فاقد خانہ معلومات
حوالہ جاتی اصول کی عدم رعایت
علاقائی تقاضوں سے غیر مماثل

خطبہ فدکیہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خطبہ فدکیہ سے اقتباس

فَلَمَّا اِختارَ اللَّـهُ لِنَبِیهِ‌دار اَنْبِیائِهِ وَ مَأْوی اَصْفِیائِهِ، ظَهَرَ فیكُمْ حَسْكَةُ النِّفاقِ، وَ سَمَلَ جِلْبابُ الدّینِ، وَ نَطَقَ كاظِمُ الْغاوینَ، وَ نَبَغَ خامِلُ الْاَقَلّینَ، وَ هَدَرَ فَنیقُ الْمُبْطِلینَ، فَخَطَرَ فی عَرَصاتِكُمْ، وَ اَطْلَعَ الشَّیطانُ رَأْسَهُ مِنْ مَغْرَزِهِ، هاتِفاً بِكُمْ، فَأَلْفاكُمْ لِدَعْوَتِهِ مُسْتَجیبینَ، وَ لِلْغِرَّةِ فیهِ مُلاحِظینَ، ثُمَّ اسْتَنْهَضَكُمْ فَوَجَدَكُمْ خِفافاً، وَ اَحْمَشَكُمْ فَاَلْفاكُمْ غِضاباً، فَوَسَمْتُمْ غَیرَ اِبِلِكُمْ، وَ وَرَدْتُمْ غَیرَ مَشْرَبِكُمْ.
هذا، وَ الْعَهْدُ قَریبٌ، وَالْكَلْمُ رَحیبٌ، وَ الْجُرْحُ لَمَّا ینْدَمِلُ، وَ الرَّسُولُ لَمَّا یقْبَرُ، اِبْتِداراً زَعَمْتُمْ خَوْفَ الْفِتْنَةِ، اَلا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوا، وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحیطَةٌ بِالْكافِرینَ.
 (ترجمہ: پھر جب اللہ نے اپنے پیغمبر کیلئے انبیاء کاگھر اور اوصیاء کی آرام گاہ منتخب کرلی، تو تم میں نفاق کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو گئیں، اور دین کالباس کہنہ نظر آنے لگا، اور گمراہوں کی خاموشیاں ٹوٹ گئیں، کمینے لوگ عزت دار بنے اور اہل باطل کا نازوں پلا اونٹ تمہارے دروازں تک پہنچ گیا، اور شیطان نے کمین گاہ سے اپنا سر باہر نکال کر تمہیں دعوت دی جب اس نے دیکھا کہ اس کی دعوت پر مثبت جواب دینے والے ہو، اور دھوکہ کھانے کیلئے آمادہ ہو تو اس وقت اس نے آپ سے چاہا کہ قیام کرو، ور جب دیکھا کہ آپ آسانی سے یہ کام انجام دینگے، تو آپ کو غصے میں لے آیا، اور جب دیکھا کہ آپ غضبناک ہیں تو آپ نے غیروں کے اونٹوں پر پلان لگائے اور ایسے پانی میں داخل ہوئے جو آپ کا حصہ نہ تھا۔
یہ سب کچھ ماضی قریب کی باتیں ہیں، اور ابھی تک زخموں کے نشان واضح تھے اور زخم بھرے نہیں تھے اورپیغمبر اسلام(ص) دفن نہیں ہوئے تھے، تم نے بہانہ کیا کہ فتنہ سے ڈرتے ہو، آگاہ رہو کہ اب فتنہ میں پڑے ہو، حقیقت ہے کہ جہنم نے کافروں کا احاطہ کر رکھا ہے۔
)

شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا، ۱۳۶۲ش، ص۱۳۱-۱۳۲.

خُطبہ فدکیہ یا خطبة لُمَّة، حضرت فاطمہؑ کے اس خطبے کو کہا جاتا ہے جو آپ نے ابو بکر کے فدک واپس لینے کے اعتراض میں مسجد نبوی میں ارشاد فرمایا۔ ابوبکر نے خلافت حاصل کرنے کے بعد آنحضرت (ص) سے ایک حدیث منسوب کرکے جس میں یہ کہا گیا کہ انبیاء الہی اپنے بعد میراث نہیں چھوڑتے ہیں، فدک کے علاقے کو جسے آنحضرت (ص) نے فاطمہ کو ہبہ کیا تھا، خلافت کی طرف سے مصادرہ کر لیا۔ فاطمہ نے انصاف سے مایوس ہو کر مسجد نبوی کا رخ کیا اور اور وہاں آپ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا۔ انہوں نے اس خطبہ میں فدک پر اپنے حق مالکیت کی تصریح کی۔ اسی طرح سے انہوں نے اس خطبہ میں خلافت حضرت علی (ع) کا حق ہونے کا بھی دفاع کیا اور مسلمانوں کو اہل بیت (ع) پر ہونے والے ظلم کے مقابلہ میں سکوت اختیار کرنے کی سرزنش کی۔

خطبہ فدک معارف کا مجموعہ ہے جس میں خدا شناسی، معاد شناسی، نبوت و بعثت پیغمبر اکرم (ص)، عظمت قرآن، فلسفہ احکام و ولایت جیسے مطالب کا بیان ہے۔

اس خطبے کا متن شیعہ و سنی مآخذ میں نقل ہوا ہے۔ سید عز الدین حسینی زنجانی، حسین علی منتظری، مجتبی تہرانی اس خطبہ کی شرح لکھی ہے۔

اہمیت و منزلت

خطبہ فدک میں حضرت فاطمہ کے حکومت وقت کے خلاف سیاسی مواضع، فدک کا مصادرہ کرنے والوں اور اہل خلافت کی سرزنش کا تذکرہ ہے۔[1] اس خطبہ میں اسلامی معاشرہ میں امامت و ولایت اہل بیت (ع) کو قبول کرنے کے ذیل میں ایجاد وحدت و اتحاد اور تفرقہ و نفاق سے دوری پر تاکید کی گئی ہے۔[2] یہ خطبہ اس میں مذکور توحید، معاد، نبوت و بعثت پیامبر اسلام (ص)، عظمت قرآن، فلسفہ احکام و ولایت[3] جیسے معارف کی وجہ سے حضرت فاطمہ کے نفیس ترین دینی میراث کے طور پر متعارف ہوا ہے۔[4]

اسی طرح سے اس خطبہ کو فصاحت و بلاغت[5] اور فن خطابت میں مشہور عقلی و منطقی خصوصیات کے استعمال کی وجہ سے حضرت علی (ع) کے خطبہ کے ہم پلہ ہونے کو اس خبطے کی اہمیت کے دلائل میں شمار کیا گیا ہے۔[6] یہی سبب ہے کہ ابن طیفور نے اپنی کتاب بلاغات النساء میں اس کا شمار فصیح و بلیغ خطبات میں سے کیا ہے۔[7]

مصادرہ فدک خطبہ کا سبب

تفصیلی مضمون: فدک اور واقعہ فدک

فدک، خیبر کے نزدیک ایک زرخیز علاقہ تھا۔[8] جو حجاز کے علاقہ میں مدینہ سے ایک سو ساٹھ کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے،[9] جس میں یہودی آباد تھے۔[10] مسلمانوں کی طرف سے خیبر کے قلعہ کی فتح کے بعد، اس گاؤں کے لوگوں نے خیبر کا انجام دیکھا تو پیغمبر کے ساتھ صلح کی کہ آدھا گاؤں رسول کے لئے ہوگا جبکہ وہ اپنی زمینوں پر باقی رہے گے۔[11]

فدک بغیر کسی خون ریزی کے صلح کے ساتھ آنحضرت (ص) کے ہاتھ آ گیا۔[12] اس لئے قرآنی حکم کے مطابق[13] پیغمبر کیلئے مخصوص قرار پایا۔[14] رسول خدا اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بنی ہاشم کے غریبوں کو دے دیتے تھے۔ اس آیت وَآتِ ذَا الْقُرْ‌بَیٰ حَقَّهُ : ترجمہ (اور تم اپنے رشتے داروں کو ان کا حق دو) [15] کے نازل ہونے کے بعد آپ (ص) فدک حضرت فاطمہؑ کو بخش دیا۔[16] رسول اللہ کے وصال کے بعد ابو بکر نے ایک حدیث پیش کرکے یہ دعوی کیا کہ انبیاء اپنے بعد میراث نہیں چھوڑتے۔[17] لہذا انہوں نے فدک کو جو فاطمہ کے اختیار میں تھا،[18] حکومت کی طرف سے مصادرہ کر لیا۔[19]

