صحیفہ سجادیہ کی پینتیسویں دعا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صحیفۂ سجادیہ کی پینتیسویں دعا
کوائف
موضوع: قضائے الہی پہ رضایت و خوشنودی۔
مأثور/غیرمأثور: مأثورہ
صادرہ از: امام سجاد علیہ السلام
راوی: متوکل بن ہارون
شیعہ منابع: صحیفۂ سجادیہ
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین

صحیفہ سجادیہ کی پینتیسویں دعا امام سجادؑ کی مأثورہ دعاوں میں سے ایک ہے جو پروردگار کی قضا و قدر کے مقابلے میں راضی ہونے کے سلسلے سے ہے۔ اس دعا میں امام سجادؑ جو بھی خداوند متعال نے عطا کیا یا عطا نہیں کیا اس سلسلے میں شکرگزاری فرما رہے ہیں اور لوگوں کو دوسروں کی چیزوں کے بارے حسد سے منع فرما رہے ہیں۔ اور اسی طرح فرما رہے ہیں کہ ساری عزت و شرافت پروردگار کی عبادت میں ہے۔ کمزوروں کی تحقیر کرنے اور طاقت ور سے مبہوت ہونے کو منع فرمایا ہے۔

یہ 35ویں دعا جس کی متعدد شرحیں، مختلف زبانوں میں لکھی گئیں ہیں جیسے دیار عاشقان جو حسین انصاریان کی شرح فارسی زبان میں ہے اور اسی طرح ریاض السالکین جو سید علی خان مدنی کی عربی زبان میں شرح موجود ہے۔

دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

تعلیمات

صحیفہ سجادیہ کی پینتیسویں دعا انسانوں کے قضائے الہی پر راضی رہنے کے لئے ہے۔ محمد جواد مغنیہ نے اس دعا کی شرح میں اس عبارت «رضا اللہ، رضانا۔۔۔» کو اہلبیتؑ کا شعار جانا ہے۔[1] اسی طرح ممدوحی کرمانشاہی نے اس دعا کی شرح میں لکھا ہے کہ پروردگار کی عطا پر خوشنودی اور اس کے فیصلوں پر راضی رہنا ناگوار حوادث کے مقابلے میں صبر کرنے سے زیادہ بلند مرتبہ ہے اس لئے کہ جو اللہ کے دئے ہوئے پر راضی ہو جائے گویا وہ اپنے دوست کی پسندیدہ شی پر راضی ہے لیکن جو مقدرات الہی پر صبر کرے تو ممکن ہے باطن میں اس کے مقابلے تسلیم نہ ہوا ہو۔[2] اس دعا میں امام سجادؑ عطائے پروردگار پر راضی و خوشنود اور شکرگزار ہیں بلکہ اس نے جو نہیں عطا کیا اس پر بھی شاکر ہیں۔[3] اس دعا کی تعلیمات مندرجہ ذیل ہیں:

  • تقدیر الہی پر راضی رہنا۔
  • حسد سے دوری۔
  • تقسیم رزق اور عدالت الہی۔
  • اپنے حق میں قضا و قدر کو نیک شمار کرنا۔
  • پروردگار کی عطا اور نہ دینے پر شکرگزاری۔
  • کمزوروں کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھنا اور صاحبان دولت سے مرعوب نہ ہونا۔
  • عزت و شرافت خدا کی عبادت میں ہے۔
  • جنت، قدرت و دولت کی درخواست۔
  • خدا کی توصیف اس کے بے مثیل ہونے کے اعتبار سے (نہ اس کا کوئی بیٹا ہے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے اور اس کا کوئی کفو بھی نہیں ہے)۔ [4]

شرحیں

صحیفۂ سجادیہ کی پینتیسویں دعا کی بھی شرح دوسری دعاؤں کی طرح کی گئی ہے۔ یہ دعا حسین انصاریان،[5] نے اپنی کتاب دیار عاشقان میں بطور تفصیل فارسی زبان میں شرح کی ہے۔ اسی طرح سے یہ دعا محمد حسن ممدوحی کرمانشاہی کی کتاب شہود و شناخت [6] میں اور سید احمد فہری کی کتاب شرح و ترجمۂ صحیفہ سجادیہ[7] میں فارسی زبان میں شرح کی گئی ہے۔

اسی طرح یہ پینتیسویں دعا بعض دوسری کتابوں میں جیسے، سید علی خان مدنی کی کتاب ریاض السالکین،[8] جواد مغنیہ کی فی ظلال الصحیفہ السجادیہ،[9] محمد بن محمد دارابی[10] کی ریاض العارفین اور سید محمد حسین فضل اللہ [11] کی کتاب آفاق الروح میں عربی زبان میں شرح لکھی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس دعا کے الفاظ کی توضیح، فیض کاشانی کی کتاب تعلیقات علی الصحیفۃ السجادیۃ میں [12] اور عزالدین جزائری کی کتاب شرح الصحیفہ السجادیہ[13] میں بھی دی گئی ہے۔

دعا کا متن اور ترجمہ

صحیفہ سجادیہ کی پینتیسویں دعا
متن ترجمہ: (مفتی جعفر حسین)
وَ كَانَ مِنْ دُعَائِهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ فِي الرِّضَا إِذَا نَظَرَ إِلَى أَصْحَابِ الدُّنْيَا:

(۱)الْحَمْدُ لِلَّهِ رِضًى بِحُكْمِ اللَّهِ، شَهِدْتُ أَنَّ اللَّهَ قَسَمَ مَعَايِشَ عِبَادِهِ بِالْعَدْلِ، وَ أَخَذَ عَلَى جَمِيعِ خَلْقِهِ بِالْفَضْلِ

(۲) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ لَا تَفْتِنِّي بِمَا أَعْطَيْتَهُمْ، وَ لَا تَفْتِنْهُمْ بِمَا مَنَعْتَنِي فَأَحْسُدَ خَلْقَكَ، وَ أَغْمَطَ حُكْمَك.

(۳) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ طَيِّبْ بِقَضَائِكَ نَفْسِي، وَ وَسِّعْ بِمَوَاقِعِ حُكْمِكَ صَدْرِي، وَ هَبْ لِيَ الثِّقَةَ لِأُقِرَّ مَعَهَا بِأَنَّ قَضَاءَكَ لَمْ يَجْرِ إِلَّا بِالْخِيَرَةِ، وَ اجْعَلْ شُكْرِي لَكَ عَلَى مَا زَوَيْتَ عَنِّي أَوْفَرَ مِنْ شُكْرِي إِيَّاكَ عَلَى مَا خَوَّلْتَنِي

(۴) وَ اعْصِمْنِي مِنْ أَنْ أَظُنَّ بِذِي عَدَمٍ خَسَاسَةً، أَوْ أَظُنَّ بِصَاحِبِ ثَرْوَةٍ فَضْلًا، فَإِنَّ الشَّرِيفَ مَنْ شَرَّفَتْهُ طَاعَتُكَ، وَ الْعَزِيزَ مَنْ أَعَزَّتْهُ عِبَادَتُكَ

(۵) فَصَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ مَتِّعْنَا بِثَرْوَةٍ لَا تَنْفَدُ، وَ أَيِّدْنَا بِعِزٍّ لَا يُفْقَدُ، وَ اسْرَحْنَا فِي مُلْكِ الْأَبَدِ، إِنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ تَلِدْ وَ لَمْ تُولَدْ وَ لَمْ يَكُنْ لَكَ كُفُواً أَحَدٌ.

رضائے الہی پر خوش رہنے کی دعا۔

(۱) اللہ تعالی کے حکم پر رضا و خوشنودی کی بنا پر اللہ کے لیے حمد و ستائش ہے ۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس نے اپنے بندوں کی روزیاں آئین عدل کے مطابق تقسیم کی ہیں ۔ اور تمام مخلوقات سے فضل و احسان کا رویہ اختیار کیا ہے۔

(۲)اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے ان چیزوں سے جو دوسروں کو دی ہیں آشفتہ و پریشان نہ ہونے دے کہ میں تیری مخلوق پر حسد کروں اور تیرے فیصلہ کو حقیر سمجھوں اور جن چیزوں سے مجھے محروم رکھا ہے انہیں دوسروں کے لیے فتنہ و آزمائش نہ بنا دے (کہ وہ ازروئے غرور مجھے بہ نظر حقارت دیکھیں)

(۳) اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور مجھے اپنے فیصلہ قضاء وقدر پر شادماں رکھ اور اپنے مقدرات کی پذیرائی کے لیے میرے سینہ میں وسعت پیدا کر دے اور میرے اندر وہ روح اعتماد پھونک دے کہ میں یہ اقرار کروں کہ تیرا فیصلہ قضا و قدر خیر و بہبودی کے ساتھ نافذ ہوا ہے اور ان نعمتوں پر ادائے شکر کی بہ نسبت جو مجھے عطا کی ہیں ان چیزوں پر میرے شکریہ کا کامل وفزوں تر قرار دے جو مجھ سے روک لی ہیں

(۴) اور مجھے اس سے محفوظ رکھ کہ میں کسی نادار کو ذلت وحقارت کی نظر سے دیکھوں یا کسی صاحب ثروت کے بارے میں میں (اس ثروت کی بنا پر) فضلیت و برتری کا گمان کروں۔ اس لۓ کہ صاحب شرف وہ ہے جسے تیری اطاعت نے شرف بخشا ہو اور صاحب عزت وہ ہے جسے تیری عبادت نے عزت و سربلندی دی ہو۔

(۵) اے اللہ محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں ایسی ثروت ودولت سے بہرہ اندوز کر جو ختم ہونے والی نہیں اور ایسی عزت و بزرگی سے ہماری تائید فرما جو زائل ہونے والی نہیں ۔ اور ہمیں ملک جاوداں کی طرف رواں دواں کر ۔ بیشک تو یکتا و یگانہ اور ایسا بے نیاز ہے کہ نہ تیری کوئی اولاد ہے اور نہ تو کسی کی اولاد ہے اور نہ تیرا کوئی مثل و ہمسر ہے۔

حوالہ جات

  1. مغنیہ، فی ضلال الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۲۸ھ، ص۴۲۷۔
  2. ممدوحی کرمانشاہی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۳، ص۱۸۳۔
  3. ممدوحی کرمانشاہی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۳، ص۱۸۳۔
  4. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳ش، ج۷، ص۲۴۹-۲۵۹؛ ممدوحی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۳، ص۱۸۳-۱۸۸؛ شرح فرازہای دعای سی و پنجم از سایت عرفان۔
  5. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳ش، ج۷، ص۲۴۵-۲۵۹۔
  6. ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۳، ص۱۸۱-۱۸۸۔
  7. فہری، شرح و تفسیر صحیفہ سجادیہ، ۱۳۸۸ش، ج۳، ص۸۷-۹۱۔
  8. مدنی شیرازی، ریاض السالکین، ۱۴۳۵ھ، ج۵، ص۱۷۷-۱۹۸۔
  9. مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ، ۱۴۲۸ھ، ص۴۲۷-۴۳۰۔
  10. دارابی، ریاض العارفین، ۱۳۷۹ش، ص۴۵۳-۴۵۶۔
  11. فضل‌اللہ، آفاق الروح، ۱۴۲۰ھ، ج۲، ص۲۰۹-۲۲۲۔
  12. فیض کاشانی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۷ھ، ص۷۳۔
  13. جزایری، شرح الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۲، ص۱۸۴-۱۸۵۔


مآخذ

  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، تہران، پیام آزادی، ۱۳۷۲ہجری شمسی۔
  • جزایری، عزالدین، شرح الصحیفۃ السجادیۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۲ھ۔
  • دارابی، محمد بن محمد، ریاض العارفین فی شرح الصحیفہ السجادیہ، تحقیق حسین درگاہی، تہران، نشر اسوہ، ۱۳۷۹ہجری شمسی۔
  • فضل‌اللہ، سید محمد حسین، آفاق الروح، بیروت، دارالمالک، ۱۴۲۰ھ۔
  • فہری، سید احمد، شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ، تہران، اسوہ، ۱۳۸۸ہجری شمسی۔
  • فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، تہران، مؤسسہ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • مدنی شیرازی، سید علی‌ خان، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سید الساجدین، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۳۵ھ۔
  • مغنیہ، محمد جواد، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، قم، دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۲۸ھ۔
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت، ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، مقدمہ آیت‌اللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸ہجری شمسی۔

بیرونی روابط