ادلہ اربعہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ
السعید۲.jpg
اصول دین (عقائد)
بنیادی عقائد توحید  • عدل  • نبوت  • امامت  • معاد یا قیامت
دیگر عقائد عصمت  • ولایت  • مہدویت: غیبت  • انتظار • ظہور • رجعت  • بداء  • ......
فروع دین (عملی احکام)
عبادی احکام نماز • روزہ • خمس • زکات • حج • جہاد
غیرعبادی احکام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  • تولا  • تبرا
مآخذ اجتہاد قرآن کریم  • سنت (پیغمبر اور ائمہ کی حدیثیں)  • عقل  • اجماع
اخلاق
فضائل عفو • سخاوت • مواسات • ...
رذائل كبر  • عُجب  • غرور  • حسد  • ....
مآخذ نہج البلاغہ  • صحیفۂ سجادیہ  • .....
نمایاں عقائد
امامت  • مہدویت • رجعت • بدا • شفاعت  • توسل  • تقیہ  • عصمت  • مرجعیت، تقلید • ولایت فقیہ • متعہ  • عزاداری  • متعہ  • عدالت صحابہ
شخصیات
شیعہ ائمہ امام علیؑ  • امام حسنؑ  • امام حسینؑ  • امام سجادؑ  • امام باقرؑ  • امام صادقؑ  • امام کاظمؑ  • امام رضاؑ  • امام جوادؑ  • امام ہادیؑ  • امام عسکریؑ  • امام مہدیؑ  •
صحابہ سلمان فارسی  • مقداد بن اسود  • ابوذر غفاری  • عمار یاسر

خواتین:

خدیجہؑ • فاطمہؑ • زینبؑ • ام کلثوم بنت علی • اسماء بنت عمیس • ام ایمن  • ام سلمہ
شیعہ علما ادبا • علمائے اصول • شعرا • علمائے رجال • فقہا • فلاسفہ • مفسرین
مقامات
مسجد الحرام • مسجد النبیبقیع • مسجدالاقصی • حرم امام علیمسجد کوفہ  • حرم امام حسینؑ • حرم کاظمین • حرم عسکریینحرم امام رضاؑ
حرم حضرت زینب • حرم فاطمہ معصومہ
اسلامی عیدیں
عید فطر • عید الاضحی • عید غدیر خم • عید مبعث
شیعہ مناسبتیں
ایام فاطمیہ • محرّم ، تاسوعا، عاشورا اور اربعین
واقعات
واقعۂ مباہلہ • غدیر خم • سقیفۂ بنی ساعدہ • واقعۂ فدک • خانۂ زہرا کا واقعہ • جنگ جمل • جنگ صفین • جنگ نہروان • واقعۂ کربلا • اصحاب کساء  • افسانۂ ابن سبا
شیعہ کتب
الکافی • الاستبصار • تہذیب الاحکام • من لایحضرہ الفقیہ
شیعہ مکاتب
امامیہ • اسماعیلیہ • زیدیہ • کیسانیہ

ادلّہ اربعہ علم اصول فقہ کی ایک اصطلاح ہے جس سے مراد وہ چار معتبر فقہی منابع ہیں جن سے شرعی احکام کو استنباط کیا جاتا ہے۔ شیعہ نقطہ نگاہ سے کتاب، سنت، عقل اور اجماع وہ چار معتبر ذرایع ہیں جن سے شرعی احکام کو استنباط کیا جاتا ہے۔ ان منابع کی حجیت سے علم اصول میں بحث ہوتی ہے۔ ان کے مقابلے میں بعض غیرمعتبر منابع بھی موجود ہیں جیسے قیاس، استحسان اور سد ذرایع لیکن شرعی احکام کو ثابت کرنے کیلئے ان پر اعتماد نہیں کیا جاتا۔

اخباری مذکورہ چار منابع میں سے صرف کتاب اور سنت کو معتبر جبکہ عقل اور اجماع کو شرعی احکام کے استنباط میں حجت نہیں سمجھتے۔

اقسام دلیل

دلیل کو مختلف لحاظ سے درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے:

  • دلیل اس لحاظ سے کہ اس کا مدلول حکم واقعی ہے یا حکم ظاہری، دو قسم، اجتہادی اور فقاہتی میں تقسیم ہوتی ہے:
  1. دلیل اجتہادی اس دلیل کو کہا جاتا ہے جو حکم واقعی پر دلالت کرتی ہے۔ چون دلیل حکم واقعی پر گمان حاصل ہونے کا موجب بنتی ہے لھذا اسے دلیل اجتہادی کہا جاتا ہے۔
  2. دلیل فقاہتی اس دلیل کو جاتا ہے جو حکم ظاہری کو ثابت کرتی ہے۔ یہ دلیل اس وقت کام آتی ہے جب کسی چیز کے حکم واقعی کے بارے میں کوئی دلیل موجود نہ ہو تو اس صورت میں حیرت اور پریشانی سے نکلنے کی خاطر اس چیز پر ظاہرا حکم بار کیا جاتا ہے۔ اس دلیل کو اصول عملیہ بھی کہا جاتا ہے۔ [1]
  • دلیل دلات کی نوعیت کے اعتبار سے دو قسم لفظی اور لبی میں تقسیم ہوتی ہے:
  1. دلیل لبی سے مراد وہ دلیل ہے جو لفظ میں سے نہ ہو جیسے اجماع، سیرہ عقلا و ...
  2. دلیل لفظی سے مراد وہ دلیل ہے جو لفظ پر مشتمل ہو جیسے روایات وغیرہ۔ [2]

