صحیفہ سجادیہ کی بائیسویں دعا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
صحیفہ سجادیہ کی بائیسویں دعا
کوائف
دیگر اسامی: سختیوں کے وقت امام سجادؑ کی دعا
موضوع: مشکلات اور سختیوں سے نجات، خدا پر توکل، عمل صالح کی طرف رغبت اور گناہوں سے نفرت
مأثور/غیرمأثور: مأثور
صادرہ از: امام سجادؑ
راوی: متوکل بن ہارون
شیعہ منابع: صحیفہ سجادیہ
مشہور دعائیں اور زیارات
دعائے توسلدعائے کمیلدعائے ندبہدعائے سماتدعائے فرجدعائے عہددعائے ابوحمزہ ثمالیزیارت عاشورازیارت جامعہ کبیرہزیارت وارثزیارت امین‌اللہزیارت اربعین

صحیفہ سجادیہ کی بائیسویں دعا امام سجادؑ کی مأثور دعاؤں میں سے ہے جو مشکلات اور سختیوں کے موقع پر پڑھی جاتی ہے۔ امام سجادؑ اس دعا میں تہذیب نفس کی سختیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا سے رحمت اور وسعت رزق کی درخواست کرتے ہیں۔ اس دعا میں غیر خدا پر توکل کرنے کا انجام اور حاسد انسان کی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ اسی طرح واجبات کی انجام دہی میں خدا کی رضا اور توفیق کی درخواست، خوشی اور غم نیز دوستی اور دشمنی میں اعتدال اور میانہ روی پر زور دیا گیا ہے۔

صحیفہ سجادیہ کی شروحات جیسے دیار عاشقان میں حسین انصاریان اور شہود و شناخت میں حسن ممدوحی کرمانشاہی نے فارسی میں جبکہ ریاض السالکین میں سید علی‌ خان مدنی نے عربی میں اس دعا کی شرح لکھی ہیں۔

دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

مضامین

صحیفہ سجادیہ کی بائیسویں دعا کو سختیوں اور مشکلات کے وقت پڑھنے کی تاکید ہوئی ہے۔ کتاب شہود و شناخت میں ممدوحی کرمانشاہی کے مطابق اس دعا کی تعبیرات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امام سجادؑ ہر حالت (سختیوں، گرفتارىوں، ناملایمات وغیرہ) میں صرف خدا کے سامنے سر تسلیم خم تھے اور زمانے کے حالات و واقعات نے آپ میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی ایجاد نہیں کی۔[1] اس دعا کے اہم مضامین درج ذیل ہیں:

  • تہذیب نفس کی سختی اور دشواری
  • انسان کی نشو و نما اور کمال یابی کے لئے توفیق الہى کی ضرورت
  • انتخاب کی قدرت اور مسئولیت پذیری انسانی کی خصوصیات میں سے ہیں
  • خدا کی خشنودى ہدایت‌ کا عامل ہے
  • مصیبتوں کی سختی اور تنگدستی میں وسعت رزق کی درخواست
  • رحمت الہی کی درخواست
  • غیر خدا پر توکل کا انجام (مہجوریت، محرومیت و منت)
  • بے نیازی کے عالم میں بھی غفو و درگزر کی درخواست
  • خدا کے فضل و کرم اور عظمت پر امید بے نیازی کا سرچشمہ
  • حسد سے دوری اور گناہوں سے نجات کی درخواست
  • مقام رضا اور بہترین نعمات کی درخواست اور عزت و آبرو اور صحت و سلامتى‌ کی حفاظت
  • واجبات کی انجام دہی میں توفیق کی درخواست
  • عمل صالح کی طرف رغبت اور برے اعمال سے نفرت
  • عذاب کا خوف اور ثواب کی امید
  • دنیا و آخرت کے امور میں اصلاح کی دعا
  • خدا کی نعمتوں پر شکر بجا لانا
  • حسد کے خطرات اور حاسد کی خصوصیات: (نظام الہی پر اعتراضات، دوسروں کی ترقی پر ناراض ہونا)
  • خوشی اور غم نیز دوستی اور دشمنی میں اعتدال اور میانہ روی
  • خالص اور بے نقص دعا[2]

