حدیث بضعہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
حدیث بضعہ
فاطمة بضعة منی.jpg
غلام حسین امیرخانی کے ذریعہ حدیث بضعہ کی خوشخطی کا نقشہ
حدیث کے کوائف
موضوع: فضائل حضرت فاطمہ(س)
صادر از: پیغمبر اکرمؐ
اصلی راوی: امام علی(ع)، ابن‌عباس، ابوذر غفاری
شیعہ مآخذ: الامالی صدوق، الخصال، کفایۃ الاثر
سنی مآخذ: صحیح البخاری
مشہور احادیث
حدیث سلسلۃ الذہب.حدیث ثقلین.حدیث کساء.مقبولہ عمر بن حنظلہ.حدیث قرب نوافل.حدیث معراج. حدیث ولایت.حدیث وصایت.حدیث جنود عقل و جہل


حدیث بَضْعَۃ یہ حضرت فاطمہؑ کے بارے میں ایک حدیث نبوی ہے کہ پیغمبر اکرمؐ نے فاطمہؑ کو "اپنے جسم کا ایک حصہ" کے طور پر متعارف کرایا اور ان کی خوشی کو اپنی خوشی اور ان کی تکلیف کو اپنا تکلیف بتائی ہے۔ یہ حدیث شیعہ اور اہلسنت مآخذ میں دونوں جگہ نقل ہوئی ہے۔ حدیث مذکورہ عصمت حضرت زہراؑ، تعظیم اہلبیتؑ کا وجوب ہونا، مسئلہ فدک میں حضرت زہراؑ کی حقانیت کا ثابت ہوان اور اکرام والدین کے لازمی ہونے کے لئے پیش کی جاتی ہے۔

بعض لوگوں نے اس حدیث کے صادر ہونے کی وجہ امام علیؑ کا ابو جہل کی بیٹی سے شادی کرنے کو بتایا ہے۔ اس طرح کی روایات کے راوی جھوٹی حدیث گڑھنے والے اور اہلبیتؑ کے دشمن سمجھے جاتے ہیں اور ایسی باتوں کو امام صادقؑ جھوٹ اور غلط سمجھتے ہیں۔

متن حدیث اور اس کی اہمیت

حدیث بضعہ،[نوٹ 1] کا شمار ان احادیث میں ہوتا ہے جسے سرکار دوعالمؐ نے اپنی دختر فاطمہؑ کے لئے فرمایا ہے کہ: «فاطمہ میرا ٹکڑا ہے جس نے اسے اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے اسے خوشحال کیا اس نے مجھے خوشحال کیا۔»[1]


«بَضْعَةٌ مِنِّی» کا جملہ کلام پیغمبر گرامیؐ میں زیادہ تر حضرت زہراؑ کے بارے میں استعمال ہوا ہے[حوالہ درکار] البتہ یہ جملہ دوسری شخصیات جیسے حضرت علیؑ،[2] امام رضا(ع)[3] اور بزرگ مسیحی شمعون بن لاوی کے لئے بھی پیغمبرؐ کے ذریعہ استعمال ہوا ہے۔۔[4]

«بضعۃ» کے معنی بدن کے ٹکڑے کے ہیں۔[5] «فُلان بَضْعَةٌ مِنِّی» بہت زیادہ قربت و محبت کی وجہ سے متکلم یہ جملہ استعمال کرتا ہے گویا وہ شخص اس کے بدن کا ایک حصہ ہو۔[6]

حضرت فاطمہؑ کے لئے صدور حدیث

خطائے اسکرپٹ: "Break" کے نام کا ماڈیول موجود نہیں۔فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّی ‏فَمَنْ آذَاهَا فَقَدْ آذَانِی و مَنْ سَرّها فَقد سَرّنی


شیخ صدوق، الامالی، ۱۴۱۷ق، ص۱۶۵.