حضرت فاطمہؑ کہتی رہیں کہ رسول خدا (ص) نے فدک انہیں اپنی وفات سے پہلے عطا کیا تھا اور انہوں نے اس پر حضرت علی (ع) و ام ایمن کو گواہ کے طور پر پیش کیا۔[20] بعض نقل کے مطابق ابوبکر نے فدک کو ان کا حق تسلیم کرتے ہوئے تائید میں انہیں ایک تحریری نوشتہ دیا؛ لیکن عمر نے اسے پھاڑ دیا۔[21] بعض (اہل سنت) منابع کے مطابق، ابوبکر نے فاطمہ کو گواہوں کو قبول نہیں کیا اور شہادت کے لئے دو مردوں کو طلب کیا۔[22]

جب حضرت فاطمہ نے دیکھا کہ اس مطالبہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے تو آپ اپنی بعض رشتہ دار خواتین کے ساتھ مسجد میں تشریف لے گئیں۔[23] ابن طیفور کے نقل کے مطابق، جس وقت آپ مسجد میں گئیں ابوبکر اور مہاجرین و انصار کا ایک گروہ وہاں موجود تھا، آپ کے اور مجمع کے درمیان ایک پردہ سے حائل بنایا گیا، پہلے آپ نے گریہ کیا، آپ کے ساتھ سب نے گریہ کیا، اس کے بعد آپ کچھ دیر ٹھریں تاکہ مجمع خاموش ہو جائے اس کے بعد آپ نے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ [24] چونکہ آپ نے یہ خطبہ فدک کے مصادرہ کے بعد اس پر اعتراض کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا اس لئے یہ خطبہ فدکیہ کے نام سے مشہور ہوا۔[25] البتہ بعض مقامات پر اسے اس عنوان سے کہ آپ خطبہ ارشاد فرمانے سے پہلے اپنی بعض رشتہ دار (خواتین وَ أقْبَلَتْ فی لُمَّهٍ مِنْ حَفَدَتِها وَ نِساءِ قَوْمِها) کے ساتھ مسجد میں وارد ہوئیں، خطبہ لمۃ کے نام سے بھی ذکر کیا جاتا ہے۔[26]

خطبے کی سند

علامہ مجلسی نے خطبہ فدکیہ کو مشہور خطبوں میں شمار کیا ہے جسے شیعہ و اہل سنت مختلف سندوں کے ساتھ نقل کیا ہے۔[27] شیخ صدوق نے بھی کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں اس کے بعض حصے نقل کئے ہیں۔[28] آیت اللہ منتظری کے مطابق اس خطبہ کی قدیمی ترین سند کتاب بلاغات النساء تالیف احمد بن طاہر مروزی ہے جو ابن طیفور (204۔280 ھ) کے نام سے مشہور اہل سنت عالم دین ہیں جو زمانہ کے اعتبار سے امام علی نقی (ع) و امام حسن عسکری (ع) کے معاصر تھے۔[29] ابن طیفور نے اس خطبہ کو دو روایت سے ضبط کیا ہے۔[30] البتہ سید جعفر شہیدی کے بقول متاخر اسناد میں دونوں روایتیں خلط ملط ہوکر ایک ہی صورت میں نقل ہوئی ہیں۔[31] بہرحال خطبہ فدکیہ کے لئے 16 منابع ذکر ہوئے ہیں۔[32]

نقل ہوا ہے کہ امام حسن (ع)، امام حسین (ع)، حضرت زینب (س)، امام باقر (ع)، امام صادق (ع)، حضرت عایشہ، عبدالله بن عباس و ۔۔۔ اس خطبے کے راویوں میں شامل ہیں۔[33]

مضمون

خطبہ حمد و توصیف الہی سے شروع ہوتا ہے۔ پھر اس میں بعثت پیغمبر (ص) کا ذکر ہے اس کے بعد حضرت علی (ع) کی آنحضرت (ص) سے قربت، اولیائے الہی کے درمیان ان کی سرداری، ان کی بے مثال دلیری، شجاعت اور نبی اکرمؐ اور اسلام سے دفاع کا ذکر ہے۔ اصحاب رسول کی اس بنیاد پر سرزنش کی گئی ہے کہ وہ پیغمبر (ص) کے بعد پیروئے شیطان ہوگئے، ان میں نفاق ظاہر ہوگیا اور انہوں نے حق کو ترک کر دیا۔ اسی طرح سے اس میں غصب خلافت کے واقعہ کی طرف اشارہ ہوا ہے اور ابوبکر کے کلام کہ انبیاء اپنی میراث نہیں چھوڑتے ہیں کو حکم قرآن کے خلاف بیان کیا گیا ہے۔ اس خطبہ میں آپ نے ابوبکر کے اس مسئلے کو قیامت کے روز خدا کے سپرد کیا اور پھر صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیوں صحابہ پیغمبر اس ستم پر خاموش بیٹھے ہیں۔ پھر آپ نے واضح طور پر کہا کہ جو ابوبکر اور ان کے ساتھیوں نے کیا وہ خدا سے اپنے ایمان کے عہد کو توڑنے کے مترادف ہے۔ آخر میں انہیں اس کام کی وجہ سے دوزخ کی وعید سنائی۔[34]