کتاب

ادلہ اربعہ میں کتاب سے مراد قرآن کریم ہے۔ قرآن میں تقریبا ۵۰۰ آیات احکام سے مربوط ہیں انہیں آیات الاحکام کہا جاتا ہے۔ فقہ موضوع کے لحاظ سے انہی آیات سے استناد کیا جاتا ہے اور اصول فقہ میں قرآن کے ظواہر کی حجیت سے جو بحث کی حاتی ہے اس سے مراد بھی یہی آیات ہیں۔

اخباری حضرات کا قرآن کریم کے ظاہر کی حجیت کے انکار کی وجہ سے علم اصول میں اس بحث میں زیادہ رونق آگئی ہے۔ پہلی بار امین استرآبادی نے قرآن کے ظاہر کی حجیت سے انکار کیا اس کے مطابق قرآن کے ظاہر سے استنباط صرف اور صرف ظن اور گمان کا فائدہ دیتا ہے جو استنباط میں اس کے معیار کے منافی تھا کیونکہ وہ اس کے معیار کے مطابق استنباط میں یقین اور علم کی منزل تک پہنچنا ضروری ہے اسلئے اس نے قرآن کے ظواہر کی حجیت کا انکار کیا۔

اصل مضمون:قرآن

سنت

سنت ایک فقہی اصطلاح ہے جو کسی معصوم کے قول، فعل اور تقریر پر اطلاق ہوتا ہے۔ سنت کا دائرہ اہل سنت اور اہل تشیع کے ہاں مختلف ہے یعنی اہل سنت صرف پیغمبر اکرم(ص) کے گفتار، رفتار اور تقریر کو سنت کہتے ہیں جبکہ اہل تشیع پیغمبر کے ساتھ ساتھ اماموں کے قول، فعل اور تقریر کو بھی سنت کے ساتھ ملحق کرتے ہیں۔[3]

سنت کے اقسام

  1. قول معصوم: اس سے مراد معصومین علیہم السلام کے وہ فرامین ہیں جو براہ راست خبر متواتر یا خبر واحد کی شکل میں ہم تک پہنجا ہو جسے اصطلاح میں حدیث بھی کہا جاتا ہے۔ چہ بسا حدیث کو سنت کا مترادف سمجھا جاتا ہے جبکہ حدیث سنت نہیں بلکہ سنت سے حکایت کرنے والی چیز ہے۔ [4]
  2. فعل معصوم: سنت فعلی اس عمل کو کہا جاتا ہے جسے معصوم نے تشریع کی قصد سے انجام دیا ہو جیسے وضو کرنا، نماز پڑھنا، حج بجالانا وغیرہ۔ پیغمبر اکرم(ص) سے منقول ہے کہ اپنے اصحاب سے فرمایا کہ "جس طرح میں نماز پڑھتا ہوں اسی طرح نماز پڑھو"۔ اگر کسی معصوم سے کوئی عمل صادر ہوجائے تو یہ چیز کم از کم اس عمل کے جایز ہونے اور حرام نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ جس طرح اگر کسی کام کو معصوم نے ترک کیا ہو تو اس سے کم از کم اس عمل کے واجب نہ ہونے پر یقین حاصل ہوتا ہے۔[5] صحابہ کے زمانے میں کوئی مواقع پر جس طرح پیغمبر اکرم(ص) کا عمل مورد استناد واقع ہوتا تھا، آپ کا کسی کام کو ترک کرنا بھی مورد استناد واقع ہوتا تھا۔ [6]
  3. تقریر معصوم:تقریر معصوم سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے معصوم کے سامنے کوئی کام انجام دے یا کوئی بات کہے یا کسی عقیدے کا اظہار کرے اور معصوم کسی مانع جیسے تقیہ وغیرہ، کے بغیر اس عمل سے منع نہ فقط منع نہ کرے بلکہ خاموش رہ ہے۔ معصوم کا یہ خاموش رہنا گویا اس عمل یا بات یا عقیدے کے صحیح ہونے کی تصدیق سمجھی جاتی ہے۔[7]

تقریر بھی فعل کی طرح حکم کی نوعیت کو بیان نہیں کرتی مگر یہ کہ کوئی خاص قرینہ موجود ہو جو کسی خاص نوع پر دلالت کرے۔ [8]

