رے

ویکی شیعہ سے
(شہر ری سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
رے
شهر ری.jpg
عمومی معلومات
ملک ایران
صوبہ تہران
آبادی 3 لاکھ نفوس (1390 شمسی)
تاریخی خصوصیات
تاریخ اسلام سنہ 18 سے 24 ہجری
تاریخ تشیع دوسری صدی کے اواخر
اماکن
زیارتگاہیں حرم عبدالعظیم
حوزہ علمیہ حوزہ علمیہ ری
مشاہیر
مذہبی کلینیشیخ صدوقابوالفتوح


رے یا شہر رے ایران کے مذہبی اور زیارتی شہروں میں سے ہے جو چھٹی صدی ہجری تک سیاسی اور مذہبی حوالے سے اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ شہر ایران باستان میں مذہب زرتشت کا دارالخلافہ رہا ہے۔ اشکانیوں کے دور میں یہ شہر گرمیاں گزارنے کی جگہ تھی اسی طرح اسلامی دور حکومت میں آل بویہ اور سلجوقیوں کا دارالخلافہ محسوب ہوتا تھا۔ لیکن اس کے بعد اس کی اہمیت اور شہرت میں کمی آگئی۔ موجودہ دور میں اس شہر کو عبدالعظیم حسنی کے روضہ اقدس کی وجہ سے عالم تشیع میں ایک اہم مقام حاصل ہے۔ بہت سارے شیعہ علماء، سیاستداں اور مختلف علوم و فنون کے ماہرین اس شہر میں مدفون ہیں من جملہ ان میں شیخ صدوق، محمد رضا مہدوی کنی، آیت اللہ کاشانی، جلال آل احمد اور ناصرالدین شاہ قاجار قابل ذکر ہیں۔

مغلوں کے حملے میں اس شہر کی ویرانی کے علاوہ مختلف مذاہب کی موجودگی کی وجہ سے پیدا ہوئے والے مذہبی جنگ و جدال اس شہر کی اہمیت اور شہرت کی کمی کا باعث بنا ہے۔ مشروطہ کی تحریک نے اس شہر کو ایک بار پھر شہرت تو عطا کیا لیکن شہرت کے اس مقام پر نہ پہنچ سکا جس پر یہ شہر قدیم الایام میں فائز تھا۔ یہ شہر تہران کا جڑواں شہر ہے اور اس میں 28 امامزادوں کی مزارات، 418 مسجدیں اور 72 امام بارگاہیں ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف دینی مدارس اس شہر میں قدیم الایام سے تھے اور موجودہ دور میں بھی چند دینی درس گاہوں کے علاوہ مختلف علوم کے سکولز اور کالجز بھی اس شہر میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

قدمت اور اسامی

شہر رے ایران کے قدیمی اور باستانی شہروں میں سے ایک ہے[1] جس کی قدمت ساتویں صدی قبل از میلاد تک پہنچتی ہے اور زدتشتیوں کی مقدس کتاب میں اسے "رَغہ" کے نام سے یاد کیا گیا ہے[2] اور بعض منابع میں اسے زرتشت اور ان کی والده کی جائے پیدائش جانا گیا ہے۔[3] یہ شہر ہخامنشیوں کے دور سے ایران کے اہم اور آباد مناطق میں شمار ہوتا ہے اور صدر اسلام میں بھی یہ شہر سیاسی اور سماجی حیثیت سے اہم مراکز میں سے تھا۔ آل بویہ اور سلجوقیوں کے دور حکومت میں یہ شہر ان حکمرانوں کا دارالخلافہ تھا۔[4]

شہر رے کا نام بیستون کے کتیبوں پر جو داریوش کی میراث میں سے ہے، "رگا" ذکر ہوا ہے۔[5] یہ شہر بنی عباسی کے دور حکومت میں "محمدیہ" کے نام سے پہچانا جاتا تھا کیونکہ "محمد" یا مہدی عباسی جو اپنی حکمرانی کے دوران اس شہر میں مقیم تھے نے اس شہر کی تعمیر و توسیع کی تھی اسی وجہ سے یہ شہر اس دور میں "محمدیہ" کے نام سے مشہور ہوا لیکن بنی عباس کے بعد اسے دوبارہ رے کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔[6]

