صحیفہ سجادیہ کی سترہویں دعا
| کوائف | |
|---|---|
| موضوع: | شیطان کے شر سے خدا سے پناہ مانگنا، شیطان کے نفوذ کے راستے اور اسکے مکر و فریب سے بچنے کا راستہ |
| مأثور/غیرمأثور: | مأثور |
| صادرہ از: | امام سجادؑ |
| راوی: | متوکل بن ہارون |
| شیعہ منابع: | صحیفہ سجادیہ |
| مشہور دعائیں اور زیارات | |
| دعائے توسل • دعائے کمیل • دعائے ندبہ • دعائے سمات • دعائے فرج • دعائے عہد • دعائے ابوحمزہ ثمالی • زیارت عاشورا • زیارت جامعہ کبیرہ • زیارت وارث • زیارت امیناللہ • زیارت اربعین | |
صحیفہ سجادیہ کی سترہویں دعا امام سجادؑ سے ماثوراور منقول دعا ہے اپؑ نے اس دعا میں شیطان کے شرّ سے محفوظ رہنے کے لئے خدا سے پناہ مانگی گئی ہے۔ حضرت امام سید سجادؑ نے اس دعا میں شیطان کی مختلف قسم کی دشمنی اور اس کے مکر و فریب کو بیان فرمایا ہے نیز شیطان کو دل کے دائرہ میں داخل ہونے سے روکنے کے طریقے کی جانب اشارہ کیا ہے۔ اسی طرح عبادت الہی سے غفلت کی بنیاد پر انسان کے ذیل و خوار ہونے اور شیطانی وسوسہ سے محفوظ رہنے کے لئے مقام مخلصین کی درخواست فرمائی ہے اور دوسروں کا بھلائی جیسے اہم موضوعات اس دعا کا حصہ ہیں۔
دیگر دعاؤں کی طرح اس دعا کی بھی صحیفہ سجادیہ کی شرحوں میں جیسے حسین انصاریان کی کتاب دیارعاشقان میں اور حسن ممدوحی کرمانشاہ کی کتاب شہود و شناخت میں فارسی زبان میں شرح کی گئی ہے اور سید علی خان مدنی کی کتاب ریاض السالکین میں عربی میں شرح کی گئی ہے۔
تعلیمات
صحیفہ سجادیہ کی اس سترہویں دعا کا اصلی اور بنیادی موضوع، شیطان کے شرّ سے خدا سے پناہ مانگنا ہے۔ حضرت امام سجادؑ نے اس دعا میں، شیطان کی مختلف قسم کی دشمنی کا ذکر کیا ہے اور اس کے مکر فریب کو اجاگر فرمایا ہے نیز انسان کے دل کے دائرہ میں شیطان کی دراندازی کی راہیں بند کئے جانے کے طریقے بیان کئے ہیں۔[1] امام سجادؑ کے دہن مبارک پر جاری ہونے والی 16 بندوں پر مشتمل اس دعا [2] کے مندرجہ ذیل پیغامات ہیں:
- شیطان کی دشمنی اور اس کے مکر و فریب سے بچنے کے لئے خدا سے پناہ مانگا۔
- شیطانی وسوسوں کا شکار ہوکر عبادتِ الہی سے غفلت کی وجہ سے انسان کا ذلیل ہونا۔
- برے کاموں کو اچھا اور اچھے کاموں کو برا دیکھانا، شیطانی دراندازی کی راہیں ہیں۔
- شیطانی وسوسہ سے نجات کے لئے مقامِ مخلصین کی درخواست۔
- مخلصانہ عبادت کے ذریعہ شیطانی دراندازی کی راہیں مسدود کرنا۔
- شیطان کو ہمیں فریب اور دھوکہ دینے سے ناامید ہونے کی دعا۔
- شیطان کے ذلیل و رسوا ہونے اوراس کی مخالفت کی دعا۔
- شیطان سے دوستی اور اس کی ولایت کو قبول کرنے کا نتیجہ، عذاب الہی ہے۔
- انسان کا دل، شیطان کی قیامگاہ کا دروازہ ہے۔
- خواب غفلت سے بیدار ہونے کی التجا۔
- خدا سے دعا و استعانت، شیطان کے مقابل، انسان کی سپراور ڈھال ہے۔
