عبد اللہ بن جعفر حمیری

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عبد اللہ بن جعفر حمیری
مشایخ ایوب بن نوح نخعی، ہارون بن مسلم، احمد بن محمد بن خالد برقی ، محمد بن حسین بن ابی الخطاب، محمد بن خالد طیالسی و ...
شاگرد محمد بن عبداللہ حمیری (بیٹا)، احمد بن محمد بن یحیی عطار قمی، ابو علی اسکافی، محمد بن حسن بن ولید قمی، علی بن حسین بن بابویہ، ابو غالب زُراری، محمد بن موسی بن متوکل و ...
تالیفات قرب الاسناد

عبداللّه بن جعفر حِمیری، تیسری اور چوتھی صدی ہجری کے شیعہ عالم اور محدث ہیں۔ ان کی معروف ترین تالیف قُربُ الاِسناد ہے۔ انہوں نے امام علی نقی علیہ السلام و امام حسن عسکری علیہ السلام کی امامت کے دور میں اور اسی طرح غیبت صغرا کے زمانے میں زندگی بسر کی ہے۔

ولادت

عبداللہ بن جعفر کی پیدائش اور وفات کے بارے میں کوئی دقیق معلومات نہیں ہیں لیکن اس میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے کہ انہوں نے امام ہادی (ع) اور امام حسن عسکری (ع) کی امامت کا دور اور غیبت صغرا کا زمانہ دیکھا ہے۔

حمیری قم کے مشائخ اور بزرگان میں سے تھے۔ انہوں نے تیسری صدی ہجری کے آخری سالوں میں کوفہ کا سفر کیا تو وہاں کے محدثین نے ان سے بہت سی روایات کو سنا۔[1]

اولاد

حمیری کے صاحب تالیف بیٹے محمد کے علاوہ تین اور بیٹے تھے جن کے نام احمد، جعفر اور حسین تھے۔ ان تمام کا امام زمانہ سے مکاتباتی رابطہ تھا۔[2]

روایت حدیث

قم کے محدثین کی مکتوبہ احادیث میں ان کا نہایت کردار رہا ہے[3] اسی طرح کوفہ اور دیگر علاقوں کی روایات میں بھی نہایت مؤثر تھے کیونکہ ان کی روایات کے سلسلۂ اسناد میں ان کا نام اکثر موجود ہے۔[4]

ان چند افراد کے نام جن سے حمیری نے روایات نقل کیں:

حمیری سے حدیث روایت کرنے والے چند اسما:

البتہ شیخ طوسی نے اپنے رجال [15] میں اصحاب امام رضا(ع) کے ذیل میں ایک شخص بنام ابو العباس حمیری کو ذکر کیا ہے کہ جس کے متعلق آیت اللہ خوئی[16] نے دلائل کی بنا پر اسے کوئی اور عبد اللہ حمیری قرار دیا ہے۔ ان دلائل میں سے نجاشی کے نزدیک عبد اللہ حمیری کے کوفہ سفر کرنے کی تاریخ بھی ایک دلیل ہے۔[17]

آثار

حمیری نے متعدد آثار مختلف موضوعات میں تألیف کیے جو اس زمانے کے محدثین کی توجہ کے حامل رہے لہذا اس دور کے محدثین نے ان موضوعات میں کئی آثار تالیف کئے۔ مثلا فقہی اور کلامی مسائل کے متعلق آئمہ سے پوچھے گئے اصحاب کے سوالوں کے جوابات ان موضوعات میں سے ہیں جن کے متعلق محدثین نے بہت سے آثار تدوین کئے۔ ان کے اکثر موارد کتب اربعہ میں اکثر مقامات پر نقل ہوئے ہیں۔ [18]

فقہی اور کلامی خط و کتابت

عبداللہ بن جعفر حمیری نے ائمہ اور اصحاب کے درمیان فقہی اور کلامی سے مسائل سے متعلق ہونے والی خط و کتابت کی بھی جمع آوری کی اور اس موضوع سے متعلق آثار تالیف کئے۔

انہوں نے ایک کتاب مسائل الرجال و مکاتباتهم ابا الحسن الثالث (ع)،[19] کے نام سے تالیف کہ ہے جس میں امام علی نقی (ع) اور ان کے اصحاب کے درمیان ہونے والی خظ و کتابت کو جمع کیا ہے، جو زیادہ تر مسائل فقہی پر مشتمل ہے۔

