عتبات عالیہ

ویکی شیعہ سے
(عتبات عالیات سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عتبات عالیہ سے مراد عراق کے شہر نجف، کربلا، کاظمین، اور سامرا میں موجود آئمہ طاہرین کے مزارات ہیں۔ یہ مقامات اہل تشیع کے زیارتی مقامات میں سے ہیں اسی لئے وہ ان مقامات کو احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ہر سال دنیا کے مختلف شہروں سے لاکھوں شیعہ ان مقامات کی زیارت کیلئے آتے ہیں۔ بعض اوقات ان مقامات کو "عتبات مقدسہ" بھی کہا جاتا ہے۔

عتبات

شہر نجف کا ایک منظر

عتبات، عربی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی بارگاہ اور ضریح کے ہیں۔ شیعہ اصطلاح میں عتبات عالیات سے مراد عراق کے شہر نجف، کربلا، کاظمین، اور سامرا میں موجود آئمہ طاہرین کے مزارات ہیں۔ انہی مقامات کی وجہ سے شیعوں کے نزدیک ان شہروں کو بھی ایک خاص تقدس حاصل ہے اسی لئے بعض اوقات انہیں عتبات مقدسہ بھی کہا جاتا ہے۔[1]

شہر کربلا کا ایک منظر

نجف

تفصیلی مضمون: نجف

بغداد کے جنوب میں 160 کیلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر نجف [2] عراق کے صوبہ نجف کا دارالحکومت ہے جو عراق میں شیعوں کا علمی اور سیاسی مرکز مانا جاتا ہے۔ امیرالمؤمنین امام علی (ع) کا روضہ مبارک بھی اسی شہر میں موجود ہے جس کی وجہ سے شیعوں کے یہاں یہ شہر خاص تقدس اور احترام کا حامل ہے۔[3] نجف کا حوزہ علمیہ نیز اہل تشیع کے اہم ترین علمی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔[4] شہر کوفہ جس میں متعدد شیعہ زیارتگاہیں موجود ہیں، نجف سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور تقریبا نجف سے منسلک ہوچکا ہے۔[5]

شہر کاظمین کا ایک منظر

کربلا

تفصیلی مضمون: کربلا

کربلا وہ سرزمین ہے جہاں واقعۂ عاشورا رونما ہوا ہے اور شہدائے کربلا سب اسی شہر میں مدفون ہیں۔ کربلا میں واقع اہم ترین مشاہد مشرفہ اور قبور مقدسہ کچھ یوں ہیں:

  1. حرم حضرت امام حسین علیہ السلام، جو حائر حسینی کے نام سے مشہور ہے؛[6]
  2. حرم حضرت عباس علیہ السلام،[7]
  3. مرقد حضرت علی اکبر علیہ السلام جو قبر حضرت امام حسین علیہ السلام کے بقعہ شریفہ میں قبر کی پائنتی کی جانب واقع ہے۔[8]
شہر سامرا کا ایک منظر

کاظمین

تفصیلی مضمون: کاظمین

شہر کاظمین دجلہ کے کنارے بغداد کے آمنے سامنے واقع ہے۔ اس شہر میں شیعوں کے دو امام؛ امام موسی کاظم علیہ السلام (ساتویں امام) اور محمد تقی الجواد علیہ السلام (نویں امام) مدفون ہیں اسی مناسبت سے اس شہر کا نام کاظمین رکھا گیا ہے۔[9]

سامرا

تفصیلی مضمون: سامرا

شہر سامرا بغداد کے شمال میں دجلہ کے مشرقی کنارے پر واقع ہے اور عراق میں نجف اشرف، کربلائے معلی اور کاظمین کے بعد شیعیان آل رسول(ص) کا چوتھا زیارتی شہر ہے۔ یہ شہر تکریت اور بغداد کے درمیان واقع ہے اور اس میں دو ائمہ معصومین علیہما السلام کی زیارتگاہیں ہیں:

  1. حضرت امام علی النقی علیہ السلام؛
  2. حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام؛[10]

اسی طرح اس شہر میں امام مہدی(عج) کا مقام ولادت اور جائے غیبت بھی ہے۔[11]

حوالہ جات

  1. عربخانی،‌ عتبات عالیات در روابط ایران و عثمانی قرن نوزدہم، ص ۲۳
  2. عربخانی،‌ عتبات عالیات در روابط ایران و عثمانی قرن نوزدہم، ص ۲۳
  3. عَتَبۂ علویۂ مقدسہ
  4. عربخانی،‌ عتبات عالیات در روابط ایران و عثمانی قرن نوزدہم، ص ۲۴
  5. مسجد کوفہ
  6. عتبۂ حسینیۂ مقدسہ
  7. عتبۂ مقدسۂ عباسیہ
  8. عربخانی،‌ عتبات عالیات در روابط ایران و عثمانی قرن نوزدہم، ص ۲۸
  9. عتبۂ کاظمیۂ مقدسہ و عربخانی،‌ عتبات عالیات در روابط ایران و عثمانی قرن نوزدہم، ص ۳۲
  10. عتبۂ عسکریۂ مقدسہ۔
  11. عربخانی،‌ عتبات عالیات در روابط ایران و عثمانی قرن نوزدہم، ص ۳۴-۳۶


بیرونی روابط

  • عتبہ علویہ مقدسہ
  • مسجد کوفہ
  • عتبیہ کاظمیہ مقدسہ
  • عتبہ مقدسہ عباسیہ
  • عتبہ حسینیہ مقدسہ
  • عتبہ عسکریہ مقدسہ