صحیفہ سجادیہ کی پچیسویں دعا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صحیفہ سجادیہ کی پچیسویں دعا
کوائف
موضوع: اولاد کے لئے دعا، شیطانی وسوسے
مأثور/غیرمأثور: ماثور
صادرہ از: امام سجاد علیہ السّلام
راوی: متوکل بن ہارون
شیعہ منابع: صحیفہ سجادیہ
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین

صحیفہ سجادیہ کی پچیسویں دعا، اولاد کے لئے امام سجاد علیہ السلام سے منقول ایک دعا ہے۔ امام سجاد نے اس دعا میں پروردگار عالم سے لائق اولاد کی درخواست کی ہے، اور اولاد کی نیکی، عزت اور طول عمر کا مطالبہ کیا ہے۔ اور شیطان کے وسوسوں سے خدا کی پناہ چاہی ہے اور شیطان کے ورود کے راستے کو بیان کیا ہے۔

پچیسویں دعا، کتاب ریاض السالکین فی شرح صحیفہ سید الساجدین تالیف سید علی ‌خان مدنی میں ذکر ہوئی ہے۔

دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

تعلیمات

صحیفہ کی پچیسویں دعا اولاد کے لئے ہے۔ امام سجاد علیہ السّلام نے اس دعا میں اولاد اور والدین کے بارے میں گفتگو کی ہے اور اولاد کے لئے آخرت کی معنوی نعمتوں کی آرزو کی ہے۔[1] اس دعا کے تیرہ حصے ہیں:[2]

  • نیک اولاد کی درخواست
  • اولاد کی طول عمر اور عزت کی دعا
  • متقی اور با بصیرت ہونے کے ساتھ ساتھ اولاد کے نیک ہونے کی دعا
  • اولاد کی تربیت اور ان سے محبت کرنے میں اللہ سے مدد کا مطالبہ
  • شیطان کے اولاد پر قابو نہ ہونے کے لئے دعا
  • انسان کو منحرف کرنے کے لئے شیطان کے وسوسے: عمل صالح سے، گناہ کے انجام دینے پر جرات دلانا، عقائد میں شبہات پیدا کرنا، طولانی آرزؤں میں لگا دینا
  • تمام حاجات کے پورے ہونے کی دعا
  • اصلاح کرنے والے گروہ میں شامل ہونے کی دعا
  • خدا سے رابطے کا بہت ذیادہ نفع بخش ہونا
  • مومنین کے لیے عزت و سربلندى اور دوسرے جائز امور کا مطالبہ
  • دوزخ کے عذاب سے خدا کی پناہ
  • دنیا و آخرت کے نیک ہونے کی درخواست۔[3]

شرحیں

عربی شرحیں

پچیسویں دعا کی شرح مندرجہ ذیل کتابوں میں موجود ہے:

فارسی شرحیں

فارسی زبان میں پچیسویں دعا کی شرح، صحیفہ سجادیہ کی شرح کے ذیل میں انجام پائی ہے جیسے:

دیار عاشقان، تالیف حسین انصاریان،[8]

خاص الفاظ کی شرحیں

اس دعا کے الفاظ کی شرح، مندرجہ ذیل لغوی شرحوں میں کی گئی ہے:

متن اور ترجمہ

صحیفہ سجادیہ کی پچیسویں دعا
متن ترجمہ: (مفتی جعفر حسین)
وَ کانَ مِنْ دُعَائِهِ علیه‌ السلام لِوُلْدِهِ عَلَیهِمُ السَّلَامُ

(۱) اللَّهُمَّ وَ مُنَّ عَلَی بِبَقَاءِ وُلْدِی وَ بِإِصْلَاحِهِمْ لِی و بِإِمْتَاعِی بِهِمْ.

(۲) إِلَهِی امْدُدْ لِی فِی أَعْمَارِهِمْ، وَ زِدْ لِی فِی آجَالِهِمْ، وَ رَبِّ لِی صَغِیرَهُمْ، وَ قَوِّ لِی ضَعِیفَهُمْ، وَ أَصِحَّ لِی أَبْدَانَهُمْ وَ أَدْیانَهُمْ وَ أَخْلَاقَهُمْ، وَ عَافِهِمْ فِی أَنْفُسِهِمْ وَ فِی جَوَارِحِهِمْ وَ فِی کلِّ مَا عُنِیتُ بِهِ مِنْ أَمْرِهِمْ، وَ أَدْرِرْ لِی وَ عَلَی یدِی أَرْزَاقَهُمْ.