خطبہ فدکیہ کا متن اور اردو ترجمہ

خطبہ فدکیہ کا متناردو ترجمہ
اَلْحَمْدُللَّـهِ عَلی ما اَنْعَمَ، وَ لَهُ الشُّكْرُ عَلی ما اَلْهَمَ، وَ الثَّناءُ بِما قَدَّمَ، مِنْ عُمُومِ نِعَمٍ اِبْتَدَاَها، وَ سُبُوغِ الاءٍ اَسْداها، وَ تَمامِ مِنَنٍ اَوْلاها، جَمَّ عَنِ الْاِحْصاءِ عَدَدُها، وَ نَأی عَنِ الْجَزاءِ اَمَدُها، وَ تَفاوَتَ عَنِ الْاِدْراكِ اَبَدُها، وَ نَدَبَهُمْ لاِسْتِزادَتِها بِالشُّكْرِ لاِتِّصالِها، وَ اسْتَحْمَدَ اِلَی الْخَلائِقِ بِاِجْزالِها، وَ ثَنی بِالنَّدْبِ اِلی اَمْثالِها.میں خدا كى نعمتوں پر اس كى ستائش کرتی ہوں اور اس كى توفیقات پر شكر ادا كرتى ہوں اس كى بے شمار نعمتوں پر اس كى حمد و ثنا بجالاتى ہوں وہ نعمتیں جن كى كوئی انتہا نہیں اور ان كى تلافى اور تدارك نہیں كیا جاسكتا، ان كى انتہا كا تصور كرنا ممكن بھی نہیں، خدا ہم سے چاہتا ہے كہ ہم اس كى نعمتوں كو جانیں اور ان كا شكر ادا كریں تاكہ اللہ تعالى مقامى نعمتوں كو اور زیادہ كرے۔
وَ اَشْهَدُ اَنْ لااِلهَ اِلاَّ اللَّـهُ وَحْدَهُ لاشَریكَ لَهُ، كَلِمَةٌ جَعَلَ الْاِخْلاصَ تَأْویلَها، وَ ضَمَّنَ الْقُلُوبَ مَوْصُولَها، وَ اَنارَ فِی التَّفَكُّرِ مَعْقُولَها، الْمُمْتَنِعُ عَنِ الْاَبْصارِ رُؤْیتُهُ، وَ مِنَ الْاَلْسُنِ صِفَتُهُ، وَ مِنَ الْاَوْهامِ كَیفِیتُهُ. اِبْتَدَعَ الْاَشْیاءَ لامِنْ شَیءٍ كانَ قَبْلَها، وَ اَنْشَاَها بِلاَاحْتِذاءِ اَمْثِلَةٍ اِمْتَثَلَها، كَوَّنَها بِقُدْرَتِهِ وَ ذَرَأَها بِمَشِیتِهِ، مِنْ غَیرِ حاجَةٍ مِنْهُ اِلی تَكْوینِها، وَ لافائِدَةٍ لَهُ فی تَصْویرِها، اِلاَّ تَثْبیتاً لِحِكْمَتِهِ وَ تَنْبیهاً عَلی طاعَتِهِ، وَ اِظْهاراً لِقُدْرَتِهِ وَ تَعَبُّداً لِبَرِیتِهِ، وَ اِعْزازاً لِدَعْوَتِهِ، ثُمَّ جَعَلَ الثَّوابَ عَلی طاعَتِهِ، وَ وَضَعَ الْعِقابَ عَلی مَعْصِیتِهِ، ذِیادَةً لِعِبادِهِ مِنْ نِقْمَتِهِ وَ حِیاشَةً لَهُمْ اِلی جَنَّتِهِ.میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اسکا کوئی شریک نہیں، توحید وہ كلمہ كہ اخلاص كو اس كى روح اور حقیقت قرار دیا گیا ہے اور دل میں اس كى گواہى دے تا كہ اس سے نظر و فكر روشن ہو، وہ خدا كہ جس كو آنكھ كے ذریعے دیكھا نہیں جاسكتا اور زبان كے ذریعے اس كى وصف اور توصیف نہیں كى جاسكتى وہ كس طرح كا ہے یہ وہم نہیں آسكتا۔ عالم كو عدم سے پیدا كیا ہے اور اس كے پیدا كرنے میں وہ محتاج نہ تھا اپنى مشیئت كے مطابق خلق كیا ہے۔ جہان كے پیا كرنے میں اسے اپنے كسى فائدے كے حاصل كرنے كا قصد نہ تھا۔ جہان كو پیدا كیا تا كہ اپنى حكمت اور علم كو ثابت كرے اور اپنى اطاعت كى یاد دہانى كرے، اور اپنى قدرت كا اظہار كرے، اور بندوں كو عبادت كے لئے برانگیختہ كرے، اور اپنى دعوت كو وسعت دے، اپنى اطاعت كے لئے جزاء مقرر كى اور نافرمانى كے لئے سزا معین فرمائی۔ تا كہ اپنے بندوں كو عذاب سے نجات دے اور بہشت كى طرف لے جائے۔
وَ اَشْهَدُ اَنَّ اَبی مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ، اِخْتارَهُ قَبْلَ اَنْ اَرْسَلَهُ، وَ سَمَّاهُ قَبْلَ اَنْ اِجْتَباهُ، وَ اصْطَفاهُ قَبْلَ اَنْ اِبْتَعَثَهُ، اِذ الْخَلائِقُ بِالْغَیبِ مَكْنُونَةٌ، وَ بِسَتْرِ الْاَهاویلِ مَصُونَةٌ، وَ بِنِهایةِ الْعَدَمِ مَقْرُونَةٌ، عِلْماً مِنَ اللَّـهِ تَعالی بِمائِلِ الْاُمُورِ، وَ اِحاطَةً بِحَوادِثِ الدُّهُورِ، وَ مَعْرِفَةً بِمَواقِعِ الْاُمُورِ.میں گواہى دیتى ہوں كہ میرے والد محمدؐ اللہ كے رسول اور اس كے بندے ہیں، پیغمبرى كے لئے بھیجنے سے پہلے اللہ نے ان كو چنا اور قبل اس كے كہ اسے پیدا كرے ان كا نام محمّدؐ ركھا اور بعثت سے پہلے ان كا انتخاب اس وقت كیا جب كہ مخلوقات عالم غیب میں پنہاں اور چھپى ہوئی تھى اور عدم كى سرحد سے ملى ہوئی تھی، چونكہ اللہ تعالى ہر شئی كے مستقبل سے باخبر ہے اور حوادث دہر سے مطلع ہے اور ان كے مقدرات كے موارد اور مواقع سے آگاہ ہے۔
اِبْتَعَثَهُ اللَّـهُ اِتْماماً لِاَمْرِهِ، وَ عَزیمَةً عَلی اِمْضاءِ حُكْمِهِ، وَ اِنْفاذاً لِمَقادیرِ رَحْمَتِهِ، فَرَأَی الْاُمَمَ فِرَقاً فی اَدْیانِها، عُكَّفاً عَلی نیرانِها، عابِدَةً لِاَوْثانِها، مُنْكِرَةً للَّـهِ مَعَ عِرْفانِها.

فَاَنارَ اللَّـهُ بِاَبی مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ و الِهِ ظُلَمَها، وَ كَشَفَ عَنِ الْقُلُوبِ بُهَمَها، وَ جَلی عَنِ الْاَبْصارِ غُمَمَها، وَ قامَ فِی النَّاسِ بِالْهِدایةِ، فَاَنْقَذَهُمْ مِنَ الْغِوایةِ، وَ بَصَّرَهُمْ مِنَ الْعِمایةِ، وَ هَداهُمْ اِلَی الدّینِ الْقَویمِ، وَ دَعاهُمْ اِلَی الطَّریقِ الْمُسْتَقیمِ. ثُمَّ قَبَضَهُ اللَّـهُ اِلَیهِ قَبْضَ رَأْفَةٍ وَ اخْتِیارٍ، وَ رَغْبَةٍ وَ ایثارٍ، فَمُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ و الِهِ مِنْ تَعَبِ هذِهِ الدَّارِ فی راحَةٍ، قَدْ حُفَّ بِالْمَلائِكَةِ الْاَبْرارِ وَ رِضْوانِ الرَّبِّ الْغَفَّارِ، وَ مُجاوَرَةِ الْمَلِكِ الْجَبَّارِ، صَلَّی اللَّـهُ عَلی أَبی نَبِیهِ وَ اَمینِهِ وَ خِیرَتِهِ مِنَ الْخَلْقِ وَ صَفِیهِ، وَ السَّلامُ عَلَیهِ وَ رَحْمَةُاللَّـهِ وَ بَرَكاتُهُ.

ثم التفت الی اهل المجلس و قالت:
خدا نے محمّدؐ كو مبعوث كیا تا كہ اپنے امر كو آخر تك پہنچائے اور اپنے حكم كو جارى كردے، اور اپنے مقصد كو عملى قرار دے۔ لوگ دین میں متفرق تھے اور كفر و جہالت كى آگ میں جل رہے تھے، بتوں كى پرستش كرتے تھے اور خداوند عالم كے دستورات كى طرف توجہ نہیں كرتے تھے۔

پس اللہ تعالی نے میرے باپ محمّدؐ كے وجود مبارك سے تاریكیاں منور کردیا اور جہالت اور نادانى دلوں سے دور کردیا، سرگردانى اور تحیر كے پردے آنكھوں سے ہٹا دیئے۔ میرے باپ لوگوں كى ہدایت كے لئے كھڑے ہوئے اور ان كو گمراہى سے نجات دلائی اور نابینا كو بینا كیا اور دین اسلام كى طرف راہنمائی فرمائی اور سیدھے راستے كى طرف دعوت دی، اس وقت خداوند عالم نے اپنے پیغمبر كى مہربانى اور اس كے اختیار اور رغبت سے اس كى روح قبض فرمائی۔ اب میرے باپ اس دنیا كى سختیوں سے آرام میں ہیں اور آخرت كے عالم میں اللہ تعالى كے فرشتوں اور پروردگار كى رضایت كے ساتھ اللہ تعالى كے قرب میں زندگى بسر كر رہے ہیں، امین اور وحى كے لئے چتے ہوئے پیغمبر پر درود ہو۔