بہت سارے مورخین اور سیاحوں نے اس شہر کے بارے میں قلم فرسائی کی ہیں: ابن فقیہ نے تیسری صدی ہجری میں اس شہر کو زمین کی دلہن، دینا کا چوراہہ اور خراسان، گرگان، عراق اور طبرستان کو ملانے والا نقطہ استصال قرار دیا ہے۔[7]؛ احمد بن جیہانی پانچویں صدی ہجری میں لکھتے ہیں عراق سے نیشابور تک اس شہر سے بڑا کوئی شہر نہیں تھا۔[8]؛ حمداللہ مستوفی چھٹے صدی ہجری میں اپنی کتاب نزہۃ القلوب میں اس شہر کو "ام البلاد ایران" کا نام دیتے ہوئے کہتے ہیں اس شہر کو اس کی قدمت کے پیش نظر شیخ البلاد بھی کہا جاتا ہے۔[9]

یہ شہر ایران کے صوبہ تہران میں واقع ہے۔ ایران کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس شہر کی آبادی سنہ 1390 شمسی میں 3 لاکھ نفوس پر مشتمل تھی،[10] اور یہاں کی شہر نشین آبادی 1 لاکھ سے بھی زیادہ تھی۔[11]

اسلام اور تشیع کا ظہور

مختلف تاریخی منابع کے مطابق عمر بن خطاب جبکہ بعض معدود منابق کے مطابق تیسرے خلیفہ کے زمانے میں [12]؛ یعنی سنہ 18 سے 24 ہجری کے درمیان اس شہر میں اسلام کا نور پھیلا تھا۔[13] مختلف منابع میں قرظۃ بن کعب انصاری سمیت سات(7) اشخاص کو اس شہر کا فاتح قرار دیا گیا ہے۔ بعض محققین کے مطابق اس شہر کے فاتحین کے ناموں میں اختلاف کا سبب یہاں کے باسیوں کا ایک دفعہ تسلیم نہ ہونا ذکر کیا ہے۔[14]

تاریخی اور سیاسی اہمیت

شہر رے تاریخ میں نہایت اہمیت کا حامل رہا ہے، یہ شہر دوسری صدی قبل از مسیح سے گرمیوں کے موسم میں اشکانیوں کا دارالخلافہ رہا ہے۔[15] ہخامنشیوں کے دور میں یہ شہر ایران کے آباد اور اہم مناطق میں شمار ہوتا تھا۔ صدر اسلام میں یہ شہر ایران کا سب سے بڑا سکونتی علاقہ اور اہم سیاسی اور سماجی مرکز شمار ہوتا تھا۔[16] سلسلہ آل بویہ اور بعض سلجوقی بادشاہوں کے دور میں اس شہر کا دارالخلافہ واقع ہونا اسلامی دور حکومت میں اس شہر کی اہمیت پر واضح دلیل ہے۔[17]

منصور عباسی کا ولیعہد، مہدی عباسی نے اس شہر کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا یہاں تک کہ بعض مورخین اسے اس شہر کا بانی قرار دیتے ہیں۔[18] بعض منابع نے یہاں تک ادعا کیا ہے کہ مہدی عباسی کے دور میں اس شہر میں 3 ہزار مسجدیں تعمیر ہوئی، جسے محققین نے مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔[19] مہدی عباسی نے اس شہر کے اطراف میں 12 ہزار قدم پر مشتمل دیورا بنوائی اور شہر کو توسعہ دیا۔[20] اسی طرح انہوں نے اس شہر میں ایک جامع مسجد بھی بنوائی۔[21] ان کے دو بیٹے ہادی اور ہارون جو بعد میں خلیفہ بنے نیز اسی شہر میں متولد ہوئے۔[22] تیسری صدی ہجری کے دوران مرکزی حکومت کو ملنے والے مالیات میں سب سے زیادہ مالیات اس شہر کی ہوتی جس کی مالیت دس(10) ہزار درہم تھی۔[23]

یہ شہر چوتھی صدی ہجری کو بنی عباسی کے محدودہ خلافت سے خارج ہوا یوں یہاں آل بویہ کی حکومت قائم ہوئی۔[24] آل بویہ کے دو بادشاہ رکن الدولہ اور بہاءالدولہ نے اس شہر کی تعمیر و ترقی پر کافی توجہ دئے۔[25] اسی طرح صاحب بن عباد نے اس شہر میں ایک بہت بڑی لائبریری تعمیر کرائی، بعض تاریخی منابع کے مطابق اس لائبریری کی کتابوں کو جابجا کرنے کیلئے 4 ہزار اونٹیں درکار ہوتی تھیں۔[26] آل بویہ کے دور میں یہ شہر شیعوں کے ثقافتی دارالخلافہ میں تبدیل ہوا جہاں سے بہت سارے علماء اور فقہاء نکلے ہیں۔[27]

