صحیفہ سجادیہ کی پہلی دعا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صحیفہ سجادیہ کی پہلی دعا
SahifaSajadeiaUrdu2.jpg
کوائف
موضوع: توحید و حمد الہی
مأثور/غیرمأثور: مأثور
صادرہ از: امام سجادؑ
راوی: متوکل بن ہارون
شیعہ منابع: صحیفہ سجادیہ
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین

صحیفہ سجادیہ کی پہلی دعا امام سجادؑ کی دعاؤں میں سے ہے جس کا زیادہ تر حصہ خدا کی حمد و ثنا پر مشتمل ہے۔ امام سجادؑ نے اس دعا میں انسان کی دنیوی اور اخروی زندگی پر خدا کے حمد و ثنا کے اثرات، انسان کی سعادت اور ہلاکت کا معیار، خدا شناسی کے طریقے، اسلامی تعلیمات کی آسانی اور خدا کی حمد و ثنا کے طور طریقے بیان کرتے ہوئے خدا کے بعض صفات کی بھی توضیح دی ہیں۔

صحیفہ سجادیہ کی شرحوں میں اس دعا کا مختلف زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے، حسین انصاریان نے دیار عاشقان میں فارسی میں اور محمد جواد مغنیہ نے فی ظلال الصحیفہ السجادیہ میں عربی میں اس کی شرح لکھی ہیں۔

دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

مضامین

صحیفہ سجادیہ کی پہلی دعا کا اصل موضوع توحید اور خدا کی حمد و ثنا ہے اور اس میں لفظ حمد 25 مرتبہ تکرار ہوا ہے۔ اس دعا کے مضامین درج ذیل ہیں:

  • خدا کی حمد و ثنا اور بعض صفات کا بیان
  • خدا کا نظر آنے اور توصیف سے ما ورا ہونا
  • کسی مادہ اور ابزار نیز زمان و مکان کی مداخلت کے بغیر خدا کا کائنات کو تخلیق کرنا
  • موجودات کی معیشت کی تقدیر خدا کے ہاتھ میں ہونا
  • اجل مسمی اور انسانی عمر کا خاتمہ
  • خدا کی بارگاہ میں تمام بندوں کی حاضری
  • خدا شناسی کے طریقے
  • خدا کی حمد و ثنا انسان کی فطرت کا تقاضا ہے۔
  • خدا کی حمد و ثنا نہ کرنا انسانیت سے خارج ہونے کا مترادف ہے
  • دنیا اور آخرت میں شکر خدا کے آثار (خدا کی خشنودی کا حصول اور نعمتوں میں اضافہ کا باعث)
  • خدا کسی کام میں مورد سوال واقع نہیں ہو سکتا
  • قیامت کے دن انسانوں پر ظلم نہیں ہو گا۔
  • حمد الہی کے آثار (قیامت میں چہرے کی نورانیت، جہنم کی آگ سے رہائی، مقرب فرشتوں اور انبیاء کی ہمنشینی)
  • خدا کے ذریعے انسان کی بہترین تخلیق اور اس کے رزق کی پاکیزگی
  • انسان پر خدا کا خاص لطف و کرم (انسان کے لئے کائنات کی خوبصوتیوں کی تخلیق)
  • انسان کی ناشکری اور توبہ کی نعمت
  • خدا کی طرف سے انسان کے حس شکر گزاری کا امتحان لینا
  • سعادت اور ہلاکت کا معیار
  • خدا کا انسانوں کے ساتھ مدارا اور عذاب میں جلدی نہ کرنا
  • اسلامی تعلیمات کی آسانی
  • علم خدا کا تمام اشیاء پر احاطہ
  • خدا کے حمد و ثنا کے طریقے اور انسانی زندگی پر اس کے اثرات۔[1]