- دوسروں کا بھلا چاہنا (صاحبان توحید کو شیطان کے شرّ سے محفوظ رہنے کے لئے دعا)
- افراد اور معاشرے کی اچھائی اور برائی کا آپسی ارتباط و تعلق۔
- انسان کو گمراہ کرنے میں شیطان کی حرص و لالچ اور اس کی دلچسپی۔
- شیطان کے دشمنوں کی صف میں قرار پانے اور اس کے دوستوں کے صف سے دور رہنے کی دعا۔
- شیطانی منصوبوں کو ناکارہ بنانے کی استدعا۔
- لشکر شیطان کی شکست کی دعاء (جنود عقل و جہل)[3]
شرحیں
اس سترہویں دعا کی بھی صحیفہ سجادیہ کی شرحوں میں جیسے حسین انصاریان کی کتاب دیار عاشقان [4] میں اور حسن ممدوحی کرمانشاہی کی کتاب شہود و شناخت [5] میں اور سید احمد فہری کی کتاب شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ[6] میں فارسی زبان میں شرح کی گئی ہے۔
اسی طرح اس دعا کی بعض دیگر کتابوں میں بھی جیسے، سید علی خان مدنی کی کتاب ریاض السالکین [7] میں ، جواد مغنیہ کی کتاب فی ظلال الصحیفہ السجادیہ [8] میں ، محمد بن محمد دارابی [9] کی کتاب ریاض العارفین میں اور سید محمد حسین فضل الله [10] کی کتاب آفاق الروح میں، عربی زبان میں شرح کی گئی ہے۔ اور اس دعا کے الفاظ کی فیض کاشانی کی کتاب تعلیقات علی الصحیفۃ السجادیۃ [11] میں اورعزالدین جزائری کی کتاب شرح الصحیفہ السجادیہ [12] میں تشریح کی گئی ہے۔
دعا کا متن اور ترجمہ
وَ كَانَ مِنْ دُعَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذَا ذُكِرَ الشَّيْطَانُ فَاسْتَعَاذَ مِنْهُ وَ مِنْ عَدَاوَتِهِ وَ كَيْدِهِ
اللَّهُمَّ إِنَّا نَعُوذُ بِكَ مِنْ نَزَغَاتِ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ وَ كَيْدِهِ وَ مَكَايِدِهِ، وَ مِنَ الثِّقَةِ بِأَمَانِيِّهِ وَ مَوَاعِيدِهِ وَ غُرُورِهِ وَ مَصَايِدِهِ.
وَ أَنْ يُطْمِعَ نَفْسَهُ فِي إِضْلَالِنَا عَنْ طَاعَتِكَ، وَ امْتِهَانِنَا بِمَعْصِيَتِكَ، أَوْ أَنْ يَحْسُنَ عِنْدَنَا مَا حَسَّنَ لَنَا، أَوْ أَنْ يَثْقُلَ عَلَيْنَا مَا كَرَّهَ إِلَيْنَا.
اللَّهُمَّ اخْسَأْهُ عَنَّا بِعِبَادَتِكَ، وَ اكْبِتْهُ بِدُؤُوبِنَا فِي مَحَبَّتِكَ، وَ اجْعَلْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَهُ سِتْراً لَا يَهْتِكُهُ، وَ رَدْماً مُصْمِتاً لَا يَفْتُقُهُ.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اشْغَلْهُ عَنَّا بِبَعْضِ أَعْدَائِكَ، وَ اعْصِمْنَا مِنْهُ بِحُسْنِ رِعَايَتِكَ، وَ اكْفِنَا خَتْرَهُ، وَ وَلِّنَا ظَهْرَهُ، وَ اقْطَعْ عَنَّا إِثْرَهُ.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ أَمْتِعْنَا مِنَ الْهُدَى بِمِثْلِ ضَلَالَتِهِ، وَ زَوِّدْنَا مِنَ الْتَّقْوَى ضِدَّ غَوَايَتِهِ، وَ اسْلُكْ بِنَا مِنَ التُّقَى خِلَافَ سَبِيلِهِ مِنَ الرَّدَى.
اللَّهُمَّ لَا تَجْعَلْ لَهُ فِي قُلُوبِنَا مَدْخَلًا وَ لَا تُوطِنَنَّ لَهُ فِيما لَدَيْنَا مَنْزِلاً.
اللَّهُمَّ وَ مَا سَوَّلَ لَنَا مِنْ بَاطِلٍ فَعَرِّفْنَاهُ، وَ إِذَا عَرَّفْتَنَاهُ فَقِنَاهُ، وَ بَصِّرْنَا مَا نُكَايِدُهُ بِهِ، وَ أَلْهِمْنَا مَا نُعِدُّهُ لَهُ، وَ أَيْقِظْنَا عَنْ سِنَةِ الْغَفْلَةِ بِالرُّكُونِ إِلَيْهِ، وَ أَحْسِنْ بِتَوْفِيقِكَ عَوْنَنَا عَلَيْهِ.
اللَّهُمَّ وَ أَشْرِبْ قُلُوبَنَا إِنْكَارَ عَمَلِهِ، وَ الْطُفْ لَنَا فِي نَقْضِ حِيَلِهِ.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ حَوِّلْ سُلْطَانَهُ عَنَّا، وَ اقْطَعْ رَجَاءَهُ مِنَّا، وَ ادْرَأْهُ عَنِ الْوُلُوعِ بِنَا.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اجْعَلْ آبَاءَنَا وَ أُمَّهَاتِنَا وَ أَوْلَادَنَا وَ أَهَالِيَنَا وَ ذَوِي أَرْحَامِنَا وَ قَرَابَاتِنَا وَ جِيرَانَنَا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ مِنْهُ فِي حِرْزٍ حَارِزٍ، وَ حِصْنٍ حَافِظٍ، وَ كَهْفٍ مَانِعٍ، وَ أَلْبِسْهُمْ مِنْهُ جُنَناً وَاقِيَةً، وَ أَعْطِهِِمْ عَلَيْهِ أَسْلِحَةً مَاضِيَةً.
اللَّهُمَّ وَ اعْمُمْ بِذَلِكَ مَنْ شَهِدَ لَكَ بِالرُّبُوبِيَّةِ، وَ أَخْلَصَ لَكَ بِالْوَحْدَانِيَّةِ، وَ عَادَاهُ لَكَ بِحَقِيقَةِ الْعُبُودِيَّةِ، وَ اسْتَظْهَرَ بِكَ عَلَيْهِ فِي مَعْرِفَةِ الْعُلُومِ الرَّبَّانِيَّةِ.
اللَّهُمَّ احْلُلْ مَا عَقَدَ، وَ افْتُقْ مَا رَتَقَ، وَ افْسَخْ مَا دَبَّرَ، وَ ثَبِّطْهُ إِذَا عَزَمَ، وَ انْقُضْ مَا أَبْرَمَ.
اللَّهُمَّ وَ اهْزِمْ جُنْدَهُ، وَ أَبْطِلْ كَيْدَهُ وَ اهْدِمْ كَهْفَهُ، وَ أَرْغِمْ أَنْفَهُ
اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا فِي نَظْمِ أَعْدَائِهِ، وَ اعْزِلْنَا عَنْ عِدَادِ أَوْلِيَائِهِ، لَا نُطِيعُ لَهُ إِذَا اسْتَهْوَانَا، وَ لَا نَسْتَجِيبُ لَهُ إِذَا دَعَانَا، نَأْمُرُ بِمُنَاوَاتِهِ، مَنْ أَطَاعَ أَمْرَنَا، وَ نَعِظُ عَنْ مُتَابَعَتِهِ مَنِ اتَّبَعَ زَجْرَنَا.
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ خَاتِمِ النَّبِيِّينَ وَ سَيِّدِ الْمُرْسَلِينَ وَ عَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ الطَّيِّبِينَ الطَّاهِرِينَ، وَ أَعِذْنَا وَ أَهَالِيَنَا وَ إِخْوَانَنَا وَ جَمِيعَ الْمُؤْمِنِينَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ مِمَّا اسْتَعَذْنَا مِنْهُ، وَ أَجِرْنَا مِمَّا اسْتَجَرْنَا بِكَ مِنْ خَوْفِهِ
وَ اسْمَعْ لَنَا مَا دَعَوْنَا بِهِ، وَ أَعْطِنَا مَا أَغْفَلْنَاهُ، وَ احْفَظْ لَنَا مَا نَسِينَاهُ، وَ صَيِّرْنَا بِذَلِكَ فِي دَرَجَاتِ الصَّالِحِينَ وَ مَرَاتِبِ الْمُؤْمِنِينَ. آمِينَ رَبَّ الْعَالَمِينَ.
آنحضرتؑ کی دعا جب شیطان کا ذکر ہوا تو اس سے، اس کی دشمنی اور اس کے مکر و فریب سے خدا سے پناہ مانگی۔
اے اللہ ! ہم شیطان مردود کے وسوسوں، مکروں اور حیلوں سے اور اس کی جھوٹی طفل تسلیوں پر اعتماد کرنے اور اس کے ہتھکنڈوں سے تیرے ذریعہ پناہ مانگتے ہیں۔
اور اس بات سے کہ اس کے دل میں یہ طمع وخواہش پیدا ہو کہ وہ ہمیں تیری اطاعت سے بہکائے اور تیری معصیت کے ذریعہ ہماری رسوائی کا سامان کرے یا یہ کہ جس چیز کو وہ رنگ و روغن سے آراستہ کرے وہ ہماری نظروں میں کھب جائے یا جس چیز کو وہ بدنما ظاہر کرے وہ ہمیں شاق گزرے۔
اے اللہ ! تو اپنی عبادت کے ذریعہ اسے ہم سے دور کردے اور تیری محبت میں محنت و جانفشانی کر نے کے باعث اسے ٹھکرا دے اور ہمارے اور اس کے درمیان ایک ایسا پردہ جسے وہ چاک نہ کرسکے اور ایک ایسی ٹھوس دیوار جسے وہ توڑ نہ سکے حائل کر دے۔
اے اللہ رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل ہر اور اسے ہمارے بجائے اپنے کسی دشمن کے بہکانے میں مصروف رکھ اور ہمیں اپنے حسن نگہداشت کے ذریعہ اس سے محفوظ کر دے۔ اس کے مکر و فریب سے بچا لے اور ہم سے روگردان کر دے اور ہمارے راستے سے اس کے نقش قدم مٹا دے۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ویسی ہی (محفوظ) ہدایت سے بہرہ مند فرما جیسی اس کی گمراہی (مستحکم) ہے اور ہمیں اس کی گمراہی کے مقابلہ میں تقوی و پرہیزگاری کا زاد راہ دے اور اس کی ہلاکت آفرین راہ کے خلاف رشد اور تقوے کے راستے پر لے چل۔
اے اللہ ہمارے دلوں میں اسے عمل دخل کا موقع نہ دے اور ہمارے پاس کی چیزوں میں اس کے لیے منزل مہیا نہ کر۔
اے اللہ وہ جس بے ہودہ بات کو خوشنما بنا کے ہمیں دکھائے وہ ہمیں پہنچوا دے اور جب پہنچوا دے تو اس سے ہمار ی حفاظت بھی فرما اور ہمیں فریب دینے کے طور طریقوں میں بصیرت اور اس کے مقابلہ میں سر و سامان کی تیاری کی تعلیم دے اور اس خواب غفلت سے جو اس کی طرف جھکاؤ کا باعث ہو ہوشیار کردے اور اپنی توفیق سے اس کے مقابلہ میں کامل نصرت عطا فرما۔
بار الہا ! اس کے اعمال سے ناپسندیدگی کا جذبہ ہمارے دلوں میں بھر دے اور اس کے حیلوں کو توڑنے کی توفیق کرامت فرما۔
اے اللہ تو رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور شیطان کے تسلط کو ہم سے ہٹا دے اور اس کی امیدیں ہم سے قطع کر دے اور ہمیں گمراہ کرنے کی حرص و آزار سے اسے دور کر دے۔
اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمارے باپ داداؤں ہماری ماؤں، ہماری اولادوں، ہمارے قبیلہ والوں، عزیزوں، رشتہ داروں اور ہمسایہ میں رہنے والے مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو اس کے شرسے ایک محکم جگہ حفاظت کرنے والے قلعہ اور روک تھام کرنے والی پناہ میں رکھ اور اس سے بچا لے جانے والی زرہیں انہیں پہنا اور اس کے مقابلہ میں تیز دھار والے ہتھیار انہیں عطا کر۔
بار الہا! اس دعا میں ان لوگوں کو بھی شامل کر جو تیری ربوبیت کی گواہی دیں اور دوئی کے تصور کے بغیر تجھے یکتا سمجھیں اور حقیقت عبودیت کی روشنی میں تیری خاطر اسے دشمن رکھیں اور الہی علوم کے سیکھنے میں اس کے بر خلاف تجھ سے مدد چاہیں۔
اے اللہ ! جو گرہ وہ لگائے اسے کھول دے، جسے جوڑے اسے توڑ دے اور جو تدبیر کرے اسے ناکام بنا دے اور جب کوئی ارادہ کرے اسے روک دے، اور جسے فراہم کرے اسے درہم برہم کر دے۔
خدایا! اس کے لشکر کو شکست دے اس کے مکرو فریب کو ملیا میٹ کر دے، اس کی پناہ گاہ کو ڈھا دے، اس کی ناک رگڑ دے۔
اے اللہ ! ہمیں اس کے دشمنوں میں شامل کر اور اس کے دوستوں میں شمار ہونے سے علیحدہ کر دے تاکہ وہ ہمیں بہکائے تو اس کی اطاعت نہ کریں۔ اور جب ہمیں پکارے تو اس کی آواز پر لبیک نہ کہیں اور جو ہمارا حکم مانے ہم اسے اس سے دشمنی رکھنے کا حکم دیں اور جو ہمارے روکنے سے باز آئے اسے اس کی پیروی سے منع کریں۔
اے اللہ ! رحمت نازل فرما محمد پر جو تمام نبیوں کے خاتم اور سب رسولوں کے سر تاج ہیں اور ا ن کے اہل بیت پر جو طیب و طاہر ہیں اور ہمارے عزیزوں، بھائیوں، اور تمام مومن مردوں اور مومنہ عورتوں کو اس چیز سے خوف کھاتے ہوئے ہم نے تجھ سے امان چاہی ہے اس سے امان دے۔
اور جو درخواست کی ہے اسے منظور فرما اور جس کے طلب کرنے میں غفلت ہو گئی ہے اسے مرحمت فرما اور جسے بھول گئے ہیں اسے ہمارے لیے محفوظ رکھ اور اس وسیلہ سے ہمیں نیکو کاروں کے درجوں اور اہل ایمان کے مرتبوں تک پہنچا دے۔ ہماری دعا قبول فرما اے تمام جہان کے پروردگار!
حوالہ جات
- ↑ ممدوحی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۱۲۰۔
- ↑ ترجمہ و شرح دعای ہفدہم صحیفہ سجادیہ، سایت عرفان۔
- ↑ انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳ش، ج۶، ص۲۱-۹۸؛ ممدوحی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۱۲۰-۱۶۴۔
- ↑ انصاریان، دیار عاشقان، 1371ش، ج5، ص295-363۔
- ↑ ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، 1388ش، ج2، ص57-74۔
- ↑ فہری، شرح و تفسیر صحیفہ سجادیہ، 1388ش، ج2، ص109-114۔
- ↑ مدنی شیرازی، ریاض السالکین، 1435ھ، ج2، ص325-400.
- ↑ مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ، 1428ھ، ص141-153.
- ↑ دارابی، ریاض العارفین، 1379ش، ص127-132.
- ↑ فضل الله، آفاق الروح، 1420ھ، ج1، ص199-259.
- ↑ فیض کاشانی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، 1407ھ، ص33-34.
- ↑ جزایری ، شرح الصحیفہ السجادیہ ، 1402، ص94-95۔
مآخذ
- انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، تہران، پیام آزادی، 1372 ہجری شمسی۔
- جزایری، عزالدین، شرح الصحیفة السجادیة، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1402ھ۔
- دارابی، محمد بن محمد، ریاض العارفین فی شرح الصحیفہ السجادیہ، تحقیق حسین درگاہی، تہران، نشر اسوہ، 1379ش۔
- فضلاللہ، سید محمد حسین، آفاق الروح، بیروت، دارالمالک، 1420ھ۔
- فہری، سید احمد، شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ، تہران، اسوہ، 1388ہجری شمسی۔
- فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، تہران، مؤسسہ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، 1407ھ۔
- مدنی شیرازی، سید علی خان، ریاض السالکین فی شرح صحیفة سیدالساجدین، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، 1435ھ۔
- مغنیہ، محمد جواد، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، قم، دار الکتاب الاسلامی، 1428ھ۔
- ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت، ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، مقدمہ آیتاللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، 1388ہجری شمسی۔
بیرونی روابط
- صحیفہ سجادیہ کی سترہویں دعا کا متن اور آڈیو سائٹ عرفان
- دعائے صحیفہ سجادیہ کا اردو ترجمہ سائٹ مرکز افکار اسلامی