آپ نے اس كے بعد مجمع كو خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔
اَنْتُمْ عِبادَ اللَّـهِ نُصُبُ اَمْرِهِ وَ نَهْیهِ، وَ حَمَلَةُ دینِهِ وَ وَحْیهِ، وَ اُمَناءُ اللَّـهِ عَلی اَنْفُسِكُمْ، وَ بُلَغاؤُهُ اِلَی الْاُمَمِ، زَعیمُ حَقٍّ لَهُ فیكُمْ، وَ عَهْدٍ قَدَّمَهُ اِلَیكُمْ، وَ بَقِیةٍ اِسْتَخْلَفَها عَلَیكُمْ: كِتابُ اللَّـهِ النَّاطِقُ وَ الْقُرْانُ الصَّادِقُ، و النُّورُ السَّاطِعُ وَ الضِّیاءُ اللاَّمِعُ، بَینَةً بَصائِرُهُ، مُنْكَشِفَةً سَرائِرُهُ، مُنْجَلِیةً ظَواهِرُهُ، مُغْتَبِطَةً بِهِ اَشْیاعُهُ، قائِداً اِلَی الرِّضْوانِ اِتِّباعُهُ، مُؤَدٍّ اِلَی النَّجاةِ اسْتِماعُهُ، بِهِ تُنالُ حُجَجُ اللَّـهِ الْمُنَوَّرَةُ، وَ عَزائِمُهُ الْمُفَسَّرَةُ، وَ مَحارِمُهُ الْمُحَذَّرَةُ، وَ بَیناتُهُ الْجالِیةُ، وَ بَراهینُهُ الْكافِیةُ، وَ فَضائِلُهُ الْمَنْدُوبَةُ، وَ رُخَصُهُ الْمَوْهُوبَةُ، وَ شَرائِعُهُ الْمَكْتُوبَةُ.لوگو تم اللہ تعالى كے امر اور نہى كے نمائندے اور نبوت كے دین اور علوم كے حامل تمہیں اپنے اوپر امین ہونا چاہیئے، جن كو باقى اقوام تك دین كى تبلیغ كرنى ہے تم میں پیغمبرؐ كا حقیقى جانشین موجود ہے اللہ تعالى نے تم سے پہلے عہد و پیمان اور چمكنے والانور ہے اس كى چشم بصیرت روش اور رتبے كے آرزومند ہیں اس كى پیروى كرنا انسان كو بہشت رضوان كى طرف ہدایت كرتا ہے اس كى باتوں كو سننا نجات كا سبب ہوتا ہے اس كے وجود كى بركت سے اللہ تعالى كے نورانى دلائل اور حجت كو دریافت كیا جاسكتا ہے اس كے وسیلے سے واجبات و محرمات اور مستحبات و مباح اور شریعت كے قوانین كو حاصل كیا جاسكتا ہے۔
فَجَعَلَ اللَّـهُ الْایمانَ تَطْهیراً لَكُمْ مِنَ الشِّرْكِ، وَ الصَّلاةَ تَنْزیهاً لَكُمْ عَنِ الْكِبْرِ،

وَ الزَّكاةَ تَزْكِیةً لِلنَّفْسِ وَ نِماءً فِی الرِّزْقِ،

وَ الصِّیامَ تَثْبیتاً لِلْاِخْلاصِ، وَ الْحَجَّ تَشْییداً لِلدّینِ، وَ الْعَدْلَ تَنْسیقاً لِلْقُلُوبِ،

وَ طاعَتَنا نِظاماً لِلْمِلَّةِ، وَ اِمامَتَنا اَماناً لِلْفُرْقَةِ،

وَ الْجِهادَ عِزّاً لِلْاِسْلامِ، وَ الصَّبْرَ مَعُونَةً عَلَی اسْتیجابِ الْاَجْرِ.
اللہ تعالى نے ایمان كو شرك سے پاك ہونے كا وسیلہ قرار دیا ہے۔۔ اللہ نے نماز واجب كى تا كہ تكبر سے روكاجائے زكوة كو وسعت رزق اور تہذیب نفس كے لئے واجب قرار دیا۔ روزے كو بندے كے اخلاص كے اثبات كے لئے واجب كیا۔ حج كو واجب كرنے سے دین كى بنیاد كو استوار كیا، عدالت كو زندگى كے نظم اور دلوں كى نزدیكى كے لئے ضرورى قرار دیا، اہلبیت كى اطاعت كو ملت اسلامى كے نظم كے لئے واجب قرار دیا اور امامت كے ذریعے اختلاف و افتراق كا سد باب كیا اور جہاد کو اسلام کے لئے عزت اور صبر کو اجر حاصل کرنے کے لیے مددگار قرار دیا۔
وَ الْاَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ مَصْلِحَةً لِلْعامَّةِ، وَ بِرَّ الْوالِدَینِ وِقایةً مِنَ السَّخَطِ، وَ صِلَةَ الْاَرْحامِ مَنْساءً فِی الْعُمْرِ وَ مَنْماةً لِلْعَدَدِ، وَ الْقِصاصَ حِقْناً لِلدِّماءِ، وَ الْوَفاءَ بِالنَّذْرِ تَعْریضاً لِلْمَغْفِرَةِ، وَ تَوْفِیةَ الْمَكائیلِ وَ الْمَوازینِ تَغْییراً لِلْبَخْسِ.امر بالمعروف كو عمومى مصلحت كے ماتحت واجب قرار دیا، ماں باپ كے ساتھ نیكى كو ان كے غضب سے مانع قرار دیا، اجل كے موخر ہونے اور نفوس كى زیادتى كے لئے صلہ رحمى كا دستور دیا، قتل نفس كو روكنے كے لئے قصاص كو واجب قرار دیا۔ نذر كے پورا كرنے كو گناہوں گا آمرزش كا سبب بنایا، ناپ تول میں دقت کو کم فروشی ختم کرنے کا سبب بنادیا۔
وَ النَّهْی عَنْ شُرْبِ الْخَمْرِ تَنْزیهاً عَنِ الرِّجْسِ، وَ اجْتِنابَ الْقَذْفِ حِجاباً عَنِ اللَّـعْنَةِ، وَ تَرْكَ السِّرْقَةِ ایجاباً لِلْعِصْمَةِ، وَ حَرَّمَ اللَّـهُ الشِّرْكَ اِخْلاصاً لَهُ بِالرُّبوُبِیةِ.

فَاتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقاتِهِ، وَ لاتَمُوتُنَّ اِلاَّ وَ اَنْتُمْ مُسْلِمُونَ، وَ اَطیعُوا اللَّـهَ فیما اَمَرَكُمْ بِهِ وَ نَهاكُمْ عَنْهُ، فَاِنَّهُ اِنَّما یخْشَی اللَّـهَ مِنْ عِبادِهِ الْعُلَماءُ.[35]

ثم قالت:
پلیدى سے محفوظ رہنے كى غرض سے شراب خورى پر پابندى لگائی، بہتان اور زنا كى نسبت دینے كى لعنت سے روكا، چورى نہ كرنے كو پاكى اور عفت كا سبب بتایا۔ اللہ تعالى كے ساتھ شرك، كو اخلاص كے ماتحت ممنوع قرار دیا۔ پس تقوى اور پرہیزگارى كو اپناؤ جسطرح اپنانے کا حق ہے۔ دنیا سے مسلمان ہوئے بغیر مت جانا، اللہ تعالى كے اوامر و نواہى كى اطاعت كرو، صرف علماء اور دانشمند خدا سے ڈرتے ہیں۔ پھر فرمایا:
اَیهَا النَّاسُ! اِعْلَمُوا اَنّی فاطِمَةُ وَ اَبی مُحَمَّدٌ، اَقُولُ عَوْداً وَ بَدْءاً، وَ لااَقُولُ ما اَقُولُ غَلَطاً، وَ لااَفْعَلُ ما اَفْعَلُ شَطَطاً، لَقَدْ جاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ اَنْفُسِكُمْ عَزیزٌ عَلَیهِ ما عَنِتُّمْ حَریصٌ عَلَیكُمْ بِالْمُؤْمِنینَ رَؤُوفٌ رَحیمٌ.[36]

فَاِنْ تَعْزُوهُ وَتَعْرِفُوهُ تَجِدُوهُ اَبی دُونَ نِسائِكُمْ،وَ اَخَا ابْنِ عَمّی دُونَ رِجالِكُمْ، وَ لَنِعْمَ الْمَعْزِی اِلَیهِ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ.