شرحیں

صحیفہ سجادیہ کی شرحوں میں اس کی پہلی دعا کے مختلف حصوں کی تشریح کی گئی ہیں۔ حسین انصاریان نے کتاب «دیار عاشقان» میں اس دعا کی مکمل شرح کی ہیں۔[2] اس طرح محمد حسن ممدوحی کرمانشاہی کی کتاب شہود و شناخت،[3] محمد تقی خلجی کی کتاب اسرار خاموشان[4] اور بعض دوسری کتابوں میں اس دعا کی فارسی میں شرح لکھی گئی ہیں۔

اس کے علاوہ محمد جواد مغنیہ کی کتاب فی ظلال الصحیفہ السجادیہ،[5] محمد بن محمد دارابی کی کتاب ریاض العارفین[6] اور بعض دوسری کتابوں من جملہ سید محمد حسین فضل‌ اللہ کی کتاب «آفاق الروح»[7] اور سید علی‌ خان مدنی کی کتاب «ریاض السالکین فی شرح صحیفہ سید الساجدین»[8] میں اس دعا کی عربی میں شرح لکھی گئی ہے۔ اس دعا کے عمومی مفاہیم اور الفاظ کے لغوی معانی کو فیض کاشانی کی کتاب «تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ»[9] میں توضیح دی گئی ہے۔

متن اور ترجمہ

صحیفہ سجادیہ کی پہلی دعا
متن ترجمہ: (مفتی جعفر حسین)
وَ كَانَ مِنْ دُعَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ إِذَا ابْتَدَأَ بِالدُّعَاءِ بَدَأَ بِالتَّحْمِيدِ لِلَّهِ عَزَّ وَ جَلَّ وَ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ:

(۱) الْحَمْدُ لِلَّهِ الْأَوَّلِ بِلَا أَوَّلٍ کانَ قَبْلَهُ، وَ الْآخِرِ بِلَا آخِرٍ یکونُ بَعْدَهُ

(۲) الَّذِی قَصُرَتْ عَنْ رُؤْیتِهِ أَبْصَارُ النَّاظِرِینَ، وَ عَجَزَتْ عَنْ نَعْتِهِ أَوْهَامُ الْوَاصِفِینَ.

(۳) ابْتَدَعَ بِقُدْرَتِهِ الْخَلْقَ ابْتِدَاعاً، وَ اخْتَرَعَهُمْ عَلَی مَشِیتِهِ اخْتِرَاعاً.

(۴) ثُمَّ سَلَک بِهِمْ طَرِیقَ إِرَادَتِهِ، وَ بَعَثَهُمْ فِی سَبِیلِ مَحَبَّتِهِ، لَا یمْلِکونَ تَأْخِیراً عَمَّا قَدَّمَهُمْ إِلَیهِ، وَ لَا یسْتَطِیعُونَ تَقَدُّماً إِلَی مَا أَخَّرَهُمْ عَنْهُ.

(۵) وَ جَعَلَ لِکلِّ رُوحٍ مِنْهُمْ قُوتاً مَعْلُوماً مَقْسُوماً مِنْ رِزْقِهِ، لَا ینْقُصُ مَنْ زَادَهُ نَاقِصٌ، وَ لَا یزِیدُ مَنْ نَقَصَ مِنْهُمْ زَائِدٌ.

(۶) ثُمَّ ضَرَبَ لَهُ فِی الْحَیاةِ أَجَلًا مَوْقُوتاً، وَ نَصَبَ لَهُ أَمَداً مَحْدُوداً، یتَخَطَّی إِلَیهِ بِأَیامِ عُمُرِهِ، وَ یرْهَقُهُ بِأَعْوَامِ دَهْرِهِ، حَتَّی إِذَا بَلَغَ أَقْصَی أَثَرِهِ، وَ اسْتَوْعَبَ حِسَابَ عُمُرِهِ، قَبَضَهُ إِلَی مَا نَدَبَهُ إِلَیهِ مِنْ مَوْفُورِ ثَوَابِهِ، أَوْ مَحْذُورِ عِقَابِهِ، «لِیجْزِی الَّذِینَ أَساؤُا بِما عَمِلُوا وَ یجْزِی الَّذِینَ أَحْسَنُوا بِالْحُسْنَی».

(۷) عَدْلًا مِنْهُ، تَقَدَّسَتْ أَسْمَاؤُهُ، وَ تَظاهَرَتْ آلَاؤُهُ، «لا یسْئَلُ عَمَّا یفْعَلُ وَ هُمْ یُسْئَلُونَ».

(۸) وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی لَوْ حَبَسَ عَنْ عِبَادِهِ مَعْرِفَةَ حَمْدِهِ عَلَی مَا أَبْلَاهُمْ مِنْ مِنَنِهِ الْمُتَتَابِعَةِ، وَ أَسْبَغَ عَلَیهِمْ مِنْ نِعَمِهِ الْمُتَظَاهِرَةِ، لَتَصَرَّفُوا فِی مِنَنِهِ فَلَمْ یحْمَدُوهُ، وَ تَوَسَّعُوا فِی رِزْقِهِ فَلَمْ یشْکرُوهُ.

(۹) وَ لَوْ کانُوا کذَلِک لَخَرَجُوا مِنْ حُدُودِ الْإِنْسَانِیةِ إِلَی حَدِّ الْبَهِیمِیةِ فَکانُوا کمَا وَصَفَ فِی مُحْکمِ کتَابِهِ: «إِنْ هُمْ إِلَّا کالْأَنْعامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ سَبِیلًا».

(۱۰) وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَی مَا عَرَّفَنَا مِنْ نَفْسِهِ، وَ أَلْهَمَنَا مِنْ شُکرِهِ، وَ فَتَحَ لَنَا مِنْ أَبْوَابِ الْعِلْمِ بِرُبُوبِیتِهِ، وَ دَلَّنَا عَلَیهِ مِنَ الْإِخْلَاصِ لَهُ فِی تَوْحِیدِهِ، وَ جَنَّبَنَا مِنَ الْإِلْحَادِ وَ الشَّک فِی أَمْرِهِ.

(۱۱) حَمْداً نُعَمَّرُ بِهِ فِیمَنْ حَمِدَهُ مِنْ خَلْقِهِ، وَ نَسْبِقُ بِهِ مَنْ سَبَقَ إِلَی رِضَاهُ وَ عَفْوِهِ.

(۱۲) حَمْداً یضِی‏ءُ لَنَا بِهِ ظُلُمَاتِ الْبَرْزَخِ، وَ یسَهِّلُ عَلَینَا بِهِ سَبِیلَ الْمَبْعَثِ، وَ یشَرِّفُ بِهِ مَنَازِلَنَا عِنْدَ مَوَاقِفِ الْأَشْهَادِ، «یوْمَ تُجْزی‏ کلُّ نَفْسٍ بِما کسَبَتْ وَ هُمْ لا یظْلَمُونَ»، «یوْمَ لا یغْنِی مَوْلًی عَنْ مَوْلًی شَیئاً وَ لا هُمْ ینْصَرُونَ».

(۱۳) حَمْداً یرْتَفِعُ مِنَّا إِلَی أَعْلَی عِلِّیینَ فِی کتَابٍ مَرْقُومٍ یشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ.

(۱۴) حَمْداً تَقَرُّ بِهِ عُیونُنَا إِذَا بَرِقَتِ الْأَبْصَارُ، وَ تَبْیضُّ بِهِ وُجُوهُنَا إِذَا اسْوَدَّتِ الْأَبْشَارُ.

(۱۵) حَمْداً نُعْتَقُ بِهِ مِنْ أَلِیمِ نَارِ اللَّهِ إِلَی کرِیمِ جِوَارِ اللَّهِ.