شرحیں

صحیفہ سجادیہ کی شرحوں جیسے دیار عاشقان میں حسین انصاریان نے،[3] شہود و شناخت اثر میں محمد حسن ممدوحی کرمانشاہی نے[4] اور شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ میں سید احمد فہری[5] نے اس دعا کی فارسی میں شرح لکھی ہیں۔

اسی طرح ریاض السالکین میں سید علی‌ خان مدنی،[6] فی ظلال الصحیفہ السجادیہ میں محمد جواد مغنیہ،[7] ریاض العارفین میں محمد بن محمد دارابی[8] اور آفاق الروح میں سید محمد حسین فضل‌ اللہ[9] نے اس دعا کی عربی میں شرح لکھی ہیں۔ ان کے علاوہ کتاب تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ میں فیض کاشانی[10] اور شرح الصحیفہ السجادیہ میں عزالدین جزائری[11] نے اس دعا کے الفاظ اور کلمات کی وضاحت کی ہیں۔

دعا کا متن اور ترجمہ

صحیفہ سجادیہ کی بائیسویں دعا
متن ترجمہ: (مفتی جعفر حسین)
وَ کانَ مِنْ دُعَائِهِ علیه ‌السلام عِنْدَ الشِّدَّةِ وَ الْجَهْدِ وَ تَعَسُّرِ الْأُمُورِ:

(1) اللَّهُمَّ إِنَّک کلَّفْتَنِی مِنْ نَفْسِی مَا أَنْتَ أَمْلَک بِهِ مِنِّی، وَ قُدْرَتُک عَلَیهِ وَ عَلَی أَغْلَبُ مِنْ قُدْرَتِی، فَأَعْطِنِی مِنْ نَفْسِی مَا یرْضِیک عَنِّی، وَ خُذْ لِنَفْسِک رِضَاهَا مِنْ نَفْسِی فِی عَافِیةٍ.

(2) اللَّهُمَّ لَا طَاقَةَ لِی بِالْجَهْدِ، وَ لَا صَبْرَ لِی عَلَی الْبَلَاءِ، وَ لَا قُوَّةَ لِی عَلَی الْفَقْرِ، فَلَا تَحْظُرْ عَلَی رِزْقِی، وَ لَا تَکلْنِی إِلَی خَلْقِک، بَلْ تَفَرَّدْ بِحَاجَتِی، وَ تَوَلَّ کفَایتِی.

(3) وَ انْظُرْ إِلَی وَ انْظُرْ لِی فِی جَمِیعِ أُمُورِی، فَإِنَّک إِنْ وَکلْتَنِی إِلَی نَفْسِی عَجَزْتُ عَنْهَا وَ لَمْ أُقِمْ مَا فِیهِ مَصْلَحَتُهَا، وَ إِنْ وَکلْتَنِی إِلَی خَلْقِک تَجَهَّمُونِی، وَ إِنْ أَلْجَأْتَنِی إِلَی قَرَابَتِی حَرَمُونِی، وَ إِنْ أَعْطَوْا أَعْطَوْا قَلِیلًا نَکداً، وَ مَنُّوا عَلَی طَوِیلًا، وَ ذَمُّوا کثِیراً.


(4) فَبِفَضْلِک، اللَّهُمَّ، فَأَغْنِنِی، وَ بِعَظَمَتِک فَانْعَشْنِی، وَ بِسَعَتِک، فَابْسُطْ یدِی، وَ بِمَا عِنْدَک فَاکفِنِی.

(5) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ خَلِّصْنِی مِنَ الْحَسَدِ، وَ احْصُرْنِی عَنِ الذُّنُوبِ، وَ وَرِّعْنِی عَنِ الْمَحَارِمِ، وَ لَا تُجَرِّئْنِی عَلَی الْمَعَاصِی، وَ اجْعَلْ هَوَای عِنْدَک، وَ رِضَای فِیمَا یرِدُ عَلَی مِنْک، وَ بَارِک لِی فِیمَا رَزَقْتَنِی وَ فِیمَا خَوَّلْتَنِی وَ فِیمَا أَنْعَمْتَ بِهِ عَلَی، وَ اجْعَلْنِی فِی کلِّ حَالاتِی مَحْفُوظاً مَکلُوءاً مَسْتُوراً مَمْنُوعاً مُعَاذاً مُجَاراً.

