فلسفہ اسلامی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابن سینا ایک عظیم مَشّاییِ مسلمان فلسفی

فلسفہ اسلامی وہ علم ہے جو عقلی اور برہانی روش اپنا کر وجود، معرفت، نفس، خدا اور دین‌ کی کلی بحث کرتا ہے۔ کِندی سب سے پہلے مسلمان فلسفی تھے اور فارابی مؤسس فلسفہ اسلامی ہیں۔ اسلامی فلسفہ میں تین اہم مکتب پائے جاتے ہیں: مکتب مَشاء، مکتب اِشراق اور حکمت مُتعالیہ۔

فارابی، ابن سینا، سہروردی، ابن رشد، میر داماد اور ملا صدرا اہم ترین مسلمان فیلسوف رہے ہیں اور الاشارات و التنبیہات، الشفاء، حکمۃ الاشراق، قَبَسات، اَسفار اَربعہ، الشواہد الربوبیۃ، شرح منظومہ اور نہایۃ الحکمۃ، فلسفہ اسلامی کی نمایاں ترین کتابیں ہیں۔

عالم اسلام میں فلسفہ کی کچھ مخالفتیں بھی رہی ہیں۔ بعض مخالفین نے فلسفہ اسلامی کو کچھ کفر آمیز چیزوں پر مشتمل سمجھا ہے۔ کچھ دوسرے لوگ معرفت دینی کو فلسفہ سے الگ کرنے کے قائل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بہت سے مسلمان علماء و فقہاء خود فلسفی رہے ہیں اور انھوں نے اس کی کوئی مخالفت نہیں کی۔

حقیقت فلسفہ اسلامی

فلسفہ اسلامی وہ علم ہے جو عقلی اور برہانی روش اپنا کر وجود، معرفت، نفس، خدا اور دین‌ کی کلی بحث کرتا ہے۔[1] عقلی و برہانی روش سے فلاسفہ کی مراد یہ ہے کہ فلسفی مسائل ایسے استدلال سے ثابت کئے جاتے ہیں جو بدیہیات عقلی پر مشتمل ہوتے ہیں۔[2]

مسائل

فلسفہ اسلامی کے مسائل کو پانچ حصوں پر تقسیم کیا گیا ہے:

  • امور عام یا الہیات بالمعنی الاعم:وجود کے کلی حالات، وجود مستقل و رابط، وجود ذہنی، مواد ثُلاث، جعل، ماہیت، وحدت و کثرت، علیت، قوہ و فعل، ثُبات و سَیَلان، علم و عالم و معلوم و مَقولات عشر کے کلی احوال؛
  • خداشناسی یا الہیات بالمعنی الاخص: ذات خدا، توحید کا اثبات اور صفات کی کلی بحثیں؛ نیز صفات خدا جیسے علم و قدرت و حیات و ارادہ و کلام و سمع و بصر اور ہر صفت سے وجود میں آنے والے مسائل، جیسے قضا و قدر و لوح و قلم و عرش و کرسی و جبر و تفویض اسی طرح افعال خدا سے مربوط بحثیں جیسے اثبات عوالم مجرد، حل مشکل شُرور، دوام فیض و حدوث عالم؛
  • علم النفس: تعریف نفس، اثبات وجود نفس، اثبات جوہریت نفس، اثبات تجرد نفس، حدوث یا قدم نفس، قوائے نفس اور اس کے شئون، نفس کے ساتھ قوائے نفس کے ارتباط کی کیفیت اور موت کے بعد نفس کی بقاء؛
  • معرفت شناسی: یہ حصہ ان مسائل پر مشتمل ہے جو زیادہ تر برہان کی کتابوں میں پراکندہ طور پر آتے ہیں اور فلسفہ اسلامی میں ان سے کوئی حصہ مخصوص نہیں کیا گیا ہے؛
  • فلسفی دین شناسی: حقیقت موت، بطلان تناسخ، اثبات معاد، عالم برزخ یا مثال منفصل، حقیقت حشر، حقیقت قیامت، حقیقت میزان و حساب، حقیقت سعادت و شقاوت، حقیقت بہشت و جہنم، حقیقت وحی، لزوم وحی، مسئلہ نبوّت اور معاد جسمانی۔[3]