(۳) وَ اجْعَلْهُمْ أَبْرَاراً أَتْقِیاءَ بُصَرَاءَ سَامِعِینَ مُطِیعِینَ لَک، وَ لِأَوْلِیائِک مُحِبِّینَ مُنَاصِحِینَ، وَ لِجَمِیعِ أَعْدَائِک مُعَانِدِینَ وَ مُبْغِضِینَ، آمِینَ.

(۴) اللَّهُمَّ اشْدُدْ بِهِمْ عَضُدِی، وَ أَقِمْ بِهِمْ أَوَدِی، وَ کثِّرْ بِهِمْ عَدَدِی، وَ زَینْ بِهِمْ مَحْضَرِی، وَ أَحْی بِهِمْ ذِکرِی، وَ اکفِنِی بِهِمْ فِی غَیبَتِی، وَ أَعِنِّی بِهِمْ عَلَی حَاجَتِی، وَ اجْعَلْهُمْ لِی مُحِبِّینَ، وَ عَلَی حَدِبِینَ مُقْبِلِینَ مُسْتَقِیمِینَ لِی، مُطِیعِینَ، غَیرَ عَاصِینَ وَ لَا عَاقِّینَ وَ لَا مُخَالِفِینَ وَ لَا خَاطِئِینَ.

(۵) وَ أَعِنِّی عَلَی تَرْبِیتِهِمْ وَ تَأْدِیبِهِمْ، وَ بِرِّهِمْ، وَ هَبْ لِی مِنْ لَدُنْک مَعَهُمْ أَوْلَاداً ذُکوراً، وَ اجْعَلْ ذَلِک خَیراً لِی، وَ اجْعَلْهُمْ لِی عَوْناً عَلَی مَا سَأَلْتُک.

(۶) وَ أَعِذْنِی وَ ذُرِّیتِی مِنَ الشَّیطَانِ الرَّجِیمِ، فَإِنَّک خَلَقْتَنَا وَ أَمَرْتَنَا وَ نَهَیتَنَا وَ رَغَّبْتَنَا فِی ثَوَابِ مَا أَمَرْتَنَا وَ رَهَّبْتَنَا عِقَابَهُ، وَ جَعَلْتَ لَنَا عَدُوّاً یکیدُنَا، سَلَّطْتَهُ مِنَّا عَلَی مَا لَمْ تُسَلِّطْنَا عَلَیهِ مِنْهُ، أَسْکنْتَهُ صُدُورَنَا، وَ أَجْرَیتَهُ مَجَارِی دِمَائِنَا، لَا یغْفُلُ إِنْ غَفَلْنَا، وَ لَا ینْسَی إِنْ نَسِینَا، یؤْمِنُنَا عِقَابَک، وَ یخَوِّفُنَا بِغَیرِک.

(۷) إِنْ هَمَمْنَا بِفَاحِشَةٍ شَجَّعَنَا عَلَیهَا، وَ إِنْ هَمَمْنَا بِعَمَلٍ صَالِحٍ ثَبَّطَنَا عَنْهُ، یتَعَرَّضُ لَنَا بِالشَّهَوَاتِ، وَ ینْصِبُ لَنَا بِالشُّبُهَاتِ، إِنْ وَعَدَنَا کذَبَنَا، وَ إِنْ مَنَّانَا أَخْلَفَنَا، وَ إِلَّا تَصْرِفْ عَنَّا کیدَهُ یضِلَّنَا، وَ إِلَّا تَقِنَا خَبَالَهُ یسْتَزِلَّنَا.

۸) اللَّهُمَّ فَاقْهَرْ سُلْطَانَهُ عَنَّا بِسُلْطَانِک حَتَّی تَحْبِسَهُ عَنَّا بِکثْرَةِ الدُّعَاءِ لَک فَنُصْبِحَ مِنْ کیدِهِ فِی الْمَعْصُومِینَ بِک.

