مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:پیغمبر اسلامؐ کے خطوط بادشاہوں کے نام

ویکی شیعہ سے
پیغمبر اکرمؐ کے خطوط بادشاہوں کے نام
زمان صدورسنہ 6 ہجری سے سنہ 10 ہجری تک
صادرہ ازپیغمبر اکرمؐ
مخاطببادشاہان
زبانعربی
موضوعتوحید اور اسلام کی طرف دعوت
شیعہ منابعتاریخ یعقوبی
اہل سنت منابعتاریخ طبری • السیرۃ النبویۃ
ترجمہفارسی
آثار اور نتائجمختلف ردّعمل (اسلام‌ قبول کرنا، تحفے تحائف بھیجنا اور خط چاک کرنا)

پیغمبر اسلامؐ کے خطوط بادشاہوں کے نام، پیغمبر اسلامؐ نے مختلف سرزمینوں کے بادشاہوں اور حکمرانوں کے نام مختلف خطوط ارسال کئے جن میں ان حکمرانوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔ ان میں سے بعض خطوط میں پیغمبر اکرمؐ نے ان بادشاہوں کو خبردار بھی کیا تھا؛ مثلاً ہرقل، قیصر روم اور خسرو پرویز، شاہِ ایران کو یہ یاد دہانی کرائی گئی تھی کہ وہ اپنے رعایا کے گناہوں میں برابر کے شریک ہیں۔ دمشق اور عُمان کے حکمرانوں کو آگاہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ اپنی حکومت محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو اسلام قبول کریں، ورنہ ان کی سلطنت زوال کا شکار ہوگی۔ اسی طرح بحرین کے بادشاہ کو متنبہ کیا گیا تھا کہ اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں جزیہ ادا کرنا پڑے گا۔

ان خطوط کے مقابلے میں مذکورہ بادشاہوں اور حکمرانوں کا ردِّ عمل مختلف رہا؛ حبشہ کے بادشاہ نجاشی مسلمان ہوگئے؛ خسرو پرویز نے آپؐ کا خط چاک کردیا اور بادشاہ بحرین وغیرہ نے دعوت قبول نہ کی۔ تاریخی منابع میں ان خطوط کے ارسال کا وقت مختلف ذکر ہوا ہے، تاہم زیادہ تر مؤرخین کے نزدیک یہ خطوط صلح حدیبیہ کے بعد سنہ 6 ہجری کو بھیجے گئے تھے۔

خطوط کے مضامین

بادشاہوں کے نام پیغمبر اکرمؐ کے مشترکہ خطوط

’’کہہ دو: اے اہلِ کتاب! آؤ اس بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے؛ یہ کہ ہم خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اور کسی کو اس کا شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی دوسرے کو خدا کے سوا ربّ نہ بنائے۔ پس اگر وہ اعراض کریں تو کہہ دو کہ گواہ رہو، ہم مسلمان ہیں۔‘‘

تاریخی روایات کے مطابق رسول اکرمؐ نے مختلف سرزمینوں جیسے حبشہ، روم، ایران، مصر، دمشق، اور یمامہ کے حکمرانوں کو خطوط ارسال کئے۔[1] بعض مؤرخین کے مطابق عمان، بحرین[2] اور یمن[3] کے حکمرانوں کو بھی آپؐ نے اسلام کی دعوت دی تھی۔ پیغمبر اکرمؐ نے ان خطوط کی ترسیل کے لئے مخصوص قاصد مقرر کئے تھے جو ہر بادشاہ کے دربار میں پیغام پہنچانے گئے۔[4]

ان خطوط کا بنیادی مضمون توحید اور اسلام قبول کرنے کی دعوت پر مشتمل تھا۔[5] پیغمبر اکرمؑ نے حبشہ کے بادشاہ نجاشی کو بھیجے گئے خط میں حضرت مریم(س) کی پاکدامنی کا ذکر فرمایا،[6] اور بحرین کے بادشاہ کو بھیجے گئے خط میں اسلام قبول کرنے کے احکام و شرائط بیان کئے۔[7]

شیعہ مؤرخ سید جعفر مرتضی عاملی اپنی کتاب الصحیح من سیرۃ النبی الأعظم میں لکھتے ہیں کہ رسول خداؐ کا مقصد ان ممالک پر قبضہ کرنا نہیں تھا،[8] لیکن اس کے باوجود آپؐ نے بعض بادشاہوں کو واضح طور پر متنبہ کیا تھا، مثلاً قیصرِ روم ہرقل[9] اور شاہِ ایران خسرو پرویز[10] کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی رعایا کے گناہوں کے بھی جواب دہ ہیں۔ ایران کے بادشاہ کو مزید متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر اسلام قبول نہ کیا تو جنگ کے لئے تیار رہے۔[11] دمشق [12] اور عمان[13] کے بادشاہوں سے فرمایا کہ اگر وہ اپنی سلطنت برقرار رکھنا چاہتے ہیں تو اسلام لے آئیں، ورنہ ان کی حکومت تباہ ہوجائے گی۔ اسی طرح بحرین کے بادشاہ سے فرمایا کہ اسلام قبول نہ کرنے کی صورت میں میں جزیہ ادا کرنے کے لئے تیار رہے۔[14]

بادشاہوں کا ردِّ عمل

تاریخی روایات کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کے خطوط کے مقابلے میں مذکورہ بادشاہوں کے رویّے مختلف تھے: حبشہ کے بادشاہ نجاشی،[15] بحرین کے بادشاہ[16] اور عمان[17] کے حکمران نے اسلام قبول کیا۔ نجاشی نے نہایت احترام کے ساتھ پیغامِ نبوی قبول کیا،[18] شہادتین کا اقرار کیا[19] اور تحفے تحائف، جن میں ماریہ قِبطیہ جیسی کنیز بھی شامل تھیں، رسول خداؐ کی خدمت میں ارسال کیا۔[20] البتہ تاریخ طبری کے مطابق بحرین کے بادشاہ نے اسلام قبول نہیں کیا، لیکن اس نے پیغمبر اکرمؐ سے صلح کرلی۔[21]

ان کے مقابلے میں ایران کے بادشاہ خسرو پرویز نے اسلام قبول کرنے سے انکار کیا اور پیغمبر اکرمؐ کا خط چاک کردیا۔[22] سید جعفر مرتضی عاملی کے مطابق حبشہ کے بادشاہ نجاشی سوم نے بھی پیغمبرؐ کا خط چاک کردیا تھا۔[23] روم،[24] دمشق، مصر، اور یمامہ کے بادشاہوں نے اسلام تو قبول نہیں کیا، مگر انہوں نے ادب و احترام کے ساتھ پیغمبر اکرمؐ کے خطوط کا جواب دیا۔ مصر کے بادشاہ مقوقس نے پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں تحفے تحائف بھیجے،[25] اور قیصرِ روم نے بھی رسول اکرمؐ کی عظمت کا اعتراف کیا۔[26]

خطوط کے ارسال کا زمانہ

ان خطوط کے ارسال کرنے کے زمانے کے بارے میں مؤرخین کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے: بعض نے ذی الحجّہ سنہ 6 ہجری،[27] بعض نے محرم سنہ 7 ہجری[28] اور بعض نے صلح حدیبیہ سے رسول اکرمؐ کی رحلت[29] تک کا عرصہ ان خطوط کے ارسال کا زمانہ قرار دیا ہے۔

کتابیات

ابنِ جوزی، عبدالرحمن بن علی، رسائل و رُسل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ إلی الملوک والأشراف، دمشق، 1425ھ۔

حوالہ جات

  1. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص198-201۔
  2. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دار صادر، ج‏2، ص78؛ ابن‌ہشام، السیرۃ النبویۃ، بی‌تا، ج‏2، ص607؛ ابن‌قیم، زاد المعاد، 1415ھ، ج1، ص122-123۔
  3. ابن‌قیم، زاد المعاد، 1415ھ، ج1، ص122-123۔
  4. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص644؛ ابن‌ہشام، السیرۃ النبویۃ، بی‌تا، ج‏2، ص607۔
  5. احمدی میانجی، مکاتیب الرسول، 1419ھ، ج1، ص187؛ ابن‌ابی‌شیبۃ، المصنف، 1409ھ، ج7، ص347۔
  6. ابن‌حبان، الثقات، 1393ھ، ج2، ص8-9؛ طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص652۔
  7. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج3، ص29۔
  8. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، 1426ھ، ج16، ص255۔
  9. ابن‌زنجویۃ، الاموال، 1406ھ، ج1، ص119؛ ابوالفرج اصفہانی، الاغانی، 1415ھ، ج6، ص525۔
  10. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص654-656؛ مجلسی، بحار الأنوار، 1403ھ، ج‏20، ص389۔
  11. ابن‌شہرآشوب، مناقب، 1379ھ، ج‏1، ص79۔
  12. خوارزمی، مفید العلوم ومبید الہموم، 1418ھ، ص53؛ طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص652۔
  13. ابن‌قیم، یہود و نصاری کے جوابات میں حیرانوں کی رہنمائی، 1416ھ، ص283؛ ابن‌سیدالناس، عیون الأثر، 1414ھ، ج‏2، ص335۔
  14. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج3، ص29۔
  15. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص652-653؛ ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص198-199۔
  16. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص201۔
  17. بلاذری، فتوح البلدان، 1988م، ص83؛ ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص201۔
  18. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص198-199۔
  19. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص652-653؛ ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص198-199۔
  20. طبرسی، إعلام الوری، 1390ھ، ص46۔
  21. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج3، ص29۔
  22. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص199۔
  23. عاملی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، 1426ھ، ج17، ص59۔
  24. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص646۔
  25. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص200-201۔
  26. ابن‌ابی‌شیبۃ، المصنف، 1409ھ، ج7، ص347۔
  27. ابن‌سعد، الطبقات الکبری، 1410ھ، ج‏1، ص198؛ طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص644۔
  28. ابن‌قیم، زاد المعاد، 1415ھ، ج1، ص120
  29. طبری، تاریخ الطبری، 1387ش، ج‏2، ص645۔