شہر رے پر سنہ 234 ہجری قمری کو سلجوقیوں کا قبضہ ہوا۔ طغرل بیک سلجوقی نے شہر کو آباد اور یاں ایک جامع مسجد تعمیر کی جو بعد میں اسی کے نام سے مشہور ہوئی۔ طغرل مینار اس مقبرہ کے باقی ماندہ آثار میں سے ہے جہاں طغرل بادشاہ مدفون ہے۔ ان کے علاوہ سلجوقیوں کے بعض دیگر باشاہیں من جملہ "تتش بن الب ارسلان" اور "طغرل بن الب ارسلان" بھی یہاں مدفون ہیں جو بعد میں طغرل کا خاموش مینار اور شہر رے کا نقار خانہ کے نام سے مشہور ہوا۔[28]

شیعوں کی آمد

اس شہر میں شیعوں کے دخول اور مقیم ہونے کے بارے میں کوئی دقیق معلومات میسر نہیں لیکن ائمہ معصومین کے اصحاب میں "رازی" نامی اشخاص کی موجودگی سے کسی حد تک یہ احتمال دیا جاتا سکتا ہے کہ دوسری صدی ہجری کے اواخر یعنی امام موسی کاظمؑ کے دور امامت سے اس شہر میں شیعہ آباد تھے۔[29] من جملہ ان اصحاب میں امام کاظمؑ کے اصحاب میں سے حسین بن محمد رازی اور امام رضاؑ کے اصحاب میں سے ابوالحسین رازی اور محمد بن اسماعیل رازی شامل ہیں۔[30] تاریخی منابع کے مطابق ائمہ معصومین کے 54 اصحاب کا تعلق شہر رے سے تھا جن میں امام باقرؑ کے دو امام صادقؑ کے 11، امام کاظمؑ کے 6، امام رضاؑ کے 9، امام جوادؑ کے 8، امام ہادیؑ کے 11 اور امام حسن عسکریؑ کے 4 اصحاب شامل ہیں۔[31]

سنہ 250 ہجری قمری کو شاہ عبد العظیم حسنی کا اس شہر میں آنے کو اس شہر میں تشیع کی تاریخ میں ایک سہنرے باب کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔[32] تیسری صدی ہجری سے ساتویں صد ہجری تک سادات کی ایک بڑی آبادی اس شہر میں مقیم رہے ہیں۔ حسن بن زید بن محمد جو طبرستان کے شیعوں کی دعوت پر وہاں گئے اور سنہ 250 ہجری کو وہاں علویوں کی حکمت قائم کی، نیز اسی شہر کے رہنے والے تھے۔[33]

متنوع اقوام و مذاہب

تاریخ میں اس شہر پر مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں نے حکومت کی ہیں۔ کثیر بن شہاب جیسے ناصبی حکمران جو ممبروں سے امام علیؑ پر سب و شتم کیا کرتا تھا[34]، سے لے کر آل بویہ کے صاحب بن عباد جیسے شیعہ حکمرانوں[35] نے یہاں پر حکومت کی ہیں۔ سلجوقیوں کے دور حکومت سے متعلق اسناد و مدارک کے مطابق اس شہر میں مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کے لوگ آباد تھے من جملہ ان میں:

  • شیعہ، سلجوقیوں کے دور میں اس شہر میں مقیم آبادی کی اکثریت شیعوں کی تھی۔[36] یہاں مقیم شیعوں کی آبادی میں اس مذہب کے مختلف فرقے من جملہ زیدیہ، اسماعیلیہ اور اصولی شامل تھے۔[37]
  • حنفی، اس شہر میں آبادی کے لحاظ سے شیعوں کے بعد دوسرے نمبر پر حنفی مذہب کے پیروکار آباد تھے جن میں معتزلہ اور نجاریہ فرقے شامل ہیں۔[38]
  • شافعی، اس دور میں آبادی کے لحاظ سے سب سے کم شافعی مذہب کے پیروکار تھے،[39] جن میں قدریہ اور اشاعرہ جیسے فرقوں کا نام لیا جاتا سکتا ہے۔[40]