(۱۶) حَمْداً نُزَاحِمُ بِهِ مَلَائِکتَهُ الْمُقَرَّبِینَ، وَ نُضَامُّ بِهِ أَنْبِیاءَهُ الْمُرْسَلِینَ فِی دَارِ الْمُقَامَةِ الَّتِی لَا تَزُولُ، وَ مَحَلِّ کرَامَتِهِ الَّتِی لَا تَحُولُ.

(۱۷) وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی اخْتَارَ لَنَا مَحَاسِنَ الْخَلْقِ، وَ أَجْرَی عَلَینَا طَیبَاتِ الرِّزْقِ.

(۱۸) وَ جَعَلَ لَنَا الْفَضِیلَةَ بِالْمَلَکةِ عَلَی جَمِیعِ الْخَلْقِ، فَکلُّ خَلِیقَتِهِ مُنْقَادَةٌ لَنَا بِقُدْرَتِهِ، وَ صَائِرَةٌ إِلَی طَاعَتِنَا بِعِزَّتِهِ.

(۱۹) وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی أَغْلَقَ عَنَّا بَابَ الْحَاجَةِ إِلَّا إِلَیهِ، فَکیفَ نُطِیقُ حَمْدَه‌ام مَتَی نُؤَدِّی شُکرَهُ! لَا، مَتَی.

(۲۰) وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی رَکبَ فِینَا آلَاتِ الْبَسْطِ، وَ جَعَلَ لَنَا أَدَوَاتِ الْقَبْضِ، وَ مَتَّعَنَا بِأَرْوَاحِ الْحَیاةِ، وَ أَثْبَتَ فِینَا جَوَارِحَ الْأَعْمَالِ، وَ غَذَّانَا بِطَیبَاتِ الرِّزْقِ، وَ أَغْنَانَا بِفَضْلِهِ، وَ أَقْنَانَا بِمَنِّهِ.

(۲۱) ثُمَّ أَمَرَنَا لِیخْتَبِرَ طَاعَتَنَا، وَ نَهَانَا لِیبْتَلِی شُکرَنَا، فَخَالَفْنَا عَنْ طَرِیقِ أَمْرِهِ، وَ رَکبْنَا مُتُونَ زَجْرِهِ، فَلَمْ یبْتَدِرْنَا بِعُقُوبَتِهِ، وَ لَمْ یعَاجِلْنَا بِنِقْمَتِهِ، بَلْ تَأَنَّانَا بِرَحْمَتِهِ تَکرُّماً، وَ انْتَظَرَ مُرَاجَعَتَنَا بِرَأْفَتِهِ حِلْماً.

(۲۲) وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِی دَلَّنَا عَلَی التَّوْبَةِ الَّتِی لَمْ نُفِدْهَا إِلَّا مِنْ فَضْلِهِ، فَلَوْ لَمْ نَعْتَدِدْ مِنْ فَضْلِهِ إِلَّا بِهَا لَقَدْ حَسُنَ بَلَاؤُهُ عِنْدَنَا، وَ جَلَّ إِحْسَانُهُ إِلَینَا وَ جَسُمَ فَضْلُهُ عَلَینَا

(۲۳) فَمَا هَکذَا کانَتْ سُنَّتُهُ فِی التَّوْبَةِ لِمَنْ کانَ قَبْلَنَا، لَقَدْ وَضَعَ عَنَّا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ، وَ لَمْ یکلِّفْنَا إِلَّا وُسْعاً، وَ لَمْ یجَشِّمْنَا إِلَّا یسْراً، وَ لَمْ یدَعْ لِأَحَدٍ مِنَّا حُجَّةً وَ لَا عُذْراً.