ان میں سے بعض اصحاب کے اسماء دوسرے منابع حدیثی میں بھی ذکر ہوئے ہیں، مندرجہ ذیل ہیں:

  • حسن بن مالک [20]
  • محمد بن جزک [21]
  • حسین بن علی بن کیسان صنعانی [22]
  • ایوب بن نوح [23]
  • محمد بن سرو [24]
  • علی بن ریان بن صلت [25]

مسائل لابی محمد الحسن

اسی طرح سے حمیری نے ایک کتاب مسائلُ ابی محمد الحسن (ع) علی ید محمد بن عثمان العَمری کے عنوان سے تالیف کی ہے۔ اس کتاب میں ذکر شدہ نقل قول بہت سی شیعہ کتب میں باقی و محفوظ ہیں۔ [26]

ان نقل قول کی بنیاد پر، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کتاب کا بڑا حصہ امام حسن عسکری (ع) سے کئے گئے فقہی سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ جنہیں مولف کتاب نواب اربعہ کے دوسرے نائب محمد بن عثمان عمری کے ذریعہ امام کی خدمت میں پہچاتے تھے اور ان کے ذریعہ سے جواب درہافت کرتے تھے۔[27]

الدلائل

حمیری نے بعض کتابیں امامت کے موضوع پر بھی تالیف کی ہیں۔ جن میں سے ایک اہم کتاب الدلائل ہے۔[28] جو ساتویں صدی ہجری تک موجود تھی اور علی بن عیسی اربلی[29] اور سید بن طاووس[30] نے اس کے کچھ حصے نقل کئے ہیں۔ سید بن طاووس کے پاس اس کا ایک نسخہ احمد بن حسین بن غضائری کے خط سے تحریر شدہ، موجود تھا۔[31]

کتاب الغیبہ

عبد اللہ حمیری کی غیبت امام زمانہ (ع) سے متعلق کتابوں میں سے ایک کتاب الغیبہ ہے۔ اس موضوع پر ان کی دوسری کتاب کا نام الغیبۃ و الحیرۃ ہے جس کا تذکرہ احمد بن علی نجاشی نے بھی کیا ہے۔[32] احتمالا یہ وہی کتاب ہے جس کا ذکر شیخ طوسی نے ابو جعفر محمد بن جعفر ابن بطہ قمی کے حوالے سے الفترۃ و الحیرۃ کے نام سے کیا ہے۔[33]

ابن ابی زینب،[34] ابن بابویہ[35] و شیخ طوسی نے کتاب الغیبہ[36] میں غیبت کے سلسلہ میں بہت سی روایات حمیری سے نقل کی ہیں جو اس موضوع میں تالیف کی گئیں ان کی کتابوں سے ماخوذ ہیں۔

شیخ صدوق کتاب التوحید[37] میں اپنے مشایخ سے نقل کرتے ہوئے حمیری سے روایات نقل کرتے ہیں جو احتمالا ان کی کتاب العظمة و التوحید یا کتاب التوحید و البداء و الارادة و الاستطاعة و المعرفة[38] سے ماخوذ ہیں۔ شیخ طوسی[39] نے آخری کتاب کا تذکرہ التوحید و الاستطاعة و الافاعیل و البداء کے نام سے کیا ہے۔

قرب الاسناد

حمیری کی تالیفات میں صرف کتاب قُرب الاِسناد موجود ہے۔ نجاشی[40] نے ان کی تین کتابیں جن کے نام: قرب الاسناد الی الرضا (ع)، قرب الاسناد الی ابی جعفر بن الرضا (ع)، و قرب الاسناد الی صاحب الامر (عج) کا تذکرہ کیا ہے۔ جبکہ شیخ طوسی[41] نے فقط قرب الاسناد کا ذکر کیا ہے۔

