کتائب حزب اللہ عراق

ویکی شیعہ سے
کتائب حزب‌ اللہ عراق
عمومی معلومات
بانیابو مہدی المہندس
تاسیس2007ء
نوعیتنظامی • سیاسی • فرہنگی
ہدفعراق سے امریکی فوجیوں کا انخلاء
ہیڈ کوارٹرعراق
وسعت مکانیعراقسوریہ
سیکرٹری جنرلابو حسین حمیداوی
متعلقہ ادارےبنیاد الزینبیات • کَشّافہ امام حسینؑ • مؤسسہ النُّخَب فاؤنڈیشن • الصَّباح مطالعاتی سنٹر
ویب سائٹشبکہ تلویزیونی الاتجاہ (https://www.aletejahtv.iq) • شبکہ رادیویی الکوثر • روزنامہ المراتب العراقی
دیگر اسامیحزب‌ اللہ برگیئڈ عراق
ملکعراق


کَتائب حزب‌اللہ عراق (حزب اللہ عراق برگیڈ) عراق کی شیعہ ملیشیا فورس جو عراق میں امریکہ کو شکست دینے اور امریکی فوجیوں کو عراق سے خارج کرنے کی غرض سے بنی۔ کتائب حزب اللہ عراق کے بانی ابو مہدی المہندس تھے جنہوں نے سنہ 2003ء میں اس کا نظریہ دیا اور سنہ 2007ء میں رسمی طور پر اعلان کیا گیا۔ کتائب کا نظامی حدود جُرفُ الصَّخَر ہے جہاں پر امریکی فوجیوں کے خلاف متعدد حملے کئے ہیں اور عراق اور شام میں داعش کے خلاف جنگ میں بھی شرکت کی۔ کتائب حزب اللہ، حشد الشعبی کو تشکیل دینے والے گروہوں میں سے ایک ہے جو دو حصوں پر مشتمل ہے؛ سپیشل آپریشن برانچ اور عراق عسکری دفتر۔

یہ تنظیم عسکری اہداف کے علاوہ دینی اور سماجی اداروں کی تاسیس کے حوالے سے بھی کام کرتی ہے۔ عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء اور داعش کی شکست کے بعد عراق میں سیاسی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتی رہی ہے۔

تعارف

کتائب حزب‌اللہ، عراق میں شیعہ ملیشیا فورس کا ایک گروپ ہے جو سنہ 2003ء میں عراق پر امریکی تسلط کے بعد وجود میں آیا جس کا نصب العین، عراق سے امریکی اور برطانوی غاصب فوجیوں کا انخلاء تھا۔[1] اس گروپ نے عراق میں امریکی مداخلت کے دوران امریکی اور برطانوی فوجیوں کے خلاف متعدد آپریشن انجام دیا جس کے نتیجے میں سنہ 2009ء میں امریکہ نے کتائب حزب اللہ پر پابندی لگادی اور اسے دہشتگرد گروپوں میں شامل کیا۔[2] وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کتائب حزب‌اللہ حشد الشعبی کو تشکیل دینے والے گروہوں میں شامل ہوگیا۔[3]

اس گروہ نے سنہ 2007ء سے 2011ء تک امریکہ کے خلاف سب سے زیادہ آپریشن انجام دیے اور اپنے اہداف کے حصول میں سنہ 2011ء میں 15 امریکی فوجیوں کو مار دیا۔[4] امریکہ نے بھی اس کا انتقام لیتے ہوئے کتائب حزب اللہ کے 25 افراد کو شہید کیا اور متعدد زخمی ہوئے۔ ابو مہدی المہندس کا قتل بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔[5]

کتائب حزب‌اللہ عراق نے عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء اور داعش کی شکست کے بعد سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیا اور امریکہ نواز کسی شخص کا وزیر اعظم بننے سے روکنے کے لئے سخت کوشاں رہتے ہیں۔[6]

تأسیس

ابو مہدی المہندس کو کتائب حزب اللہ کا بانی سمجھا جاتا ہے[7] جنہوں نے حزب اللہ لبنان سے الہام لیتے ہوئے کتائب حزب اللہ کی بنیاد رکھا[8] اور شہادت تک اس کے تنظیمی امور پر نظارت رکھتے تھے۔[9] کتائب کا ابتدائی خاکہ سنہ 2003ء میں پیش ہوا لیکن سنہ 2007ء میں عراق میں داعش سامنے آنے کے بعد اپنی سرگرمیوں کو علنی اور رسمی طور پر شروع کیا۔[10] کہا جاتا ہے کہ اس تنظیم کے زیادہ تر اراکین سپاہ بدر اور مقتدی صدر کے طرفدار ہیں۔[11]