(۲۴) فَالْهَالِک مِنَّا مَنْ هَلَک عَلَیهِ، وَ السَّعِیدُ مِنَّا مَنْ رَغِبَ إِلَیهِ

(۲۵) وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ بِکلِّ مَا حَمِدَهُ بِهِ أَدْنَی مَلَائِکتِهِ إِلَیهِ وَ أَکرَمُ خَلِیقَتِهِ عَلَیهِ وَ أَرْضَی حَامِدِیهِ لَدَیهِ

(۲۶) حَمْداً یفْضُلُ سَائِرَ الْحَمْدِ کفَضْلِ رَبِّنَا عَلَی جَمِیعِ خَلْقِهِ.

(۲۷) ثُمَّ لَهُ الْحَمْدُ مَکانَ کلِّ نِعْمَةٍ لَهُ عَلَینَا وَ عَلَی جَمِیعِ عِبَادِهِ الْمَاضِینَ وَ الْبَاقِینَ عَدَدَ مَا أَحَاطَ بِهِ عِلْمُهُ مِنْ جَمِیعِ الْأَشْیاءِ، وَ مَکانَ کلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهَا عَدَدُهَا أَضْعَافاً مُضَاعَفَةً أَبَداً سَرْمَداً إِلَی یوْمِ الْقِیامَةِ.

(۲۸) حَمْداً لَا مُنْتَهَی لِحَدِّهِ، وَ لَا حِسَابَ لِعَدَدِهِ، وَ لَا مَبْلَغَ لِغَایتِهِ، وَ لَا انْقِطَاعَ لِأَمَدِهِ

(۲۹) حَمْداً یکونُ وُصْلَةً إِلَی طَاعَتِهِ وَ عَفْوِهِ، وَ سَبَباً إِلَی رِضْوَانِهِ، وَ ذَرِیعَةً إِلَی مَغْفِرَتِهِ، وَ طَرِیقاً إِلَی جَنَّتِهِ، وَ خَفِیراً مِنْ نَقِمَتِهِ، وَ أَمْناً مِنْ غَضَبِهِ، وَ ظَهِیراً عَلَی طَاعَتِهِ، وَ حَاجِزاً عَنْ مَعْصِیتِهِ، وَ عَوْناً عَلَی تَأْدِیةِ حَقِّهِ وَ وَظَائِفِهِ.

(۳۰) حَمْداً نَسْعَدُ بِهِ فِی السُّعَدَاءِ مِنْ أَوْلِیائِهِ، وَ نَصِیرُ بِهِ فِی نَظْمِ الشُّهَدَاءِ بِسُیوفِ أَعْدَائِهِ، إِنَّهُ وَلِی حَمِید.

خداوند عالم کی حمد و ستائش کی دعا

(1) سب تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو ایسا اول ہے، جس کے پہلے کوئی اول نہ تھا اور ایسا آخر ہے جس کے بعد کوئی آخر نہ ہو گا۔

(2) وہ خدا جس کے دیکھنے سے دیکھنے والوں کی آنکھیں عاجز اور جس کی توصیف و ثنا سے وصف بیان کرنے والوں کی عقلیں قاصر ہیں۔

(3) اس نے کائنات کو اپنی قدرت سے پیدا کیا اور اپنے منشائے ازلی سے جیسا چاہا انہیں ایجاد کیا۔

(4) پھر انہیں اپنے ارادہ کے راستہ پر چلایا اور اپنی محبت کی راہ پر ابھارا۔ جن حدود کی طرف انہیں آگے بڑھایا ہے، ان سے پیچھے رہنا اور جن سے پیچھے رکھا ہے ان سے آگے بڑھنا ان کے قبضہ و اختیار سے باہر ہے۔

(5) اسی نے ہر (ذی) روح کے لیے اپنے (پیدا کردہ) رزق میں سے معین و معلوم روزی مقرر کر دی ہے۔ جسے زیادہ دیا ہے، اسے کوئی گھٹانے والا گھٹا نہیں سکتا اور جسے کم دیا ہے، اسے بڑھانے والا بڑھا نہیں سکتا۔