قرب الاسناد کا اطلاق ان کتابوں پر ہوتا ہے جن میں محدث کسی حدیث کو اس کے کوتاہ ترین طریق سے معصوم (ع) تک متصل کرتا ہے۔ حمیری نے اس کتاب کی تالیف میں قدیمی ترین مصادر سے استفادہ کیا ہے۔[42] جن میں اہم ترین کتاب المسائل علی بن جعفر عریضی ہے۔ حمیری نے اس کتاب کا ایک بڑا حصہ اپنی کتاب میں نقل کیا ہے۔[43]

ابن ادریس حلّی[44] نے حمیری کی قرب الاسناد سے روایات نقل کی ہیں۔ لیکن انہوں نے غلطی سے اس کتاب کی نسبت ان کے بیٹے محمد کی طرف دے دی ہے۔ اس خطا کا سرچشمہ ظاہرا کتاب کے شروع میں نقل ہونے والے سلسلہ سند کا حمیری کے فرزند تک منتہی ہونا لگتا ہے۔[45]

قرب الاسناد کے عبد اللہ بن جعفر حمیری سے انتساب پر سب سے اہم شاہد یہ ہے کہ ابن ادریس حلی [46] نے اس کتاب سے نقل قول کرتے ہوئے ایک روایت کو بغیر کسی واسطہ کے محمد بن حسین بن ابی الخطاب (متوفی 262 ھ) کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ جن کا طبقہ حدیثی فقط طبقہ مشایخ عبد اللہ بن جعفر حمیری سے مطابقت رکھتا ہے۔

حوالہ جات

  1. نجاشی، ص۲۱۹.
  2. نجاشی، ص۳۵۴ ـ ۳۵۵.
  3. طوسی، رجال، ص۴۲۴.
  4. نجاشی، ص۳۸، ۵۹، ۱۶۸، ۳۰۲، ۴۳۰.
  5. نجاشی، ص۵۵، ۱۳۷.
  6. حمیری، ص۳۷۹.
  7. نجاشی، ص۱۶۸.
  8. طوسی، الامالی، ص۹، ۲۲، ۲۰۳.
  9. طوسی، الامالی، ص۱۳، ۳۸، ۲۰۱.
  10. طوسی، الامالی، ص۸۶، ۲۳۸، ۶۹۷.
  11. نجاشی، ص۱۷۶، ۲۷۴.
  12. نجاشی، ص۴۳۰.
  13. طوسی، الامالی، ص۱۸۹.
  14. طوسی، رجال، ص۴۳۷.
  15. طوسی، ص ۳۷۰.
  16. خوئی، ج ۱۰، ص۱۴۱.
  17. کلینی، ج ۵، ص۴۴۷ ؛ طوسی، تہذیب، ج ۳، ص۲۳۱.
  18. کلینی، ج ۱، ص۸۷، ۱۰۰ و ج ۲، ص۲۷، ۳۹۹ ؛ شیخ صدوق، من لا یحضر، ج ۱، ص۲۶۲، ۵۴۴ ؛ طوسی، تہذیب، ج ۱، ص۵۵، ۶۴،۱۵۰.
  19. نجاشی، ص۲۲۰
  20. شیخ صدوق، من لا یحضر، ج۳، ص۴۳۴ و ج ۴، ص۲۳۲؛ طوسی، تہذیب، ج۹، ص۱۸۹ ؛ طوسی، الاستبصار، ج۴، ص۱۲۴.
  21. شیخ صدوق، من لا یحضر، ج۱، ص۴۴۰ـ۴۴۱؛ طوسی، تہذیب، ج ۳، ص۲۱۶ و ج ۷، ص۳۶۳، ۴۲۸.
  22. طوسی، تہذیب، ج۲، ص۳۰۸؛ طوسی، الاستبصار، ج ۱، ص۳۴۳.
  23. طوسی، تہذیب، ج۴، ص۹۱ و ج ۵، ص۲۷۳.
  24. طوسی، تهذیق، ج۵، ص۱۷۱؛ طوسی، الاستبصار، ج۲، ص۲۴۷.
  25. طوسی، تہذیب، ج۵، ص۲۰۹؛ طوسی، الاستبصار، ج۲، ص۲۶۷.
  26. کلینی، ج ۵، ص۴۴۷ و ج ۷، ص۱۱۴.
  27. شیخ صدوق، من لا یحضر، ج ۳، ص۴۳۵.
  28. نجاشی، ص۲۱۹ ؛ طوسی، فهرست، ص۲۹۴
  29. اربلی، ج ۳، ص۶۶، ۱۲۰، ۲۱۰، ۴۰۴.
  30. فتح الابواب، ص۲۴۳ ؛ کمال الدین، ص۲، ۹۷، ۱۱۹.
  31. کمال الدین، ص۹۷، ۲۲۹.
  32. نجاشی، ص۲۱۹
  33. طوسی، فهرست، ص۲۹۴
  34. ابن ابی زینب، ص ۶۷، ۱۵۲، ۱۵۵، ۱۵۹.
  35. کمال الدین، ج ۱، ص۱۲۷، ۱۵۲، ۲۱۱، ۲۲۸
  36. طوسی، الغیبة، ص ۳۵۲، ۳۵۴، ۳۶۱ ـ ۳۶۲، ۴۳۹.
  37. صدوق، التوحید، ص ۷۶، ۸۰، ۱۰۳.
  38. نجاشی، ص۲۱۹ ـ ۲۲۰
  39. طوسی، فهرست، ص۲۹۴.
  40. نجاشی، ص ۲۲۰.
  41. طوسی، فهرست، ص۲۹۴.
  42. رحمتی، ص۲۷ ـ ۲۸.
  43. رحمتی، ص۲۷.
  44. ابن ادریس، ج ۱۴، ص۲۲۳ ـ ۲۳۰
  45. حمیری، ص۱.
  46. ابن ادریس، ج ۱۴، ص۲۲۳


