمیآمل • خراساناسترآباداصفہان
اساتذہعبد الرحمن بن احمد مقدسی • نصیرالدین کاشی حلی • شیخ نورالدین طہرانی •
اجازہ روایت ازسید حسن بن حمزہ ہاشمی • فخرالمحققین
تالیفاتجامع الاسرار و منبع الانوارتفسیر المحیط الاعظم • الکشکول فیما جری علی آل الرسول و...
خدمات
سیاسیطبرستان کے حاکم کا وزیر


سید حیدر آملی (787ھ تک زندہ تھے) آٹھویں صدی ہجری کے شیعہ عارف اور جامع الاسرار، تفسیر المحیط الاعظم و شرح فصوص الحکم ابن عربی با عنوان نص النصوص۔ سید حیدر آملی کے مخصوص نظریات میں سے ایک توحید وجودی ہے۔ وہ اس توحید کو اولیا کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں اور وجود کو صرف وجود مطلق میں دیکھتے ہیں۔ آملی صرف شیعہ صوفی کو برحق سمجھتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ شیعہ اور صوفی ایک حقیقت ہیں جو شریعتِ محمدی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

سید حیدر آملی کچھ عرصہ طبرستان کے حاکم کے وزیر تھے؛ جیسا کہ خود ان کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ بعد وزارت اور تمام دنیوی مفادات سے گوشہ نشینی اختیار کیا اور شیعہ مقدس مقامات، بیت المقدس اور پھر مکہ کی زیارت پر روانہ ہوا۔

اس کے بعد عراق گیا اور وہیں سکونت اختیار کی اور نجف میں عبد الرحمن بن احمد مقدسی نامی ایک غیر معروف عارف کے پاس عرفانی کتابیں پڑھیں نیز نصیر الدین کاشانی حلی اور علامہ حلی کے بیٹے فخر المحققین کے ہاں زنوئے تلمذ تہہ کیا۔

سوانح حیات

سید حیدر بن علی بن حیدر علوی حسینی جو سید حیدر آملی سے مشہور تھے اور ان کا لقب بہاؤ الدین تھا۔[1] ان کے سوانح حیات کے بارے میں معتبر مآخذ ان کی اپنی لکھی ہوئی دو تحریریں ہیں جنہیں انھوں نے اپنی کتابوں میں درج کیا ہے:[2] پہلی تفسیر المحیط الاعظم میں[3] اور دوسری مقدمات نصّ النُّصوص میں درج ہیں۔[4] کتاب تفسیر المحیط الاعظم میں اس نے جو سلسلہ نسب بیان کیا ہے اس کے مطابق ان کا سلسلہ نَسَب اٹھارہ واسطوں کے ذریعے امام سجادؑ تک پہنچتا ہے۔[5]

سید حیدر آملی ایرن کے شہر آمُل میں پیدا ہوئے اور ان کی ولادت کا سال تقریباً 720 ہجری تھا۔ کیونکہ وہ خود کہتے ہیں کہ تیس سال کی عمر میں آمُل سے کعبہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے تھے[6] اور مکہ جانے سے پہلے پورا ایک سال عراق میں رہے[7]اور 751 ہجری میں حج بجا لایا۔[8]

تعلیمی سفر

سید حیدر نے تقریباً دس سال کی عمر میں آمل میں تعلیم شروع کی۔ کچھ عرصہ بعد اعلی تعلیم کی غرض سے خراسان، استرآباد اور اصفہان گئے۔ ان کے کہنے کے مطابق یہ مدت بیس سال تک جاری رہی اور اس عرصے میں وہ علوم ظاہری، نقلی اور عقلی علوم میں مشغول رہے۔[9]

وزارت

سید حیدر کی آمل واپسی کے بعد، طبرستان کے حکمران، فخر الدولہ حسن، شاہ کخسرو بن یزدگرد کے بیٹے نے سید حیدر کا احترام کیا اور انہیں اپنے قریبی اور معتمدوں میں رکھا، اور آخر کار سید حیدر کو اپنا وزیر بنایا۔[10]

ہنری کُربن کے مطابق اس دور میں سید حیدر کو دنیاوی زندگی کی تمام سہولیات فراہم تھیں؛ لیکن اس خوشحال زندگی کے عروج پر، اسے اس کی تلخی اور بےقدری کا احساس ہوا۔ جیسا کہ انہوں نے خود فرمایا:[11]