(6) پھر یہ کہ اسی نے اس کی زندگی کا ایک وقت مقرر کر دیا اور ایک معینہ مدّت اس کے لیے ٹھرا دی۔ جس مدت کی طرف وہ اپنی زندگی کے دنوں سے بڑھتا اور اپنے زمانۂ زیست کے سالوں سے اس کے نزدیک ہوتا ہے، یہاں تک کہ جب زندگی کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے اور اپنی عمر کا حساب پورا کر لیتا ہے تو اللہ اسے اپنے ثواب بے پایاں تک جس کی طرف اسے بلایا تھا یا خوفناک عذاب کی جانب جسے بیان کر دیا تھا، قبض روح کے بعد پہنچا دیتا ہے

(7) تاکہ اپنے عدل کی بنا پر بروں کو ان کی بد اعمالیوں کی سزا اور نیکوکاروں کو اچھا بدلہ دے۔ اس کے نام پاکیزہ اور اس کی نعمتوں کا سلسلہ لگاتا رہے۔ وہ جو کرتا ہے اس کی پوچھ گچھ اس سے نہیں ہو سکتی اور لوگوں سے بہرحال باز پرس ہوگی۔

(8) تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے کہ اگر وہ اپنے بندوں کو حمد و شکر کی معرفت سے محروم رکھتا، ان پیہم عطیوں پر جو اس نے دیئے ہیں اور ان پے در پے نعمتوں پر جو اس نے فراوانی سے بخشی ہیں تو وہ اس کی نعمتوں میں تصرف تو کرتے، مگر اس کی حمد نہ کرتے اور اس کے رزق میں فارغ البالی سے بسر تو کرتے، مگر اُس کا شکر بجانہ لاتے

(9) اور ایسے ہوتے تو انسانیت کی حدوں سے نکل کر چوپائیوں کی حد میں آجاتے اور اس توصیف کے مصداق ہوتے جو اس نے اپنی محکم کتاب میں کی ہے کہ "وہ تو بس چوپائیوں کی مانند ہیں، بلکہ ان سے بھی زیادہ راہ راست سے بھٹکتے ہوئے"

(10) تمام تعریف اللہ کے لیے ہے کہ اس نے اپنی ذات کو ہمیں پہنچوایا اور حمد و شکر کا طریقہ سمجھایا اور اپنی پروردگاری پر علم و اطلاع کے دروازے ہمارے لیے کھول دیئے اور توحید میں تنزیہ و اخلاص کی طرف ہماری رہنمائی کی اور اپنے معاملہ میں شرک و کجروی سے ہمیں بچایا۔

(11) ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اس کی مخلوقات میں سے حمدگزاروں میں زندگی بسر کریں اور اس کی خوشنودی و بخشش کی طرف بڑھنے والوں سے سبقت لے جائیں۔

(12) ایسی حمد جس کی بدولت ہمارے لیے برزخ کی تاریکیاں چھٹ جائیں اور جو ہمارے لیے قیامت کی راہوں کو آسان کر دے اور حشر کے مجمع عام میں ہماری قدر و منزلت کو بلند کر دے، جس دن ہر ایک کے کئے کا بدلہ دیا جائے گا اور ان پر کسی طرح کا ظلم نہ ہوگا۔ جس دن کوئی دوست کسی دوست کے کچھ کام نہ آئے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔

(13) ایسی حمد جو ایک لکھی ہوئی کتاب میں ہے جس کی مقرب فرشتے نگہداشت کرتے ہیں، ہماری طرف سے بہشت بریں کے بلند ترین درجات تک بلند ہو۔

(14) ایسی حمد جس سے ہماری آنکھوں میں ٹھنڈک آئے جبکہ تمام آنکھیں حیرت و دہشت سے پھٹی کی پھٹی رہ جائیں گی اور ہمارے چہرے روشن و درخشاں ہوں، جبکہ تمام چہرے سیاہ ہوں گے۔

(15) ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اللہ تعالیٰ کی بھڑکائی ہوئی اذیت دہ آگ سے آزادی پا کر اس کے جوارِ رحمت میں آجائیں۔