کتائب کا لفظ عربی میں برگئیڈ کے معنی میں ہے[12] اور کتائب حزب اللہ عراق میں پانچ بٹالین؛ ابوالفضل العباس بٹالین، کتائب کربلا، کتائب زید بن‌علی، کتائب علی‌ اکبر اور کتائب السجاد شامل ہیں۔[13]

خصوصیات

کتائب، عراق میں موجود دیگر مزاحمتی گروہوں کی نسبت دو اہم خصوصیات کا حامل ہے:

  1. جنگی مخصوص ساز و سامان سے استفادہ کرنا؛ جیسے آپریشنز میں اشتر میزائیل کا استعمال۔
  2. اطلاعات کی نگہداشت میں شدید کنٹرول،[14] کتائب حزب اللہ کے بیشتر افراد کے فرضی نام اجسام اور اعداد سے اخذ شدہ ہوتے ہیں اور کسی بھی طرح کے معلومات ان کے ہاتھ نہیں آتے ہیں۔ یہاں تک کہ کمانڈروں کے نام تک معلوم نہیں ہوتے ہیں اور فرضی ناموں سے جانتے ہیں۔ اعلی درجے کے کمانڈروں کو «الخال» یعنی (ماموں) سے پکارا جاتا ہے۔ ابو مہدی المہندس کو «الشایب» (ریش‌ سفید) کا نام دیا گیا تھا۔[15]

تنظیمی ڈھانچہ

کتائب کے دو اصلی حصے ہیں:

  • مخصوص آپریشنز
  • عراق عسکری دفتر[16]

کتائب پر پر نظارت کے لئے ایک شخص ہمیشہ باہر سے ہوتا ہے۔ ابومہدی المہندس اپنی شہادت تک ناظر تھے اور ان کی شہادت کے بعد اس وقت بیروت میں مقیم شیخ محمد السناد نامعلوم شیعہ عالم دین اس پر نظارت کرتے ہیں۔[17] کہا جاتا ہے کہ اس میں نئے افراد کی شمولیت ممبرشپ فارم پر کرنے کے بعد اس کے رشتہ داروں اور عراق کے قبائلی سسٹم کے تحت اس کی تائید کے ساتھ صرف تنظیم کے کسی فرد کی تجویز اور تائید سے ممکن ہوتا ہے۔[18]

نظامی جغرافیہ

جنوب بغداد کا علاقہ جُرفُ الصَّخَر کتائب کا عسکری علاقہ اور ان کا اڈہ سمجھا جاتا ہے[19] یہ اڈہ اہل سنت کے علاقے میں واقع ہے اور حکومتی فورسز کو وہاں داخل ہونے کا حق نہیں ہے اور کتائب نے اس علاقے کی ملکیت کو حکومت سے اپنے لئے دریافت کیا ہے۔[20]

کتائب کی شورا

وزارت دفاع امریکہ میں عراق کی سکیورٹی اور عسکری امور کے ماہر مائکل نایٹس کہتے ہیں کہ کتائب کی شورا 5 افراد پر مشتمل ہے جن میں سے کوئی ایک بھی عالم دین نہیں ہے جن میں اکثر عراق کے سابق مبارز اور جنگجو ہیں۔[21] یہ افراد درج ذیل ہیں:

  • احمد محسن فرح الحمیداوی (ابو حسین، ابو زید اور ابوز لاحلی کے نام سے)؛ سیکرٹری جنرل اور مخصوص آپریشنز کے کمانڈر
  • عبد العزیز المحمداوی (فرضی نام: ابو حمید اور ابو فدک)؛ عراق عسکری دفتر کے کمانڈر
  • شیخ جاسم السودانی (ابو احمد)؛ مالی امور اور سپورٹ کے انچارج
  • جعفر الغانمی (ابو اسد)؛ سول اور غیر نظامی امور کے انچارج
  • شیخ جاسم (ابو کاظم)؛ ادارہ کتائب کا انچارج جس میں پنشنرز، شہدا اور غازیوں کے خاندان کے امور اور علاج معالجے کے ذمہ دار ہیں۔[22]