فلسفہ اسلامی کی ابتدا

فلسفہ اسلامی کی ابتدا، قدیم یونان سے ہوئی۔ دوسری صدی ہجری سے مسلمانوں نے آثار فلسفی کے ترجمہ کا آغاز کیا۔ اس صدی میں ارسطو اور مکتب سکندریہ کے شارحین کی بہت سی تالیفات نیز جالینوس کی کتابیں اور افلاطون کے کچھ مکالمات کا ترجمہ عربی زبان میں انجام پایا۔[4]

پہلے مسلمان فلسفی الکندی اسی صدی میں جی رہے تھے۔ متون یونانی کے عربی ترجمہ سے پیدا ہونے والی علمی تحریک کے زمانے میں وہ بغداد گئے اور بہت سی یونانی کتب خاص طور سے ارسطو کے آثار کا مطالعہ کیا۔[5]

فلسفہ اسلامی کے عنوان کی مشکلات

کچھ متفکرین کے حساب سے، عنوان فلسفہ اسلامی ایک غیر مربوط اور ناسازگار ترکیب ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ فلسفہ کی روش، استدلال عقلی کی ہوتی ہے جبکہ دین میں قرآن و سنت کا تعبد مد نظر ہوتا ہے لہذا یہ آپس میں ناسازگار ہیں۔[6]

محمد تقی مصباح یزدی نے اس اشکال کے جواب میں کہا ہے کہ فلسفہ اور اسلام کے درمیان قلیل و مختصر ربط بھی فلسفہ اسلامی کی ترکیب کے درست ہونے کے لئے کافی ہے؛ جیساکہ فلسفہ اسلامی کے بعض مسائل، اسلامی تعلیمات سے ماخوذ ہیں اور ان میں سے دوسرے کچھ مسائل، تعلیمات اسلامی کی خدمت میں ہیں۔[7]

کچھ اور لوگوں نے فلسفہ اسلامی کی ترکیب کے تضاد کو حل کرنے کے لئے کہا ہے کہ اسلام کچھ اعتبار سے فلسفہ اسلامی پر اثر انداز رہا ہے مثلا مسائل کی راہ نمائی، مسئلہ پیش کرنے کا طریقہ، استدلال میں خلاقیت اور شبہہ کا ازالہ۔ اس درمیان اسلام نے فلسفہ کے عقلی ہونے میں بھی کوئی دخل اندازی نہیں کی۔[8]

یہ مشکلات صرف اسلامی فلسفہ کو ہی لاحق نہیں ہوئیں۔ ایٹین جیلسن (فرنچ میں: Étienne Gilson) نے لکھا ہے کہ عیسائی فلسفہ کی تدوین کو اس استدلال کے ذریعہ ناممکن قرار دیا گیا ہے کہ ایسے مفہوم سے تناقض لازم آتا ہے اور اس کا وقوع پذیر ہونا کسی طرح ممکن نہیں ہے۔[9]

عالم اسلام کے فلسفی مکاتب

فلسفہ مَشّاء، فلسفہ اِشراق اور حکمت مُتعالیہ، عالم اسلام کے تین اہم فلسفی مکاتب ہیں۔ فلسفہ مشاء سب سے پہلا اسلامی مکتب فلسفی ہے جو ارسطو سے متاثر ہے اور مکمل طور سے استدلالی روش پر گامزن ہے۔ ابن سینا کو نمایاں ترین فیلسوف مشاء مانا جاتا ہے۔[10] اس مکتب فلسفی کے بالکل بر خلاف، فلسفہ اشراق، اندرونی شہود اور سیر و سلوک پر تاکید کرتا ہے[11] فلسفہ اشراق کے مؤسس، شہاب الدین سہروردی ہیں۔[12]

حکمت متعالیہ، فلسفہ کا وہ نظام ہے جسے ملا صدرا نے تاسیس کیا۔ انھوں نے تین استدلالی طریقوں یعنی عقلی، نقلی اور شہودی کی ترکیب سے کوشش کی کہ ایک ایسا نیا فلسفی مکتب پیش کریں جس میں گذشتہ مکتبوں کے نقائص نہ پائے جاتے ہوں۔ حکمت متعالیہ میں معرفت کے تین مصادر یعنی وحی و عقل و شہود معنوی یا مکاشفہ عرفانی کو آپس میں ملایا گیا ہے۔[13]

نامور فلاسفہ

ملاہادی سبزواری، تیرہویں صدی کے نامور فیلسوف اور حکمت متعالیہ کے شارح

کِندی، فارابی، ابن سینا، ابن رشد، سہروردی، ملا صدرا، ملا ہادی سبزواری اور سید محمد حسین طباطبائی انتہائی اہم مسلمان فلسفی شخصیتیں ہیں۔ کِندی عرف «فیلسوف عرب»، عالم اسلام کے سب سے پہلے فلسفی ہیں۔ وہ دوسری اور تیسری صدی ہجری کے فلسفی تھے اور ارسطو سے متاثر تھے۔[14] ابو نصر محمد فارابی (۲۶۰-۳۳۹ھ) کو فلسفہ اسلامی کا بانی کہا جاتا ہے اور ان کو معلم ثانی کا لقب دیا گیا ہے۔[15]

ابن سینا (۳۷۰-۴۲۸ھ) کو عالم اسلام کا سب سے عظیم مشائی فلسفی کہا گیا ہے۔[16] فلسفہ میں ان کی کتابیں فلسفہ اسلامی کے اہم ترین مصادر میں شمار ہوتی ہیں۔ ابن رشد (۵۲۰-۵۹۵ھ) بھی مشائی فلسفی تھے اور ان کی کوشش تھی کہ ارسطوئی فلسفہ کے پابند رہیں۔ شہاب الدین یحیی سہروردی (۵۴۹–۵۸۷ھ) فلسفہ اسلامی میں شیخ اشراق کے لقب سے مشہور ہیں۔[17] ان کی سب سے اہم کتاب حکمۃ الاشراق ہے۔[18]

ابن ‏رشد اندلسی (۵۲۰-۵۸۸ھ) کو ہر دور میں ارسطو کے آثار کا بہترین مفسر قرار دیا جا سکتا ہے۔[19] وہ ایسے مسلمان فلسفی ہیں جنھوں نے ارسطو کے آثار کے ترجمہ اور شرح نیز عقل و دین میں ربط کی وضاحت کے ذریعہ مغربی دانشوروں پر گہرا اثر چھوڑا۔[20]

میر داماد (متوفی ۱۰۴۱ھ) ملا صدرا کے استاد تھے۔ کہتے ہیں کہ ملا صدرا کے ذہن میں حکمت متعالیہ کی زمین آپ نے ہموار کی۔[21] ملا صدرا(متوفی ۱۰۵۰ھ) حکمت متعالیہ کے بانی ہیں۔ انھوں نے اپنے نظام فلسفی کی بنیاد کو اسفار اربعہ بیان کیا ہے۔[22]

ملا ہادی سبزواری (۱۲۱۲-۱۲۸۹ھ)، تیرہویں صدی کے نامور فلسفی اور فلسفہ صدرائی کے سب سے بڑے مروج اور شارح ہیں۔[23]

سید محمد حسین طباطبائی (۱۲۸۱-۱۳۶۰ش)، چودہویں شمسی صدی میں ایران کے مذہبی و فکری ماحول میں سب سے زیادہ اثر گزار شیعہ علمائے دین میں سے ہیں۔ حوزہ علمیہ قم میں بعد کے بہت سے فلسفی اساتید آپ کے شاگرد تھے۔

اہم ترین آثار فلسفی

مرتضی مطہری کے بقول اگرچہ فلسفہ اسلامی یونان سے کیا گیا ہے لیکن مسلمان فلسفیوں نے زیادہ سے زیادہ کتابیں لکھ کر اسے کافی وسیع کیا ہے۔[24] فلسفہ کے سلسلہ میں مسلمانوں کی اہم ترین کتابیں مندرجہ ذیل ہیں:

عالم اسلام میں فلسفہ کے مخالفین

اہل سنت کے درمیان تفکر معتزلہ کی شکست اور مسلک اشاعرہ و اہل حدیث کی کامیابی کے بعد اہل سنت میں فلسفہ کی مخالفت ایک فکر غالب بن کر ابھری[33]

