صحیفہ سجادیہ کی اکیاونویں دعا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صحیفہ سجادیہ کی اکیاون ویں دعا
SahifaSajadeiaUrdu2.jpg
کوائف
موضوع: خداکی بارگاہ میں التجااور گریہ وزاری اور اس کی نعمتوں کا شکر
مأثور/غیرمأثور: منقول
صادرہ از: امام سجاد(ع)
راوی: متوکل بن ہارون
شیعہ منابع: صحیفہ سجادیہ
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین

صحیفہ سجادیہ کی اکیاون ویں دعا، خدا وند متعال کی بارگاہ میں التجا اور گریہ و زاری کے موضوع پر امام سجاد علیہ السلام سے منقول دعا ہے ۔ امام سجاد علیہ السلام اس دعا میں خدا کا شکر ادا کرتے ہیں ان بے شمار نعمتوں کی وجہ سے جو خدا نے انسان کو عطا کی ہیں۔ جبکہ امام جانتے ہیں انسان کا شکر اللہ کی نعمتوں کے مقابلے میں نا چیز ہے اور انسان خدا کی دی ہوئی نعمتوں کے مقابلے میں اس کا شکر ادا کرنے سے عاجز ہے۔ اور اسی طرح سے اس دعا میں صرف خدا کوانسان کا حامی اور مددگار بتایا گیا ہے کیونکہ مشکلات سے نجات‌ پانے کا راستہ صرف خدا پر توکل اور بھروسہ کرنا ہے۔ معاشرتی زندگی بھی اسی وجہ سے مستحکم ہے کیونکہ خدا انسان کے عیبوں کو چھپائےرکھتا ہے اور اس دعا کی دوسری نصیحتوں میں سے دعاوں کی قبولیت ہےاس وقت میں جب انسان کے پاس کوئی سہارا نہ ہو۔

اکیاون ویں دعا، صحیفہ سجادیہ کی شرحوں جیسے فارسی کتاب شہود وشناخت تالیف حسن ممدوحی کرمانشاہی اور عربی کتاب ریاض السالکین، تالیف سید علی خان مدنی کے اندر موجود ہے۔

دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg


نصیحتیں

صحیفہ سجادیہ کی اکیاون ویں دعا میں مندرجہ ذیل موضوعات موجود ہیں:[1]

  1. خدا کی تعریف۔
  2. اپنی حاجتوں کے لئے اس ذات سے درخواست کرناجو کسی کی محتاج نہیں ہے۔
  3. خدا‌کی بارگاہ میں پناہ لینا۔
  4. خدا سے استغفار اور طلب بخشش کرنا۔
  5. عافیت طلب کرنا۔
  6. مسئلہ قضا۔
  7. شکر خدا اور انسان کا عاجز ہونا۔

اس دعا کی شرح میں حسن ممدوحی کرمانشاہی کے قول کے مطابق دعاؤں میں معصوم اماموں کے کلمات، خدا کے حضور بہترین مناجات اور راز و نیاز ہیں، چونکہ یہ حضرات اس بات کو بہتر جانتے تھے کہ خدا کے مقابلے میں انسان ذاتی طور سے محتاج ہے جب کہ خدا ہر چیز سے بے نیاز ہے، اسی وجہ سے انسانوں کی تمام ضرورتوں کو بیان کرنے کے بعد بہترین تعبیروں کے ساتھ خدا سے رحمت کی درخواست کرتے ہیں۔[2]

اس دعا میں مندرجہ ذیل نصیحتیں ہیں:

  • احسان کے مقابلہ میں شکر خدا۔
  • خدا اپنے بندوں پر ان کے مطالبہ سے پہلے احسان کرتا ہے۔
  • انسانوں کے لئے خدا کی بے شمار نعمتیں۔
  • انسان کی طرف سے نعمتوں کو معمولی سمجھنااور شکرخدا کرنے میں کوتاہی کرنا۔
  • ناچاری اور پریشانی کے وقت کی دعا کا خدا کی طرف سے قبول کرنا
  • خدا کی طرف سے انسان کی سخت مصیبتوں کو ٹال دینا۔
  • اللہ کی خاص عنایت اپنے بندوں پر۔
  • خدا کی بارگاہ سے انسان کا ناامید نہ پلٹنا۔
  • صرف خدا انسان کا مددگار ہے۔
  • جان،زبان اور عقل سے خدا کی تعریف۔
  • خدا خطاؤں کو معاف کرنے والا ہے۔
  • خدا کی طرف سے عیب پوشی کے سائے میں اجتماعی زندگی کا استحکام۔
  • انسان اپنے گناہوں کی وجہ سے ذلیل اور خوار ہوتا ہے۔
  • خدا کے فیض کا ہمیشہ انسان کے حق میں ہونا۔
  • خدا کے سامنےانسان کا محتاج مطلق ہے۔
  • باطن کی برائی کی رسوائی سے حفاظت کے لئے دعا کرنا۔
  • ذمہ داریوں کو انجام دینے میں سستی، شیطانی حیلہ ہے۔
  • مشکلات سے نجات کا راستہ صرف خدا پر توکل ہے۔
  • خدا کی نعمتوں کے مقابلے میں انسان‌ کا شکر ناچیز ہے۔
  • خدا کا عذاب اسکی عدالت کے عین مطابق ہے۔[3]