یہ اس وقت تک تھا جب تک میرے اندر حق کا دعویٰ غالب نہ ہوا تھا؛ پھر خدا نے مجھ پر اس حالت کی خرابی ظاہر کی جس میں میں تھا، یعنی غفلت، جہالت اور بھولپن اور راہ حق سے بھٹک جانا، نیز میری سرکشی اور گمراہی مجھ پر ظاہر ہوئی۔ چنانچہ میں نے خفیہ طور پر خدا سے سرگوشی کی اور اللہ سے درخواست کی کہ وہ مجھے ان سب سے آزاد کر دے۔ چنانچہ میرے اندر ترک دنیا اور اللہ کی طرف توجہ اور توحید کا شوق پیدا ہوا۔ اور یہ بھی مجھے معلوم ہوا کہ جب تک میں اپنے وطن میں بادشاہ کے دربار میں اور اپنے دوستوں اور بھائیوں کی صحبت میں رہوں یہ ان سب کا حصول ناممکن ہے۔[12]

مکہ اور زیارات کا سفر

ہنری کربن نے لکھا ہے کہ آمل میں اپنا عہدہ چھوڑنے کے بعد، سید حیدر نے صرف ایک استعمال شدہ قمیض رکھی اور شیعہ مقدس مقامات اور بیت المقدس اور پھر مکہ کی زیارت کے لیے روانہ ہوئے۔[13]

‘‘... مکہ پہنچنے تک میری حالت یہ تھی۔ میں نے سنہ 751ھ میں فریضہ حج اور مناسک و غیر مناسک ادا کیے اور مجاورت کا قصد کیا۔ پھر مدینہ کی مجاورت کا شوق آیا؛ کیونکہ میں نے رسول اللہؐ اور آپ کی اولاد اور آپ کے اصحاب کے مدفن کی زیارت نہیں کی تھی۔ چنانچہ میں مدینہ چلا گیا، رسول اللہؐ کی زیارت کی اور مدینہ میں رہنے کا ارادہ کیا؛ تاہم کچھ رکاوٹیں تھیں جن میں سب سے بڑی رکاوٹ جسمانی بیماری تھی۔ اس وجہ سے مجھے عراق اور اپنے مانوس مقام یعنی مقدس اور عظیم شہادتگاہ (نجف) واپس جانا پڑا۔
چنانچہ میں سلامتی کے ساتھ واپس آیا اور وہیں سکونت اختیار کر لی اور ریاضت، خلوت، اطاعت اور ایسی عبادت میں مشغول ہوگیا کہ اس سے زیادہ ممکن نہیں تھا۔‘‘

ہنری کربن، سید حیدر آملی؛ شرح احوال، آثار و آراء جہان شناسی، ص25-26؛ نقل از نص النصوص، ص535-536

عراق جاتے ہوئے، سید حیدر آملی اصفہان میں رکے، عرفا سے ملاقات کی، اور نورالدین طہرانی (ان کے مطابق ایک بزرگ عارف اور زاہد اور خواص کے لئے قابل قبول تھے) کے ساتھ اخوت اور فیاضی کا عہد باندھا اور ان کے ہاتھو تصوف کی چادر اوڑھ لی اور تقریبا ایک ماہ تک ان سے تعلیم اور قربت حاصل کی۔[14]

سید حیدر 751ھ کو مکہ گئے اور حج کیا۔ پھر مدینہ تشریف لے گئے اور وہاں قیام کا ارادہ کیا؛ لیکن بیماری کی وجہ سے انہیں نجف واپس آنا پڑا۔[15]