متعدد حدیثی-تاریخی مآخذ سے نقل کی بنیاد پر پیغمبر گرامیؐ نے اپنی بیٹی فاطمہؑ کو «بَضْعَۃ مِنِّی» کے ذریعہ پہچنوایا ہے۔[7] حضرت علی(ع)،[8] ابن‌عباس،[9] ابوذر غفاری[10] اور خود حضرت زہرا(س)،[11] بھی اس حدیث کے راویوں میں سے ہیں۔

ابن عباس کی نقل کی بنا پر ایک دن پیغمبر گرامیؑ اپنی دختر نیک اختر کو دیکھنے کے بعد انہیں سیدہ زنان عالمیان و «بَضْعَةٌ مِنِّی» کہہ کر آواز دی۔[12] رحلت پیغمبرؐ کے بعد حضرت زہراؑ نے اپنے بستر بیماری پہ شیخین کے ساتھ احتجاج کرتے ہوئے اس حدیث کو پیش کیا تھا۔[13]

نویں اور دسویں ہجری قمری کے اہلسنت محدث و مفسر جلال الدین سیوطی نے اس حدیث بضعہ کو مورد اتفاق جانا ہے۔[14]

مسئلۂ کلامی و فقہی میں اس حدیث سے استدلال

متعدد علماء، حدیث بضعہ کا حوالہ دیتے ہوئے، کچھ دینی اور فقہی مواد نکالنے کی کوشش کرتے ہیں جیسے اہل بیت کی تعظیم کا وجوب،[15]عصمت حضرت زہرا(س) ،[16] باپ کے لئے بچے کی گواہی قبول کرنے سے انکار یا اس کے برعکس،[17] احترام والدین کا واجب ہونا،[18] مسئلہ فدک میں حضرت زہرا کی حقانیت[19] نیز اس روایت کے ذریعہ خواتین کا قبروں کی زیارت کا جواز ثابت ہوتا ہے۔[20]

شیعہ علمائے متکلمین حضرت زہراؑ کی عصمت کو ثابت کرنے کے لئے اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔[21] آیت اللہ جعفر سبحانی اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں حدیث بضعہ میں حضرت زہرا (س) کی رضایت اور ناراضگی کو خدا اور اس کے رسول کی رضا اور ناراضگی کا محور اور معیار سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ خدا سوائے نیک اعمال کے خوشنود نہیں ہوتا اور گناہ اور اس کے احکامات کی نافرمانی پر راضی نہیں ہوتا تو اگر حضرت زہراؑ کسی بھی گناہ کی مرتکب ہوتیں یا اس کی فکر بھی اپنے ذہن میں لاتیں تو اس صورت میں وہ ایسی چیز سے خوشنود ہوتیں جس سے خداوند خوشنود نہ ہوتا، جب کہ حدیث بضعہ میں رضایت الہی کو رضایت حضرت زہرا سے متصل کیا گیا ہے۔ لہذا یہ حدیث ان کی عصمت پر دلالت کرتی ہے۔[22]

بعض تفاسیر میں حدیث بضعہ کے ذریعہ بعض دوسری آیات قرآنی کی تفسیر میں مدد لی جاتی ہے۔[23] جیسے کہ اہلسنت مفسر آلوسی، اس حدیث اور ابو جعفر امام باقرؑ کی ایک روایت سے استدلال کرتے ہوئے آیت وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ،[24] کے ذیل میں دنیا کی تمام خواتین پر چاہے وہ حضرت مریم ہی کیوں نہ ہوں، حضرت زہراؑ کو ممتاز اور برتر قرار دیا ہے۔[25]

حدیث بضعہ کا استعمال حضرت علیؑ کے خلاف

بعض جوامع روائی میں حدیث بضعہ کو حضرت علیؑ کا ابوجہل کی بیٹی عوراء[26] سے خواستگاری کے سلسلہ میں بتایا جاتا ہے۔ ابن حنبل نے عبداللہ بن زبیر سے نقل کیا کہ جب علیؑ اور دختر ابوجہل کی شادی کی خبر سرکار دو عالمؐ تک پہنچی تو آپ نے فرمایا: «اِنّها فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّی یُوذینی ما آذَاها؛»[27] بعض دوسرے مقامات پر بھی اسی طرح کے جملہ سرکار دوعالم سے صادر ہوئے ہیں: خدا کی قسم! دختر پیغمبرؐ اور دشمن خدا ایک گھر میں جمع نہیں ہو سکتے۔[28]

