یہ مقالہ 7 جون 2021 تاریخ کو منتخب مقالہ کے عنوان سے منتخب ہوا ہے۔ مزید وضاحت کے لئے کلک کریں۔

مفتی جعفر حسین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مفتی جعفر حسین
MuftiJafarHussain.jpg
کوائف
نام جعفر حسین
لقب مفتی
تاریخ پیدائش سنہ 1914ء (سنہ 1332ھ)
آبائی شہر گوجرانوالہ
سکونت گوجرانوالہ، پاکستان
ملک پاکستان
تاریخ/مقام وفات گوجرانوالہ 29 اگست سنہ 1983ء
علت وفات/شہادت کینسر کی بیماری
مدفن لاہور کربلائے گامے شاہ
دین اسلام
مذہب شیعہ اثنا عشری
پیشہ عالم دین
سیاسی کوائف
مناصب *قائد ملت جعفریہ پاکستان
*تحریک جعفریہ پاکستان کے سربراہ
*رکن اسلامی تعلیماتی بورڈ
*رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان
پیشرو سید محمد دہلوی
جانشین سید عارف حسین حسینی
علمی و دینی معلومات
اساتذہ سید ابوالحسن اصفہانی
تالیفات *سیرت امیر المومنین (دو جلدیں)
*ترجمہ و تشریح صحیفہ سجادیہ
*ترجمہ نہج البلاغہ

مفتی جعفر حسین (1914۔1983 ء) کا شمار پاکستان کے معروف علماء میں ہوتا ہے۔ آپ ایک خطیب، عالم دین، مصنف، مترجم اور سیاسی شیعہ شخصیت تھے۔ سنہ 1948ء کو لاہور میں بعض دیگر علماء کے ساتھ مل کر آپ نے ادارہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان کی بنیاد رکھی اور اس کے پہلے صدر آپ منتخب ہوئے۔ سنہ 1949ء میں آپ تعلیمات اسلامی بورڈ کے رکن منتخب ہوئے۔ سنہ 1979ء کو بھکر میں آپ قائد ملت جعفریہ پاکستان منتخب ہوئے۔ اسی سال تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کی بنیاد رکھی گئی اور آپ اس پارٹی کے پہلے سربراہ منتخب ہوئے۔ ضیاء الحق کے دور میں پاس شدہ زکات و عشر آرڈیننس کو شیعوں پر لاگو کرنے سے روکنے میں مفتی کی قیادت بہت موثر رہی۔ اسی امر کے لئے مرکزی سیکرٹریٹ کا گھیراؤ کیا گیا۔ آپ اسلامی نظریاتی کونسل اور اسلامی مشاورتی کونسل کے رکن بھی رہے۔ آپ نے 1983ء میں وفات پائی اور لاہور کربلاگامے شاہ میں سپرد خاک کئے گئے۔

سوانح حیات

جعفر حسین بن حکیم چراغ دین بن حکیم غلام حیدر سنہ 1914ء بمطابق 1332 ہجری کو قدیم ہندوستان کے شہر گوجرانوالہ پنجاب کے ایک ادبی اور علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔[1] 5 سال کی عمر سے قرآن سیکھنا شروع کیا. علمی مدارج طے کرنے کے لئے لکھنو اور نجف کا سفر طے کیا۔[2] 1979ء کو بھکر میں قائد ملت کے عنوان سے منتخب ہوئے۔[3] آپ نہایت سادہ زیست تھے اور قوم کے قائد بننے کے بعد بھی تانگہ سواری کو ترجیح دیتے تھے۔[4] اسلامی نظریاتی کونسل اور اسلامی مشاورتی کونسل کے دو بار رکن منتخب ہوئے۔[5] لکھنو میں ادبی ذوق کو خوب پروان چڑھایا اور انجمن مقاصدہ کے پلیٹ فارم کے ناظم بھی رہے۔[6]