عراق میں سکونت

سید حیدر آملی 751 ہجری سے اپنی زندگی کے آخر تک نجف، حِلہ اور بغداد میں رہے۔[16] نجف میں انہوں نے عرفانی کتابیں جیسے ہروی کی منازل السائرین اور ابن عربی کی فصوص کو ان شروحات: شرح قیصری اور شرح تلمسانی کو نامور عارف عبد الرحمن بن احمد مقدسی کے پاس سنہ 753ھ تک پڑھیں۔[17] اسی طرح عراق میں علامہ حلی کے بیٹے محمد بن حسن حلی (فخر المحققین)، نصیر الدین کاشانی حلی اور دیگر فقہا اور امامیہ علما کی صحبت میں رہے اور فخر الدین اور حسن بن حمزہ ہاشمی سے اجازہ روایت حاصل کی۔[18] فخر المحققین سے انہوں نے سنہ 761ھ میں روایت کی اجازت حاصل کی۔[19] اور ان کی درخواست پر آپ نے رسالۀ رافعۃ الخلاف (خلفاء ثلاثہ کے مقابلے میں امام علیؑ کے قول و فعل کی توجیہ) لکھی اور فخر المحققین سے کچھ علمی خط و کتابت بھی کی ہے۔[20]

سید حیدر آملی خود کہتے ہیں کہ نجف میں غیبی فیوضات سے مستفید ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں وہ نص النصوص کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

جس طرح مکہ کی مجاورت ایک ہی رات میں شیخ بزرگ (محی الدین ابن عربی) کے دل میں فتوحات مکیہ کی تعلیمات کے دریچے کھلنے کا باعث بنی اور مدینہ کی مجاورت فتوحات مدنیہ کا باعث بنی اسی طرح ان جیسے بہت سارے لوگوں کے دلوں میں یہ معارف آگئے اسی طرح ہمارے مولا اور آقا امیر المومنین علی بن ابی طالبؑ کا روضہ مبارک بھی میرے دل میں اجمالی طور پر اسرار غیبی آشکار ہونے کا باعث بنا اور بعد میں پھر تفصیل سے حاصل ہوئے جن میں قرآن کریم اور بعض دیگر کتابوں کی تاویل شامل ہیں۔[21]

وفات

ہنری کربن کے مطابق، سید حیدر آملی کی وفات کی تاریخ کا درست تعین نہیں کیا جا سکتا؛ لیکن یہ نقل ہوا ہے کہ اس نے اپنی آخری کتابوں میں سے ایک "رسالہ العلوم العلیہ" کو سنہ 787ھ میں لکھی ہے[22] جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس سال تک زندہ تھے۔

اساتذہ

سید حیدر آملی کے اساتذہ میں جو مشہور ہیں وہ درج ذیل ہیں:

  1. فخرالمحققین جو علامہ حلی کے بیٹے ہیں: انہوں نے «جوابات السید حیدر بن علی بن حیدر العلوی الحسینی الآملی» نامی کتاب سید حیدر آملی اور سید حیدر کے سوالات کے جواب میں سنہ 759 ہجری میں لکھی۔ سید حیدر نے ان سے روایت کرنے کی اجازت حاصل کی۔[23]
  2. نصیر الدین کاشی حلی (متوفی 755 ہجری): آقا بزرگ تہرانی نے طبقاتُ اَعلامِ الشّیعہ میں سید حیدر کو ان کے شاگردوں میں شمار کیا ہے۔[24]
  3. شیخ نور الدین طہرانی (تیرانی): سید حیدر نے اصفہان میں مختصر عرصہ ان سے استفادہ کیا اور ان سے تحریری اجازت لی۔[25] رضا استادی کہتے ہیں کہ سید حیدر کے اس استاد کے سوانح حیات موجود نہیں ہیں۔ اور استادی کہتے ہیں کہ سید حیدر نے شیخ نور الدین طہرانی سے لئے ہوئے اجازہ روایت گم ہونے کا تذکرہ کیا ہے اور اجازہ کے مضمون کو نقل کیا ہے۔[26]
  4. شیخ عبد الرحمن قدسی (یا مقدسی): سید حیدر آملی نے نجف میں ابن عربی کی فصوص الحکم، شرح فصوص قیصری اور منازل السائرین جیسی کتابیں ان کے پاس پڑھیں۔[27] قدسی نے سید حیدر کو اپنی اجازت میں لکھا ہے: "اس شاگرد نے مجھ سے جتنا استفادہ کیا ہے میں نے اس کہیں زیادہ اس سے استفادہ کیا ہے۔"[28]
  5. سید حسن بن حمزہ ہاشمی: افندی نے ریاض العلماء میں ان کو سید حیدر کے بزرگوں اور استادوں میں شمار کیا ہے۔[29]