فَبَلَّغَ الرِّسالَةَ صادِعاً بِالنَّذارَةِ، مائِلاً عَنْ مَدْرَجَةِ الْمُشْرِكینَ، ضارِباً ثَبَجَهُمْ، اخِذاً بِاَكْظامِهِمْ، داعِیاً اِلی سَبیلِ رَبِّهِ بِالْحِكْمَةِ و الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ، یجُفُّ الْاَصْنامَ وَ ینْكُثُ الْهامَّ، حَتَّی انْهَزَمَ الْجَمْعُ وَ وَ لَّوُا الدُّبُرَ.
اے لوگو! جان لو میں فاطمہ ہوں اور میرے باپ محمدؐ ہیں، اب میں تمہیں ابتداء سے آخر تك كے واقعات اور امور سے آگاہ كرتى ہوں تمہیں علم ہونا چاہیئے میں جھوٹ نہیں بولتى اور گناہ كا ارتكاب نہیں كرتی۔ اللہ تعالى نے تمہارے لئے پیغمبرؐ جو تم میں سے تھا بھیجا ہے تمہارى تكلیف سے اسے تكلیف ہوتى تھى اور وہ تم سے محبت كرتے تھے اور مومنین كے حق میں مہربان اور دل سوز تھے۔ لوگو وہ پیغمبر میرے باپ تھے نہ تمہارى عورت كے باپ، میرے شوہر كے چچازاد بھائی تھے نہ تمہارے مردوں كے بھائی، كتنى عمدہ محمّدؐ سے نسبت ہے۔ جناب محمدؐ نے اپنى رسالت كو انجام دیا اور مشركوں كى راہ و روش پر حملہ آور ہوئے اور ان كى پشت پر سخت ضرب وارد كى ان كا گلا پكڑا اور دانائی اور نصیحت سے خدا كى طرف دعوت دی، بتوں كو توڑا اور ان كے سروں كو سرنگوں كیا كفار نے شكست كھائی اور شكست كھا كر بھاگے۔
حَتَّی تَفَرَّی اللَّـیلُ عَنْ صُبْحِهِ، وَ اَسْفَرَ الْحَقُّ عَنْ مَحْضِهِ، و نَطَقَ زَعیمُالدّینِ، وَ خَرَسَتْ شَقاشِقُ الشَّیاطینِ، وَ طاحَ وَ شیظُ النِّفاقِ، وَ انْحَلَّتْ عُقَدُ الْكُفْرِ وَ الشَّقاقِ، وَ فُهْتُمْ بِكَلِمَةِ الْاِخْلاصِ فی نَفَرٍ مِنَ الْبیضِ الْخِماصِ. وَ كُنْتُمْ عَلی شَفا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ[37]، مُذْقَةَ الشَّارِبِ، وَ نُهْزَةَ الطَّامِعِ، وَ قُبْسَةَ الْعِجْلانِ، وَ مَوْطِیءَ الْاَقْدامِ، تَشْرَبُونَ الطَّرْقَ، وَ تَقْتاتُونَ الْقِدَّ، اَذِلَّةً خاسِئینَ، تَخافُونَ اَنْ یتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِكُمْ، فَاَنْقَذَكُمُ اللَّـهُ تَبارَكَ وَ تَعالی بِمُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ بَعْدَ اللَّـتَیا وَ الَّتی، وَ بَعْدَ اَنْ مُنِی بِبُهَمِ الرِّجالِ، وَ ذُؤْبانِ الْعَرَبِ، وَ مَرَدَةِ اَهْلِ الْكِتابِ. تاریكیاں دور ہوگئیں اور حق واضح ہوگیا، دین كے رہبر كى زبان گویا ہوئی اور شیاطین خاموش ہوگئے، نفاق كے پیروكار ہلاك ہوئے كفر اور اختلاف كے رشتے ٹوٹ گئے گروہ اہلبیت كى وجہ سے شہادت كا كلمہ جارى كیا، جب كہ تم دوزخ كے كنارے كھڑے تھے اور وہ ظالموں كا تر اور لذیذ لقمہ بن چكے تھے اور آگ كى تلاش كرنے والوں كے لئے مناسب شعلہ تھے۔ تم قبائل كے پاؤں كے نیچے ذلیل تھے گندا پانى پیتے تھے اور حیوانات كے چمڑوں اور درختوں كے پتوں سے غذا كھاتے تھے دوسروں كے ہمیشہ ذلیل و خوار تھے اور اردگرد كے قبائل سے خوف و ہراس میں زندگى بسر كرتے تھے ان تمام بدبختیوں كے بعد خدا نے محمدؐ كے وجود كى بركت سے تمہیں نجات دى حالانكہ میرے باپ كو عربوں میں سے بہادر اور عرب كے بھیڑیوں اور اہل كتاب كے سركشوں سے واسطہ تھا
كُلَّما اَوْقَدُوا ناراً لِلْحَرْبِ اَطْفَأَهَا اللَّـهُ[38]، اَوْ نَجَمَ قَرْنُ الشَّیطانِ، اَوْ فَغَرَتْ فاغِرَةٌ مِنَ الْمُشْرِكینَ، قَذَفَ اَخاهُ فی لَهَواتِها، فَلاینْكَفِیءُ حَتَّی یطَأَ جِناحَها بِأَخْمَصِهِ، وَ یخْمِدَ لَهَبَها بِسَیفِهِ، مَكْدُوداً فی ذاتِ اللَّـهِ، مُجْتَهِداً فی اَمْرِ اللَّـهِ، قَریباً مِنْ رَسُولِ اللَّـهِ، سَیداً فی اَوْلِیاءِ اللَّـهِ، مُشَمِّراً ناصِحاً مُجِدّاً كادِحاً، لاتَأْخُذُهُ فِی اللَّـهِ لَوْمَةَ لائِمٍ. وَ اَنْتُمَ فی رَفاهِیةٍ مِنَ الْعَیشِ، و ادِعُونَ فاكِهُونَ آمِنُونَ، تَتَرَبَّصُونَ بِنَا الدَّوائِرَ، وَ تَتَوَكَّفُونَ الْاَخْبارَ، وَ تَنْكُصُونَ عِنْدَ النِّزالِ، وَ تَفِرُّونَ مِنَ الْقِتالِ.جتنا وہ جنگ كى آگ كو بھڑكاتے تھے خدا سے خاموش كردیتا تھا جب كوئی شیاطین میں سے سر اٹھاتا یا مشركوں میں سے كوئی بھى كھولتا تو محمدؐ اپنے بھائی على (ع) كو ان كے گلے میں اتار دیتے اور حضرت على (ع) ان كے سر اور مغز كو اپنى طاقت سے پائمال كردیتے اور جب تك ان كى روشن كى ہوئی آگ كو اپنى تلوار سے خاموش نہ كردیتے جنگ كے میدان سے واپس نہ لوٹتے اللہ كى رضا كے لئے ان تمام سختیوں كا تحمل كرتے تھے اور خدا كى راہ میں جہاد كرتے تھے، اللہ كے رسول كے نزدیك تھے۔ على (ع) خدا دوست تھے، ہمیشہ جہاد كے لئے آمادہ تھے، وہ تبلیغ اور جہاد كرتے تھے اور تم اس حالت میں آرام اور خوشى میں خوش و خرم زندگى گزار رہے تھے اور كسى خبر كے منتظر اور فرصت میں رہتے تھے دشمن كے ساتھ لڑائی لڑنے سے ا جتناب كرتے تھے اور جنگ كے وقت فرار كرجاتے تھے
فَلَمَّا اِختارَ اللَّـهُ لِنَبِیهِ‌ دار اَنْبِیائِهِ وَ مَأْوی اَصْفِیائِهِ، ظَهَرَ فیكُمْ حَسْكَةُ النِّفاقِ، وَ سَمَلَ جِلْبابُ الدّینِ، وَ نَطَقَ كاظِمُ الْغاوینَ، وَ نَبَغَ خامِلُ الْاَقَلّینَ، وَ هَدَرَ فَنیقُ الْمُبْطِلینَ، فَخَطَرَ فی عَرَصاتِكُمْ، وَ اَطْلَعَ الشَّیطانُ رَأْسَهُ مِنْ مَغْرَزِهِ، هاتِفاً بِكُمْ، فَأَلْفاكُمْ لِدَعْوَتِهِ مُسْتَجیبینَ، وَ لِلْغِرَّةِ فیهِ مُلاحِظینَ، ثُمَّ اسْتَنْهَضَكُمْ فَوَجَدَكُمْ خِفافاً، وَ اَحْمَشَكُمْ فَاَلْفاكُمْ غِضاباً، فَوَسَمْتُمْ غَیرَ اِبِلِكُمْ، وَ وَرَدْتُمْ غَیرَ مَشْرَبِكُمْ. هذا، وَ الْعَهْدُ قَریبٌ، وَالْكَلْمُ رَحیبٌ، وَ الْجُرْحُ لَمَّا ینْدَمِلُ، وَ الرَّسُولُ لَمَّا یقْبَرُ، اِبْتِداراً زَعَمْتُمْ خَوْفَ الْفِتْنَةِ، اَلا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوا، وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحیطَةٌ بِالْكافِرینَ.[39]جب خدا نے اپنے پیغمبر كو دوسرے پیغمبروں كى جگہ كى طرف منتقل كیا تو تمہارے اندرونى كینے اور دوروئی ظاہر ہوگئی دین كا لباس كہنہ ہوگیا اور گمراہ لوگ باتیں كرنے لگے، پست لوگوں نے سر اٹھایا اور باطل كا اونٹ آواز دیتے لگا اور اپنى دم ہلانے لگا اور شیطان نے اپنا سركمین گاہ سے باہر نكالا اور تمہیں اس نے اپنى طرف دعوت دى اور تم نے بغیر سوچے اس كى دعوت قبول كرلى اور اس كا احترام كیا تمہیں اس نے ابھارا اور تم حركت میں آگئے اس نے تمہیں غضبناك ہونے كا حكم دیا اور تم غضبناك ہوگئے۔ لوگو وہ اونٹ جو تم میں سے نہیں تھا تم نے اسے با علامت بناكر اس جگہ بیٹھایا جو اس كى جگہ نہیں تھی، حالانكہ ابھى پیغمبرؐ كى موت كو زیادہ وقت نہیں گزرا ہے ابھى تك ہمارے دل كے زخم بھرے نہیں تھے اور نہ شگاف پر ہوئے تھے، ابھى پیغمبرؐ كو دفن بھى نہیں كیا تھا كہ تم نے فتنے كے خوف كے بہانے سے خلافت پر قبضہ كرلیا، لیكن خبردار رہو كہ تم فتنے میں داخل ہوچكے ہو اور دوزخ نے كافروں كا احاطہ كر ركھا ہے
فَهَیهاتَ مِنْكُمْ، وَ كَیفَ بِكُمْ، وَ اَنَّی تُؤْفَكُونَ، وَ كِتابُ اللَّـهِ بَینَ اَظْهُرِكُمْ، اُمُورُهُ ظاهِرَةٌ، وَ اَحْكامُهُ زاهِرَةٌ، وَ اَعْلامُهُ باهِرَةٌ، و زَواجِرُهُ لائِحَةٌ، وَ اَوامِرُهُ واضِحَةٌ، وَ قَدْ خَلَّفْتُمُوهُ وَراءَ ظُهُورِكُمْ، أَرَغْبَةً عَنْهُ تُریدُونَ؟ اَمْ بِغَیرِهِ تَحْكُمُونَ؟ بِئْسَ لِلظَّالمینَ بَدَلاً، وَ مَنْ یبْتَغِ غَیرَ الْاِسْلامِ دیناً فَلَنْ یقْبَلَ مِنْهُ، وَ هُوَ فِی الْاخِرَةِ مِنَ الْخاسِرینِ.[40]افسوس تمہیں كیا ہوگیا ہے اور كہاں چلے جارہے ہو؟ حالانكہ اللہ كى كتاب تمہارے درمیان موجود ہے اور اس كے احكام واضح اور اس كے اوامر و نواہى ظاہر ہیں تم نے قرآن كى مخالفت كى اور اسے پس پشت ڈال دیا، كیا تمہارا ارادہ ہے كہ قرآن سے اعراض اور روگردانی كرلو؟ یا قرآن كے علاوہ كسى اور ذریعے سے قضاوت اور فیصلے كرتا چاہتے تو؟ لیكن تم كو علم ہونا چاہیئے كہ جو شخص بھى اسلام كے علاوہ كسى دوسرے دین كو اختیار كرے گا وہ قبول نہیں كیا جائے گا اور آخرت میں وہ خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
ثُمَّ لَمْ تَلْبَثُوا اِلی رَیثَ اَنْ تَسْكُنَ نَفْرَتَها، وَ یسْلَسَ قِیادَها،ثُمَّ اَخَذْتُمْ تُورُونَ وَ قْدَتَها، وَ تُهَیجُونَ جَمْرَتَها، وَ تَسْتَجیبُونَ لِهِتافِ الشَّیطانِ الْغَوِی، وَ اِطْفاءِ اَنْوارِالدّینِ الْجَلِی، وَ اِهْمالِ سُنَنِ النَّبِی الصَّفِی، تُسِرُّونَ حَسْواً فِی ارْتِغاءٍ، وَ تَمْشُونَ لِاَهْلِهِ وَ وَلَدِهِ فِی الْخَمَرِ وَ الضَّرَّاءِ، وَ نَصْبِرُ مِنْكُمْ عَلی مِثْلِ حَزِّ الْمَدی، وَ وَخْزِ السنان فی الحشا. وَ اَنْتُمُ الانَ تَزْعُمُونَ اَنْ لااِرْثَ لَنا أَفَحُكْمَ الْجاهِلِیةِ تَبْغُونَ، وَ مَنْ اَحْسَنُ مِنَ اللَّـهِ حُكْماً لِقَومٍ یوقِنُونَ، أَفَلاتَعْلَمُونَ؟ بَلی، قَدْ تَجَلَّی لَكُمْ كَالشَّمْسِ الضَّاحِیةِ أَنّی اِبْنَتُهُ.اتنا صبر بھى نہ كرسكے كہ وہ فتنے كى آگ كو خاموش كرے اور اس كى قیادت آسان ہوجائے بلكہ آگ كو تم نے روشن كیا اور شیطان كى دعوت كو قبول كرلیا اور دین كے چراغ اور سنت رسول خداؐ كے خاموش كرنے میں مشغول ہوگئے ہو۔ كام كو الٹا ظاہر كرتے ہو اور پیغمبرؐ كے اہلبیت كے ساتھ مكر و فریب كرتے ہو، تمہارے كام اس چھرى كے زخم اور نیزے كے زخم كى مانند ہیں جو پیٹ كے اندر واقع ہوئے ہوں۔ كیا تم یہ عقیدہ ركھتے ہو كہ ہم پیغمبرؐ سے میراث نہیں لے سكتے، كیا تم جاہلیت كے قوانین كى طرف لوٹنا چاہتے ہو ؟ حالانكہ اسلام كے قانون تمام قوانین سے بہتر ہیں، كیا تمہیں علم نہیں كہ میں رسول خداؐ كى بیٹى ہوں كیوں نہیں جانتے ہو اور تمہارے سامنے آفتاب كى طرح یہ روشن ہے
اَیهَا الْمُسْلِمُونَ! أَاُغْلَبُ عَلی اِرْثی؟ یابْنَ اَبی قُحافَةَ! اَفی كِتابِ اللَّـهِ تَرِثُ اَباكَ وَ لااَرِثُ اَبی؟ لَقَدْ جِئْتَ شَیئاً فَرِیاً، اَفَعَلی عَمْدٍ تَرَكْتُمْ كِتابَ اللَّـهِ وَ نَبَذْتُمُوهُ وَراءَ ظُهُورِكُمْ، إذْ یقُولُ «وَ وَرِثَ سُلَیمانُ داوُدَ»[41] وَ قالَ فیما اقْتَصَّ مِنْ خَبَرِ زَكَرِیا اِذْ قالَ: «فَهَبْ لی مِنْ لَدُنْكَ وَلِیاً یرِثُنی وَ یرِثُ مِنْ الِ یعْقُوبَ»،[42] وَ قالَ: «وَ اوُلُوا الْاَرْحامِ بَعْضُهُمْ اَوْلی بِبَعْضٍ فی كِتابِ اللَّـهِ»،[43] وَ قالَ «یوصیكُمُ اللَّـهُ فی اَوْلادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیینِ»،[44] وَ قالَ «اِنْ تَرَكَ خَیراً الْوَصِیةَ لِلْوالِدَینِ وَالْاَقْرَبَینِ بِالْمَعْرُوفِ حَقّاً عَلَی الْمُتَّقینَ».[45]مسلمانوں كیا یہ درست ہے كہ میں اپنے باپ كى میراث سے محروم ہوجاؤں؟ اے ابوبكر آیا خدا كى كتاب میں تو لكھا ہے كہ تم اپنے باپ سے میراث لو اور میں اپنے باپ كى میراث سے محروم رہوں؟ كیا خدا قرآن میں نہیں كہتا كہ سلیمان داود كے وارث ہوئے.وَ وَرِثَ سُلَیمانُ داوُدَ كیا قرآن میں یحیى علیہ السلام كا قول نقل نہیں ہوا كہ خدا سے انہوں نے عرض كى پروردگار مجھے فرزند عنایت فرما تا كہ وہ میرا وارث قرار پائے او آل یعقوب كا بھى وارث ہو كیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا كہ بعض رشتہ دار بعض دوسروں كے وارث ہوتے ہیں؟ كیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا كہ اللہ نے حكم دیا كہ لڑكے، لڑكیوں سے دوگنا ارث لیں؟ كیا خدا قرآن میں نہیں فرماتا كہ تم پر مقرر كردیا كہ جب تمہارا كوئی موت كے نزدیك ہو تو وہ ماں، باپ اور رشتہ داروں كے لئے وصیت كرے كیونكہ پرہیزگاروں كے لئے ایسا كرنا عدالت كا مقتضى ہے
وَ زَعَمْتُمْ اَنْ لاحَظْوَةَ لی، وَ لااَرِثُ مِنْ اَبی، وَ لارَحِمَ بَینَنا، اَفَخَصَّكُمُ اللَّـهُ بِایةٍ اَخْرَجَ اَبی مِنْها؟ اَمْ هَلْ تَقُولُونَ: اِنَّ اَهْلَ مِلَّتَینِ لایتَوارَثانِ؟ اَوَ لَسْتُ اَنَا وَ اَبی مِنْ اَهْلِ مِلَّةٍ واحِدَةٍ؟ اَمْ اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِخُصُوصِ الْقُرْانِ وَ عُمُومِهِ مِنْ اَبی وَابْنِ عَمّی؟ فَدُونَكَها مَخْطُومَةً مَرْحُولَةً تَلْقاكَ یوْمَ حَشْرِكَ.