(6) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ اقْضِ عَنِّی کلَّ مَا أَلْزَمْتَنِیهِ وَ فَرَضْتَهُ عَلَی لَک فِی وَجْهٍ مِنْ وُجُوهِ طَاعَتِک أَوْ لِخَلْقٍ مِنْ خَلْقِک وَ إِنْ ضَعُفَ عَنْ ذَلِک بَدَنِی، وَ وَهَنَتْ عَنْهُ قُوَّتِی، وَ لَمْ تَنَلْهُ مَقْدُرَتِی، وَ لَمْ یسَعْهُ مَالِی وَ لَا ذَاتُ یدِی، ذَکرْتُهُ أَوْ نَسِیتُهُ.

(7) هُوَ، یا رَبِّ، مِمَّا قَدْ أَحْصَیتَهُ عَلَی وَ أَغْفَلْتُهُ أَنَا مِنْ نَفْسِی، فَأَدِّهِ عَنِّی مِنْ جَزِیلِ عَطِیتِک وَ کثِیرِ مَا عِنْدَک، فَإِنَّک وَاسِعٌ کرِیمٌ، حَتَّی لَا یبْقَی عَلَی شَیءٌ مِنْهُ تُرِیدُ أَنْ تُقَاصَّنِی بِهِ مِنْ حَسَنَاتِی، أَوْ تُضَاعِفَ بِهِ مِنْ سَیئَاتِی یوْمَ أَلْقَاک یا رَبِّ.

(8) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ ارْزُقْنِی الرَّغْبَةَ فِی الْعَمَلِ لَک لِآخِرَتِی حَتَّی أَعْرِفَ صِدْقَ ذَلِک مِنْ قَلْبِی، وَ حَتَّی یکونَ الْغَالِبُ عَلَی الزُّهْدَ فِی دُنْیای، وَ حَتَّی أَعْمَلَ الْحَسَنَاتِ شَوْقاً، وَ آمَنَ مِنَ السَّیئَاتِ فَرَقاً وَ خَوْفاً، وَ هَبْ لِی نُوراً أَمْشِی بِهِ فِی النَّاسِ، وَ أَهْتَدِی بِهِ فِی الظُّلُمَاتِ، وَ أَسْتَضِیءُ بِهِ مِنَ الشَّک وَ الشُّبُهَاتِ

(9) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ ارْزُقْنِی خَوْفَ غَمِّ الْوَعِیدِ، وَ شَوْقَ ثَوَابِ الْمَوْعُودِ حَتَّی أَجِدَ لَذَّةَ مَا أَدْعُوک لَهُ، وَ کأْبَةَ مَا أَسْتَجِیرُ بِک مِنْهُ

(10) اللَّهُمَّ قَدْ تَعْلَمُ مَا یصْلِحُنِی مِنْ أَمْرِ دُنْیای وَ آخِرَتِی فَکنْ بِحَوَائِجِی حَفِیاً.

(11) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ، وَ ارْزُقْنِی الْحَقَّ عِنْدَ تَقْصِیرِی فِی الشُّکرِ لَک بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَی فِی الْیسْرِ وَ الْعُسْرِ وَ الصِّحَّةِ وَ السَّقَمِ، حَتَّی أَتَعَرَّفَ مِنْ نَفْسِی رَوْحَ الرِّضَا وَ طُمَأْنِینَةَ النَّفْسِ مِنِّی بِمَا یجِبُ لَک فِیمَا یحْدُثُ فِی حَالِ الْخَوْفِ وَ الْأَمْنِ وَ الرِّضَا وَ السُّخْطِ وَ الضَّرِّ وَ النَّفْعِ.

(12) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ ارْزُقْنِی سَلَامَةَ الصَّدْرِ مِنَ الْحَسَدِ حَتَّی لَا أَحْسُدَ أَحَداً مِنْ خَلْقِک عَلَی شَیءٍ مِنْ فَضْلِک، وَ حَتَّی لَا أَرَی نِعْمَةً مِنْ نِعَمِک عَلَی أَحَدٍ مِنْ خَلْقِک فِی دِینٍ أَوْ دُنْیا أَوْ عَافِیةٍ أَوْ تَقْوَی أَوْ سَعَةٍ أَوْ رَخَاءٍ إِلَّا رَجَوْتُ لِنَفْسِی أَفْضَلَ ذَلِک بِک وَ مِنْک وَحْدَک لَا شَرِیک لَک.