تألیفات

سید حیدر کے مطابق انہوں نے چالیس سے زیادہ کتابیں اور رسالے تحریر کئے ہیں؛[30] لیکن معلومات کے مطابق ان کی صرف سات کتابیں اس وقت موجود ہیں:

  1. جامع الاسرار و منبع الانوار
  2. نص النصوص فی شرح الفصوص (فصوص ابن عربی) (ناقص)
  3. تفسیر المحیط الاعظم (ناقص)
  4. رسالہ نقد النقود فی معرفۃ الوجود
  5. اسرار الشریعہ
  6. المسائل الحیدریہ
  7. الکشکول فیما جری علی آل الرسول.[31]

اگرچہ الکشکول فیما جری علی آل الرسول کے نام سے سید حیدر آملی کی ایک کتاب چھپ گئی ہے،[32] لیکن ہنری کربن یہ احتمال دیتے ہیں کہ یہ کتاب سید حیدر کے ہم نام کسی کی لکھی ہوئی ہے۔[یادداشت 1]

آراء و نظریات

فقط شیعہ صوفی برحق ہیں

سید حیدر آملی کے نقطہ نظر کے مطابق، امامیہ فرقہ دو طرح کا ہے: ایک گروہ جو ائمہ معصومین علیہم السلام کے ظاہری علوم کو برقرار رکھتا ہے، یعنی شریعت، اسلام اور ایمان، دوسرا گروہ جو باطنی علوم کو برقرار رکھتا ہے، جو وہی طریقت، حقیقت اور یقین ہے۔ پہلا صرف مومن سمجھا جاتا ہے، اور دوسرا "ممتحن" (آزمایا ہوا) مومن ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ لفظ شیعہ مومن سے مطابقت رکھتا ہے اور صوفی، ممتحن مومن ہے؛ کیونکہ شیعہ اور صوفی دو نام ہیں جو ایک ہی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور وہ شریعت محمدی ہے۔[33] وہ تصوف کو شیعہ مذہب کے ساتھ یکساں سمجھتے ہیں اور شیعہ ائمہؑ کو طریقت کے حقیقی پیروکار مانتے ہیں۔[34]

سید حیدر آملی واضح طور پر کہتے ہیں کہ صرف شیعہ صوفی ہی برحق ہیں اور ان کا خیال ہے کہ اگرچہ صوفیہ کے بھی شیعہ کی طرح بہت سے فرقے ہیں، لیکن ان کا صحیح فرقہ صرف وہی ہے جو "اسرار ائمہ" کو لے کر چلتے ہیں اور ظاہری اور باطنی طور پر ان پر ایمان رکھتے ہیں۔[35]

الوہی توحید اور وجودی توحید سید حیدر آملی کے مطابق توحید کی دو قسمیں ہیں:

  1. توحید الوہی جو ظاہری توحید ہے ؛ اس سے مراد وہ توحید ہے جس کی طرف پیغمبر اکرمؐ نے تمام لوگوں کو دعوت دی ہے۔ یہ توحید ایک، غیر مشروط اور مطلق خدا کا اقرار ہے۔ یعنی بغیر کسی شرط اور حد کے جو اسے زمان و مکان کی تعیین کا پابند بناتی ہے اور اس کا خلاصہ لا الہ الا اللہ ہے۔
  2. وجودی توحید جو باطنی توحید ہے اور اولیاء الہی کے لئے ہے۔ اولیاء لوگوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وجود کو وجودِ مطلق میں دیکھیں؛ کیونکہ اللہ کے وجود کے علاوہ کوئی وجود ہو ہی نہیں سکتا ہے۔ سید حیدر کی نظر میں آیہ شریفہ کلُّ مَنْ عَلَیہَا فَانٍ وَیبْقَی وَجْہُ رَ بِّک ذُو الْجَلَالِ وَالْإِکرَ امِ[36] کے معنی کو سمجھنا ہی وہ تنہا وجود کی حقیقت سمجھنا ہے۔[37]