منابع

  • ابن ابی زینب، کتاب الغیبة، چاپ علی اکبر غفاری، تهران.
  • ابن ادریس حلّی، موسوعة ابن ادریس الحلی، چاپ محمد مهدی موسوی خرسان، قم، ۱۳۸۷ش.
  • ابن طاووس، فتح الابواب بین ذوی الالباب و بین رب الارباب فی الاستخارات، چاپ حامد خفاف، قم، ۱۴۰۹ق.
  • ابن طاووس، فرج المهموم فی تاریخ علماء النجوم، نجف، ۱۳۶۸ق.
  • اربلی، بهاءالدین، کشف الغمة فی معرفة الائمة علیهم السلام، چاپ علی فاضلی، قم، ۱۴۲۶ق.
  • حِمیری، عبداللہ، قرب الاسناد، قم، ۱۴۱۳ق.
  • خویی، ابو القاسم، معجم رجال الحدیث، بیروت، ۱۴۰۳ق.
  • رحمتی، محمد کاظم، نکاتی درباره کتاب قرب الاسناد حمیری، کتاب ماه دین، سال ۷، ش ۴ و ۵، ۱۳۸۲ش.
  • شیخ صدوق، التوحید، چاپ هاشم حسینی طهرانی، قم، ۱۳۸۷ش.
  • شیخ صدوق، کتاب مَن لا یحضُرُه الفقیہ، چاپ علی اکبر غفاری، قم، ۱۴۱۴ق.
  • شیخ صدوق، کمال الدین و تمام النعمہ، چاپ علی اکبر غفاری، قم، ۱۳۶۳ش.
  • طوسی، الاستبصار، چاپ حسن موسوی خرسان، تهران، ۱۳۹۰ق.
  • طوسی، الامالی، قم، ۱۴۱۴ق.
  • طوسی، تہذیب الاحکام، چاپ حسن موسوی خرسان، تهران، ۱۳۹۰ق.
  • طوسی، رجال الطوسی، چاپ جواد قیومی اصفهانی، قم، ۱۴۱۵ق.
  • طوسی، فهرست کتب الشیعة و اصولهم واسماء المصنفین و اصحاب الاصول، چاپ عبد العزیز طباطبائی، قم، ۱۴۲۰ق.
  • طوسی، کتاب الغیبة، چاپ عباداللّه طهرانی و علی احمد ناصح، قم، ۱۴۱۱ق.
  • کلینی، محمد، الکافی، دار الکتب الاسلامیہ، تهران، ۱۳۶۳ش.
  • نجاشی، فهرست اسماء مصنفی الشیعة المشتهر ب رجال النجاشی، چاپ موسی شبیری زنجانی، قم، ۱۴۰۷ق.

بیرونی رابط