مآخذ

  • ابوالفرج اصفہانی، علی بن الحسین، الاغانی، بیروت، دارِ احیائے التراث العربی، چاپ اول، 1415ھ۔
  • ابن‌ابی‌شیبۃ، عبداللہ بن محمد، المصنف فی الاحادیث والآثار، تحقیق کمال یوسف الحوت، ریاض، مکتبۃ الرشد، 1409ھ۔
  • ابن‌حبان، محمد بن حبان، الثقات، تحقیق حسین ابراہیم زہران، بیروت، موسسۃ الکتب الثقافیۃ، 1393ھ۔
  • ابن‌زنجویۃ، حمید بن مخلد، الاموال، تحقیق شاکر ذیب فیاض، السعودیۃ، شاہ فیصل مرکز برائے اسلامی تحقیقات و مطالعات، الطبعۃ الأولی، 1406ھ۔
  • ابن‌سعد، محمد بن سعد، الطبقات الکبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، چاپ اول، 1410ھ۔
  • ابن‌سیدالناس، محمد بن سید الناس، عیون الأثر فی فنون المغازی والشمائل والسیر، تعلیق ابراہیم محمد رمضان، بیروت، دار القلم، چاپ اول، 1414ھ۔
  • ابن‌شہرآشوب، محمد بن علی، مناقب آل أبی طالب(ع)‏، قم، علامہ‏، چاپ اول، 1379ھ۔
  • ابن‌قیم جوزیۃ، محمد بن ابی‌بکر، زاد المعاد فی ہدی خیر العباد، تحقیق شعیب ارنؤوط و عبدالقادر ارنؤوط، بیروت، موسسۃ الرسالۃ، 1415ھ۔
  • ابن‌قیم جوزیۃ، محمد بن ابی‌بکر، یہود و نصاری کے جوابات میں حیرانوں کی رہنمائی، تحقیق محمد احمد الحاج، دمشق، دار القلم، 1416ھ۔
  • ابن‌ہشام، عبدالملک بن ہشام، السیرۃ النبویۃ، تحقیق مصطفی سقا و ابراہیم ابیاری و عبدالحفیظ شلبی، بیروت، دار المعرفۃ، بی‌تا۔
  • احمدی میانجی، علی، مکاتیب الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ، قم، دارالحدیث، چاپ اول، 1419ھ۔
  • بلاذری، أحمد بن یحیی، فتوح البلدان، بیروت، دار ومکتبۃ الہلال، 1988ء۔
  • خوارزمی، محمد بن عباس، مفید العلوم ومبید الہموم، تحقیق عبداللہ بن ابراہیم انصاری، بیروت، مکتبۃ العصریۃ، 1418ھ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الہدی‏، تہران، اسلامیہ‏، چاپ سوم‏، 1390ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری: تاریخ الأمم والملوک، تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت، دار التراث، چاپ دوم، 2008ء۔
  • عاملی، سید جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ النبی الاعظم، قم، دارالحدیث، چاپ اول، 1426ھ۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار‏، تصحیح جمعی از محققان‏، بیروت، دارِ احیائے التراث العربی، چاپ دوم‏، 1403ھ۔
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دار صادر، بی‌تا۔