مثلا اہل سنت عالم دین ابوبکر خوارزمی (متوفی ۳۸۳ھ) فلسفیوں کو مُلحد، اور فلسفہ کو کفر کی بنیاد سمجھتے تھے۔[34]

اہل سنت کے نامور عالم دین ابو حامد غزالی (متوفی ۵۰۵ھ)، ( جن کی اہم ترین کتاب «تہافت الفلاسفہ»، فلسفہ کی مخالفت میں ہے۔) نے فلسفیوں کی تین قسمیں بیان کی ہیں: دہری(منکر خداطبیعی(منکر آخرت) و الہی(بعض اسلامی عقائد جیسے معاد جسمانی کا منکر)۔ اور اسی وجہ سے وہ تمام فلاسفہ منجملہ افلاطون، ارسطو، ابن ‌سینا اور فارابی کی تکفیر کرتے ہیں۔[35] اہل سنت کے ممتاز عالم اور فقیہ ابن رشد(متوفی ۵۹۴ھ) اپنی کتاب «تہافت التہافت» میں بیان کرتے ہیں کہ فلاسفہ پر غزالی کے زیادہ تر اشکالات اس وجہ سے ہیں کہ انھوں نے فلاسفہ کے نظریات کو غلط سمجھا ہے۔[36]

اہل سنت کے ممتاز عالم دین ابن تیمیہ (متوفی ۷۲۹ھ) نے بھی «الردّ علی عقاید الفلسفہ»، «نصیحۃ اہل الایمان فی الردّ علی منطق الیونان» و «صون المنطق و الکلام عن فنّ المنطق و الکلام» جیسی کتابیں منطق و فلسفہ کے خلاف لکھی ہیں۔[37] ابن قیم جوزی (متوفی 751ھ) نے بھی اپنے استاد (ابن تیمیہ) کی پیروی کرتے ہوئے منطق و فلسفہ کے مخالفت میں لکھا ہے اور منطق کو رد کرنے کے لئے کچھ اشعار بھی کہے ہیں۔[38] اہل سنت کے درمیان فلسفے کی مخالفت کا زور بارہویں صدی ہجری میں محمد بن عبدالوہاب کے ذریعے اپنے عروج پر پہنچا اور آج بھی کچھ وہابیوں کے ذریعے یہ جاری و ساری ہے۔[39]
لیکن اہل سنت کے غالب ماحول کے برخلاف شیعوں کے درمیان تعقل اور عقل پذیری کا ماحول رہا؛ اس طرح سے کہ شیعوں کے بہت سے بزرگ فقہاء جیسے خواجہ نصیر الدین طوسی، علامہ حلّی، میر داماد، محمد باقر سبزواری، فاضل ہندی، ملا ہادی سبزواری، آخوند محمد کاظم خراسانی، محمد حسین غروی اصفہانی، محمد رضا مظفر، امام خمینی، مرتضی مطہری، سید محمد باقر صدر اہل فلسفہ بھی تھے۔[40]

اس کے باوجود گیارہویں صدی میں کچھ شیعہ علماء، اخباریت کے نام سے منطق اور فلسفے کی مخالفت کرتے تھے۔[41] اسی طرح ادھر آخری دہائیوں میں کچھ شیعہ علماء - جو «مکتب تفکیک» کے عنوان سے متعارف تھے - وہ فلسفے کے سیکھنے اور سکھانے یا فلسفے کے ذریعے دینی تعلیمات کی تفسیر کرنے کے مخالف تھے۔[42] اس مکتب کے کئی طرح کے طبقے یا درجے ہیں؛ ان میں سے کچھ لوگ جیسے میرزا مہدی اصفہانی و شیخ محمود حلبی مسلمان فلاسفہ کو خادم دین نہیں بلکہ دین اسلام کو نابود کرنے والا کہتے ہیں[43] اور فلسفے کو الہی تعلیمات کا بڑا دشمن سمجھتے ہیں۔[44] لیکن مکتب تفکیک کے اس زمانے کے حامی افراد جیسے سید جعفر سیدان و محمد رضا حکیمی خراسانی مکمل طور سے فلسفہ کا انکار نہیں کرتے ہیں بلکہ کہتے ہیں کہ دین کی روش اور فلسفہ کی روش کو الگ الگ قرار دینے والے مکتب کا نام مکتب تفکیک ہے۔[45] تاکہ اس طریقہ سے معارف وحی الہی کو علوم بشری کے ساتھ مخلوط ہونے سے محفوظ کیا جا سکے۔[46]

فلسفے کے بارے میں ائمہ علیہم السلام کی نظر

امام صادق علیہ السلام سے فلسفے اور فلسفیوں کی مذمت میں ایک روایت نقل ہوئی ہے کہ « فلسفی نما لوگ نابود اور برباد ہو جائیں کس طرح سے ان کے دل اس فطرت کو دیکھنے سے قاصر ہیں یہاں تک کہ اس فطرت میں تدبیر کے وجود کا انکار کر دیتے ہیں»۔[47] اسی طرح امام حسن عسکری علیہ السلام سے روایت ہے کہ « ایک وقت آئے گا جب ۔۔۔ ان کے علماء زمین کی بدترین مخلوق ہوں گے کیونکہ فلسفے اور تصوف کی طرف رجحان رکھتے ہیں؛ وہ لوگ اہل تحریف اور اہل عدول ہیں جو ہمارے دشمنوں کے ساتھ دوستی کرنے میں زیادتی اور ہمارے شیعوں کو گمراہ کرتے ہیں ۔۔۔ یہ لوگ راہ مومنین اور راہ مبلغین دین کو چوری کر کے الحادی گروہوں کی طرف لے جاتے ہیں۔[48]

کچھ محققین نے ان روایات کی سند کو ضعیف سمجھا ہے۔ ان لوگوں کی نظر میں اگر ان روایات کی سند کو صحیح مان بھی لیا جائے تو یہ ان فلسفی نما لوگوں کے لئے ہے جو دین سے منحرف ہیں اور لوگوں کو دین سے گمراہ کرتے ہیں۔ لہذا یہ نہیں سمجھنا چاہیے کیا کہ ائمہ معصومین علیہم السلام نے ہر فلسفے اور ہر فلسفی کی مذمت کی ہے۔ جیسا کہ آپ کی طرف سے بعض فقہاء کی مذمت کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ نے مکمل فقہ اور سارے فقہاء کی مذمت کی ہے۔[49]

