ام البنین

ویکی شیعہ سے
(ام البنین(س) سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ام البنین
نام فاطمہ بنت حزام
کنیت ام البنین
شہر مدینہ
وفات/شہادت 13 جمادی الثانی
مدفن مدینہ، قبرستان بفیع

فاطمہ بنت حِزام جو اُمّ البَنین کے نام سے مشہور ہیں امیرالمؤمنین(ع) کی زوجات میں سے تھیں۔ آپ شیعوں کے ہاں قابل احترام شخصیات میں سے ہیں۔ حضرت علی(ع) کے ساتھ آپ کے چار بیٹے ہوئے جن کے نام حضرت عباس(ع)، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں یہ چاروں کے چاروں عاشورا کے دن امام حسین(ع) کے ساتھ شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔ آپ چونکہ چار بیٹوں کی ماں تھی اسلئے آپ "ام البنین" یعنی بیٹوں کی ماں کے لقب سے ملقب ہوئیں۔

واقعہ کربلا کے بعد حضرت ام البنین امام حسین(ع) اور اپنے بیٹوں کیلئے اس طرح عزاداری کرتی تھیں کہ دشمنان اہل بیت(ع) بھی آپ کے ساتھ رونے پر مجبور ہوتے تھے۔ آپ کا مدفن قبرستان بقیع میں ہے۔

حسب و نسب

حضرت ام البنین کے والد گرامی ابوالمجْل حزّام بن خالد قبیلہ بنی کلاب سے ان کا تعلق تھا۔[1] آپ کی مادر گرامی لیلی یا ثمامہ بنت سہیل بن عامر بن مالک تھیں۔[2]

تاریخ وفات

حضرت ام البنین کی تارخ وفات کے بارے میں کوئی دقیق معلومات تاریخی منابع میں ثبت نہیں ہیں لیکن جو چیز معروف ہے اس کے مطابق آپ ۱۳جمادی الثانی کو اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔[حوالہ درکار] آپ کو جنۃ البقیع سپرد خاک کیا گیا۔

حضرت علی(ع) کے ساتھ ازدواج


حضرت فاطمہ زہرا(س) کی رحلت کے کئی سال بعد حضرت علی(ع) نے اپنے بھائی عقیل جو نسب شناسی میں مشہور تھے، سے ایک نجیب خاندان سے بہادر، شجاع اور جنگجو اولاد جنم دینے والی زوجہ کے انتخاب کے بارے میں مشورہ کیا تو عقیل نے فاطمہ بنت حزام کا نام تجویز کیا اور کہا عربوں میں بنی کلاب کے مردوں جیسا کوئی دلیر مرد نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ یوں حضرت علی(ع) نے آپ سے شادی کی۔ [3]

اس شادی کا ثمرہ خدا نے چار بیٹوں کی صورت میں عطا کیا جن کے نام عباس، عبداللہ، جعفر اور عثمان ہیں۔

آپ کے یہ چار بیٹے شجاعت اور دلیری میں اپنی مثال آپ تھے اس وجہ سے آپ کو "ام البنین" [بیٹوں کی ماں] کہا جاتا تھا۔ آپ کے یہ چار کے چار بیٹے کربلا میں اپنے بھائی اور امام، امام حسین(ع) کے رکاب میں شہادت کے عظیم درجے پر فائز ہوئے۔[4]

کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ہی حضرت امام علی(ع) کو یہ تجویز دی تھی کہ ان کو بجائے فاطمہ ام البنین کہہ کر پکارا جائے تاکہ حضرت فاطمہ زہراء(س) کے بچوں کو فاطمہ کہنے سے اپنی ماں حضرت فاطمہ زہرا(س) کی یاد تازہ نہ ہوجائے اور اپنی ماں پر گزری ہوئی تلخ حوادث انہیں آزار نہ پہنچائیں۔[حوالہ درکار]