فَنِعْمَ الْحَكَمُ اللَّـهُ، وَ الزَّعیمُ مُحَمَّدٌ، وَ الْمَوْعِدُ الْقِیامَةُ، وَ عِنْدَ السَّاعَةِ یخْسِرُ الْمُبْطِلُونَ، وَ لاینْفَعُكُمْ اِذْ تَنْدِمُونَ، وَ لِكُلِّ نَبَأٍ مُسْتَقَرٌّ،[46] وَ لَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یأْتیهِ عَذابٌ یخْزیهِ، وَ یحِلُّ عَلَیهِ عَذابٌ مُقیمٌ.[47]

ثم رمت بطرفها نحو الانصار، فقالت:
كیا تم گمان كرتے ہو كہ میں باپ سے نسبت نہیں ركھتی؟ كیا ارث والى آیات تمہارے لئے مخصوص ہیں اور میرے والد ان سے خارج ہیں یا اس دلیل سے مجھے میراث سے محروم كرتے ہو جو دو مذہب كے ایك دوسرے سے میراث نہیں لے سكتے؟ كیا میں اور میرا باپ ایك دین پر نہ تھے؟ آیا تم میرے باپ اور میرے چچازاد على (ع) سے قرآن كو بہتر سمجھتے ہو؟ اے ابوبكر فدك اور خلافت تسلیم شدہ تمہیں مبارك ہو، لیكن قیامت كے دن تم سے ملاقات كروں گى كہ جب حكم اور قضاوت كرنا خدا كے ہاتھ میں ہوگا اور محمدؐ بہترین پیشوا ہیں۔ اے قحافہ كے بیٹے، میرا تیرے ساتھ وعدہ قیامت كا دن ہے كہ جس دن بیہودہ لوگوں كا نقصان واضح ہوجائے گا اور پھر پشیمان ہونا فائدہ نہ دے گا اور ہر خبر (کے وقوع) کا ایک وقت مقرر ہے اور عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے گا اور کس پر دائمی عذاب نازل ہوتا ہے۔ آپ اس كے بعد انصار كى طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا:
یا مَعْشَرَ النَّقیبَةِ وَ اَعْضادَ الْمِلَّةِ وَ حَضَنَةَ الْاِسْلامِ! ما هذِهِ الْغَمیزَةُ فی حَقّی وَ السِّنَةُ عَنْ ظُلامَتی؟ اَما كانَ رَسُولُ اللَّـهِ صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ اَبی یقُولُ: «اَلْمَرْءُ یحْفَظُ فی وُلْدِهِ»، سَرْعانَ ما اَحْدَثْتُمْ وَ عَجْلانَ ذا اِهالَةٍ، وَ لَكُمْ طاقَةٌ بِما اُحاوِلُ، وَ قُوَّةٌ عَلی ما اَطْلُبُ وَ اُزاوِلُ.

اَتَقُولُونَ ماتَ مُحَمَّدٌ؟ فَخَطْبٌ جَلیلٌ اِسْتَوْسَعَ وَ هْنُهُ، وَاسْتَنْهَرَ فَتْقُهُ، وَ انْفَتَقَ رَتْقُهُ، وَ اُظْلِمَتِ الْاَرْضُ لِغَیبَتِهِ، وَ كُسِفَتِ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ وَ انْتَثَرَتِ النُّجُومُ لِمُصیبَتِهِ، وَ اَكْدَتِ الْامالُ، وَ خَشَعَتِ الْجِبالُ، وَ اُضیعَ الْحَریمُ، وَ اُزیلَتِ الْحُرْمَةُ عِنْدَ مَماتِهِ.

فَتِلْكَ وَاللَّـهِ النَّازِلَةُ الْكُبْری وَ الْمُصیبَةُ الْعُظْمی، لامِثْلُها نازِلَةٌ، وَ لابائِقَةٌ عاجِلَةٌ اُعْلِنَ بِها، كِتابُ اللَّـهِ جَلَّ ثَناؤُهُ فی اَفْنِیتِكُمْ، وَ فی مُمْساكُمْ وَ مُصْبِحِكُمْ، یهْتِفُ فی اَفْنِیتِكُمْ هُتافاً وَ صُراخاً وَ تِلاوَةً وَ اَلْحاناً، وَ لَقَبْلَهُ ما حَلَّ بِاَنْبِیاءِ اللَّـهِ وَ رُسُلِهِ، حُكْمٌ فَصْلٌ وَ قَضاءٌ حَتْمٌ.

«وَ ما مُحَمَّدٌ اِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اَفَاِنْ ماتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلی اَعْقابِكُمْ وَ مَنْ ینْقَلِبْ عَلی عَقِبَیهِ فَلَنْ یضُرَّ اللَّـهَ شَیئاً وَ سَیجْزِی اللَّـهُ شَیئاً وَ سَیجْزِی اللَّـهُ الشَّاكِرینَ».[48]
اے ملت كے مددگار جوانو اور اسلام كى مدد كرنے والو كیوں حق كے ثابت كرنے میں سستى كر رہے ہو اور جو ظلم مجھ پر ہوا ہے اس سے خواب غفلت میں ہو؟ كیا میرے والد نے نہیں فرمایا كہ كسى كا احترام اس كى اولاد میں بھى محفوظ ہوتا ہے یعنى اس كے احترام كى وجہ سے اس كى اولاد كا احترام كیا كرو؟ كتنا جلدى فتنہ برپا كیا ہے تم نے؟ اور كتنى جلدى ہوى اور ہوس میں مبتلا ہوگئے ہو؟ تم اس ظلم كے ہٹانے میں جو مجھ پر ہوا ہے قدرت ركھتے ہو اور میرے مدعا اور خواستہ كے برلانے پر طاقت ركھتے ہو۔

