روز عاشورا امام حسین کا خطبہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
امام حسینؑ کے نام کوفیوں کے خطوط • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


روز عاشورا امام حسین کا خطبہ اس تقریر کو کہا جاتا ہے جسے امام حسینؑ نے سنہ 61ھ کو عاشورا کے دن لشکر عمر بن سعد سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمایا تھا۔ امام حسینؑ نے اس خطبے میں اپنا تعارف فرمایا، اس کے بعد کوفہ والوں کے لکھے گئے خطوط کو آپ کے عراق آنے کی علت قررا دیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض کا نام بھی لیا جنہوں نے خطوط لکھے تھے اور اس وقت عمر سعد کے لشکر میں موجود تھے اور ان کو ان کی دعوت کی یاد بھی دلا دی اور ذلت کو قبول نہ کرنے اور یزید کی بیعت نہ کرنے کی تأکید فرمائی۔

واقعہ کربلا کے تاریخ نگار ابومخنف کے مطابق خط لکھ کر دعوت دینے والے کوفیوں نے اپنے کام سے انکار کیا۔ اسی طرح شمر نے امام حسینؑ کی تقریر روک دی۔ محمدہادی یوسفی غروی کے مطابق شمر نے یہ کام لشکر عمر سعد پر امام حسینؑ کے کلام کی تأثیر سے ڈر کر ایسا کیا تھا۔

اہمیت اور منزلت

اس خطبے کو امام حسینؑ نے سنہ 61ھ کو عمر بن سعد کے لشکر (یہ لشکر کوفہ میں یزید بن معاویہ کے گورنر عبیداللہ بن زیاد کے سپاہی تھے جو کربلا میں امام حسینؑ سے جنگ کرنے آئے تھے) کے سامنے ارشاد فرمایا۔ یہ خطبہ مختصر اختلافات کے ساتھ شیعہ اور اہل سنت منابع میں نقل ہوا ہے۔[1]

مضامین

امام حسینؑ نے عمر بن سعد کے سپاہیوں سے جنگ میں جلدی نہ کرنے اور اپنی تقریر سننے کی درخواست کی تاکہ آپ انہیں نصیحت کر سکیں۔ اسی طرح آپ نے اس سے فرمایا کہ وہ آپ کو اتنی مہلت دیں تاکہ آپ کوفہ کی جانب تشریف لانے کا اپنا مقصد بیان کر سکیں تاکہ بات ان پر واضح ہو سکے۔[2]

اس کے بعد آپ نے اپنا تعارف کیا اور امام علیؑ، پیغمبر اکرمؐ، حضرت حمزہ اور جعفر بن ابی‌طالب کے ساتھ آپ کی قرابت کی طرف اشارہ فرمایا۔[3] اسی طرح آپ نے اپنے اور اپنے بھائی امام حسنؑ کے متعلق رسول اکرمؐ کا یہ ارشاد کہ "یہ دونوں بہشت کے جوانوں کے سردار ہیں" سنایا اور کوفہ والوں سے کہا اگر اس حوالے سے میری باتوں پر اعتبار نہیں کرتے تو جابر بن عبداللہ انصاری، ابوسعید خدری، سہل بن سعد ساعدی، زید بن ارقم اور انس بن مالک جییسے صحابہ سے پوچھیں جو ابھی بھی زندہ ہیں۔[4] اس کے بعد رسول خداؐ کے ساتھ اپنی نسبت اور قرابت کو مد نظر رکھتے ہونے فرمایا کہ وہ کیوں آپ کو قتل کرنا چاہتے ہیں؟ کیا ان میں سے کسی کو قتل کیا ہے؟ یا کسی کا مال چرایا ہے؟ یا کسی پر کوئی کاری ضرب لگایا ہے؟[5]

اس کے بعد شبث بن ربعی، حجار بن ابجر، قیس بن اشعث اور یزید بن حارث جو کہ آپ کے نام کوفہ والوں کے بھیجے گئے خطوط کے کاتبین میں سے تھے، سے مخاطب ہو کر فرمایا آیا یہ تم لوگ نہیں تھے جنہوں نے مجھے خط لکھ کر کوفہ بلایا تھا؟[6]