دوران زوال

ایران کی تاریخ میں اسلام سے پہلے اور بعض کے اہم ترین شہروں میں شمار ہونے والا یہ شہر اسلام کی آمد کے پانچ صدیوں بعد مذہبی جنگ و جدال کی وجہ سے زوال کا شکار ہوا۔ مغلوں کے حملے نے اسے مزید زوال اور ویرانی کی طرف دھکیل دیا یوں آہستہ آہستہ اس شہر کی عظمت جاتی رہی۔ تہران جو اس شہر کا جڑواں شہر مانا جاتا ہے، کے ایران کا دارالخلافہ بننا اس شہر کی زوال کا دوسرا عامل بنا. اگرچہ مشروطہ کی تحریک کے دوران ایک بار پھر اس شهر کو رونق ملنا شروع ہوا لیکن کبھی بھی اپنی پرانی عظمت کو بحال کرنے میں کامیاب نہ ہو سکتا۔ موجودہ دور میں اس شہر کا رونق حرم عبدالعظیم حسنی کی وجہ سے ہے۔

مذہبی فسادات اور ویرانی

چنانچہ یاقوت حموی معجم البلدان میں لکھتے ہیں: شہر رے میں مغلوں کے حملے سے پہلے ہی فسادات شروع ہو گئی تھی۔[41] تاریخی اسناد کے مطابق تقریبا دس(10) اسلامی اور دو غیر اسلامی فرقے اس شہر میں رہتے تھے جو مختلف مذاہب اور مکاتب فکر کی نمائندگی کرتے تھے جو مذہبی فسادات کا پیش خیمہ ثابت ہوا۔[42] ابن اثیر الکامل فی التاریخ میں کہتے ہیں: سلطان طغرل بن ارسلان سلجوقی نے سنہ 588 ہجری کو اس شہر پر حملہ کر کے اسے ویران کر دیا۔ اس کے بعد سنہ 617 ہجری کو اہل سنت نے شروع میں شیعوں کے ساتھ فسادات شروع کئے اس کے بعد خود اہل سنت کے دو قرقوں شافعیوں اور حنفیوں میں جنگ شروع ہو گئی جو شافعیوں کی کامیابی پر اختتام پذیر ہوئی۔[43] یہ فسادات اتنی شدید تھی کہ سنہ 617 ہجری میں باقی بچ جانے والے گھر صرف شافعیوں کی تھے جبکہ شیعوں اور حنفیوں کے سارے گھر ویران ہو گئے یہاں تک کہ ان دو گروہوں کو تقیہ کی صورت میں زندگی کرنا پڑا۔[44] معجم البلدان کے مطابق اس زمانے میں لوگ جنگ اور فسادات سے محفوظ رہنے کیلئے زمین کے اندر گھر بناتے تھے۔[45]

احادیث میں مذمت

بعض شیعہ احادیث میں اس شہر کی مذمت کی گئی ہے۔[46] بعض کا خیال ہے کہ یہ روایات اس شہر کی حکومت اور سلطنت کی لالچ میں عمر بن سعد کے ہاتھوں امام حسینؑ کی شہادت کی وجہ سے صادر ہوئی ہیں۔[47] اسی طرح بعض اس شہر کو منحوس اور لعنت شدہ جانتے ہیں۔[48] کہا جاتا ہے کہ عمر بن سعد اس شہر پر سلطنت اور حکومت کرنے کی غرض سے یہاں آنے کی تیاری کر ہی رہا تھا کہ عبیداللہ بن زیاد نے اسے امام حسینؑ کے ساتھ جنگ کرنے کیلئے بھیجا۔ ابن سعد نے شروع میں اس کام سے انکار کیا لیکن جب ابن زیاد نے اسے امام حسینؑ کو قتل کرنے یا رے کی حکومت سے دستبرداری پر مجبور کیا تو اس نے اس شہر کی سلطنت اور حکومت کو ترجیح دیا اور لشکر لے کر کربلا کی طرف حرکت کیا۔[49]