(13) اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ، وَ ارْزُقْنِی التَّحَفُّظَ مِنَ الْخَطَایا، وَ الِاحْتِرَاسَ مِنَ الزَّلَلِ فِی الدُّنْیا وَ الْآخِرَةِ فِی حَالِ الرِّضَا وَ الْغَضَبِ، حَتَّی أَکونَ بِمَا یرِدُ عَلَی مِنْهُمَا بِمَنْزِلَةٍ سَوَاءٍ، عَامِلًا بِطَاعَتِک، مُؤْثِراً لِرِضَاک عَلَی مَا سِوَاهُمَا فِی الْأَوْلِیاءِ وَ الْأَعْدَاءِ، حَتَّی یأْمَنَ عَدُوِّی مِنْ ظُلْمِی وَ جَوْرِی، وَ ییأَسَ وَلِیی مِنْ مَیلِی وَ انْحِطَاطِ هَوَای

(14) وَ اجْعَلْنِی مِمَّنْ یدْعُوک مُخْلِصاً فِی الرَّخَاءِ دُعَاءَ الْمُخْلِصِینَ الْمُضْطَرِّینَ لَک فِی الدُّعَاءِ، إِنَّک حَمِیدٌ مَجِیدٌ.

شدت اور سختی کے وقت کی دعا

(1) اے میرے معبود! تو نے (اصلاح و تہذیب نفس کے بارے میں) جو تکلیف مجھ پر عائد کی ہے اس پر تو مجھ سے زیادہ قدرت رکھتا ہے اور تیری قوّت و توانائی اس امر پر اور خود مجھ پر میری قوّت و طاقت سے فزوں تر ہے۔ لہذا مجھے ان اعمال کی توفیق دے جو تیری خوشنودی کا باعث ہوں۔ اور صحت و سلامتی کی حالت میں اپنی رضا مندی کے تفاضے مجھ سے پورے کر لے۔

(2) بار الہا! مجھ میں مشقت کے مقابلہ میں ہمّت، مصیبت کے مقابلہ میں صبر اور فقر و احتیاج کے مقابلہ میں قوّت نہیں ہے۔ لہذا میری روزی کو روک نہ لے اور مجھے اپنی مخلوق کے حوالے نہ کر۔ بلکہ بلاواسطہ میری حاجت برلا اور خود ہی میرا کارساز بن

(3) اور مجھ پر نظر شفقت فرما اور تمام کاموں کے سلسلہ میں مجھ پر نظر کرم رکھ۔ اس لۓ کہ اگر تونے مجھے میرے حال پر چھوڑ دیا تو میں اپنے امور کی انجام دہی سے عاجز رہوں گا۔ اور جن کاموں میں میری بہبودی ہے انہیں انجام نہ دے سکوں گا۔ اور اگر تو نے مجھے لوگوں کے حوالے کر دیا تو وہ تیوریوں پر بل ڈال کر مجھے دیکھیں گے۔ اور اگر عزیزوں کی طرف دھکیل دیا تو وہ مجھے ناامید رکھیں گے۔ اور اگر کچھ دیں گے تو قلیل و ناخوشگوار اور اس کے مقابلہ میں احسان زیادہ رکھیں گے اور برائی بھی حد سے بڑھ کر کریں گے۔

(4) لہذا اے میرے معبود! تو اپنے فضل و کرم کے ذریعے مجھے بے نیاز کر، اور اپنی بزرگی و عظمت کے وسیلے سے میری احتیاج کو برطرف فرما اور اپنی تونگری و وسعت سے میرا ہاتھ کشادہ کر دے اور اپنے ہاں کی نعمتوں کے ذریعہ مجھے (دوسروں سے) بے نیاز بنا دے۔