شرحیں

فارسی زبان میں صحیفہ سجادیہ کی شرحوں میں سے جیسے کتاب‌ شہود و شناخت تالیف محمد حسن ممدوحی کرمانشاہی[4] نیز شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ، تالیف سید احمد فہری[5] کو شمار کیا جاسکتا۔

اسی طرح عربی زبان میں بھی صحیفہ سجادیہ کی شرحوں میں اکیاون ویں دعا کی شرح موجود ہے جیسے کتاب ریاض السالکین تالیف سید علی‌ خان مدنی،[6] فی ظلال الصحیفۃ السجادیۃ تالیف محمد جواد مغنیہ،[7] ریاض العارفین تألیف محمد بن محمد دارابی[8] و آفاق الروح تالیف سید محمد حسین فضل‌ اللہ[9] اس دعا کے الفاظ کی لغوی شرحوں میں جیسے تعلیقات علی الصحیفۃ السجادیۃ تالیف فیض کاشانی[10] اورصحیفہ سجادیۃ کی شرح تالیف عزالدین جزائری[11] موجود ہیں۔

متن اور ترجمہ

صحیفہ سجادیہ کی ترپنویں دعا
متن ترجمہ: (مفتی جعفر حسین)
وَ کانَ مِنْ دُعَائِهِ علیه‌ السلام فِی الْعجز

(۱) رب افحمتني ذنوبي، و انقطعت مقالتي، فلا حجة لي، فأنا الاسير ببليتي، المرتهن بعملي، المتردد في خطيئتي، المتحير عن قصدي، المنقطع بي۔

(۲) قد اوقفت نفسي موقف الاذلاء المذنبين، موقف الاشقياء المتجرين عليك، المستخفين بوعدك۔

(۳) سبحانك ! اي جرأة اجترأت عليك، و اي تغرير غررت بنفسي؟ ! مولاي ارحم كبوتي لحر وجهي و زلة قدمي، و عد بحلمك علي جهلي، و باحسانك علي اساءتي، فأنا المقر بذنبي، المعترف بخطيئتي، و هذه يدي و ناصيتي، استكين بالقود من نفسي، ارحم شيبتي و نفاد ايامي، واقتراب اجلي و ضعفي و مسكنتي و قلة حيلتي۔

(۴) مولاي و ارحمني إذا انقطع من الدنيا اثري، و امحي من المخلوقين ذكري، و كنت من المنسيين كمن قد نسي۔

(۵) مولاي و ارحمني عند تغير صورتي و حالي إذا بلي جسمي، و تفرقت اعضائي، و تقطعت اوصالي، يا غفلتي عما يراد بي۔

(۶) مولاي و ارحمني في حشري و نشري، و اجعل في ذلك اليوم مع أوليائك موقفي، و في احبائك مصدري، و في جوارك مسكني، يا رب العالمين۔

عجز و فروتنی کے سلسلہ میں حضرت کی دعا

(۱) اے میرے پروردگار ! میرے گناہوں نے مجھے (عذر خواہی سے) چپ کر دیا ہے، میری گفتگو بھی دم توڑ چکی ہے۔ تو اب میں کوئی عذر و حجت نہیں رکھتا۔ اس طرح میں اپنے رنج و مصیبت میں گرفتار اپنے اعمال کے ہاتھوں میں گروی، اپنے گناہوں میں حیران و پریشان، مقصد سے سرگرداں اور منزل سے دور افتادہ ہوں۔

(۲) میں نے اپنے کو ذلیل گنہگاروں کے موقف پر لا کھڑا کیا ہے ان بد بختوں کے موقف پر جو تیرے مقابلہ میں جرات دکھانے والے اور تیرے وعدہ کو سرسری سمجھنے والے ہیں۔