ام البنین واقعہ کربلا کے بعد

ام البنین واقعہ کربلا پیش آتے وقت وہاں موجود نہیں تھیں۔ جب اسیران کربلا کا قافلہ مدینہ پہنجا تو کسی نے آپ کو اپنے بیٹوں کی شہادت کی خبر سنائی لیکن آپ نے کہا: امام حسین(ع) کے بارے میں کہو جب آپ کو بتایا گیا کہ امام حسین(ع) آپ کے چار بیٹوں کے ساتھ کربلا میں شہید ہوئے ہیں تو اس وقت آپ نے کہا:‌ "اے کاش میرے بیٹے اور جو کچھ زمین اور آسمان کے درمیان ہے میرے حسین(ع) پر فدا ہوتے اور وہ زندہ ہوتے"۔ آپ کے یہ جملات، امام حسین(ع) اور اہل بیت(ع) کے ساتھ آپ کی سچی اور با اخلاص مجبت کی عکاسی کرتی ہے۔[5]

تاریخی منابع میں لکھا گیا ہے کہ حضرت زینب(س) مدینہ پہنچنے کے بعد "ام البنین" سے ملنے گئیں اور انہیں ان کے بیٹوں کی شہادت کے حوالے سے تعزیت و تسلیت پیش کی۔[6]

بقیع میں قبروں کی جگہ

ام البنین کا اپنے بیٹوں کیلئے عزاداری

حضرت ام البنین اپنے بیٹوں کی شہادت سے باخبر ہونے کے بعد ہر روز اپنے پوتے عبیداللہ (فرزند عباس) کے ساتھ قبرستان بقیع جایا کرتی تھی اور وہاں پر خود انکی اپنی انشاء کی ہوئی اشعار پڑھا کرتی تھیں اور نہایت دلسوز انداز میں گریہ کرتی تھیں۔اہل مدینہ ان کے ارد گرد جمع ہوتے اور ان کے ساتھ گریہ کرنا شروع کرتے تھے۔ یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ مروان بن حکم جو اہل بیت کا سرسخت دشمن سمجھا جاتا تھا بھی آپ کے ساتھ گریہ و بکا کرنے پر مجبور ہوتے تھے۔[7] آپ حضرت عباس(ع) کیلئے مرثیے کے یہ اشعار پڑھا کرتی تھیں جنکا ترجمہ یہ ہے:

" اے وہ جس نے عباس کو دشمن پر حملہ کرتے ہوئے دیکھا ہے جو دشمن کے پیچھے تھا۔ کہتے ہیں میرے بیٹے کے ہاتھ جدا ہوگئے تھے اور اس کے سر پر گرز مارا گیا تھا۔ اگر تیرے ہاتھ میں تلوار ہوتی تو کوئی تیرے نزدیک نہیں آسکت"۔[8]

آپ کو ایک فصیح و بلیغ ادیب اور شاعر اور اہل فضل و دانش سمجھا جاتا تھا۔[9]

ام البنین کے بارے میں بزرگوں کے کلمات

زین‏ الدین عاملی جو شہید ثانی کے نام سے معروف ہیں، حضرت ام ‏البنین(ع) کے بارے میں کہتے ہیں: ام ‏البنین با معرفت اور پر فضیلت خواتین میں سے تھیں۔خاندان نبوت سے خاص محبت اور شدید و خالص دلبستگی رکھتی تھی اور اپنے آپ کو ان کی خدمت کیلئے وقف کی ہوئی تھی۔ خاندان نبوت کے ہاں بھی آپ کو ایک اعلی مقام حاصل تھا اور آپ کا خصوصی احترام کرتے تھے۔ عید کے ایام میں ان کی خدمت میں تشرییف لے جاتے تھے اور ان کا خاص احترام کرتے تھے۔"[10]

قبرستان بقیع میں ام البنین کی قبر

سید محمود حسینی شاہرودی (متوفی ۱۷ شعبان ۱۳۹۴ ہجری قمری) کہتے ہیں: میں مشکلات اوقات میں حضرت ابوالفضل العباس(ع) کی ماں ام البنین(س) کیلئے 100 مرتبہ صلوات ہدیہ کرتا ہوں اور اپنی مشکلات سے بخوبی باہر آتا ہوں[11]

سید محسن امین کتاب اعیان الشیعہ میں لکھتے ہیں: ام البنین(س) ایک خوش بیان شاعر اور عرب کے اصیل اور شجاع خاندان سے انکا تعلق تھا۔ [12]

مقرم کہتے ہیں: ام البنین کا شمار با فضیلت خواتین میں ہوتی تھی آپ اہل بیت کی حقانیت سے خوب واقف تھیں اور ان کی محبت اور دوستی میں خالص تھیں متقابلا خود بھی اہل بیت کے ہاں ایک خاص مقام رکھتی تھیں۔[13]