وفات

کینسر کی مہلک بیماری کے سبب آپ نے 29 اگست 1983ء کو پاکستان کے شہر گوجرانوالہ میں وفات پائی اور لاہور کربلائے گامے شاہ میں سپرد خاک کئے گئے۔[7]

علمی سفر

آپ نے ابتدائی تعلیم پانچ برس کی عمر اپنے چچا حکیم شہاب الدین سے حاصل کرنا شروع کی۔[8] قرآن اور عربی سیکھنے کے بعد سات سال کی عمر میں حدیث اور فقہ بھی انہی سے حاصل کی۔[9] فقہ و حدیث کی تعلیم چچا کے علاوہ چراغ علی خطیب مسجد اہل سنت اور حکیم قاضی عبدالرحیم سے سیکھی۔[10] 12 سال کی عمر میں حدیث، فقہ، طب اور عربی زبان پر کافی عبور حاصل کیا تھا۔[11] سنہ 1926 کو آپ لکھنو میں مدرسہ ناظمیہ چلے گئے جہاں سید علی نقی، ظہر الحسن اور مفتی احمد علی سے کسب فیض کیا۔[12]

سنہ 1935ء کو مزید علم کے حصول کے لئے نجف اشرف گئے۔ اور پانچ برس کے قیام کے دوران سید ابوالحسن اصفہانی جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا۔[13] اور پانچ برس کے بعد واپس لوٹے تو آپ مفتی جعفر حسین کے نام سے مشہور ہوگئے۔[14]

اخلاقی خصوصیات

مفتی جعفر نہایت سادہ زیست انسان تھے۔ آپ قیادت کے دوران اکثر سفر عام بسوں میں کرتے تھے۔[15] اور جہاں کہیں کھانا کھانا ہوتو ایک روٹی اور دو پکوڑوں پر گزارہ کرتے تھے۔[16] آپ قومی امانت کا اس قدر پاس رکھتے تھے کہ قیادت کے دوران تحریک نفاذ جعفریہ کے فنڈ سے صرف ایک ہزار روپیہ لیا تھا اور اس میں سے ساڑھے چھ سو روپیہ خرچ ہوئے تھے باقی ساڑھے تین سو روپے انکی وفات کے بعد شہید عارف الحسینی کو دیئے۔[17]

دورہ جات کے دوران سفری خرچہ اپنی جیب سے کرتے تھے۔[18]

تشیع پاکستان کی قیادت

مفتی جعفر حسین، سید علی نقی نقن اور اظہر حسن زیدی کے ہمراہ

جولائی سنہ 1977ء کو ضیاء الحق کے ملک میں مارشل لاء اور نظام مصطفے کے نفاذ کے اعلان کے بعد مکتب جعفریہ کو اعتماد میں لینے کے لئے مفتی جعفر حسین کو اسلامی نظریاتی کونسل میں شامل کیا گیا۔[19] ضیاء الحق جس نظام کو لاگو کرنا چاہتا تھا وہ ایک مخصوص فقہ کی نمایندگی کرتا تھا اور ملت جعفریہ کے لئے یہ ایک خطرناک مرحلہ تھا۔[20] اس لئے 15 فروری سنہ 1978ء کو لاہور میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی۔[21] جس میں یہ بات واضح کی گئی کہ مکتب جعفریہ کو اگر نظر انداز کیا گیا تو وہ اسلامی نظریاتی کونسل سے مستعفی ہونگے اور ملت کے حقوق کے لئے جدوجہد کا آغاز کریں گے۔[22]

12 اور 13 اپریل سنہ 1978ء کو بھکر میں ایک ملک گیر کنونشن منعقد ہوئی[23] جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور قوم کے لئے ایک نظریاتی پلیٹ فارم تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کی شکل میں وجود میں آیا۔[24] تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کے قیام کا اعلان سنتے ہی ضیاء الحق نے اپنے ایک قریبی ساتھی سے کہا کہ «یہ اچھا نہیں ہوا ہمارے چند احباب کے رویہ اور دباو کے رد عمل نے ایک بکھری قوم کو پلیٹ فارم عطا کر دیا ہے جو مستقبل قریب میں ہماری مشکلات میں اضافہ کا باعث بنے گا۔»[25] 13 اپریل سنہ 1979ء کو بھکر کی اسی آل پاکستان شیعہ کنونشن کے دوران مفتی جعفر حسین کو قائد ملت جعفریہ پاکستان منتخب کیا گیا۔[26]