اصلی مضمون: سنت

اجماع

اجماع سے مراد کسی شرعی حکم پر تمام علماء کے اتفاق کو کہا جاتا ہے۔ اہل سنت کے ہاں اجماع کی خاص اہمیت ہے اور اسے ایک مستقل دلیل سمجھتے ہیں جبکہ اہل تشیع کے ہاں خود اجماع کوئی مستقل دلیل نہیں بلکہ یہ سنت کو کشف کرنے کا ایک راستہ ہے اس بنا پر اگر اجماع کے ذریعے معصوم کا قول کشف ہوا تو یہ اجماع حجیت ہے ورنہ خود اجماع من حیث اجماع کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ [9] علم اصول میں اجماع کی مختلف قسمیں بیان ہوئی ہیں۔

اصلی مضمون: اجماع

عقل

علم اصول کے مشہور علماء عقل کو کتاب اور سنت کے مقابلے میں ایک مستقل دلیل مانتے ہیں۔[10] لیکن اخباری حضرات عقل کو مستقل دلیل نہیں مانتے۔ یہاں عقل سے مراد عقل کے وہ احکام ہیں جو ہمیں کسی حکم شرعی تک پہنچائے۔[11]

ملازمہ

اکثر شیعہ اور اہل سنت علما کی ایک جماعت اس بات پر متفق ہے کہ حکمِ عقلی اور حکمِ شرعی کے درمیان ملازمہ پایا جاتا ہے یعنی دونوں ایک دوسرے کو لازم ہیں۔ لیکن اخباری حضرات اور بعض اہل سنت علماء اس بات کو قبول نہیں کرتے۔ دوسرے لفظوں میں جو حضرات احکام شریعہ استنباط کرنے میں عقل کو ایک مستقل مآخذ مانتے ہیں ۔ وہ اس ملازمے کے بھی قائل ہیں اور جو لوگ عقل کو احکام میں مستقل مآخذ مہیں مانتے ہیں وہ اس ملازمے کے بھی قائل نہیں ہیں۔[12]

یاد رہے کہ یہ ملازمہ صرف ایک مورد میں پایا جاتا ہے اور وہ صرف حسن و قبح عقلی ہے۔ [13]

اصلی مضمون: عقل

اقسام حکم عقلی

احکام عقلی دو اقسام: مستقلات عقلیہ اور غیر مستقلات عقلیہ ، کی طرف تقسیم ہوتے ہیں۔

  • مستقلات عقلیہ:وہ دلیلیں ہیں جن میں عقل شریعت کی مدد کے بغیر کسی حکم کو حاصل کرتی ہے جیسے عقل کا عدل کرنے کو اچھا سمجھتی ہے اور اسکے انجام دینے کا حکم دیتی ہے۔
  • مستقلات غیر عقلیہ:جن میں عقل شریعت کی مدد سے حکم تک رسائی حاصل کرتی ہے مثلا ذی المقدمے کے واجب شرعی ہونے کی صورت میں عقل اسکے مقدمے کے عقلی واجب ہونے کا حکم بھی لگاتی ہے۔اسکی تفصیل کیلئے اصول فقہ میں مسئلۂ اجزا میں تفصیل بیان ہوتی ہے۔

حوالہ جات

  1. محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۱، ص ۶؛ شیخ انصاری، فرائد الاصول، ج ۲، ص ۱۰
  2. محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۱، ص ۱۴۰
  3. محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۲، ص ۶۴-۶۵
  4. محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۲، ص ۶۴
  5. زحیلی، وہبہ، الوجیز فی اصول الفقہ، ص ۳۵. ولایی، عیسی، فرہنگ تشریحی اصطلاحات اصول، ص ۲۱۶. محمدی، علی، شرح اصول فقہ، ج ۳، ص۱۲۰- ۱۱۹. ابو زہرہ، محمد، اصول الفقہ، ص ۹۷. فرہنگ نامہ اصول فقہ، ۴۹۲
  6. شہابی، ادوار فقہ، ج1، ص403.
  7. محمدی، علی، شرح اصول فقہ، ج۳، ص۱۳۰؛ مظفر، محمد رضا، اصول الفقہ، ج۲، ص۶۸- ۶۷
  8. الأصول العامة، ص۲۳۶ ۲۳۷
  9. محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۲، ص ۳۵۳
  10. محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۲، ص ۱۱۵
  11. محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۲، ص ۱۱۸
  12. ابوالقاسم علیدوست، فقہ و عقل، قبسات ۱۳۷۹، شمارہ ۱۵ و ۱۶
  13. محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، ج ۲، ص ۱۱۵


مآخذ

  • مرتضی انصاری،‌ فرائد الاصول، مجمع الفکر الاسلامی، قم، ۱۴۱۹ق
  • محمدرضا مظفر، اصول الفقہ، مرکز انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم، ۱۳۷۰
  • فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام، زیرنظر آیت اللہ سید محمود ہاشمی شاہرودی، مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی،‌۱۳۸۷ ش، قم