حوالہ جات

  1. عبودیت، «آیا فلسفہ اسلامی داریم؟»، ۱۳۸۲ش، ص۲۸۔
  2. عبودیت، «آیا فلسفہ اسلامی داریم؟»، ۱۳۸۲ش، ص۲۸۔
  3. عبودیت، «آیا فلسفہ اسلامی داریم؟»، ۱۳۸۲ش، ص۲۸، ۲۹۔
  4. فاخوری، تاريخ فلسفہ در جہان اسلامی، ۱۳۷۳ش، ص۳۳۳؛ مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۸۹ش، ج۱۴، ص۴۵۸۔
  5. کربن، تاریخ فلسفہ اسلامی، ۱۳۵۸ش، ص۲۱۰۔
  6. عبودیت، «آیا فلسفہ اسلامی داریم؟»، ۱۳۸۲ش، ص۳۰، ۳۱۔
  7. مصباح یزدی، «فلسفہ اسلامی؛ میزگرد فلسفہ‌شناسی۳»، ۱۳۸۳ش، ص۱۳۔
  8. عبودیت، «آیا فلسفہ اسلامی داریم؟»، ۱۳۸۲ش، ص۳۲، ۳۳۔
  9. ژیلسون، روح فلسفہ قرون وسطی، ۱۳۷۹ش، ص۷، ۸۔
  10. مطہری، مجموعہ آثار، ج۵، ۱۳۷۶ش، ص۱۴۸،۱۔
  11. کربن، تاریخ فلسفہ اسلامی، ۱۳۵۸ش، ص۲۷۷؛ مطہری، مجموعہ آثار، ج۵، ۱۳۷۶ش، ص۱۴۸، ۱۴۹۔
  12. کربن، تاریخ فلسفہ اسلامی، ۱۳۵۸ش، ص۲۷۲؛ مطہری، مجموعہ آثار، ج۵، ۱۳۷۶ش، ص۱۴۸۔
  13. نصر، ملاصدرا؛ تعالیم، ۱۳۷۶ش، ص۱۹۳–۲۱۰۔
  14. فاخوری، تاريخ فلسفہ در جہان اسلامی، ۱۳۷۳ش، ص۳۷۴-۳۸۰۔
  15. فاخوری، تاريخ فلسفہ در جہان اسلامی، ۱۳۷۳ش، ص۳۹۷، ۳۹۸۔
  16. مطہری، مجموعہ آثار، ج۵، ۱۳۷۶ش، ص۱۴۸،۱۔
  17. ضیایی، شہاب الدین سہروردی بنیان‌ گذار مکتب اشراق، ص۲۷۱۔
  18. ضیایی، شہاب الدین سہروردی بنیان‌ گذار مکتب اشراق، ۱۳۸۶ش، ص۲۷۳-۲۷۵۔
  19. خراسانى، دايرۃ المعارف بزرگ اسلامى، ۱۳۷۴ش۔ ج۳، ص۵۵۶-۵۶۴۔
  20. بخشندہ ‏بالى، تأثير فلسفى ابن ‏رشد بر ابن ‏‌ميمون يہودى در اندلس قرون وسطا، مہر ۱۳۹۰، ص۹۵-۱۰۲۔
  21. دباشی و فتحی، میرداماد و تأسیس مکتب اصفہان، ۱۳۸۶ش، ص۲۸-۱۳۲۔
  22. حائری یزدی، درآمدی بر کتاب اسفار، ۱۳۷۱ش، ص۷۰۷۔
  23. حسینی سورکی، «نگاہی اجمالی بہ آراء و افکار و سبک و سلوک فکری و فلسفی ملا ہادی سبزواری»، ص۹۔
  24. مطہری، مجموعہ آثار، ۱۳۷۶ش، ج۵، ص۲۶-۳۲۔
  25. ملک شاہی،اشارات و تنبیہات ابن سینا، ۱۳۵۰ش، ص۵۷۔
  26. غرویان،الہیات شفا و شرح آن، ۱۳۷۰ش، ص۵۳۔
  27. حبیبی، دانشنامہ جہان اسلام، ۱۳۸۷ش، ج۱۳، ص ۷۷۰۔
  28. آشنایی با کتاب القبسات، ۱۳۸۶ش، ص۱۱۱۔
  29. حائری یزدی، درآمدی بر کتاب اسفار، ۱۳۷۱ش، ص۷۰۷۔
  30. آشتیانی، مقدمہ الشواہد الربوبیہ، ۱۳۸۶ش، ص۱۳۲؛ محقق داماد، مقدمہ الشواہد الربوبیہ، ۱۳۸۲ش، ص۵۔
  31. سبزواری، شرح منظومہ، ۱۴۱۳ھ، ج۲، مقدمہ، ص۳۰۔
  32. خرمشاہی، مقدمۂ اصول فلسفہ رئالیسم، ۱۳۸۷ش، ص۱۱۔
  33. اعرافی، بررسی فقہی فلسفہ‌ورزی و فلسفہ‌آموزی، ۱۳۹۱ش، ص۲۶-۲۸۔
  34. عبدالرزاق، تمہید لتاریخ الفلسفۀ السلامیۀ،۱۹۴۴م، ص۸۷-۸۸۔
  35. غزالی، المنقذ من الضلال،‍ ۱۹۹۳م، ص۳۱۔
  36. اعرافی، بررسی فقہی فلسفہ‌ورزی و فلسفہ‌آموزی، ۱۳۹۱ش، ص۵۷۔
  37. طویل، دین و فلسفہ، ۱۳۲۸ش، ص۱۷۲۔
  38. طویل، دین و فلسفہ، ۱۳۲۸ش، ص۱۷۲-۱۷۴۔
  39. اعرافی، بررسی فقہی فلسفہ‌ورزی و فلسفہ‌آموزی، ۱۳۹۱ش، ص۳۶۔
  40. اعرافی، بررسی فقہی فلسفہ‌ورزی و فلسفہ‌آموزی، ۱۳۹۱ش، ص۶۰-۶۷۔
  41. ابراہیمی دینانی، ماجرای فکر فلسفی در جہان اسلام، ۱۳۷۶ش، ج۱، صص۱۰۴-۱۲۳۔
  42. اعرافی، بررسی فقہی فلسفہ‌ورزی و فلسفہ ‌آموزی، ۱۳۹۱ش، صص۴۴-۴۷۔
  43. ارشادی ‌نیا، نقد و بررسی مکتب تفکیک، ۱۳۸۲ش، ص۱۰۱، بہ نقل از: تقریرات میرزا مہدی اصفہانی، مرکز اسناد آستان قدس رضوی، ش۱۲۴۸۰، ص۲۵۔
  44. موسوی، آئین و اندیشہ، ۱۳۸۲ش، ص۲۳، بہ نقل از: شیخ محمود حلبی، دروس معارف الہیہ، ص۸۔
  45. خسرو پناہ، جریان‌ شناسی فکری ایران معاصر، ۱۳۹۰ش، ص۱۱۱-۱۱۸۔
  46. حکیمی، مکتب تفکیک، ۱۳۷۵ش، ص۴۴-۴۷۔
  47. فتبّاً و خیبهًْْ و تعساً لمنتحلیْْْ الفلسفهْْ کیف عمیت قلوبهم عن هذه الخلقهْْ العجیبهْْ حتی أنکروا التدبیر و العمد فیها : مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۳، ص۷۵۔
  48. علماؤهم شرار خلق الله علی وجهالأرض لأنّهم یمیلیون الی الفلسفهْْ و التصوف، و أیم الله انّهم من أهل العدول و التحرف، یبالغون فیْْْ حبّ مخالفینا و یضلّون شیعتنا و موالینا؛ نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ھ، ج۱۱، ص۳۸۰۔
  49. اعرافی، بررسی فقہی فلسفہ‌ورزی و فلسفہ‌آموزی، ۱۳۹۱ش، ص۱۲۶-۱۳۴۔