متعلقہ ادارے

کتائب عسکری سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ بعض دیگر امور بھی انجام دیتا ہے:

  • بنیاد الزَیْنَبیات؛ ایک اسلامی اور ثقافتی ادارہ ہے جو خواتین کے لئے بنایا گیا ہے جس کا مقصد خواتین کو اسلامی اور عراقی اقدار کی طرف رہنمائی اور تولید نسل کی تعلیم دینا ہے۔
  • کَشّافہ امام حسینؑ؛ جوانوں اور نوجوانوں کو عسکری تربیت دیتا ہے جو ایران کے بسیج، حزب‌ اللہ لبنان اور انصاراللہ یمن سے الہام لیتے ہوئے تاسیس کیا ہے۔
  • مؤسسہ النُّخَب؛ یونیورسٹی کے افراد کے لئے ایک عصری ادارہ جو نئی نسل کی تربیت، علمی اور تعلیمی سفر نیز فارسی زبان سکھانے میں کوشاں ہے۔
  • کتائب حزب‌اللہ کا ڈاکٹرائن؛ جو مساجد، امام بارگاہوں کی مدیریت، علمی مناظرات، کانفرنسوں کا انعقاد اور تکریم شہدا کے پروگرام ان کے ذمے ہے۔
  • الصَّباح مطالعاتی سنٹر؛ امام خمینی کا سیاسی نظریہ یعنی ولایت فقیہ اور دینی حکمرانی کی بنیاد پر کام کرتا ہے۔ نیز کتابخانوں کا انعقاد، نمایشگاہوں کا انعقاد، کتائب اور حشد الشعبی کے شہدا کی سالگرہ نیز یوم القدس کا انعقاد ان کی اہم فعالیتوں میں سے ہیں۔
  • میڈیا پر سرگرمیاں؛ ویب چینل الاتّجاہ (https://www.aletejahtv.iq)، ریڈیو الکوثر اور المراتب العراقی اخبار۔[23]

شام کی جنگ میں شرکت

عراق سے امریکی فوجیوں کے انخلاء کے بعد کتائب نے مزاحمتی بلاک سے اتحاد و قرارداد کے تحت حیدریون کے نام سے کتائب حزب‌ اللہ، عصائب اہل حق اور کتائب سید الشہداء پر مشتمل ایک گروہ تشکیل دیا اور ایران کی القدس برگئیڈ کی تعاون سے شام میں داعش کے خلاف محاز میں شامل ہوا۔ کتائب حزب اللہ نے اس جنگ میں خود کو کتائب حزب‌ اللہ شعبہ شام سے خود کو معرفی کیا اور مزاحمتی بلاک کے ایک اہم گروہ کی حیثیت سے اپنی پہچان کروایا۔[24]

حوالہ جات

  1. حلفی، حشد الشعبی بسیج مردمی عراق، ص49.
  2. حلفی، «حشد الشعبی بسیج مردمی عراق»، ص49.
  3. افشون؛ اللہ کرم، «مقایسہ رویکرد امنیتی آمریکا و حشد شعبی در عراق»، ص44.
  4. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص81.
  5. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص86.
  6. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص87.
  7. «من ہو أبو مہدی المہندس "العدو اللدود" للولایات المتحدة فی العراق والذی قتل مع سلیمانی؟»، سایت فرانس 24.
  8. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص80.
  9. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص84.
  10. «کتائب حزب‌اللہ عراق چیست؟»، سایت بی‌بی‌سی فارسی.
  11. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص80.
  12. «کتائب حزب‌اللہ عراق چیست؟»، سایت بی‌بی‌سی فارسی.
  13. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص80.
  14. حلفی، حشد الشعبی بسیج مردمی عراق، ص49.
  15. «گردان‌ہای حزب‌اللہ عراق»، سایت العربیہ فارسی.
  16. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص91.
  17. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص91.
  18. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص81.
  19. «گردان‌ہای حزب‌اللہ عراق»، سایت العربیہ فارسی.
  20. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص96.
  21. آزاد، کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون، ص92.
  22. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص92و93.
  23. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص93-95.
  24. آزاد، «کتائب حزب‌اللہ در گزارش مایکل نایتس بہ پنتاگون»، ص82.

مآخذ