علی محمد علی دُخَیل عصر حاضر کے عرب لکھاری اس عظیم خاتون کے بارے میں لکھتے ہیں: اس خاتون (ام البنین) کی عظمت وہاں آشکار ہوتی ہے جب انکے بیٹوں کی شہادت کی خبر آتی ہے تو اس پر کوئی توجہ نہیں دیتی بلکہ امام حسین(ع) کی سلامتی کے بارے میں سوال کرتی ہے گویا امام حسین(ع) ان کے فرزند ہیں نہ اپنے بیٹے۔[14] باقر شریف قرشی؛ "کتاب عباس بن علی کرامت کی نشانی" کے مصنف اس خاتون کی فضیلت کے بارے میں لکھتے ہیں: تاریخ میں نہیں دیکھا گیا ہے کہ کسی عورت نے اپنی سوکن کے فرزندان سے خالص محبت کی ہو اور ان کو اپنے فرزندوں پر مقدم رکھی ہو سوای یہ با عظمت خاتون یعنی "ام البنین(س)"[15]

حوالہ جات

  1. طبری، تاریخ، ج۴، ص۱۱۸.
  2. ابن عنبہ، عمدۃ الطالب،‌ ص۳۵۶؛ غفاری، تعلیقات بر مقتل الحسین، ص۱۷۴.
  3. ابن عنبہ، عمدۃ الطالب، ص۳۵۷.
  4. اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۸۲ -۸۴؛ ابن عنبہ، عمدۃ الطالب، ص۳۵۶؛ حسّون، اعلام النساء المؤمنات، ص۴۹۶.
  5. حسون، اعلام النساء المؤمنات، ص۴۹۶-۴۹۷؛ محلاتی، ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۲۹۳.
  6. موسوی، قمر بنی‌هاشم، ص۱۶.
  7. اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص۸۵.
  8. محلاتی، ریاحین الشریعہ، ج۳، ص۲۹۴ و تنقیح المقال، ج۳، ص۷۰
  9. حسون، اعلام النساء المؤمنات، ص۴۹۶-۴۹۷.
  10. ستارہ درخشان مدینہ حضرت ام البنین، ص۷.
  11. چہرہ درخشان قمر بنی ہاشم ابوالفضل العباس(ع)، ج۱، ص۴۶۴.
  12. اعیان الشیعہ، ج۸، ص۳۸۹.
  13. مقرم،العباس(ع)، ص۱۸.
  14. دخیل، العباس(ع)، ص۱۸.
  15. شریف قرشی، العباس بن علی، ص۲۳.


مآخذ

  • ابن عنبہ، احمد، عمدۃ الطالب فی انساب آل ابی طالب، نجف، ۱۳۸۱ق /۱۹۶۱ ع
  • اصفهہانی، ابو الفرج، مقاتل الطالبیین، بہ کوشش احمد صقر، قاہرہ، ۱۳۶۸ق /۱۹۴۹ ع
  • حسون، محمد و ام علی مشکور، اعلام النساء المؤمنات، تہران،۱۴۱۱ق.
  • دُخَیّل، علی محمد علی، العباس بن امیرالمؤمنین علیہ السلام، لبنان ـ بیروت، مؤسسۃ اہل البیت، ۱۴۰۱ ه. ق.
  • شبر، جواد، أدب الطف أو شعراء الحسین علیہ السلام من القرن الأول الہجری حتی القرن الرابع عشر، دار المرتضی، بیروت.
  • شریف القرشی، باقر، العباس بن علی، رائد الکرامۃ و الفداء فی الاسلام،، دار الکتاب الاسلامی، ص۲۳، برگرفتہ از: ام البنین؛ نماد از خود گذشتگی.
  • طبری، تاریخ، ناشر مکتبہ ارومیہ، ارومیہ.
  • غفاری، حسن، تعلیقات بر مقتل الحسین ابومخنف، قم، ۱۳۶۴ش.
  • محلاتی، ذبیح اللہ، ریاحین الشریعۃ، تہران، ۱۳۶۴ش.
  • موسوی مقرم، عبد الرزاق، قمر بنی ہاشم، نجف، ۱۳۶۹ق / ۱۹۵۰ ع