مغولوں کا حملہ اور تہران کا دارالخلافہ بننا

مغولوں کے حملے نے اس شہر کو اتنا ویران کر دیا کہ اس کے بعد دوبارہ یہ شہر کبھی بھی اپنی کھوئی ہوئی عظمت بحال نہ کر سکتا۔[50] ایلخانان اور چنگیز کے جانشینوں خاص کر غازان خان کے دور میں اس شہر کی کسی حد تک تعمیر شروع ہوئی تھی لیکن تیمور لنگ کے حملے نے اسے مزید ویران کر دیا۔[51] ارنست اورسل کے بقول بلجیک کے مشہور سفرنامہ نگار کے مطابق ماضی میں موجود اس شہر کی عظمت اور شان منزلت میں سے کچھ باقی نہیں بچی تھی۔ ان کی بقول یہاں کے قلعہ جات، حمام، عبادت گاہیں، مساجد اور گھر وغیره مٹی کے ڈھیروں میں تبدیل ہو گئی تھی[52] اور صفویوں کی حکومت کے آغاز تک یہ شہر ایک ویرانے کے سوا کچھ نہیں تھا۔[53] لیکن جب شاہ تہماسب صفوی نے سنہ 944 ہجری میں تہران کو ایران کا دارالخلافہ بنایا یہ شہر تہران کا حصہ شمار ہونے لگا۔[54] اس کے بعد یہ شہر صرف شاہ عبدالعظیم حسنی کے روضہ مبارکہ کی وجہ سے شیعوں کا توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔[55]

تحریک مشروطہ‌ کے سربراہوں کا تحصن

تحریک مشروطہ کے سربراہوں کا حرم عبدالعظیم حسنی میں ایک ماہ کی ہڑتال [56] نے ایک دفعہ پھر اس شہر کو ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز بنا دیا[57]۔ اس کے علاوہ مختلف موارد میں حرم عبدالعظیم حسنی میں متعدد ہڑتالںں کی گئی جن میں: مسیو نوز کے خلاف تاجروں کی ہڑتال، محمدعلی شاہ قاجار کی تحریک مشروطہ کی مخالفت میں ہڑتال، سید حسن مدرس اور بعض دیگر علماء کا احمد شاہ قاجار کو صمصام السلطنہ کی برطرفی پر وادار کرنے کیلئے کرنے والے ہڑتالوں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے۔[58] اس کے بعد اس شہر کی طرف صرف شاہ عبد العظیم حسنی کے روضہ اقدس کی وجہ سے توجہ کی جانے لگی۔[59]

مشاہیر اور مدفونین

اس شہر میں مدفون امامزادوں کے علاوہ بہت ساری سیاسی شخصیات اور علماء اس شہر خاص کر حرم عبد العظیم میں مدفون ہیں ان میں:

تاریخی مقامات

ایران کے وقف اور خیریہ امور کے ادارے کے مطابق اس شہر میں 38 امامزادے،[76]418 مساجد اور 72 امام بارگاہیں ہیں[77] اس شہر کے بعض مذہبی اماکن کچھ یوں ہے:

امامزادگان اور علماء کے مقبرے

بہت سارے امامزادگان اور عالمان کے مقبرے اس شہر اور اس کے مضافات میں موجود ہیں جن میں؛ مزار عبدالعظیم حسنی، امامزادہ حمزہ،، طاہر و مطہر، عبداللہ ابیض، امامزادہ ہادی، امامزادہ ابوالحسن، بی‌بی شہربانو، بی‌بی زبیدہ، ابن بابویہ، ابوالفتوح رازی اور جوانمرد قصاب سب کے سب ہر خاص و عام کی توجہ کا مرکز ہے جو تاریخ میں شیعوں کی زیارت گاہوں میں شمار ہوتے ہیں۔[78]۔ تاریخی منابع میں ان میں سے بعض مقبروں کی امامزادگان سے منسوب ہونے کو تردید کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے جن میں بی‌بی زبیدہ کا مقبرہ کہ حسین کریمان، جو کتاب رے باستان کے مؤلف ہیں، انہیں امام حسینؑ کی بیٹی ہونے کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔[79]