(۹) اللَّهُمَّ أَعْطِنِی کلَّ سُؤْلِی، وَ اقْضِ لِی حَوَائِجِی، وَ لَا تَمْنَعْنِی الْإِجَابَةَ وَ قَدْ ضَمِنْتَهَا لِی، وَ لَا تَحْجُبْ دُعَائِی عَنْک وَ قَدْ أَمَرْتَنِی بِهِ، وَ امْنُنْ عَلَی بِکلِّ مَا یصْلِحُنِی فِی دُنْیای وَ آخِرَتِی مَا ذَکرْتُ مِنْهُ وَ مَا نَسِیتُ، أَوْ أَظْهَرْتُ أَوْ أَخْفَیتُ أَوْ أَعْلَنْتُ أَوْ أَسْرَرْتُ.

(۱۰) وَ اجْعَلْنِی فِی جَمِیعِ ذَلِک مِنَ الْمُصْلِحِینَ بِسُؤَالِی إِیاک، الْمُنْجِحِینَ بِالطَّلَبِ إِلَیک غَیرِ الْمَمْنُوعِینَ بِالتَّوَکلِ عَلَیک.

(۱۱) الْمُعَوَّدِینَ بِالتَّعَوُّذِ بِک، الرَّابِحِینَ فِی التِّجَارَةِ عَلَیک، الْمُجَارِینَ بِعِزِّک، الْمُوَسَّعِ عَلَیهِمُ الرِّزْقُ الْحَلَالُ مِنْ فَضْلِک، الْوَاسِعِ بِجُودِک وَ کرَمِک، الْمُعَزِّینَ مِنَ الذُّلِّ بِک، وَ الْمُجَارِینَ مِنَ الظُّلْمِ بِعَدْلِک، وَ الْمُعَافَینَ مِنَ الْبَلَاءِ بِرَحْمَتِک، وَ الْمُغْنَینَ مِنَ الْفَقْرِ بِغِنَاک، وَ الْمَعْصُومِینَ مِنَ الذُّنُوبِ وَ الزَّلَلِ وَ الْخَطَاءِ بِتَقْوَاک، وَ الْمُوَفَّقِینَ لِلْخَیرِ وَ الرُّشْدِ وَ الصَّوَابِ بِطَاعَتِک، وَ الْمُحَالِ بَینَهُمْ وَ بَینَ الذُّنُوبِ بِقُدْرَتِک، التَّارِکینَ لِکلِّ مَعْصِیتِک، السَّاکنِینَ فِی جِوَارِک.

(۱۲) اللَّهُمَّ أَعْطِنَا جَمِیعَ ذَلِک بِتَوْفِیقِک وَ رَحْمَتِک، وَ أَعِذْنَا مِنْ عَذَابِ السَّعِیرِ، وَ أَعْطِ جَمِیعَ الْمُسْلِمِینَ وَ الْمُسْلِمَاتِ وَ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ مِثْلَ الَّذِی سَأَلْتُک لِنَفْسِی وَ لِوُلْدِی فِی عَاجِلِ الدُّنْیا وَ آجِلِ الْآخِرَةِ، إِنَّک قَرِیبٌ مُجِیبٌ سَمِیعٌ عَلِیمٌ عَفُوٌّ غَفُورٌ رَءُوفٌ رَحِیمٌ.

(۱۳) وَ «آتِنا فِی الدُّنْیا حَسَنَةً، وَ فِی الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنا عَذابَ النَّارِ».

اولاد کے لئے دعا

(۱) اے میرے معبود! میری اولاد کی بقا اور ان کی اصلاح اور ان سے بہرہ مندی کے سامان مہیا کرکے مجھے ممنون احسان فرما

(۲) میرے سہارے کے لیے ان کی عمروں میں برکت اور زندگیوں میں طول دے اور ان میں سے چھوٹوں کی پرورش فرما اور کمزوروں کو توانائی دے اور ان کی جسمانی، ایمانی اور اخلاقی حالت کو درست فرما اور ان کے جسم و جان اور ان کے دوسرے معاملات میں جن میں مجھے اہتمام کرنا پڑے انہیں عافیت سے ہمکنار رکھ، اور میرے لیے اور میرے ذریعہ ان کے لیے رزق فراواں جاری کر

(۳) انہیں نیکو کار، پرہیز گار، روشن دل، حق نیوش اور اپنا فرمانبردار اور اپنے دوستوں کا دوست و خیرخواہ اور اپنے تمام دشمنوں کا دشمن و بدخواہ قرار دے۔ آمین