آپ نے آیت: "إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَ رَبِّكُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ"[7] جو کہ حضرت موسی کے مقابلے میں فرعون کی لجاجت کی اشارہ کرتی ہے اور آیت "...بِرَبِّي وَ رَبِّكُمْ مِنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسابِ"[8] کے ساتھ اپنی تقریر کو اختتام تک پہنچایا۔[9]

رد عمل

ابومخنف کے مطابق جب امام حسینؑ نے عمر ابن سعد کی سپاہیوں سے اپنی بات سننے کی درخواست کی تاکہ آپ کوفہ آنے کی علت بتا سکیں، تو بچے اور عورتیں رونے لگیں۔ امام حسینؑ نے حضرت عباس اور علی‌اکبر سے انہیں خاموش کرنے کا حکم دیا اور وہ معروف جملہ "سَكِّتَاہُن‏ فَلَعَمْرِي لَيَكْثُرَنَّ بُكَاؤُہُنَّ؛(ترجمہ: انہیں خاموش کریں خدا کی قسم ابھی بہت رونا باقی ہے") اپنی زبان پر ادا فرمایا۔[10]

اسی طرح جب امام حسینؑ نے عمر سعد کے لشکر سے فرمایا کہ اگر آپ کی باتوں پر اعتبار نہیں تو جو صحابہ اب تک زندہ ہیں ان سے پوچھیں، تو شمر نے فریاد بلند کیا: کہ وہ ایک ایسے کلمے کے ساتھ خدا کی عبادت کرتا ہے جس کے بارے میں خود بھی نہیں جانتا کہ کیا کہہ رہا ہے؟ شمر کی باتوں پر حبیب بن مظاہر نے رد عمل ظاہر کیا اور اس نے کہا خدا نے تمہارے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔[11] تاریخ اسلام کے معاصر محقق محمد ہادی یوسفی غروی کے مطابق شمر کے ذریعے امام حسینؑ کی تقریر کو روک دینا حقیقت میں عمر سعد کی سپاہیوں پر امام حسینؑ کے کلام کی تأثیر سے ڈر کر کیا تھا۔[12]

کوفہ کے خطوط لکھنے والوں نے اس کام سے انکار کیا۔[13] امام حسینؑ کی تقریر کے بعد قیس بن اشعث نے کہا: کیوں اپنے چچا زاد بھائی(یزید) کی بیعت نہیں کرتے ہو؟ امام حسینؑ نے فرمایا: "لا وَ اللَّہِ لَا أُعْطِيكُمْ بِيَدِي إِعْطَاءَ الذَّلِيلِ وَ لَا أَفِرُّ فِرَارَ الْعَبِيدِ؛ (ترجمہ: خدا کی قسم میں اپنا ہاتھ ایک ایسے ذلیل اور پست انسان کے ہاتھوں میں نہیں دونگا اور غلاموں کی طرح فرار نہیں کرونگا"[14]

متن اور ترجمہ

متن ترجمہ
أَيُّهَا النَّاسُ اسْمَعُوا قَوْلِي وَ لَا تَعْجَلُوا حَتَّى أَعِظَكُمْ بِمَا يَحِقُّ لَكُمْ عَلَيَّ وَ حَتَّى أُعْذِرَ إِلَيْكُمْ فَإِنْ أَعْطَيْتُمُونِي النَّصَفَ كُنْتُمْ بِذَلِكَ أَسْعَدَ وَ إِنْ لَمْ تُعْطُونِي النَّصَفَ مِنْ أَنْفُسِكُمْ فَأَجْمِعُوا رَأْيَكُمْ ثُمَّ لا يَكُنْ أَمْرُكُمْ عَلَيْكُمْ غُمَّةً ثُمَّ اقْضُوا إِلَيَّ وَ لا تُنْظِرُونِ إِنَّ وَلِيِّيَ اللَّهُ الَّذِي نَزَّلَ الْكِتابَ وَ هُوَ يَتَوَلَّى الصَّالِحِينَ

ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ وَ أَثْنَى عَلَيْهِ وَ ذَكَرَ اللَّهَ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ وَ صَلَّى عَلَى النَّبِيِّ ص وَ عَلَى مَلَائِكَةِ اللَّهِ وَ أَنْبِيَائِهِ فَلَمْ يُسْمَعْ مُتَكَلِّمٌ قَطُّ قَبْلَهُ وَ لَا بَعْدَهُ أَبْلَغُ فِي مَنْطِقٍ مِنْهُ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَانْسُبُونِي فَانْظُرُوا مَنْ أَنَا ثُمَّ ارْجِعُوا إِلَى أَنْفُسِكُمْ وَ عَاتِبُوهَا فَانْظُرُوا هَلْ يَصْلُحُ لَكُمْ قَتْلِي وَ انْتِهَاكُ حُرْمَتِي أَ لَسْتُ ابْنَ بِنْتِ نَبِيِّكُمْ وَ ابْنَ وَصِيِّهِ وَ ابْنِ عَمِّهِ وَ أَوَّلِ الْمُؤْمِنِينَ الْمُصَدِّقِ لِرَسُولِ اللَّهِ بِمَا جَاءَ بِهِ مِنْ عِنْدِ رَبِّهِ أَ وَ لَيْسَ حَمْزَةُ سَيِّدُ الشُّهَدَاءِ عَمِّي أَ وَ لَيْسَ جَعْفَرٌ الطَّيَّارُ فِي الْجَنَّةِ بِجِنَاحَيْنِ عَمِّي

أَ وَ لَمْ يَبْلُغْكُمْ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ لِي وَ لِأَخِي هَذَانِ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَإِنْ صَدَّقْتُمُونِي بِمَا أَقُولُ وَ هُوَ الْحَقُّ وَ اللَّهِ مَا تَعَمَّدْتُ كَذِباً مُنْذُ عَلِمْتُ أَنَّ اللَّهَ يَمْقُتُ عَلَيْهِ أَهْلَهُ وَ إِنْ كَذَّبْتُمُونِي فَإِنَّ فِيكُمْ مَنْ لَوْ سَأَلْتُمُوهُ عَنْ ذَلِكَ أَخْبَرَكُمْ سَلُوا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيَّ وَ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ وَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يُخْبِرُوكُمْ أَنَّهُمْ سَمِعُوا هَذِهِ الْمَقَالَةَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ص لِي‏ وَ لِأَخِي أَ مَا فِي هَذَا حَاجِزٌ لَكُمْ عَنْ سَفْكِ دَمِي

فَقَالَ لَهُ شِمْرُ بْنُ ذِي الْجَوْشَنِ هُوَ يَعْبُدُ اللَّهَ عَلى‏ حَرْفٍ إِنْ كَانَ يَدْرِي مَا تَقَوَّلَ فَقَالَ لَهُ حَبِيبُ بْنُ مُظَاهِرٍ وَ اللَّهِ إِنِّي لَأَرَاكَ تَعْبُدُ اللَّهَ عَلَى سَبْعِينَ حَرْفاً وَ أَنَا أَشْهَدُ أَنَّكَ صَادِقٌ مَا تَدْرِي مَا يَقُولُ قَدْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِكَ

ثُمَّ قَالَ لَهُمُ الْحُسَيْنُ ع فَإِنْ كُنْتُمْ فِي شَكٍّ مِنْ هَذَا أَ فَتَشُكُّونَ أَنِّي ابْنُ بِنْتِ نَبِيِّكُمْ فَوَ اللَّهِ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ ابْنُ بِنْتِ نَبِيٍّ غَيْرِي فِيكُمْ وَ لَا فِي غَيْرِكُمْ وَيْحَكُمْ أَ تَطْلُبُونِّي بِقَتِيلٍ مِنْكُمْ قَتَلْتُهُ أَوْ مَالٍ لَكُمُ اسْتَهْلَكْتُهُ أَوْ بِقِصَاصِ جِرَاحَةٍ فَأَخَذُوا لَا يُكَلِّمُونَهُ