اسی طرح اور جگہ بھی نقل ہوا ہے کہ: جس وقت حضرت علیؑ نے ابوجہل کی بیٹی کے لئے اپنے چچا حارث بن ہاشم سے خواستگاری کی، حارث نے پیغمبر گرامیؑ کو اس مسئلہ سے آگاہ کیا تو آںحضرتؐ نے منع کرتے ہوئے فرمایا: «فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّی ولا اُحِبُ اَن تَجزَعَ وتَحزَن؛»؛ پھر حضرت علیؑ نے فرمایا: یا رسول اللہ! میں کوئی ایسا کام نہیں کرونگا جس سے فاطمہ ناراض ہوں۔[29] اسی طرح ملتی جلتی روایات دوسری جگہ بھی ہے جہاں آخر میں پیغمبر گرامیؐ نے قسم کجھائی کہ جب تک فاطمہ زندہ ہیں علی یہ کام نہیں کر سکتے۔[30] اور پھر تین مرتبہ فرمایا: میں اس کام کی اجازت نہیں دونگا اور اگر علی نے اس سے شادی کا قصد کر ہی لیا ہے تو پہلے فاطمہ کو طلاق دیں۔[31] ترمذی نے اس روایت کے ضمن میں کہا ہے کہ اس روایت کی صحیح السند ہے۔[32]چونکہ امام علیؑ کا ابی جہل کی بیٹی سے شادی کرنا نبیؐ پر ظلم و ستم کا باعث ہے لہذا بعض نے اس شادی کو حرام سمجھا ہے۔[33]

امام علیؑ کا دختر ابوجہل سے خواستگاری اور حدیث بضعہ کی چھان بین

ابو ہریرہ امام علی (ع) کا دختر ابوجہل سے خواستگاری کے بارے میں حدیث بضعہ کے راویوں میں سے ایک ہے اور جس پر جعل حدیث کا اتہام ہے۔[34] امام صادقؑ کی ایک روایت کی بنا پر اس حدیث کو ایک بدبخت انسان نے گڑھا ہے۔[35] بعض دوسری روایتوں کی بنا پر حضرت علیؑ کو جب اپنی شادی کی خبر دختر ابوجہل کے ساتھ ملی تو آپ نے پیغمبر گرامیؑ سے فرمایا: «خدا کہ قسم جس نے آپ کو مبعوث بہ رسالت کیا، نہ فقط یہ کہ میں نے اس کام کو نہیں کیا بلکہ اس طرح کی فکر بھی میرے ذہن میں نہیں آئی»۔[36]