  • عبدالعظیم حسنی، جو شاہ عبدالعظیم اور سیدالکریم کے نام سے معروف ہیں، چہار واسطوں کے ذریعے امام حسنؑ سے ان کی نسل جا ملتی ہے۔ آپ نے امام جوادؑ اور امام ہادیؑ سے روایت نقل کی ہیں اور شیخ صدوق، شیخ طوسی اور دیگر شیعہ علماء نے ان کی روایت کو معبر قرار دیئے ہیں۔[80] عبدالعظیم حسنی کا اس شہر دفن ہونا اور لوگوں کا آپ کی زیارت کیلئے آنے سے یہ شہر ایران کے زیارتی شہروں میں شامل کیا ہے جہاں سالانہ زائرین کی کثیر تعداد کی رفت و آمد ہوتی ہے۔ اس روضے میں بہت سارے امامزادے اور ایران کی تاریخ کے بہت سارے سیاسی اور سماجی شخصیات بھی دفن ہیں۔[81] مزار امامزادہ حمزہ فرزند امام موسی کاظمؑ اور امامزادہ طاہر و مطہر جو امام سجادؑ کے نواسوں میں سے ہیں، بھی عبدالعظیم حسنی کے مزار کے قریب تھے[82] جو سنہ 1370 شمسی میں حرم عبد العظمیم کی توسیع کی بعد اس کا حصہ قرار ہے۔[83] محمد محمدی ریشہری، جو ایرا کے سابقہ وزیر اطلاعات، مجلس خبرگان رہبری میں تہران کا موجودہ نمائندہ بھی ہے سنہ 1369 شمسی سے حرم عبدالعظیم حسنی کے سربراہ رہے ہیں۔[84] آپ اسی شہر کے رہنے والے ہیں۔
  • مقبرہ ابن بابویہ، اس شہر میں برج طغرل کے قریب ہے جہاں شیخ صدوق دفن ہیں آپ سنہ 381 ہجری کو وفات پائے ہیں۔[85]

دینی اور دنیوی علوم کی درسگاہیں

اس شہر میں چھٹی صدی ہجری تک متعدد مدارس اور علمی درس گاہیں تھیں جن میں سے بعض مشہور شیعہ درس گاہیں درج ذیل ہیں:

  • سید تاج الدین محمد کیسکی کا مدرسہ جہاں ختم قرآن اور اقامہ نماز کے علاوہ علمی مناظروں کیلئے مخصوص جگہے معین ہیں۔[86]
  • شمس الاسلام حسکا بابویہ کا مدرسہ جہاں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔[87]
  • عورتوں سے مخصوص خانقاہ (یا خانقاہ رییان یعنی اہالی رے کی خانقاہ)۔[88]
  • خواجہ عبدالجبار مفید کا مدرسہ کہ جس میں عبدالجلیل قزوینی رازی کے بقول 400 فقیہ اور متکلم مشغول درس و بحث تھے۔
  • خانقاہ علی عثمان، جہاں نماز جماعت اور ختم قرآن پاتے تھے۔[89]
  • خواجہ امام رشید رازی کا مدرسہ جس میں عبدالجلیل قزوینی رازی، کی بقول200 سے زیادہ علماء تحصیل علم میں مشغول تھے اور اس میں لائبریری بھی تھی۔[90]

پندرہویں صدی ہجری میں بھی اس شہر میں کئی دینی درس گاہیں موجود تھیں جن میں حوزہ علمیہ برہان، مدرسہ علمیہ الزہرا، حوزہ علمیہ امیرالمومنین اور حوزہ علمیہ حضرت عبدالعظیم حسنی قابل ذکر ہیں۔[91]

حدیث سائنسز کالج، جوانوں کیلئے ثقافتی مراکز اور بڑی لائریری اس شہر کے دیگر علمی ثقافتی مراکز میں سے ہیں۔[92]