مآخذ

  • «آشنایی با کتاب القبسات»، حکمت رضوی، ش۱۶، ۱۷، ۱۳۸۶شمسی ہجری۔
  • ابراہیمی دینانی، غلام‌حسین، ماجرای فکر فلسفی در اسلام، تہران، انتشارات طرح نو، ۱۳۷۶شمسی ہجری۔
  • ارشادی‌نیا، محمدرضا، نقد و بررسی مکتب تفکیک، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۲شمسی ہجری۔
  • اعرافی، علی‌رضا، بررسی فقہی فلسفہ‌ورزی و فلسفہ‌آموزی، قم، انتشارات موسسہ فرہنگی اشراق و عرفان، ۱۳۹۱شمسی ہجری۔
  • باقری خرمدشتی، با ہمکاری فاطمہ عسگری، کتابشناسی جامع ملاصدرا، تہران، بنیاد حکمت اسلامی صدرا، چاپ اول، ۱۳۷۸شمسی ہجری۔
  • بخشندہ ‏بالى، عباس، تأثير فلسفى ابن ‏رشد بر ابن ‏‌ميمون يہودى در اندلس قرون وسطا، معرفت، سال بيستم، شمارہ ۱۶۶، مہر ۱۳۹۰۔
  • حائری یزدی، «درآمدی بر کتاب اسفار»، ایران‌شناسی، ش۱۶، ۱۳۷۱شمسی ہجری۔
  • حبیبی، نجفقلی، «حکمۃ الاشراق»، دانشنامہ جہان اسلام، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۷شمسی ہجری۔
  • حسینی سورکی، سیدمحمد، «نگاہی اجمالی بہ آراء و افکار و سبک و سلوک فکری و فلسفی ملا ہادی سبزواری»، فروغ اندیشہ، ش۱، ۱۳۸۰شمسی ہجری۔
  • حکیمی، محمدرضا، مکتب تفکیک، قم، دفتر نشر فرہنگ اسلامی، ۱۳۷۵شمسی ہجری۔
  • خراسانى، شرف‌الدين، دايرۃالمعارف بزرگ اسلامى، زير نظر كاظم موسوى بجنوردى، تہران، مركز دايرۃالمعارف بزرگ اسلامى، چاپ دوم، ۱۳۷۴شمسی ہجری۔
  • خسروپناہ، جریان‌شناسی فکری ایران معاصر، قم، تعلیم و تربیت اسلامی، چاپ سوم، ۱۳۹۰شمسی ہجری۔
  • دباشی، حمید، «میرداماد و تأسیس مکتب اصفہان»، ترجمہ: حسن فتحی، در: تاریخ فلسفہ اسلامی، ج۳، زیر نظر سید حسین نصر و الیور لیمن، تہران، انتشارات حکمت، ۱۳۸۶شمسی ہجری۔
  • ژیلسون، اتین، روح فلسفہ قرون وسطی، ترجمہ داودی، تہران، شرکت انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۷۹شمسی ہجری۔
  • سبزواری، ملاہادی، شرح منظومہ، شرح علامہ حسن زادہ، تحقیق مسعود طالبی، تہران، نشر ناب، ۱۴۱۳ۃ
  • صدرالدین شیرازی، محمد بن ابراہیم، الشواہد الربوبیہ فی المناہج السلوکیہ، مقدمہ، تصحیح و تعلیق سیدجلال الدین آشتیانی، قم، دفتر تبلیغات اسلامی، چاپ چہارم، ۱۳۸۶شمسی ہجری۔
  • صدرالدین شیرازی، محمد بن ابراہیم، الشواہد الربوبیہ فی المناہج السلوکیہ، تصحیح، تعلیق و مقدمہ سیدمصطفی محقق داماد، تہران، بنیاد حکمت اسلامی صدرا، چاپ اول، ۱۳۸۲شمسی ہجری۔
  • ضیایی، حسین، «شہاب الدین سہروردی، بنیان‌گذار مکتب اشراق»، ترجمہ یوسف شاقول و سیما نوربخش، در: تاریخ فلسفہ اسلامی، ج۲، زیر نظر سیدحسین نصر و الیور لیمن، تہران، انتشارات حکمت، ۱۳۸۶شمسی ہجری۔
  • طباطبائی، محمدحسین، اصول فلسفۂ رئالیسم، قم، موسسہ بوستان کتاب، ۱۳۸۷شمسی ہجری۔
  • طویل، توفیق، دین و فلسفہ، ترجمہ: محمدعلی خلیلی، تہران، شرکت نسبی حاج محمدحسین اقبال و شرکاءتہران، ۱۳۲۸شمسی ہجری۔
  • عبودیت، عبدالرسول، «آیا فلسفہ اسلامی داریم؟»، معرفت فلسفی، ش۱، ۱۳۸۲شمسی ہجری۔
  • غرویان، محسن، «الہیات شفا و شرح آن»، آینہ پژوہش، ش۱۱، ۱۳۷۰شمسی ہجری۔
  • فاخوری، حنا و جر، خلیل، تاریخ فلسفہ در جہان اسلامی، ترجمہ عبدالمحمد آیتی، تہران، علمی و فرہنگی، ۱۳۷۳شمسی ہجری۔
  • کربن، ہانری، تاریخ فلسفہ اسلامی، ترجمہ اسداللہ مبشری، تہران، امیرکبیر، چاپ دوم، ۱۳۸۵شمسی ہجری۔
  • مصباح یزدی و دیگران، «فلسفہ اسلامی؛ میزگرد فلسفہ‌شناسی۳»، معرفت فلسفی، ش۳، ۱۳۸۳شمسی ہجری۔
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار شہید مطہری، تہران، صدرا، چاپ چہاردہم، ۱۳۸۹شمسی ہجری۔
  • ملکشاہی، حسن، «اشارات و تنبیہات ابن سینا»، مقالات و بررسی‌ہا، ش۵و۶، ۱۳۵۰شمسی ہجری۔
  • موسوی، سید محمد، آیین و اندیشہ؛ بررسی مبانی و دیدگاہ‌ہای مکتب تفکیک، تہران، انتشارات حکمت، ۱۳۸۲شمسی ہجری۔
  • نصر، سید حسین، «ملاصدرا؛ تعالیم»، ترجمہ حسین غفاری، در: تاریخ فلسفہ اسلامی، ج۳، زیر نظر سیدحسین نصر و الیور لیمن، تہران، انتشارات حکمت، ۱۳۸۶شمسی ہجری۔