حسین کاربیسی و مسور بن مخرمہ زہری جیسے افراد بھی اس روایت کے راوی ہیں کہ جو علم رجال کی بنا پر ضعیف اور غیر قابل اعتماد ہیں، کاربیسی تو اہلبیتؑ سے انحراف کے طور پر مشہور ہے ان کا دشمن اور ناصبی ہے جس کی بنا پر اس کی روایت قابل قبول نہیں ہے۔[37] تاریخ کے محقق جعفر مرتضی عاملی نے متعدد روایت کی بنا پر حضرت علیؑ کی دختر ابوجہل سے خواستگاری کے مسئلہ کی بہت نقد اور چھان بین کی ہے۔[38]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. شیخ صدوق، الامالی، ۱۴۱۷ق، ص۱۶۵۔
  2. فرات کوفی، تفسیر فرات کوفی، ۱۴۱۰ھ، ص۴۷۷؛ بحرانی، البرہان، مؤسسۃ البعثۃ، ج۱، ص۲۶۱۔
  3. شیخ صدوھ، من لا یحضرہ الفقیہ، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج۲، ص۵۸۳ و ۵۸۸؛ فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، منشورات الشریف الرضی، ص۲۳۳۔
  4. ابن‌شعبہ حرانی، تحف العقول، ۱۴۰۴ھ، ص۲۳۔
  5. ابن‌منظور، لسان العرب، ۱۴۰۵ھ، ج۸، ص۱۲؛ ابن‌اثیر، النہایۃ، ۱۳۶۴ش، ج۱، ص۱۳۳۔
  6. راغب اصفہانی، مفردات، ۱۴۲۷ھ، ص۱۲۹؛ سمعانی، تفسیر سمعانی، ۱۴۱۸ھ، ج۳، ص۱۷۔
  7. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، موسسۃ اسماعیلیان، ج۹، ص۱۹۳؛ شیخ صدوھ، الاعتقادات، ۱۴۱۴ھ، ص۱۰۵؛ شیخ مفید، الامالی، ۱۴۱۴ھ، ص۲۶۰؛ شیخ طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ھ، ص۲۴؛ ابن‌مغازلی، مناقب علی بن ابی‌طالب، ۱۴۲۶ھ، ص۲۸۹؛ ابن‌جبرئیل، الروضۃ فی فضائل امیر المؤمنین، ۱۴۲۳ھ، ص۱۶۷؛ بخاری، صحیح بخاری، ۱۴۰۱ھ، ج۴، ص۲۱۰ و ۲۱۹۔
  8. شیخ صدوھ، الخصال، ۱۴۰۳ھ، ص۵۷۳؛ فتال نیشابوری، روضۃ الواعظین، منشورات الشریف الرضی، ص۱۴۹۔
  9. شیخ صدوھ، الامالی، ‌۱۴۱۷ھ، ص۱۷۵ و ۵۷۵۔
  10. خزار قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۳۷۔
  11. خزاز قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۶۴۔ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۳۶، ص۳۰۸۔
  12. شیخ صدوھ، الامالی، ‌۱۴۱۷ھ، ص۱۷۵ و ۵۷۵۔
  13. خزاز قمی، کفایۃ الاثر، ۱۴۰۱ھ، ص۶۵۔
  14. سیوطی، الثغور الباسمہ، ۱۴۳۱ھ، ص۶۷۔
  15. فخر رازی، التفسیر الکبیر، چاپ سوم، ج۲۷، ص۱۶۶۔
  16. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، مؤسسہ اسماعیلیان، ج۱۶، ص۲۷۳؛ ایجی، المواقف، ۱۴۱۷ھ، ج۳، ص۵۹۷۔
  17. ابن‌عربی، احکام القرآن، دار الفکر، ج۱، ص۶۳۸؛ نگاہ کنید بہ ابن‌قدامہ، المغنی، دار الکتاب العربی، ج۱۲، ص۶۶۔
  18. فخر رازی، التفسیر الکبیر، چاپ سوم، ج۲۰، ص۱۸۵۔