سیاسی سرگرمیاں

  • تعلیمات اسلامی بورڈ کی رکنیت سنہ 1949ء میں جب ملکی آئین سازی کے مرحلے میں آپ تعلیمات اسلامی بورڈ کے رکن منتخب ہوئے اور ملکی آئین کو اسلامی بنانے کے لئے سنہ 1951ء میں مختلف مکاتب فکرکے علماء نے مل کر 22 نکاتی فارمولہ پیش کیا۔ جس میں مفتی نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔[27]
مفتی جعفر حسین اور عارف حسین حسینی پاراچنار دورے پر عوام کے درمیان
  • قادیانیت کے خلاف تحریک: سنہ 1952ء کو قادیانیوں کے خلاف کراچی میں انجمن آل مسلمین پاکستان کے زیر انتظام کانفرنس منعقد کرنے میں مفتی جعفر پیش پیش تھے۔[28]
  • الگ نصاب دینیات کا مطالبہ: سید محمد دہلوی کے دور قیادت میں آپ نے دہلوی کا بھرپور ساتھ دیا یہاں تک کہ صدر ایوب خان نے شیعہ اکابرین اور علماء پر مشتمل 50 رکنی وفد سے ملاقات کی اور شیعہ مطالبات کو حق بجانب سمجھتے ہوئے ان مسائل کے حل کے لئے پانچ شیعہ اور چار حکومت کی نمائندگی میں مشتمل افراد پر ایک کمیٹی بنانے کا اعلان کیا۔ شیعہ نمائندگی کرنے والے پانچ افراد میں میں سید محمد دہلوی کے علاوہ مفتی جعفر حسین بھی شامل تھے۔ چنانچہ آپ کی اور آپ کے ساتھیوں کی تگ و دو سے دو نومبر سنہ 1968ء کو حکومت نے نصاب تعلیم کے مطالبہ کو تسلیم کرلیا۔[29]
  • اسلامی مشاورتی کونسل اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت: ایوب خان کے دور میں جب اسلامی مشاورتی کونسل قائم ہوئی تو مفتی جعفر حسین کو شیعہ قوم کی نمائندگی میں اس کونسل کا رکن منتخب کیا گیا۔ایوب خان اور یحیی خان کے دَور میں آپ نے اس کونسل میں مذہب کی نمایندگی کی۔[30] ضیاء الحق کے دور میں اسلامی مشاورتی کونسل کا نام تبدیل کر کے اسلامی نظریاتی کونسل رکھا گیا اور مفتی جعفر حسین کو ایک بار پھر سے کونسل میں شیعہ قوم کی نمائندگی کا وقت ملا۔[31] لیکن بعد میں شیعہ مطالبات نہ مانے جانے پر مفتی نے استعفی دیا۔[32] پاکستان بننے کے بعد دو مرتبہ آپ اسلامی مشاورتی کونسل کے بھی رکن منتخب ہوئے۔[33]
  • تحریکِ بحالی جمہوریت )Movement for the Restoration of Democracy( کی حمایت: سنہ 1981ء کو ضیاء الحق کے آمرانہ نظام کی مخالفت میں اٹھنے والی (MRD)ایم۔ آر۔ ڈی” تحریک برائے بحالی جمہوریت میں مفتی نے اپنے مکتب کی نمائندگی میں” اس کی بھرپور حمایت کااعلان کیا۔[34]

ادارہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان

مارچ 1948ء میں کچھ لوگوں نے ”آل پاکستان شیعہ کانفرنس ” کے پلیٹ فارم سے ایک قرارداد منظور کروائی جس کے مطابق پاکستان میں شیعہ اور دیگر مسلمانوں کے ایک جیسے قوانین ہیں۔[35] مفتی جعفر حسین اور دیگر علماء نے سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مذکورہ کانفرنس کے چند روز بعد ہی لاہور میں ”ادارہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان” کا قیام عمل میں لائے۔ مفتی کی شب و روز کی محنت رنگ لائی اور پوری قوم نے شیعہ کانفرنس میں منظور کردہ قرارداد کو مسترد کر دیا۔[36]

اس ادارہ کے اغراض و مقاصد میں اہم درج ذیل تھے:[37] 1۔قوم میں ہم آہنگی اور ہمفکری پیدا کرتے ہوئے متحد اور متفق کرنا۔ 2۔”آل پاکستان شیعہ کانفرنس ”میں منظور شدہ قرارداد کو مسترد کرنا۔ 3۔قوم میں اپنے حقوق کے مطالبات کی لہر پیدا کرنا۔ اس ادارے کی کوششوں کے نتیجے میں تحریک شیعہ مطالبات کمیٹی وجود میں آئی۔

مفتی جعفر حسین کی آرامگاہ کربلائےگامے شاہ لاہور

معاہدہ اسلام آباد

پاکستان میں ضیاءالحق کی طرف سے نظام مصطفے کے مبہم اعلان کے بعد مفتی اور دیگر علماء نے شیعہ قوم کا موقف حکومت تک پہنچایا۔[38] 5 مئی سنہ 1979ء کو صدر سے ملاقات ہوئی اور ضیاء الحق نے 9 مئی کو کراچی میں اہم اعلان کرنے کا وعدہ دیا لیکن اس دن صرف اتنا کہا کہ نظام مصطفے کے نفاذ میں کسی فقہ کو مایوس نہیں کیا جائے گا۔ 20 جون سنہ 1980ء کو امامیہ فقہ کے منافی زکات اور عشر آرڈیننس جاری کرکے حکومت نے مکتب تشیع کو یکسر نظر انداز کیا۔[39] 4 اور 5 جولائی کو شیعہ کنونشن اسلام آباد میں ملک بھر سے لوگ آئے اور اسلام آباد کی شاہراہوں پر احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ احتجاج کے دوران وفاقی وزیر مذہبی امور سے ناکام مذاکرات بھی ہوگئے۔[40] مذاکرات سے واپس آکر مفتی نے قوم سے خطاب کے دوران سیکرٹریٹ کی جانب پیش قدمی اور اسے محاصرہ کرنے کا حکم دیا۔[41] اس دوران اگرچہ کئی جوان زخمی اور محمد حسین شاد نامی ایک جوان شہید ہوگیا لیکن سیکرٹریٹ کا محاصرہ ہوگیا۔[42] حکومت نے فوج کو چوکس کیا۔ کئی ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کی گئی۔[43] 6 جولائی کو مفتی کی سربراہی میں چھ رکنی وفد نے صدر ضیاءالحق سے ملاقات کی اور صدر نے وہیں پر تحریری شکل میں شیعہ مطالبات کو مانتے ہوئے معاہدے پر دستخط کئے۔ جو بعد میں معاہدہ اسلام آباد سے مشہور ہوا۔[44] اس تحریک میں سید عارف حسین حسینی اور سید محمد علی نقوی بھی انتظامات سنبھالنے میں پیش پیش تھے۔[45]