فلسفی معرفت اور الہی معرفت

سید حیدر آملی فلسفیانہ معرفت اور الہیاتی معرفت کو اکتسابی اور تحصیلی معرفت سمجھتے ہیں جو بہت محنت کے بعد حاصل ہوتی ہے؛ لیکن ان کی نظر میں الہی معرفت وہ معرفت ہے جسے روحانی وارث اپنے اندر ذوق اور کشف کے ذریعے پاتا ہے؛ کیونکہ یہ معرفت دراصل اس کا وجود اور ایک خزانہ ہے جو خدا کے فضل اور لطف سے براہ راست اس کے سپرد کیا گیا ہے۔[38]

مونوگراف

سید حیدر آملی کے بارے میں لکھی ہوئی کتاب

فرانسیسی دانشور اور اسلام شناس ہنری کربن نے سید حیدر آملی اور ان کے عرفانی نظریات کے بارے میں دو مقالے لکھے ہیں جنہیں نوذر آقا خانی نے ترجمہ کر کے «سید حیدر آملی: شرح احوال، آثار و آراء و جہان شناسی» کے نام سے ایک کتاب بنایا ہے جو سید حیدر کی سوانح حیات کو بیان کرتی ہے۔[39]

«سید حیدر آملی و تفسیر محیط اعظم»: اس کتاب کو علی اوجبی، عبد اللہ صلواتی اور اکبر ثقفیان نے لکھا ہے جس میں سوانح حیات کے ساتھ ساتھ ان کی کتاب تفسیر محیط اعظم کی بھی تحقیق کی ہے۔[40]

آرامگاہ

سید حیدر آملی کی آرامگاہ ایران کے شہر آمل میں مقبرہ سہ سید میں واقع ہے۔ اور یہ بارگاہ ایرانی آثار قدیمہ میں شامل ہے۔[41]

حوالہ جات

  1. موحد، «آملی»، ص214۔
  2. ملاحظہ کریں: آملی، تفسیر المحیط الاعظم، 1422ھ، ج1، ص527؛ آملی، المقدمات من کتاب نص النصوص، 1352شمسی، ص535۔
  3. آملی، تفسیر المحیط الاعظم، 1422ھ، ج1، ص527۔
  4. آملی، المقدمات من کتاب نص النصوص، 1352شمسی، ص535۔
  5. آملی، تفسیر المحیط الاعظم، 1422ھ، ج1، ص527۔
  6. آملی، المقدمات من کتاب نص النصوص، 1352شمسی، ص535۔
  7. آملی، تفسیر المحیط الاعظم، 1422ھ، ج1، ص531۔
  8. آملی، المقدمات من کتاب نص النصوص، 1352شمسی، ص536۔
  9. آملی، تفسیر المحیط الاعظم، 1422ھ، ج1، ص529۔
  10. کربن، سید حیدر آملی: شرح احوال، آثار و آراء جہان شناسی، 1388شمسی، ص20-21۔
  11. کربن، سید حیدر آملی: شرح احوال، آثار و آراء جہان شناسی، ص20-21۔
  12. کربن، سید حیدر آملی: شرح احوال، آثار و آراء جہان شناسی، ص21؛ نقل از: تفسیر المحیط الاعظم، ص530۔
  13. کربن، سید حیدر آملی: شرح احوال، آثار و آراء جہان شناسی، ص22۔
  14. آملی، تفسیر المحیط الاعظم، 1422ھ، ج1، ص530-531۔
  15. آملی، المقدمات من کتاب نص النصوص، 1352شمسی، ص536۔
  16. استادی، «کتابشناسی سید حیدر آملی(رہ)»، ص115۔
  17. استادی، «کتابشناسی سید حیدر آملی(رہ)»، ص115۔
  18. موحد، «آملی»، ص214۔
  19. امین، اعیان الشیعہ، ج6، ص272۔
  20. کربن، سید حیدر آملی: شرح احوال، آثار و آراء جہان شناسی، ص23۔
  21. آملی، المقدمات من کتاب نص النصوص، 1352شمسی، ص534۔
  22. کربن، سید حیدر آملی؛ متألّہ شیعی عالَم تصوف، ص141۔
  23. آقابزرگ طہرانی، الذریعۃ إلی تصانیف الشیعۃ، 1403ھ، ج5، ص204۔
  24. آقابزرگ طہرانی، طبقات أعلام الشیعۃ، 1403ھ، ج5، ص149۔
  25. آملی، تفسیر المحیط الاعظم، 1422ھ، ج1، ص534۔
  26. استادی، «کتابشناسی سید حیدر آملی(رہ)»، ص116۔
  27. آملی، تفسیر المحیط الاعظم، 1422ھ، ج1، ص531 و 535۔
  28. آملی، تفسیر المحیط الاعظم، 1422ھ، ج1، ص535۔
  29. افندی، ریاض العلماء، 1431ھ، ج1، ص183۔
  30. آملی، المقدمات من کتاب نص النصوص، 1352شمسی، ص536۔
  31. استادی، «کتابشناسی سید حیدر آملی(رہ)»، ص122۔
  32. کتابشناسی کتاب در سایت کتابخانہ ملی۔
  33. آملی، جامع الاسرار، 1368شمسی، ص41۔
  34. استعلامی، فرہنگ نامہ تصوف و عرفان، 1399شمسی، ج1، ص802۔
  35. آملی، جامع الاسرار، 1368شمسی، ص41۔
  36. سورہ رحمان، آیہ26-27۔
  37. کربن، سید حیدر آملی: شرح احوال، آثار و آراء جہان شناسی، ص62 - 65۔
  38. کربن، سید حیدر آملی: شرح احوال، آثار و آراء جہان شناسی، ص74۔
  39. کتاب سیدحیدر آملی۔
  40. سیدحیدر آملی و تفسیر محیط اعظم۔
  41. پایگاہ چندپر۔