حوالہ جات

  1. جعفریان، اطلس شیعہ، ۱۳۹۱ش، ص۲۰۷۔
  2. قرہ‌چانلو، «جغرافیای تاریخی ری»، در ماہنامہ بررسی‌ہای تاریخی،ش ۷۰، ص۱۱۳۔
  3. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳، ص۶۶ بہ نقل از کتاب ری باستان، ج ۱، ص۶۲۔
  4. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳ش، ص۱۳۹، از کتاب آثار باستانی تہران، ص۱۲۲۔
  5. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳، ص۶۶ بہ نقل از کتاب ری باستان، ج ۱، ص۹۸۔
  6. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳، ص۶۵ بہ نقل از کتاب جغرافیای سرزمین‌ہای خلافت شرقی، ص۲۳۱۔
  7. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳ش، ص۸۴، بہ نقل از مختصر کتاب البلدان، ص۲۷۰۔
  8. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۹۔
  9. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳ش، ص۸۸، بہ نقل از نزہۃ القلوب، ص۵۲۔
  10. ایران کے مرکزی اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1390 شمسی میں مختلف شہروں کی آبادی صوبوں کی ترتیب سے۔
  11. ایران کے مرکزی اعداد و شمار کے مطابق سنہ 1390 شمسی میں مختلف شہروں کی آبادی صوبوں کی ترتیب سے۔
  12. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۲۶۔
  13. ملکی میانجی، جغرافیای ری، ۱۳۸۳ش، ص۶۸۔
  14. ملکی میانجی، جغرافیای ری، ۱۳۸۳ش، ص۶۸، بہ نقل از کتاب ری باستان، ج ۱، ص۱۶۰-۱۶۱۔
  15. ملکی میانجی، جغرافیای ری، ۱۳۸۳ش، ص۱۳۸۔
  16. ملکی میانجی، جغرافیای ری، ۱۳۸۳ش، ص۱۳۹۔
  17. ملکی میانجی، جغرافیای ری، ۱۳۸۳ش، ص۱۳۹۔
  18. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۱۔
  19. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۱۔
  20. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۱۔
  21. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۱۔
  22. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۳،‌ ص۳۳۳
  23. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۳، بہ نقل از اخبار الطوال، ص۴۳۸۔
  24. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۱۳۴
  25. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۵۔
  26. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۵۔
  27. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۵۔
  28. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۶۔
  29. جعفریان، اطلس شیعہ، ۱۳۹۱ش، ص۲۰۷۔
  30. جعفریان، اطلس شیعہ، ۱۳۹۱ش، ص۲۰۷۔
  31. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳، ص۱۰۵، بہ نقل از آینہ پژوہش،ش ۸۰۔
  32. جعفریان، اطلس شیعہ، ۱۳۹۱ش، ص۲۰۷۔
  33. جعفریان، اطلس شیعہ، ۱۳۹۱ش، ص۲۰۷۔
  34. جعفریان، اطلس شیعہ، ۱۳۹۱ش، ص۲۰۷۔
  35. جعفریان، اطلس شیعہ، ۱۳۹۱ش، ص۲۰۷۔
  36. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۳۸۳ش، ج ۲، ص۵۹۸۔
  37. جعفریان، اطلس شیعہ، ۱۳۹۱ش، ص۲۰۸۔
  38. جعفریان، اطلس شیعہ، ۱۳۹۱ش، ص۲۰۸۔
  39. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۳۸۳ش، ج ۲، ص۵۹۸۔
  40. جعفریان، اطلس شیعہ، ۱۳۹۱ش، ص۲۰۸۔
  41. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۳۸۳ش، ج ۲، ص۵۹۸۔
  42. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳، ص۱۰۳، بہ نقل از کتاب ری باستان، ج ۲، ص۵۹۔
  43. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۳۸۳ش، ج ۲، ص۵۹۸۔
  44. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۳۸۳ش، ج ۲، ص۵۹۸۔
  45. یاقوت حموی، معجم البلدان، ۱۳۸۳ش، ج ۲، ص۵۹۸۔، جمال‌زادہ، «ری و طہران (قسمت دوم)»، در ماہنامہ یغما،ش ۱۹۹، ص۵۱۶۔
  46. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۴۰۔
  47. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۴۰۔
  48. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۴۱۔
  49. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۷ق، ج۳، ص۱۷۶-۱۷۷۔
  50. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۷۔
  51. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۷ و ۳۸۔
  52. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۸۔
  53. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۷۔
  54. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۸۔
  55. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۸۔
  56. کسروی، تاریخ مشروطہ ایران، ۱۳۸۳ش، ص۶۴۔
  57. کسروی، تاریخ مشروطہ ایران، ۱۳۸۳ش، ص۷۳۔
  58. رسول افضلی، «تحصن»، در دانشنامہ جہان اسلام، ۱۳۸۰، ج ۶، ص۶۶۶۔
  59. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۳۹۔
  60. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۶۶۔
  61. صفائی، «ری»، ج۸، ص۴۱۸۔
  62. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۶۶۔
  63. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۶۶۔
  64. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۶۷۔
  65. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۶۷۔
  66. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۶۸۔
  67. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۶۸۔
  68. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۶۸۔
  69. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۷۰۔
  70. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۷۰۔
  71. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۷۰۔
  72. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۷۱۔
  73. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۷۲۔
  74. اسلامی‌راد، «شہر ری و حضرت عبدالعظیم»، در ماہنامہ حافظ،ش ۴۵، ص۲۹۔
  75. پیکر آیت‌اللہ مہدوی‌کنی بہ خاک سپردہ شد، خبرگزاری ایسنا، اول آبان ۱۳۹۳ش۔
  76. بانک جامع امامزادگان و بقاع متبرکہ
  77. سالنامہ آماری استان تہران: ۱۳۹۱ش
  78. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳، صص ۱۶۱-۱۷۲۔
  79. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳، ص۱۷۰۔
  80. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳، ص۶۶ بہ نقل از کتاب ری باستان، ج ۱، ص۵۶ و ۵۷۔
  81. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳، ص۶۶ بہ نقل از کتاب ری باستان، ج ۱، ص۳۴۔
  82. ملکی میانجی، جغرافیای ری، تابستان ۱۳۸۳، ص۱۶۸، بہ نقل از کتاب آثار تاریخی تہران، ص۱۶۱، ۱۶۲ و ۲۹۳۔
  83. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۴۵-۱۵۲۔
  84. انتصاب حجت‌الاسلام والمسلمین محمدی‌ری‌شہری بہ تولیت آستان مقدس حضرت عبدالعظیم الحسنیؑ، پایگاہ اطلاع‌رسانی دفتر حفظ و نشر آثار آیت‌اللہ خامنہ‌ای، ۱۳۶۹/۱/۲۰ش۔
  85. قائدان، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، بہار ۱۳۸۲، ص۱۷۰۔
  86. قزوینی رازی، نقض، بہ تصحیح جلال الدین محدث، ۱۳۵۸ش، ص۳۴۔
  87. قزوینی رازی، نقض، بہ تصحیح جلال الدین محدث، ۱۳۵۸ش، ص۳۴ و ۳۵۔
  88. قزوینی رازی، نقض، بہ تصحیح جلال الدین محدث، ۱۳۵۸ش، ص۳۵۔
  89. قزوینی رازی، نقض، بہ تصحیح جلال الدین محدث، ۱۳۵۸ش، ص۳۵۔
  90. قزوینی رازی، نقض، بہ تصحیح جلال الدین محدث، ۱۳۵۸ش، ص۳۶۔
  91. عبدالملکی، تاریخچہ مختصری از فرہنگ و تمدن شہر ری در ایران، کتابخانہ تبیان۔
  92. عبدالملکی، تاریخچہ مختصری از فرہنگ و تمدن شہر ری در ایران، کتابخانہ تبیان۔


مآخذ

  • بلاذری، احمد، انساب الاشراف، بہ کوشش محمدباقر محمودی، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۷ق /۱۹۷۷م۔
  • جعفریان، رسول، اطلس شیعہ، تہران، انتشارات سازمان جغرافیایی نیروہای مسلح، چ پنجم، ۱۳۹۱ش۔
  • جمال‌زادہ، محمدعلی، «ری و طہران (قسمت دوم)»، در ماہنامہ یغما، بہمن ۱۳۴۳ش،ش ۱۹۹۔
  • حموی، یاقوت بن عبداللہ، منزوی، علی نقی، تہران، سازمان میراث فرہنگی کشور، ۱۳۸۳ش۔
  • صفائی، مہوش، «ری»، در دائرۃ المعارف تشیع، تہران، نشر شہید سعید محبی، ۱۳۷۹ش۔
  • قائدان، اصغر، آستان مقدس حضرت عبدالعظیم حسنی در گذشتہ و حال، قم، سازمان چاپ و نشر دارالحدیث، چ اول، بہار ۱۳۸۲ش۔
  • قرہ‌چانلو، حسین، «جغرافیای تاریخی ری»، در ماہنامہ بررسی‌ہای تاریخی، خرداد و تیر ۱۳۵۶ش،ش ۷۰۔
  • قزوینی، عبدالجلیل، نقض، محدث، جلال الدین، تہران، انجمن آثار ملی، ۱۳۵۸ش۔
  • کسروی، احمد، تاریخ مشروطہ ایران، تہران، امیر کبیر، چاپ بیست و یکم، ۱۳۸۳ش۔
  • مسعودی، ابوالحسن علی بن حسین، تحقیق اسعد داغر، قم،دار الہجرہ،‌ چاپ دوم،‌ ۱۴۰۹م
  • ملکی میانجی، علی، قم، سازمان چاپ و نشر دارالحدیث، چ اول، تابستان ۱۳۸۳ش۔