معاہدہ اسلام آباد میں اہم مطالبات مندرجہ ذیل تھے:[46] 1۔ آزادانہ طور پر عزاداری امام حسین علیہ السلام کی اجازت ہونی چاہئے اور اس کے تمام تر حفاظتی امور حکومت پر عائد ہوتے ہیں۔ 2۔ شیعہ اسٹوڈنس کے لئے اسکولوں میں جداگانہ اپنی فقہ کے مطابق نصاب دینیات کا انتظام ہونا چاہئے۔ 3۔ درسی کتب سے قابل اعتراض و دل آزار مواد کا اخراج کیا جائے۔ 4۔ تمام تر شیعہ اوقاف کی نگرانی کے لئے شیعہ بورڈ کا قیام عمل میں لایا جائے۔ 5۔ حکومت کی طرف سے (بنک اکاؤنٹ) زکات کی وصولی سے استثناء قرار دیا جائے۔

علمی خدمات

  • گوجرانوالہ میں وسیع و عریض رقبہ پر مشتمل جامعہ جعفریہ کے نام سے ایک دینی درسگاہ قائم کی اور آخری ایام تک آپ اس درسگاہ سے منسلک رہے۔[47]
  • دیوان امیرالمومنین کا منظوم ترجمہ

حوالہ جات

  1. سید فیضان عباس نقوی، ملت کا درخشندہ ترین ستارہ: مفتی جعفر حسین، اسلام ٹائمز۔
  2. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  3. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص۔
  4. قائد ملت مفتی جعفر حسین مرحوم، ایک کردار، ایک مثال، اسلام ٹائمز.
  5. قائد ملت مفتی جعفر حسین مرحوم، ایک کردار، ایک مثال، اسلام ٹائمز.
  6. قائد ملت مفتی جعفر حسین مرحوم، ایک کردار، ایک مثال، اسلام ٹائمز.
  7. مفتی جعفر حسین نے عوام کے حقوق کیلئے مثالی جدوجہد کی، ساجد نقوی، روزنامہ پاکستان۔
  8. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  9. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  10. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  11. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  12. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  13. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  14. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  15. ملک فیض بخش کا انٹرویو مفتی جعفر حسین اس دور میں تعلیمات محمد و آل محمد (ص) کی عملی شکل تھے، اسلام ٹائمز۔
  16. ملک فیض بخش کا انٹرویو مفتی جعفر حسین اس دور میں تعلیمات محمد و آل محمد (ص) کی عملی شکل تھے، اسلام ٹائمز۔
  17. ملک فیض بخش کا انٹرویو مفتی جعفر حسین اس دور میں تعلیمات محمد و آل محمد (ص) کی عملی شکل تھے، اسلام ٹائمز۔
  18. ملک فیض بخش کا انٹرویو مفتی جعفر حسین اس دور میں تعلیمات محمد و آل محمد (ص) کی عملی شکل تھے، اسلام ٹائمز۔
  19. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص71۔
  20. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص71۔
  21. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص71۔
  22. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص71۔
  23. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص71۔
  24. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص72۔
  25. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص72۔
  26. دانشنامہ جہان اسلام ج1 ص 4723۔
  27. علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم مرکز افکار اسلامی۔
  28. علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم مرکز افکار اسلامی۔
  29. علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم مرکز افکار اسلامی۔
  30. علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم مرکز افکار اسلامی۔
  31. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص71۔
  32. دانشنامہ جہان اسلام ج1 ص 4723۔
  33. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  34. روزنامہ جنگ لاہور ۱۰ جولائی ۱۹۸۳ ؛ تحریک جعفریہ پاکستان ،تحریک کا سیاسی سفر ،ص۱۰،۱۱
  35. علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم مرکز افکار اسلامی۔
  36. علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم مرکز افکار اسلامی۔
  37. علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم مرکز افکار اسلامی۔
  38. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص79۔
  39. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص79۔
  40. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص79۔
  41. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص79۔
  42. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص80۔
  43. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص80۔
  44. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص81۔
  45. تسلیم رضا خان، سفیرنور، ص78۔
  46. علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم مرکز افکار اسلامی۔
  47. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  48. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔
  49. ارشاد حسین ناصر، مفتی جعفر حسین مرحوم، ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے، تقریب خبررساں ایجنسی۔


مآخذ