نوٹ

  1. کربن، ص72؛ سید حیدر کے معاصر دو لوگوں کا نام بھی سید حیدر تھا اس وجہ سے یہ اشتباہ ممکن ہے: 1.سید حیدر بن علی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سنہ 735ھ میں کشکول لکھا ہے؛ 2. سید حیدر بن علی بن حیدر جنہوں نے سنہ 759ھ کو فخر المحققین سے روایت کی اجازت دریافت کی ہے۔(کربن، سید حیدر آملی؛ متألّہ شیعی عالَم تصوف، پانویسِ ص146)۔

مآخذ

  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، الذریعۃ إلی تصانیف الشیعۃ، بیروت، دار الأضواء، 1403ھ۔
  • آقابزرگ تہرانی، محمدمحسن، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، 1430ھ۔
  • آملی، سید حیدر، المقدمات من کتاب نص النصوص، تہران، قسمت ایرانشناسی انستیتو ایران و فرانسہ: پژوہش ہای علمی در ایران، 1352ہجری شمسی۔
  • آملی، سید حیدر، تفسیر المحیط الأعظم، تحقیق سید محسن موسوی تبریزی، تہران، سازمان چاپ و انتشارات وزارت ارشاد اسلامی، سوم، 1422ھ۔
  • آملی، سید حیدر، جامع الاسرار و منبع الانوار، با مقدمہ ہانری کربن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی وزارت فرہنگ و آموزش عالی، 1368ہجری شمسی۔
  • استادی، رضا، «کتابشناسی سید حیدر آملی(رہ)»، آیینہ پژوہش، 1382شمسی، شمارہ 83.
  • استعلامی، محمد، فرہنگ نامہ تصوف و عرفان، تہران، فرہنگ معاصر، چاپ دوم، 1399ہجری شمسی۔
  • افندی، عبداللہ، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، بیروت، مؤسسۃ التاریخ العربی، 1431ھ۔
  • تنہایی، حسین ابوالحسن، «نظریۀ شیخ سید حیدر آملی در منزلت تصوف و صوفی»، عرفان شیعی بہ روایت سید حیدر آملی، نوشتہ محمد کریمی زنجانی اصل، تہران، اطلاعات، 1385ہجری شمسی۔
  • کربن، ہانری، «سید حیدر آملی؛ متألہ شیعی عالَم تصوف»، ترجمہ ع. روج بخشان، عرفان شیعی بہ روایت سید حیدر آملی، محمد کریمی زنجانی اصل، تہران: اطلاعات، 1385ہجری شمسی۔
  • کربن، ہانری، سید حیدر آملی: شرح احوال، آثار و آراء جہان شناسی، ترجمہ: نوذر آقاخانی، تہران، انتشارات حقیقت، 1388ہجری شمسی۔
  • موحد، صمد، «آملی»، دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، تہران، مرکز دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، 1374ہجری شمسی۔