(۴) اے اللہ ! ان کے ذریعہ میرے بازوؤں کو قوی اور میری پریشان حالی کی اصلاح اور ان کی وجہ سے میری جمعیت میں اضافہ اور میری مجلس کی رونق دوبالا فرما اور ان کی بدولت میرا نام زندہ رکھ اور میری عدم موجودگی میں انہیں میرا قائم مقام قرار دے اور ان کے وسیلہ سے میری حاجتوں میں میری مدد فرما اور انہیں میرے لیے دوست، مہربان، ہمہ تن متوجہ، ثابت قدم اور فرمانبردار قرار دے۔ وہ نافرمان، سر کش، مخالف و خطا کار نہ ہوں

(۵) اور ان کی تربیت و تادیب اور ان سے اچھے برتاؤ میں میری مدد فرما۔ اور ان کے علاوہ بھی مجھے اپنے خزانہ رحمت سے نرینہ اولاد عطا کر اور انہیں ان چیزوں میں جن کا میں طلب گار ہوں میرا مددگار بنا

(۶) اور مجھے اور میری ذریت کو شیطان مردود سے پناہ دے۔ اس لیے کہ تو نے ہمیں پیدا کیا اور امر و نہی کی اور جو حکم دیا اس کے ثواب کی طرف راغب کیا اور جس سے منع کا اس کے عذاب سے ڈرایا۔ اور ہمارا ایک دشمن بنایا جو ہم سے مکر کرتا ہے اور جتنا ہماری چیزوں پر اسے تسلط دیا ہے اتنا ہمیں اس کی کسی چیز پر تسلط نہیں دیا۔ اس طرح کہ اسے ہمارے سینوں میں ٹھہرا دیا اور ہمارے رگ و پے میں دوڑا دیا۔ ہم غافل ہو جائیں مگر وہ غافل نہیں ہوتا۔ ہم بھول جائیں مگر وہ نہیں بھولتا۔ وہ ہمیں تیرے عذاب سے مطمئن کرتا اور تیرے علاوہ دوسروں سے ڈراتا ہے۔

(۷) اگر ہم کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو وہ ہماری ہمت بندھاتا ہے اور اگر کسی عمل خیر کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمیں اس سے باز رکھتا ہے اور گناہوں کی دعوت دیتا ہے اور ہمارے سامنے شبہے کھڑے کر دیتا ہے۔ اگر وعدہ کرتا ہے تو جھوٹا اور امید دلاتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے اگر تو اس کے مکر کو نہ ہٹاۓ تو وہ ہمیں گمراہ کرکے چھوڑے گا۔ اور اس کے فتنوں سے نہ بچائے تو وہ ہمیں ڈگمگائے گا۔

(۸) خدایا! اس کے تسلط کو اپنی قوت و توانائی کے ذریعہ ہم سے دفع کر دے تاکہ کثرت دعا کے وسیلہ سے اسے ہماری راہ ہی سے ہٹا دے اور ہم اس کی مکاریوں سے محفوظ ہو جائیں

(۹) اے اللہ ! میری ہر درخواست کو قبول فرما اور میری حاجتیں برلا اور جب کہ تو نے استجابت دعا کا ذمہ لیا ہے تو میری دعا کو رد نہ کر اور جب کہ تو نے مجھے دعا کا حکم دیا ہے تو میری دعا کو اپنی بارگاہ سے روک نہ دے۔ اور جن چیزوں سے میرا دینی و دنیوی مفاد وابستہ ہے ان کی تکمیل سے مجھ پر احسان فرما۔ جو یاد ہوں اور جو بھول گیا ہوں، ظاہر کی ہوں، یا پوشیدہ رہنے دی ہوں۔ علانیہ طلب کی ہوں یا در پردہ

(۱۰) ان تمام صورتوں میں اس وجہ سے کہ تجھ سے سوال کیا ہے (نیت و عمل کی) اصلاح کرنے والوں اور اس بنا پر کہ تجھ سے طلب کیا ہے کامیاب ہونے والوں اور اس سبب سے کہ تجھ پر بھروسہ کیا ہے غیر مسترد ہونے والوں میں سے قرار دے

(۱۱) اور (ان لوگوں میں شمار کر) جو تیرے دامن میں پناہ لینے کے خوگر، تجھ سے بیوپار میں فائدہ اٹھانے والے اور تیرے دامن عزت میں پناہ گزین ہیں جنہیں تیرے ہمہ گیر فضل و جود و کرم سے رزق حلال مں فراوانی حاصل ہوئی ہے اور تیری وجہ سے ذلت سے عزت تک پہنچے ہیں اور تیرے عدل و انصاف کے دامن میں ظلم سے پناہ لی ہے اور رحمت کے ذریعہ بلا و مصیبت سے محفوظ ہیں اور تیری بے نیازی کی وجہ سے فقیر سے غنی ہو چکے ہیں اور تیرے تقوے کی وجہ سے گناہوں، لغزشوں اور خطاؤں سے معصوم ہیں اور تیری اطاعت کی وجہ سے خیر و رشد و صواب کی تو فیق انہیں حاصل ہے اور تیری قدرت سے ان کے اور گناہوں کے درمیان پردہ حائل ہے اور جو تمام گناہوں سے دست بردار اور تیرے جوار رحمت میں مقیم ہیں۔

(۱۲) بار الہا! اپنی توفیق رحمت سے یہ تمام چیزیں ہمیں عطا فرما۔ اور دوزخ کے آزار سے پناہ دے اور جن چیزوں کا میں نے اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے سوال کیا ہے ایسی ہی چیزیں تمام مسلمین و مسلمات اور مومنین و مومنات کو دنیا اور آخرت میں مرحمت فرما۔ اس لیے کہ تو نزدیک اور دعا کا قبول کرنے والا ہے، سننے والا اور جاننے والا ہے، معاف کرنے والا اور بخشنے والا اور شفیق و مہربان ہے۔

(۱۳) ہمیں دنیا میں نیکی (توفیق عبادت) اور آخرت میں نیکی (بہشت جاوید) عطا کر، اور دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ۔"

حوالہ جات

  1. ممدوحی کرمانشاہی، شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۴۱۵۔
  2. ترجمہ و شرح دعای بیست و پنجم صحیفہ سجادیہ، سائٹ عرفان۔
  3. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳ش، ج۶ ص۵۰۹-۵۳۴؛ ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۴۱۵-۴۴۵۔
  4. مدنی شیرازی، ریاض السالکین، ۱۴۳۵ق، ج۴، ص۹۳-۱۴۸۔
  5. مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ، ۱۴۲۸ق، ص۳۲۷-۳۳۶۔
  6. دارابی، ریاض العارفین، ۱۳۷۹ش، ص۳۲۳-۳۳۶۔
  7. فضل اللہ، آفاق الروح، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۶۳۹-۶۵۷۔
  8. انصاریان، دیار عاشقان، ۱۳۷۳ش، ج۶ ص۵۰۹-۵۳۴۔
  9. ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۴۱۵-۴۴۵۔
  10. فہری، شرح و تفسیر صحیفہ سجادیہ، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۴۱۹-۴۲۹۔
  11. فیض کاشانی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۷ق، ص۵۹-۶۰۔
  12. جزائری، شرح الصحیفہ السجادیہ، ۱۴۰۲، ص۱۴۱-۱۴۴۔


مآخذ

  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، تہران، پیام آزادی، ۱۳۷۲ش۔
  • جزائری، عزالدین، شرح الصحیفۃ السجادیۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، ۱۴۰۲ھ۔
  • دارابی، محمد بن محمد، ریاض العارفین فی شرح الصحیفہ السجادیہ، تحقیق حسین درگاہی، تہران، نشر اسوہ، ۱۳۷۹ش۔
  • فضل ‌اللہ، سید محمد حسین، آفاق الروح، بیروت، دارالمالک، ۱۴۲۰ھ
  • فہری، سید احمد، شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ، تہران، اسوہ، ۱۳۸۸ش۔
  • فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، تہران، مؤسسہ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، ۱۴۰۷ھ۔
  • مدنی شیرازی، سید علی ‌خان، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سید الساجدین، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۳۵ھ۔
  • مغنیہ، محمد جواد، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، قم، دار الکتاب الاسلامی، ۱۴۲۸ھ۔
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت، ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، مقدمہ آیت‌اللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، ۱۳۸۸ش۔