القاب حضرت فاطمہ(س)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

فہرست کنیت و القاب حضرت فاطمہ (س)، ان کنیتوں اور القاب کا مجموعہ ہے جو روایات اور زیارت ناموں میں حضرت فاطمہ زہرا (س) کے لئے استعمال ہوئے ہیں۔

احادیث اور زیارت ناموں میں حضرت فاطمہؑ کے بہت سے القابات اور کنیتیں ذکر ہوئی ہیں۔ زہرا، بتول، سیدۃ نساء العالمین و کوثر آپ کے مشہور القاب اور ام ابیہا مشہور کنیتوں میں سے ہیں۔

اسماء

فاطمہ (کا ریشہ فطم ہے) کے معنی کسی چیز کو کسی دوسری چیز سے جدا کرنے یا کاٹنے کے ہیں۔ احادیث میں آپ کا فاطمہ رکھنے کی کئی علتیں ذکر ہوئی ہیں۔[نوٹ 1] امام جعفر صادق (ع) سے ایک روایت میں نقل ہوا ہے: خداوند عالم کے نزدیک فاطمہ کے 9 اسماء ہیں: فاطمہ، صدّیقہ، مبارکہ، طاہره، زکیہ، راضیہ، مرضیہ، محدَّثہ و زہراء۔[1] معلوم ہوتا ہے کہ اس روایت میں نام سے عام مراد نام و لقب دونوں ہیں۔

کنیتیں

مناقب ابن شہر آشوب میں حضرت فاطمہ (س) کی کئی کنیت ذکر ہوئی ہے:[2]

ام الحسن ام الحسین ام المحسن ام الائمہ ام ابیہا

القاب

احادیث اور زیارت ناموں میں حضرت فاطمہؑ کے متعدد القاب ذکر ہوئے ہیں:[3]

لقب معنی لقب معنی
سَیدۃ نِساء العالَمین عالمین کی عورتوں کی سردار حَوراءإنسیّہ انسانی شکل میں حور
مَعصُومَہ جس سے گناہ سرزد نہ ہو مُحَدَّثَہ جس کے ساتھ فرشتوں نے گفتگو کی ہو
حُرَّہ آزاد مُبارَکہ پر برکت
طاہرَہ پاک بَتُول ممتاز، لوگوں سے منہ پھیر کر خدا کی طرف متوجہ ہونے والی، ایسی خاتون جسے اصلا حیض نہ آتا ہو[نوٹ 2]
حَصَان پاک دامن زََکیَّہ پاک و منزہ (اخلاقی برائیوں سے)
مَریم کبرَی بڑی مریم راضیَہ (تقدیر الہی) پر راضی ہونے والی
صِدّیقَہ بہت سچی مَرضیَّہ جس سے خدا راضی ہو۔
نوریَّہ نورانی رَضیَّہ جس سے ہر ایک راضی ہو
سَماویَّہ آسمانی حَصان پاک دامن
زَہراء درخشان اور نورانی حانیَہ بہت ہی مہربان
مَنصورَہ جس کی مدد و نصرت کی گئی ہو عَذراء پاک دامن
زاہدَہ پارسا طَیّبَہ نیک، زلال، پاک
اُمّ اَبیہا اپنے باپ کی ماں[نوٹ 3] تَقیَّہ پرہیزگار عورت
بَرَّہ نیکوکار عورت مُطَہرَہ پاکیزہ
شَہیدَہ شہید ہونے والی عورت صادِقَہ سچی
رَشیدَہ سوجھ بوجھ اور عقل رکھنے والی فاضِلَہ با فضیلت
نَقیَّہ خالص اور ناب عَلیمَہ دانا
غَراء شریف، نیک‌ کردار مَہدیَّہ ہدایت یافتہ
صَفیَّہ صاف و خالص عابدَہ عبادت‌ کرنے والی
مُتَہجِّدَہ شب زندہ ‌دار قانِتَہ ہر وقت خدا کی اطاعت میں رہنے والی

بعض متاخر مصادر میں کئی اور القاب بھی ذکر ہوئے ہیں جیسے:

سیدہ، مصلّیہ، قائمہ، شاهدہ، صائمہ، ولیہ، زاکیہ، سلیمہ، حلیمہ، حبیبہ، جمیلہ، حفیفہ، صالحہ، مصلحہ، صبیحہ، محمدہ، نصیبہ، مجیبہ، شریفہ، مکرمہ، عالمہ، فاتحہ، مُنعِمہ، داعیہ، معلمہ، شافعہ، مشفقہ، جاهدہ، ناصحہ، متجهدہ، راقیہ، ناصیہ، حاضرہ، وافیہ[4] آپ کے القاب میں سے ایک کوثر بھی ہے جو سورہ کوثر سے ماخوذ ہے۔[5]

حوالہ جات

  1. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۴۳، ص۱۰.
  2. مناقب ابن شہرآشوب ج۳، ص۳۵۷
  3. مناقب ابن شہر آشوب ج۳، ص۳۵۷؛ شہید اول، المزار، ص۲۰؛ سید بن طاووس، اقبال الاعمال، ص۱۰۰-۱۰۲
  4. انصاری زنجانی، الموسوعة الکبری عن فاطمة الزهراء، ۱۴۲۸ق، ج۱۸، ص۳۴۶ بہ نقل از محمد الامین، الفاطمیة فی ذکر أسماء فاطمة علیها السّلام.
  5. انصاری زنجانی، الموسوعة الکبری عن فاطمة الزهراء، ۱۴۲۸ق، ج۲۲، ص۲۵.


نوٹ

  1. پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث میں نقل ہوا ہے کہ خداوند عالم آپ کا نام فاطمہ رکھا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے چاہنے والوں (دوسری روایت میں شیعوں) کو آتش جہنم سے جدا اور دور کر دیا ہے۔ امام صادق (ع) سے بھی نقل ہوا ہے کہ آپ کا نام فاطمہ رکھا گیا ہے کیونکہ انہیں شر اور بدی سے دور رکھا گیا ہے۔ (اردبیلی، کشف الغمۃ، ج۱، ص۴۳۹؛ نیز ببینید: مناقب ابن شہر آشوب، ج۳، ص۳۳۰)
  2. پیغمبر اکرمؐ سے پوچها گیا کہ بتول کے کیا معنی ہیں؟ جوکہ حضرت مریم اور حضرت فاطمہؑ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: بتول اس خاتون کو کہا جاتا ہے جسے اصلا حیض نہ آیا ہو۔(اردبیلی، کشف الغمۃ، ج۱، ص۳۳۹؛ نیز ببینید: مناقب ابن شہر آشوب، ج۳، ص۳۳۰)
  3. ام ابیہا عربی زبان کے قواعد کی بنا پر کنیت ہے لیکن معنی کے پیش نظر اسے القابات میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

مآخذ

  • ابن شہر آشوب، المناقب، قم، علامہ، ۱۳۷۹ ھ
  • اربلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، قم، رضی، ۱۴۲۱ ھ
  • علامہ مجلسی، بحار الأنوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار، تہران، دوم، اسلامیۃ، ۱۳۶۳ ش
  • انصاری زنجانی خوئینی، اسماعیل، الموسوعۃ الکبری عن فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا، قم، دلیل ما، ۱۴۲۸ ھ
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، اقبال الاعمال، تحقیق حسین الاعلمی، بیروت، مؤسسة الأعلمی للمطبوعات، ۱۴۱۷ ھ