  19. ابن‌ابی‌الحدید، شرح نہج‌البلاغہ، مؤسسہ اسماعیلیان، ج۱۶، ص۲۷۸؛ ایجی، المواقف، ۱۴۱۷ھ، ج۳، ص۵۹۷ و ۶۰۷۔
  20. شہید اول، ذکری الشیعۃ، ۱۴۱۹ھ، ج۲، ص۶۳۔
  21. برای نمونہ نگاہ کنید بہ سید مرتضی، الشافی فی الامامۃ، ۱۴۱۰ھ، ج۴، ص۹۵؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۹ھ، ج۳، ص۳۳۳؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ھ، ج۲۹، ص۳۳۵-۳۳۸۔
  22. سبحانی، پژوہشی در شناخت و عصمت امام، ۱۳۸۹ش، ص۲۷۔
  23. فخر رازی، التفسیر الکبیر، چاپ سوم، ج۹، ص۱۶۰، ذیل آیہ ۱۸۹ سورہ اعراف؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، چاپ سوم، ج۲۷، ص۲۰۰، ذیل آیہ ۱۵ سورہ زخرف؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، چاپ سوم، ج۳۰، ص۱۲۶، ذیل آیہ ۱۹ سورہ معارج۔
  24. سورہ آل عمران، آیہ ۴۲۔
  25. آلوسی، روح المعانی، بی‌تا، ج۳، ص۱۵۵۔
  26. نعمان مغربی، شرح الاخبار، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج۳، ص۳۱۔
  27. ابن‌حنبل، مسند احمد، دار صادر، ج۴، ص۵۔
  28. صنعانی، المصنف، منشورات المجلس العلمی، ج۷، ص۳۰۱ و ۳۰۲؛ ابن‌حنبل، مسند احمد، دار صادر، ج۴، ص۳۲۶؛ ابن‌ماجہ، سنن ابن‌ماجہ، دار الفکر، ج۱، ص۶۴۴؛ بخاری، صحیح بخاری، ۱۴۰۱ھ، ج۴، ص۲۱۲۔
  29. نعمان مغربی، شرح الاخبار، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج۳، ص۶۴۔
  30. ابن‌مغازلی، مناقب علی بن ابی‌طالب، ۱۴۲۶ھ، ص۲۹۲ و ۲۹۳۔
  31. نیشابوری، صحیح مسلم، دار الفکر، ج۷، ص۱۴۱؛ بخاری، صحیح بخاری، ۱۴۰۱ھ، ج۶، ص۱۵۸؛ ابن‌ماجہ، سنن ابن‌ماجہ، دار الفکر، ج۱، ص ۶۴۴؛ سجستانی، سنن ابی‌داود، ۱۴۱۰ھ، ج۱، ص۴۶۰؛‌ نعمان مغربی، شرح الاخبار، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج۳، ص۶۱؛ ابن‌بطریھ، عمدۃ عیون صحاح الاخبار، ۱۴۰۷ھ، ص۳۸۵۔
  32. ترمذی، سنن الترمذی، ۱۴۰۳ھ، ج۵، ص۳۵۹ و ۳۶۰؛ ر۔ ک: حاکم نیشابوری، المستدرک، تحقیق یوسف عبدالرحمن، ج۳، ص۱۵۹۔
  33. ابن‌شاہین، فضائل سیدۃ النساء، ۱۴۱۱ھ، ص۳۶۔
  34. ابن‌شاذان، الایضاح، ۱۳۶۳ش، ص۵۴۱؛‌ تستری، قاموس الرجال، ۱۴۱۹ھ، ج۹، ص۱۱۱۔
  35. شیخ صدوھ، الامالی،‌ ۱۴۱۷ھ، ص۱۶۵۔
  36. شیخ صدوھ، علل الشرایع، ۱۳۸۵ھ، ج۱، ص۱۸۶۔
  37. فضلی، اصول الحدیث، ۱۴۲۱ھ، ص۱۳۹۔
  38. جعفر مرتضی، الصحیح من سیرۃ الامام علی، ۱۴۳۰ھ، ج۳، ص۶۱- ۷۴۔
  1. بضعہ لغت عرب میں باء پر فتحہ کے ساتھ (بَضْعَة) اور کسرہ کے ساتھ بھی (بِضْعَة) آیا ہے۔ معنی کے اعتبار سے دونوں ایک ہی ہیں۔(ابن‌منظور، لسان العرب، ۱۴۰۵ق، ج۸، ص۱۲؛ ابن‌اثیر، النهایة، ۱۳۶۴ش، ج۱، ص۱۳۳.)

مآخذ

  • ابن‌ابی‌الحدید، عبدالحمید، شرح نہج البلاغہ، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بی جا، دار احیاء الکتب العربیہ، بی‌تا۔
  • ابن‌اثیر، مجدالدین، النّہایۃ فی غریب الحدیث والأثر، تحقیق محمود محمد طناحی، قم، اسماعلیلیان، چاپ چہارم، ۱۳۶۴ش۔
  • ابن‌بطریھ، یحیی، عمدۃ عیون صحاح الاخبار فی مناقب امام الابرار، قم، النشر الاسلامی، ۱۴۰۷ق۔
  • ابن‌حنبل، احمد، مسند احمد، بیروت، دار صادر، بی‌تا۔
  • ابن‌سجستانی، سلمان، سنن ابی‌داود، بیروت، دار الفکر، ۱۴۱۰ق۔
  • ابن‌شاذان، فضل، الایضاح، تحقیق جلال‌الدین حسینی، تہران، مؤسسۃ انتشارات، ۱۳۵۱ش۔
  • ابن‌شاہین، عمر، فضائل سیدۃ النساء، تحقیق ابواسحاھ، القاہرۃ، مکتبۃ التربیۃ الاسلامیۃ، ۱۴۱۱ق۔
  • ابن‌شعبۃ حرانی، حسن، تحف العقول عن آل الرسول، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، مؤسسہ النشر الاسلامی، ۱۴۰۴ق۔
  • ‌ ابن‌شہر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی‌طالب(ع)، قم، علامہ، چاپ اول، ۱۳۷۹ق۔
  • ابن‌عربی، محمد، احکام القرآن، بیروت، دار الفکر، بی‌تا۔
  • ابن‌قدامہ، عبداللہ بن احمد، المغنی، بیروت، دار الکتاب العربی، بی‌تا۔
  • ابن‌ماجہ، محمد، سنن ابن‌ماجۃ، تحقیق محمد فؤاد، بی‌جا، دار الفکر، بی‌تا۔
  • ابن‌مغازلی، علی، مناقب علی بن ابی‌طالب، بی‌جا، انتشارات سبط النبی، ۱۴۲۶ق۔
  • ابن‌منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، بیروت، دار صادر، بی‌تا۔
  • ایجی، المواقف، تحقیق عبدالرحمن عمیرۃ، بیروت، دار الجلیل، ۱۴۱۷ق۔
  • بحرانی، ہاشم، البرہان فی تفسیر القرآن، قم، مؤسسۃ البعثۃ، بی‌تا۔
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، صحیح بخاری، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۱ق۔
  • ترمذی، محمد، سنن الترمذی، بیروت: دار الفکر، ۱۴۱۴ق۔
  • تستری، محمدتقی، قاموس الرجال، تحقیق مؤسسۃ النشر الاسلامی، قم: النشر الاسلامی، ۱۴۲۸ق۔
  • حاکم نیشابوری، ابوعبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق یوسف عبدالرحمن، بیروت، دار المعرفۃ، بی‌تا۔
  • خزاز قمی، علی، کفایۃ الأثر فی النص علی الأئمّۃ الاثنی عشر، تحقیق عبداللطیف حسینی، قم، بیدار، ۱۴۰۱ق۔
  • راغب اصفہانی، مفردات الفاظ القرآن، تحقیق صفوان عدنان داوودی، بی‌جا، طلیعۃ النور،۱۴۲۶ق۔
  • سبحانی، جعفر، پژوہشی در شناخت و عصمت امام، مشہد، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی، ۱۳۸۹ش (نسخہ الکترونیک کتابخانہ قائمیہ)۔
  • سمعانی، منصور، تفسیر سمعانی، تحقیق یاسر بن ابراہیم و غنیم بن عباس، الریاض، دار الوطن، ۱۴۱۸ق۔
  • سید مرتضی، علی بن حسین، الشافی فی الامامۃ، تہران، مؤسسہ الصادق(ع)، چاپ دوم، ۱۴۱۰ق۔
  • سیوطی، جلال‌الدین، الثغور الباسمہ فی مناقب السیدۃ فاطمۃ، جمعیۃ الآل والاصحاب، چاپ اول، ۱۴۳۱ق۔
  • شہید اول، محمد بن مکی، ذکری الشّیعۃ فی احکام الشّریعۃ، تحقیق مؤسسۃ آل البیت، قم، مؤسسۃ آل البیت، ۱۴۱۹ق۔
  • شیخ صدوھ، محمد بن علی، الاعتقادات، تحقیق عصام عبدالسید، بیروت، دار المفید، چاپ دوم، ۱۴۱۴ق۔
  • شیخ صدوھ، محمد بن علی، الامالی، قم، مؤسسۃ البعثۃ، ۱۴۱۷ق۔
  • شیخ صدوھ، محمد بن علی، الخصال، تحقیق علی‌اکبر غفاری، بی‌جا، جماعۃ المدرسین فی الحوزۃ العلمیہ، بی‌تا۔
  • شیخ صدوھ، محمد بن علی، علل الشرایع، نجف، الحیدریۃ، ۱۳۸۵ق۔
  • شیخ صدوھ، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا، تحقیق حسین اعلمی، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی، ۱۴۰۴ق۔
  • شیخ صدوھ، محمد بن علی، من لا یحضرہ الفقیہ، تحقیق علی‌اکبر غفاری، قم، جامعہ مدرسین، الطبعۃ الثانیۃ، ۱۴۰۴ق۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دار الثقافۃ، ۱۴۱۴ق۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الامالی، بیروت، دار المفید، ۱۴۱۴ق۔
  • صنعانی، عبدالرزاھ، المصنف، تحقیق حبیب الرّحمن الاعظمی، بی‌جا، المجلس العلمی، بی‌تا۔
  • فتال نیشابوری، محمد، روضۃ الواعظین، قم، منشورات الرضی، بی‌تا۔
  • فخر رازی، التفسیر الکبیر، تہران، دار الکتب العلمیۃ، بی‌تا۔
  • فضلی، عبدالہادی، اصول الحدیث، بیروت، مؤسسۃ ام القری للتحقیق والنشر، چاپ سوم، ۱۴۲۱ق۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، مؤسسۃ الوفاء، ۱۴۰۳ق۔
  • مرتضی عاملی، جعفر، الصحیح من سیرۃ الإمام علی، قم، ولاء المرتضی، ۱۴۳۰ق۔
  • مغربی، نعمان بن محمد، شرح الاخبار فی فضائل الائمۃ الاطہار، تحقیق محمد حسینی جلالی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، بی‌تا۔
  • نیشابوری، مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، بیروت، دار الفکر، بی‌تا۔