فَنَادَى يَا شَبَثَ بْنَ رِبْعِيٍّ يَا حَجَّارَ بْنَ أَبْجَرَ يَا قَيْسَ بْنَ الْأَشْعَثِ يَا يَزِيدَ بْنَ الْحَارِثِ أَ لَمْ تَكْتُبُوا إِلَيَّ أَنْ قَدْ أَيْنَعَتِ الثِّمَارُ وَ اخْضَرَّ الْجَنَابُ وَ إِنَّمَا تَقْدَمُ عَلَى جُنْدٍ لَكَ مُجَنَّدٍ

فَقَالَ لَهُ قَيْسُ بْنُ الْأَشْعَثِ مَا نَدْرِي مَا تَقُولُ وَ لَكِنِ انْزِلْ عَلَى حُكْمِ بَنِي عَمِّكَ فَإِنَّهُمْ لَمْ يُرُوكَ إِلَّا مَا تُحِبُّ فَقَالَ لَهُ الْحُسَيْنُ لَا وَ اللَّهِ لَا أُعْطِيكُمْ بِيَدِي إِعْطَاءَ الذَّلِيلِ وَ لَا أَفِرُّ فِرَارَ الْعَبِيدِ

ثُمَّ نَادَى يَا عِبَادَ اللَّهِ إِنِّي عُذْتُ بِرَبِّي وَ رَبِّكُمْ أَنْ تَرْجُمُونِ أَعُوذُ بِرَبِّي وَ رَبِّكُمْ مِنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسابِ۔[15]

اے لوگو میرے باتوں کو سنو اور جنگ کے لئے جلدی مت کرو تاکہ میں میرے گردن پر جو تمہارا حق ہے، ہدایت دے سکوں اور میرے یہاں آنے کا مقصد تم لوگوں تک پہنچا سکوں۔ پس اگر انصاف سے کام لو گے تو سعادتمند ہو جاؤگے اور اگر انصاف سے سے کام نہ لو گے تو کم از کم حسن ظن رکھو تاکہ تمہارا کام تمہیں کوئی غم و اندوہ نہ پہنچا سکے۔ اس کے بعد میرے ساتھ جو کجھ انجام دینا چاہتے ہو انجام دے دو اور مجھے مہلت مت دے دو، بتحقیق میرا مولا وہ خدا ہے جس نے قرآن نازل کیا اور وہ تمام نیک اور پرہیز گاروں کا مولا و مددگار ہے۔

اس کے بعد خدا کی حمد و ثنا بجا لاتے ہیں، اور جتنا شایستہ تھا خدا کو نیکی کے ساتھ یاد کرتے ہیں اور پیغمبر اکرم، ملائکہ اور انبیاء پر درود بھیجتے ہیں۔ نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد آپ کے علاوہ کسی مقرر سے ایسا بلیغ‌ اور رسا خطبہ نہیں سنا گیا، اس کے بعد آپ فرماتے ہیں: پس میرے حسب و نسب پر غور کروں! اور دیکھو میں کون ہوں اس کے بعد اپنے آپ سے رجوع کرو اور اپنے آپ کو ملامت کرو اور دیکھو کہ آیا مجھے قتل کر دینا اور میری حرمت پایمال کر دینا تمہارے لئے سزاوار ہے؟ آیا میں تمہارے نیی کی بیٹی اور اس کے وصی کا لخت جگر نہیں ہوں؟! میرے بابا وہ ہیں جو رسول کا چچا زاد بھائی اور وہ ہے جس نے سب سے پہلے رسول خدا پر جو کچھ آپ نے خدا کی طرف سے لایا تھا، ایمان لے آیا۔ کیا حمزه سیدالشهداء میرے چچا نہیں ہیں؟ آیا جعفر بن ابی‌طالب جو بہشت میں دو پروں کے ساتھ پرواز کریں گے، میرے چچا نہیں ہیں؟

آیا کیا تم لوگوں تک نہیں پہنچا جو کچھ رسول خدا نے میرے اور میرے بھائی کے بارے میں فرمایا: کہ یہ دونوں بہشت کے جوانوں کے سردار ہیں؟ اگر میری باتوں کی تصدیق کرو گے تو حق وہی ہے۔ خدا کی قسم جب سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ جھوٹ بولنے والا خدا کا دشمن ہوتا ہے، جھوٹ نہیں بولا۔ پھر بھی اگر میری طرف جھوٹ کی نسبت دیتے ہو تو اب بھی تمہارے درمیان بعض ایسے لوگ ہیں ان سے پوچھیں جو اس چیز کے بارے میں تمہیں خبر دیں گے جسے میں نے کہا ہے، جابر بن عبداللَّه انصاری، اباسعید خدری، سهل بن سعد ساعدی، زید بن ارقم اور انس بن مالک سے پوچھیں تاکہ وہ تمہیں بتا دیں کہ انہوں نے یہ باتیں میرے اور میرے بھائی کے بارے میں پیغمبر اکرمؐ سے سنی ہیں، یہ رسول خدا کی یہ باتیں میرے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگنے سے تمہیں باز نہیں رکھتے؟

شمر بن ذی‌الجوشن نے کہا: میں خدا کی کلمے کے ساتھ عبادت کرتا ہوں اگر میری سمجھ میں آئے کہ اے حسین تم کیا کہہ رہے ہو، اس پر حبیب بن مظاہر نے اس سے کہا: خدا کی قسم میں میں دیکھ رہا ہوں کہ تم 70 کلمات کے ساتھ خدا کی عبادت کرو، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تم سچ کہہ رہے ہو کہ تم حسین کی باتوں کو نہیں سمجھ رہے ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، خدا نے تیرے دل پر حق کو نہ سمجھنے کی مہر لگا دی ہے۔

اس کے بعد امام حسین علیہ السلام نے فرمایا: اگر ان باتوں میں کوئی شک و تردید ہے تو کیا اس میں بھی کوئی شک و تردید ہے کہ میں تمہارے پیغمبر کی بیٹی کا فرزند ہوں؟ خدا کی قسم مشرق و مغرب کے درمیان پیغمبر کی بیٹی کا فرزند میرے علاوہ کوئی نہیں ہے چہ تمہارے درمیان چہ کہیں اور! افسوس ہو تم پر کیا میں نے نمہارے کسی کو قتل کیا ہے کہ اس کا خون کا بدلہ مجھ سے لے رہے ہو؟ یا کسی کا مال اٹھایا ہے؟ یا کسی زخم کی قصاص مجھ سے چاہتے ہو؟

اس کے بعد آپ نے فریاد بلند فرمایا:‌اے شبث بن ربعی، اے حجار بن ابجر، اے قیس بن اشعث اور اے یزید بن حارث کیا تم لوگوں نے مجھے خط نہیں لکھا تھا: کہ میوے پک چکے ہیں اور باغ‌ سرسبز ہو چکے ہیں اور آپ ایک ایسے لشکر سے روبرو ہونگے جو آپ کی نصرت کے لئے آمادہ ہیں؟

قیس بن اشعث نے کہا: ہماری سمجھ نہیں آرہی ہے کہ آپ کیا فرما رہے ہیں۔ اپنے چچا زاد بھائی (عبیداللَّه) کے حکم پر سر تسلم خم کرو کیونکہ وہ جو کچھ آپ کو پسند ہے اس کے علاوہ آپ سے کوئی اور معاملہ نہیں کرے گا!؟

حسین علیہ السلام نے فرمایا: خدا کی قسم ایسا ہرگز نہیں ہو گا کہ میں ذلت کا ہاتھ تمہیں تھاموں، اور نہ غلاموں کی طرح بھاگ جاؤنگا، اس کے بعد آپ نے فرمایا:‌اے بندگان خدا بتحقیق میں تمہارے اور اپنے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں تاکہ تہمارے گزند سے محفوظ رہ سکوں، اپنے اور تمہارے پروردگار کی پناہ مانگتا ہوں اس سرکش سے جو روز جزا پر ایمان نہیں رکھتا ہے۔[16]

دوسرا خطبہ

علامہ مجلسی نے بحارالانوار میں مناقب ابن شہر آشوب نامی کتاب سے روز عاشورا امام حسینؑ کا عمر سعد کی لشکر سے مخاطب ہو کر ارشاد فرمانے والا ایک اور خطبہ بھی نقل کیا ہے۔[17] اس خطبے میں عمر سعد کی فوج خاموش ہو کر آپ کی تقریر نہ سننے پر آپ نے فرمایا: "تم لوگ کیوں میری تقریر نہیں سنتے!؛ کیونکہ تمہارے پیٹ مال حرام سے پر ہو چکے ہیں اور تمہارے دلوں پر شقاوت کی مہر لگا دی گئی ہے"۔[18]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ملاحظہ کریں: شیخ مفید، الإرشاد، ۱۴۱۳ق، ج‌۲، ص۹۶؛ طبرسی، إعلام الوری، ۱۳۹۰ق، ص۲۴۱؛ شامی، الدرالنظیم، ۱۴۲۰ق، ص۵۵۲؛ سید بن طاووس، لہوف، ۱۳۴۸ش، ص۹۶؛ ابن نما حلی، مثیرالأحزان، ۱۴۰۶ق، ص۵۴؛ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج‌۵، ص۴۲۵؛ ابن اثیر، الکامل، ۱۳۸۵ق، ج‌۴، ص۶۱؛ ابن جوزی، المنتظم، ۱۴۱۲ق، ج‌۵، ص۳۳۹؛ ابومخنف، وقعۃ الطف، ۱۴۱۷ق، ص۲۰۶۔
  2. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۷۔
  3. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۷۔
  4. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۷۔
  5. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۸۔
  6. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۸۔
  7. سورہ دخان، آیہ۲۰۔
  8. سورہ مؤمن، آیہ۲۷۔
  9. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۸۔
  10. ابومخنف، وقعۃ الطف، ۱۴۱۷ق، ص۲۰۶۔
  11. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۷-۹۸۔
  12. یوسفی غروی، موسوعۃ التاریخ الاسلامی، ۱۴۱۷ق، ج۶، ص۱۵۔
  13. ابومخنف، وقعۃ الطف، ۱۴۱۷ق، ص۲۰۸۔
  14. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۸۔
  15. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۷-۹۸۔
  16. شیخ مفید، الارشاد، ترجمہ رسولی محلاتی، تہران، ج۲، ص۱۰۰-۱۰۱۔
  17. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۵، ص۹۔
  18. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۴۵، ص۹۔


مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، الکامل فی التاریخ، بیروت،‌ دار صادر -‌دار بیروت، ۱۳۸۵ق۔
  • ابن جوزی، عبدالرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت،‌ دارالکتب العلمیۃ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق۔
  • ابن نما حلی، جعفر بن محمد، مثیرالأحزان، قم، مدرسہ امام مہدی، چاپ سوم، ۱۴۰۶ق۔
  • ابومخنف، لوط بن یحیی، وقعۃ الطف، تحقیق محمدہادی یوسفی غروی، قم، مؤسسۃ النشر الإسلامي، چاپ سوم، ۱۴۱۷ق۔
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، لہوف علی قتلی الطفوف، ترجمہ فہری زنجانی، تہران، انتشارات جہان، چاپ اول، ۱۳۴۸ش۔
  • شامی، یوسف بن حاتم، الدرالنظیم فی مناقب الأئمۃ اللہامیم، قم، جامعہ مدرسین، چاپ اول، ۱۴۲۰ق۔
  • شیخ مفید، محمد بن محمد، الإرشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، کنگرہ شیخ مفید، چاپ اول، ۱۴۱۳ق۔
  • شیخ مفید، محمد بن نعمان، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، ترجمہ سیدہاشم رسولی محلاتی، تہران، بی‌تا۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، إعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، چاپ سوم، ۱۳۹۰ق۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، ‌دارالتراث، چاپ دوم، ۱۳۸۷ق۔
  • علامہ مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بحارالانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق۔
  • یوسفی غروی، محمدہادی، موسوعۃ التاریخ الاسلامی، قم، مجمع اندیشہ اسلامی، ۱۴۱۷ق۔