(۳) پاک ہے تیری ذات۔ میں نے کس جرات و دلیری کے ساتھ تیرے مقابلہ میں جرات کی ہے اور کس تباہی و بربادی کے ساتھ اپنی ہلاکت کا سامان کیا ہے۔ اے میرے مالک ! میرے منہ کے بل گرنے اور قدموں کے ٹھوکر کھانے پر رحم فرما اور اپنے حلم سے میری جہالت و نادانی کو اور اپنے احسان سے میری خطاء و بد اعمالی کو بخش دے اس لۓ کہ میں اپنے گناہوں کا مقر اور اپنی خطاؤں کا معترف ہوں یہ میرا ہاتھ اور یہ میری پیشانی کے بال (تیرے قبضۂ قدرت میں) ہیں۔ میں نے عجز و سرافگندگی کے ساتھ اپنے کو قصاص کے لۓ پیش کر دیا ہے۔ بار الہا ! میرے بڑھاپے، زندگی کے دنوں کے بیت جانے، موت کے سر پر منڈلانے اور میری ناتوانی، عاجزی اور بے چارگی پر رحم فرما۔

(۴) اے میرے مالک۔ جب دنیا سے میرا نام ونشان مٹ جاۓ اور لوگوں (کے دلوں) سے میری یاد محو ہو جاۓ اور ان لوگوں کی طرح جنہیں بھلا دیا جاتا ہے میں بھی بھلا دیۓ جانے والوں میں سے ہو جاؤں تو مجھ پر رحم فرمانا۔

(۵) اے میرے مالک ! میری صورت و حالت کے بدل جانے کے وقت جب میرا جسم کہنہ، اعضاء درہم وبرہم اور جوڑ وبند الگ الگ ہو جائیں تو مجھ پر ترس کھانا۔ ہاۓ میری غفلت و بیخبری اس سے جو اب میرے لۓ چاہا جا رہا ہے۔

(۶) اے میرے مولا ! حشر و نشر کے ہنگام مجھ پر رحم کرنا اور اس دن میرا قیام اپنے دوستوں کے ساتھ اور (موقف حساب سے محل جزا کی طرف) میری واپسی اپنے دوستداروں کے ہمراہ اور میری منزل اپنی ہمسائیگی میں قرار دینا۔ اے تمام جہانوں کے پروردگار!

حوالہ جات

  1. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۲ہجری شمسی، ج۷، ص۶۰۷۔
  2. ممدوحی کرمانشاہی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ہجری شمسی، ج۴، ص۳۱۱۔
  3. ممدوحی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ہجری شمسی، ج۴، ص۳۱۱۔۳۳۶؛ [https://www۔erfan۔ir/farsi/sahifeh51/faraz1 شرح فرازہای دعای پنجاہ و یکم صحیفہ از سایت عرفان[۔
  4. ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، ۱۳۸۸ہجری شمسی، ج۴، ص۳۰۷۔۳۳۶۔
  5. فہری، شرح اور تفسیر صحیفہ سجادیہ، ۱۳۸۸ہجری شمسی، ج۳، ص۵۴۷۔۵۵۲۔
  6. مدنی شیرازی، ریاض السالکین، ۱۴۳۵ھ، ج۷، ص۳۳۳۔۳۶۴۔
  7. مغنیہ، فی ظلال الصحیفۃ، ۱۴۲۸ھ، ص۶۴۱۔۶۴۶۔
  8. دارابی، ریاض العارفین، ۱۳۷۹ہجری شمسی، ص۷۰۷۔۷۱۵۔
  9. فضل‌اللہ، آفاق الروح، ۱۴۲۰ھ، ج۲، ص۶۰۱۔۶۱۳۔
  10. فیض کاشانی، تعلیقات علی الصحیفۃ السجادیۃ، ۱۴۰۷ھ، ص۱۰۲۔۱۰۳۔
  11. جزایری، شرح الصحیفۃ السجادیۃ، ۱۴۰۲ھ، ص۲۸۸۔۲۹۲۔


مآخذ

  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، تہران، پیام آزادی، ۱۳۷۲ہجری شمسی۔
  • جزایری، عزالدین، شرح الصحیفۃ السجادیۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۲ھ۔
  • دارابی، محمد بن محمد، ریاض العارفین فی شرح الصحیفہ السجادیہ، تحقیق حسین درگاہی، تہران، نشر اسوہ، ۱۳۷۹ہجری شمسی۔
  • فضل‌ اللہ، سید محمد حسین، آفاق الروح، بیروت، دارالمالک، ۱۴۲۰ھ۔
  • فہری، سید احمد، شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ، تہران، اسوہ، ۱۳۸۸ہجری شمسی۔
  • فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفۃ السجادیۃ، تہران، مؤسسۃ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • مدنی شیرازی، سید علی‌ خان، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سیدالساجدین، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۳۵ھ۔
  • مغنیہ، محمد جواد، فی ظلال الصحیفۃ السجادیۃ، قم، دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۲۸ھ۔
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت، ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، مقدمہ آیت‌اللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸ہجری شمسی۔