مسجد حنانہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سردر مسجد حنانه.jpg

مسجد حَنّانہ، عراق کے شہر نجف کی ایک مسجد ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق اس مسجد نے دو مرتبہ عزائے آئمہ میں نالہ کیا ہے۔ ایک مرتبہ امیر المؤمنین کی تشییع کے موقع پر اور دوسری مرتبہ واقعہ کربلا کے بعد۔ اسی مناسبت سے اس مسجد کا نام حنانہ رکھا گیا ہے۔ یہ مسجد محلہ حنانہ میں واقع ہے جو حرم امیرالمؤمنین(ع) سے ڈھائی کیلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس کے شمال میں نجف اور اس کے پاس کمیل بن زیاد نخعی کا مزار واقع ہے۔ گذشتہ سالوں میں نجف شہر کی وسعت کی وجہ سے نجف کا حصہ بن گئی ہے۔

مسجد سے متعلق واقعات

تاریخی روایات کے مطابق اس جگہ دو واقعے رونما ہوئے ہیں:

  • اس جگہ ایک ستون (یا دیوار) موجود تھا کہ جب رات کو امیر المؤمنین کے جنازے کو کوفہ سے لے کر نجف کی طرف جاتے ہوئے اس کے پاس سے گزرے تو وہ حصہ تاسف و حزن کی وجہ سے خم ہو گیا۔[1] ظاہرا اسی ستون کی جگہ مسجد کو بنایا گیا ہے۔ امام صادق سے مروی روایت میں امام سے نجف کے راستے میں موجود ستون کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:
جب حضرت علی (ع) کے جنازے کو یہاں سے رات کو لے کر گزرے تو یہ ستون غم و حزن کی وجہ سے اس طرح جھک گیا جس طرح حضرت عبدالمطلب کے آنے کے وقت تخت ابرہہ خم ہوا تھا۔»[2]
  • کربلا سے شہدا کے سروں کو کوفہ لے جاتے ہوئے اس مسجد کی زمین پر امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کو یہاں رکھا گیا تو کہتے ہیں اس وقت اس جگہ سے ایسی اونٹنی کے نالہ کی آواز سنی گئی جس کا بچہ گم ہو گیا ہو۔ منقول ہے کہ امام صادق(ع) کوفہ و نجف کے راستے میں تین جگہ پر رکے اور وہاں نماز ادا کی۔ ان میں سے ایک مقام یہ ہے۔ جب یہاں رکے تو اس کا سبب پوچھنے پر فرمایا: میری جد کے سر مبارک کو یہاں رکھا گیا».[3]

وجہ تسمیہ

  • حنانہ (گریہ‌ کرنے والی) نام رکھنے کی وجہ وہ ستون ہے جس نے امیر المؤمنین کے تشییع جنازہ کے موقع پر نالہ کیا۔
  • واقعہ کربلا کے بعد اس جگہ شہدا کے سروں کی موجودگی کے موقع پر اس علاقہ نے نالہ کیا۔ اس مناسبت سے یہ نام رکھا گیا۔
  • قدیم زمانے میں یہاں حنا نام کا دیر (مسیحی معبد) موجود تھا۔ اس سے یہ نام لیا گیا ہے۔[4]

اعمال

رأس الحسین

اس مسجد سے متعلق اعمال میں زیارت امام حسین (ع) اور نماز زیارت سید الشہداء ہے۔[5] روایات میں مروی ہے کہ امام صادق(ع) نے نجف و کوفہ جاتے ہوئے تین مقامات پر اپنے گھوڑے سے نیچے اتر کر سلام کیا اور نماز ادا کی، پہلی جگہ: مزار امام علی(ع)، دوسری جگہ: مسجد حنانہ اور رأس الحسین(ع) کا مقام، تیسری جگہ: وادی السلام میں مقام امام زمان(عج)۔[6]

حوالہ جات

  1. طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۶۸۲.
  2. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۷، ص۴۵۵.
  3. طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۶۸۲؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۷، ص۴۵۴.
  4. زمانی، سیری در سرزمین خاطرہ‌ہا، ۱۳۹۲ش، ص۴۳۶.
  5. شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان، ذیل «زیارت امام حسین در حرم امیر المومنین».
  6. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۴، ص۵۷۱؛ ابن‌ قولویہ، کامل الزیارات، المطبعہ المرتضویہ، ص۳۴.


مآخذ

  • ابن‌قولویہ، جعفر بن‌محمد، کامل الزیارات، نجف، المطبعہ المرتضویہ، بی‌تا.
  • زمانی، احمد، سیری در سرزمین خاطرہ‌ہا، تہران، مشعر، چاپ چہارم، ۱۳۹۲ش.
  • طوسی، محمد بن‌ حسن، الامالی، قم، دار الثقافۃ، ۱۴۱۴ق.
  • قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان.
  • کلینی، محمد بن‌یعقوب، الکافی، مصحح محمد آخوندی و علی‌اکبر غفاری، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ق.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، موسسۃ الوفاء، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق.