حائر امام حسین علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امام حسینؑ کے حرم کا نقشہ

حائر حسینى کربلا میں مدفون شیعیان اہل بیتؑ کے تیسرے امام امام حسین علیہ السلام کے روضے اور اس کے ارد گرد ایک محدود حصے کو کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ لفظ امام صادقؑ نے زیارت امام حسینؑ کی فضیلت و ثواب بیان کرتے ہوئے قبر امامؑ اور اس کے ارد گرد کے محصور حصے کو حائر کا نام دیا۔ رفتہ رفتہ یہ لفظ شیعیان اہل بیتؑ کے ہاں رائج ہوا اور حرم امام حسینؑ اور اس کی حدود کو حائر حسین اور حائر حسینی کہا جانے لگا۔حائر حسینی کی کمترین مقدار ۲۲میٹر قطر بیان کی گئی ہے۔امام حسین ع کی قبر مبارک پر پہلا بقعہ مختار ثقفی نے تعمیر کیا ۔عباسی خلفا میں سے ہارون الرشید ور متوکل نے اس حائر کو ویران کیا۔ متوکل حائر حسینی کی زیارت سے شیعوں کو روکنے کیلئے اس زمین پر ہل چلانے کا حکم دیا اور یہاں کا پانی بند کر وایا۔ حرم حسینی اور تین دیگر مقامات یعنی حرم مکہ، حرم نبوی اور مسجد کوفہ کے لئے حکم وارد ہوا ہے ۔مسافر ان مقامات پر دس دن سے کم قیام کی صورت میں بھی پوری نماز ادا کرسکتا ہے بلکہ یہاں پوری نماز ادا کرنا مستحب قرار دیا گیا ہے۔

زیارت حسینؑ کا ثواب

قال الإمام الصادقؑ: مَنْ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ زِيَارَةَ قَبْرِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ص إِنْ كَانَ مَاشِياً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ مَحَى عَنْهُ سَيِّئَةً ، حَتَّى إِذَا صَارَ فِي الْحَائِرِ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْمُصْلِحِينَ الْمُنْتَجَبِينَ، حَتَّى إِذَا قَضَى مَنَاسِكَهُ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْفَائِزِينَ ، حَتَّى إِذَا أَرَادَ الِانْصِرَافَ أَتَاهُ مَلَكٌ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص يُقْرِؤُكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ لَكَ: اسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى۔
‏ ترجمہ: امام صادقؑ نے ف