(16) ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اس کے مقرب فرشتوں کے ساتھ شانہ بشانہ بڑھتے ہوئے ٹکرائیں اور اس منزلِ جاوید و مقام عزت و رفعت میں جسے تغیر و زوال نہیں، اس کے فر ستادہ پیغمبروں کے ساتھ یکجا ہوں۔

(17) تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے خلقت و آفرنیش کی تمام خوبیاں ہمارے لیے منتخب کیں اور پاک و پاکیزہ رزق کا سلسلہ ہمارے لیے جاری کیا

(18) اور ہمیں غلبہ و تسلط دے کر تمام مخلوقات پر برتری عطا کی۔ چنانچہ تمام کائنات اس کی قدرت سے ہمارے زیر فرمان اور اس کی قوت و سربلندی کی بدولت ہماری اطاعت پر آمادہ ہے۔

(19) تمام تعریف اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہے جس نے اپنے سوا طلب و حاجت کا ہر دروازہ ہمارے لیے بند کر دیا تو ہم (اس حاجت و احتیاج کے ہوتے ہوئے) کیسے اس کی حمد سے عہدہ بر آ ہو سکتے ہیں اور کب اس کا شکر ادا کر سکتے ہیں۔ نہیں! کسی وقت بھی اس کا شکر ادا نہیں ہو سکتا۔

(20) تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے، جس نے ہمارے (جسموں میں) پھیلنے والے اعصاب اور سمٹنے والے عضلات ترتیب دیئے اور زندگی کی آسائشوں سے بہرہ مند کیا اور کار و کسب کے اعضاء ہمارے اندر ودیعت فرمائے اور پاک و پاکیزہ روزی سے ہماری پرورش کی اور اپنے فضل و کرم کے ذریعہ ہمیں بے نیاز کردیا اور اپنے لطف و احسان سے ہمیں (نعمتوں کا) سرمایہ بخشا۔

(21) پھر اس نے اپنے احکام اوامر کی پیروی کا حکم دیا تاکہ فرمانبرداری میں ہم کو آزمائے اور نواہی کے ارتکاب سے منع کیا تاکہ ہمارے شکر کو جانچے، مگر ہم نے اس کے حکم کی راہ سے انحراف کیا اور نواہی کے مرکب پر سوار ہولیے ۔ پھر بھی اس نے عذاب میں جلدی نہیں کی اور سزا دینے میں تعجیل سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے کرم و رحمت سے ہمارے ساتھ نرمی کا برتاؤ کیا اور حلم و رافت سے ہمارے باز آ جانے کا منتظر رہا۔

(22) تمام تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں توبہ کی راہ بتائی کہ جسے ہم نے صرف اس کے فضل و کرم کی بدولت حاصل کیا ہے۔ تو اگر ہم اس کی بخششوں میں سے اس توبہ کے سوا اور کوئی نعمت شمار میں نہ لائیں تو یہی توبہ ہمارے حق میں اس کا عمدہ انعام، بڑا احسان اور عظیم فضل ہے۔

(23) اس لیے کہ ہم سے پہلے لوگوں کے لیے توبہ کے بارے میں اس کا یہ رویہ نہ تھا۔ اس نے تو جس چیز کے برداشت کرنے کی ہم میں طاقت نہیں ہے، وہ ہم سے ہٹا لی اور ہماری طاقت سے بڑھ کر ہم پرذمہ داری عائد نہیں کی اور صرف سہل و آسان چیزوں کی ہمیں تکلیف دی ہے اور ہم میں سے کسی ایک کے لیے حیل و حجت کی گنجائش نہیں رہنے دی۔

(24) لہذا وہی تباہ ہونے والا ہے، جو اس کی منشاء کے خلاف اپنی تباہی کا سامان کرے اور وہی خوش نصیب ہے، جو اس کی طرف توجہ و رغبت کرے۔

(25) اللہ کے لیے حمد و ستائش ہے، ہر وہ حمد جو اس کے مقرب فرشتے، بزرگ ترین مخلوقات اور پسندیدہ حمد کرنے والے بجا لاتے ہیں۔

(26) ایسی ستائش جو دوسری ستائشوں سے بڑھی چڑھی ہوئی ہو، جس طرح ہمارا پروردگار تمام مخلوقات سے بڑھا ہوا ہے۔

(27) پھر اسی کے لیے حمد و ثنا ہے۔ اس کی ہرہر نعمت کے بدلے میں جو اس نے ہمیں اور تمام گزشتہ و باقی ماندہ بندوں کو بخشی ہے، ان تمام چیزوں کے شمار کے برابر جن پر اس کا علم حاوی ہے اور ہر نعمت کے مقابلہ میں دوگنی چوگنی جو قیامت کے دن تک دائمی و ابدی ہو ۔

(28) ایسی حمد جس کا کوئی آخری کنار اور جس کی گنتی کا کوئی شمار نہ ہو۔ جس کی حد نہایت دسترس سے باہر اور جس کی مدت غیر مختتم ہو۔

(29) ایسی حمد جو اس کی اطاعت و بخشش کا وسیلہ، اس کی رضا مندی کا سبب، اس کی مغفرت کا ذریعہ، جنت کا راستہ، اس کے عذاب سے پناہ، اس کے غضب سے امان، اس کی اطاعت میں معین، اس کی معصیت سے مانع اور اس کے حقوق و واجبات کی ادائیگی میں مددگار ہو ۔

(30) ایسی حمد جس کے ذریعہ ہم اس کے خوش نصیب دوستوں میں شامل ہو کر خوش نصیب قرار پائیں اور ان شہیدوں کے زمرہ میں شمار ہوں جو اس کے دشمنوں کی تلواروں سے شہید ہوئے۔ بیشک وہی مالک و مختار اور قابل ستائش ہے۔

حوالہ جات

  1. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳ش، ج۱، ص۹۹-۴۱۱؛ خلجی، اسرار خاموشان، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۱۴۱-۵۳۶۔
  2. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳ش، ج۱، ص۹۹-۴۱۱۔
  3. ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۱، ص۲۱۷-۲۶۵۔
  4. خلجی، اسرار خاموشان، ۱۳۸۳ش، ج۱، ص۱۴۱-۵۳۶۔
  5. مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ، ۱۴۲۸ق، ص۴۵-۷۲۔
  6. دارابی، ریاض العارفین، ۱۳۷۹ش، ص۱۵-۴۷۔
  7. فضل اللہ، آفاق الروح، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۲۱-۵۴۔
  8. مدنی شیرازی، ریاض السالکین، ۱۴۳۵ق، ج۱، ص۲۲۱-۴۱۲۔
  9. فیض کاشانی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۷ق، ص۱۴-۲۰۔


مآخذ

  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، تہران، پیام آزادی، ۱۳۷۳ ہجری شمسی۔
  • خلجی، محمد تقی، اسرار خاموشان، قم، پرتو خورشید، ۱۳۸۳ ہجری شمسی۔
  • دارابی، محمد بن محمد، ریاض العارفین فی شرح الصحیفہ السجادیہ، محقق حسین درگاہی، تہران، نشر اسوہ، ۱۳۷۹ ہجری شمسی۔
  • فضل ‌اللہ، سید محمد حسین، آفاق الروح، بیروت، دارالمالک، ۱۴۲۰ھ۔
  • فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، تہران، مؤسسہ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • مدنی شیرازی، سید علی‌ خان، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سید الساجدین، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۳۵ھ۔
  • مغنیہ، محمد جواد، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، قم، دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۲۸ھ۔
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت، ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، با مقدمہ آیت ‌اللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸ ہجری شمسی۔