(5) اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور مجھے حسد سے نجات دے، اور گناہوں کے ارتکاب سے روک دے۔ اور حرام کاموں سے بچنے کی توفیق دے، اور گناہوں پر جرات پیدا نہ ہونے دے اور میری خواہش و رغبت اپنے سے وابستہ رکھ اور میری رضا مندی انہی چیزوں میں قرار دے جو تیری طرف سے مجھ پر وارد ہوں، اور رزق و بخشش و انعام میں میرے لۓ افزائش فرما اور مجھے ہر حال میں اپنے حفظ و نگہداشت، حجاب و نگرانی اور پناہ و امان میں رکھ۔

(6) اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور مجھے ہر قسم کی اطاعت کے بجا لانے کی توفیق عطا فرما جو تو نے اپنے لۓ یا مخلوقات میں سے کسی کے لۓ مجھ پر لازم و واجب کی ہو۔ اگرچہ اسے انجام دینے کی سکت میرے جسم میں نہ ہو، اور میری قوّت اس کے مقابلہ میں کمزور ثابت ہو اور میری مقدرت سے باہر ہو اور میرا مال و اثاثہ اس کی گنجائش نہ رکھتا ہو۔ وہ مجھے یاد ہو یا بھول گیا ہوں۔

(7) وہ تو اے میرے پروردگار! ان چیزوں میں سے ہے جنہیں تو نے میرے ذمہ شمار کیا ہے اور میں اپنی سہل انگاری کی وجہ سے اسے بجا نہ لایا۔ لہذا اپنی وسیع بخشش اور کثیر رحمت کے پیش نظر اس کمی (کمی) کو پورا کر دے۔ اس لۓ کہ تو تونگر و کریم ہے۔ تاکہ اے میرے پروردگار! جس دن میں تیری ملاقات کروں اس میں سے کوئی ایسی بات میرے ذمّہ باقی نہ رہے کہ تو اس کے مقابلہ میں یہ چاہے کہ میری نیکیوں میں کمی یا میری بدیوں میں اضافہ کر دے۔

(8) اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور آخرت کے پیش نظر صرف اپنے لۓ عمل کی رغبت عطا کر یہاں تک کہ میں اپنے دل میں اس کی صحت کا احساس کر لوں اور دنیا میں زہد و بے رغبتی کا جذبہ مجھ پر غالب آ جاۓ اور نیک کام شوق سے کروں اور خوف و ہراس کی وجہ سے برے کاموں سے محفوظ رہوں۔ اور مجھے ایسا نور (علم و دانش) عطا کر جس کے پر تو میں لوگوں کے درمیان (بے کھٹکے) چلوں پھروں اور اس کے ذریعے تاریکیوں میں ہدایت پاؤں اور شکوک و شبہات کے دھندلکوں میں روشنی حاصل کروں۔

(9) اے اللہ محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور اندوہ عذاب کا خوف اور ثواب آخرت کا شوق میرے اندر پیدا کر دے تاکہ جس چیز کا تجھ سے طالب ہوں اس کی لذت اور جس سے پناہ مانگتا ہوں اس کی تلخی محسوس کر سکوں۔

(10) بار الہا! جن چیزوں سے میرے دینی اور دینوی امور کی بہبودی وابستہ ہے تو انہیں خوب جانتا ہے۔ لہذا میری حاجتوں کی طرف خاص توجہ فرما۔

(11) اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد اور ان کی آل پر اور خوشحالی و تنگدستی اور صحت و بیماری میں جو نعمتیں تو نے بخشی ہیں ان پر اداۓ شکر میں کوتاہی کے وقت مجھے اعتراف حق کی توفیق عطا کر تاکہ میں خوف و امن، رضا و غضب اور نفع و نقصان کے موقع پر تیرے حقوق و وظائف کے انجام دینے میں مسرّت قلبی و اطمینان نفس محسوس کروں ۔

(12) اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور میرے سینہ کو حسد سے پاک کر دے تاکہ میں مخلوقات میں سے کسی ایک پر اس چیز کی وجہ سے جو تو نے اسے اپنے فضل و کرم سے عطا کی ہے حسد نہ کروں یہاں تک کہ میں تیری نعمتوں میں سے کوئی نعمت، وہ دین سے متعلق ہو یا دنیا سے، عافیّت سے متعلق ہو یا تقوی سے، وسعت رزق سے متعلق ہو یا آسائش سے، مخلوقات میں سے کسی ایک کے پاس نہ دیکھوں مگر یہ کہ تیرے وسیلہ سے۔ اور تجھ سے۔ اور تجھ سے اے خداۓ یگانہ ولا شریک اس سے بہتر کی اپنے لۓ آرزو کروں۔

(13) اے اللہ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور دنیا اور آخرت کے امور میں خواہ خوشنودی کی حالت ہو یا غضب کی، مجھے خطاؤں سے تحفظ اور لغزشوں سے اجتناب کی توفیق عطا فرما یہاں تک کہ غضب و رضا کی جو حالت پیش آۓ میری حالت یکسا‎ں رہے اور تیری اطاعت پر عمل پیرا رہوں۔ اور دوست و دشمن کے بارے میں تیری رضا اور اطاعت کو دوسری چیزوں پر مقدم کروں یہاں تک کہ دشمن کو میرے ظلم و جور کا کوئی اندیشہ نہ رہے اور میرے دوست کو بھی جنبہ داری اور دوستی کی رو میں بہہ جانے سے مایوسی ہوجاے۔

(14) اور مجھے ان لوگوں میں قرار دے جو راحت و آسائش کے زمانہ میں پورے اخلاص کے ساتھ ان مخلصین کی طرح دعا مانگتے ہیں جو اضطرار و بیچارگی کے عالم میں دست بد دعا رہتے ہیں۔ بے شک تو قابل ستائش اور بزرگ و برتر ہے۔

حوالہ جات

  1. ممدوحی کرمانشاہی، شہود و شناخت، 1388ش، ج2، ص329۔
  2. انصاریان، دیار عاشقان، 1373ش، ج6 ص391-447؛ ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، 1388ش، ج2، ص329-368۔
  3. انصاریان، دیار عاشقان، 1373ش، ج6 ص385-447۔
  4. ممدوحی، کتاب شہود و شناخت، 1388ش، ج2، ص329-368۔
  5. فہری، شرح و تفسیر صحیفہ سجادیہ، 1388ش، ج2، ص361-378۔
  6. مدنی شیرازی، ریاض السالکین، 1435ق، ج3، ص490-535۔
  7. مغنیہ، فی ظلال الصحیفہ، 1428ق، ص295-308۔
  8. دارابی، ریاض العارفین، 1379ش، ص283-300۔
  9. فضل اللہ، آفاق الروح، 1420ق، ج1، ص567-598۔
  10. فیض کاشانی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، 1407ق، ص52-53۔
  11. جزایری، شرح الصحیفہ السجادیہ، 1402، ص127-131۔


مآخذ

  • انصاریان، حسین، دیار عاشقان: تفسیر جامع صحیفہ سجادیہ، تہران، پیام آزادی، 1372 ہجری شمسی۔
  • جزایری، عزالدین، شرح الصحیفۃ السجادیۃ، بیروت، دار التعارف للمطبوعات، 1402ھ۔
  • دارابی، محمد بن محمد، ریاض العارفین فی شرح الصحیفہ السجادیہ، تحقیق حسین درگاہی، تہران، نشر اسوہ، 1379ہجری شمسی۔
  • فضل‌اللہ، سید محمد حسین، آفاق الروح، بیروت، دارالمالک، 1420ھ۔
  • فہری، سید احمد، شرح و ترجمہ صحیفہ سجادیہ، تہران، اسوہ، 1388 ہجری شمسی۔
  • فیض کاشانی، محمد بن مرتضی، تعلیقات علی الصحیفہ السجادیہ، تہران، مؤسسہ البحوث و التحقیقات الثقافیہ، 1407ھ۔
  • مدنی شیرازی، سید علی ‌خان، ریاض السالکین فی شرح صحیفۃ سید الساجدین، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، 1435ھ۔
  • مغنیہ، محمد جواد، فی ظلال الصحیفہ السجادیہ، قم، دار الکتاب الاسلامی، 1428ھ۔
  • ممدوحی کرمانشاہی، حسن، شہود و شناخت، ترجمہ و شرح صحیفہ سجادیہ، مقدمہ آیت ‌اللہ جوادی آملی، قم، بوستان کتاب، 1388 ہجری شمسی۔