كیا كہتے ہو كہ محمدؐ مرگئے؟ جى ہاں لیكن یہ ایك بہت بڑى مصیبت ہے كہ ہر روز اس كا شگاف بڑھ رہا ہے اور اس كا خلل زیادہ ہو رہا ہے۔ آنجنابؐ كى غیبت سے زمین تاریك ہوگئی ہے سورج اور چاند بے رونق ہوگئے ہیں آپ كى مصیبت پر ستارے تتربتر ہوگئے ہیں، امیدیں ٹوٹ گئیں، پہاڑ متزلزل اور ریزہ ریزہ ہوگئے ہیں پیغمبرؐ كے احترام كى رعایت نہیں كى گئی،

قسم خدا كى یہ ایک بہت بڑى مصیبت تھى كہ جس كى مثال ابھى تگ دیكھى نہیں گئی اللہ كى كتاب جو صبح اور شام كو پڑھى جا رہى ہے آپ كى اس مصیبت كى خبر دیتى ہے كہ پیغمبرؐ بھى عام لوگوں كى طرح مریں گے، قرآن میں ارشاد ہوتا ہے كہ اور حضرت محمد ؐ نہیں ہیں مگر پیغمبر جن سے پہلے تمام پیغمبر گزر چکے ہیں تو کیا اگر وہ وفات پا جائیں یا قتل کر دیئے جائیں تو تم الٹے پاؤں (کفر کی طرف) پلٹ جاؤگے اور جو کوئی الٹے پاؤں پھرے گا تو وہ ہرگز اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور عنقریب خدا شکرگزار بندوں کو جزا دے گا۔
اَیها بَنی قیلَةَ! ءَ اُهْضَمُ تُراثَ اَبی وَ اَنْتُمْ بِمَرْأی مِنّی وَ مَسْمَعٍ وَ مُنْتَدی وَ مَجْمَعٍ، تَلْبَسُكُمُ الدَّعْوَةُ وَ تَشْمَلُكُمُ الْخُبْرَةُ، وَ اَنْتُمْ ذَوُو الْعَدَدِ وَ الْعُدَّةِ وَ الْاَداةِ وَ الْقُوَّةِ، وَ عِنْدَكُمُ السِّلاحُ وَ الْجُنَّةُ، تُوافیكُمُ الدَّعْوَةُ فَلاتُجیبُونَ، وَ تَأْتیكُمُ الصَّرْخَةُ فَلاتُغیثُونَ، وَ اَنْتُمْ مَوْصُوفُونَ بِالْكِفاحِ، مَعْرُوفُونَ بِالْخَیرِ وَ الصَّلاحِ، وَ النُّخْبَةُ الَّتی انْتُخِبَتْ، وَ الْخِیرَةُ الَّتِی اخْتیرَتْ لَنا اَهْلَ الْبَیتِ.

قاتَلْتُمُ الْعَرَبَ، وَ تَحَمَّلْتُمُ الْكَدَّ وَ التَّعَبَ، وَ ناطَحْتُمُ الْاُمَمَ، وَ كافَحْتُمُ الْبُهَمَ، لانَبْرَحُ اَوْ تَبْرَحُونَ، نَأْمُرُكُمْ فَتَأْتَمِرُونَ، حَتَّی اِذا دارَتْ بِنا رَحَی الْاِسْلامِ، وَ دَرَّ حَلَبُ الْاَیامِ، وَ خَضَعَتْ نُعْرَةُ الشِّرْكِ، وَ سَكَنَتْ فَوْرَةُ الْاِفْكِ، وَ خَمَدَتْ نیرانُ الْكُفْرِ، وَ هَدَأَتْ دَعْوَةُ الْهَرَجِ، وَ اسْتَوْسَقَ نِظامُ الدّینِ، فَاَنَّی حِزْتُمْ بَعْدَ الْبَیانِ، وَاَسْرَرْتُمْ بَعْدَ الْاِعْلانِ، وَ نَكَصْتُمْ بَعْدَ الْاِقْدامِ، وَاَشْرَكْتُمْ بَعْدَ الْایمانِ؟

بُؤْساً لِقَوْمٍ نَكَثُوا اَیمانَهُمْ مِنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ، وَ هَمُّوا بِاِخْراجِ الرَّسُولِ وَ هُمْ بَدَؤُكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ، اَتَخْشَوْنَهُمْ فَاللَّـهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشَوْهُ اِنْ كُنْتُمْ مُؤمِنینَ.[49]
اے فرزندان قیلہ: (انصار کا گروہ) کیا یہ مناسب ہے كہ میں باپ كى میراث سے محروم رہوں جب كہ تم یہ دیكھ رہے ہو اور سن رہے ہو اور یہاں موجود ہو میرى پكار تم تك پہنچ چكى ہے اور تمام واقعہ سے مطلع ہو، تمہارى تعداد زیادہ ہے اور تم طاقت ور اور اسلحہ بدست ہو، میرے استغاثہ كى آواز تم تك پہنچتى ہے لیكن تم اس پر لبیك نہیں كہتے میرى فریاد كو سنتے ہو لیكن میرى فریاد رسى نہیں كرتے تم بہادرى میں معروف اور نیكى اور خیر سے موصوف ہو، خود نخبہ ہو اور نخبہ كى اولاد ہو تم ہم اہلبیت كے لئے منتخب ہوئے ہو، عربوں كے ساتھ تم نے جنگیں كیں اور سختیوں كو برداشت كیا، قبائل سے لڑے ہو، بہادروں سے پنجہ آزمائی كى ہے جب ہم اٹھ كھڑے ہوتے تھے تم بھى اٹھ كھڑے ہوتے تھے ہم حكم دیتے تھے تم اطاعت كرتے تھے یہاں تک کہ اسلام نے رونق پائی اور غنائم زیادہ ہوئے اور مشركین تسلیم ہوگئے اور ان كا جھوٹا وقار اور جوش ختم ہوگیا، کفر کی آگ بجھ گئی، ہرج و مرج کی صدائیں خاموش ہوگئیں اور دین كا نظام مستحكم ہوگیا، پھر کیوں اقرار کے بعد اپنے ایمان پر حیران ہوگئے؟ ظاہر ہونے کے بعد کیوں چھپ گئے؟ کیوں پیشقدمی کے بعد پیچھے لوٹ گئے اور ایمان کے بعد شرک انتخاب کیا؟ وای ہو ان لوگوں پر جنہوں نے عہد کے بعد اپنی قَسموں کو توڑ ڈالا پیغمبرؐ کو (وطن سے) نکالنے کا ارادہ کیا اور پھر تمہارے برخلاف لڑائی میں پہل بھی کی۔ تم ان سے ڈرتے ہو؟ اللہ زیادہ حقدار ہے اس بات کا کہ اس سے ڈرو اگر تم مؤمن ہو۔
اَلا، وَ قَدْ أَری اَنْ قَدْ اَخْلَدْتُمْ اِلَی الْخَفْضِ، وَ اَبْعَدْتُمْ مَنْ هُوَ اَحَقُّ بِالْبَسْطِ وَ الْقَبْضِ، وَ خَلَوْتُمْ بِالدَّعَةِ، وَ نَجَوْتُمْ بِالضّیقِ مِنَ السَّعَةِ، فَمَجَجْتُمْ ما وَعَبْتُمْ، وَ دَسَعْتُمُ الَّذی تَسَوَّغْتُمْ، فَاِنْ تَكْفُرُوا اَنْتُمْ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ جَمیعاً فَاِنَّ اللَّـهَ لَغَنِی حَمیدٌ.[50]

اَلا، وَ قَدْ قُلْتُ ما قُلْتُ هذا عَلی مَعْرِفَةٍ مِنّی بِالْخِذْلَةِ الَّتی خامَرْتُكُمْ، وَ الْغَدْرَةِ الَّتِی اسْتَشْعَرَتْها قُلُوبُكُمْ، وَ لكِنَّها فَیضَةُ النَّفْسِ، وَ نَفْثَةُ الْغَیظِ، وَ حَوَزُ الْقَناةِ، وَ بَثَّةُ الصَّدْرِ، وَ تَقْدِمَةُ الْحُجَّةِ، فَدُونَكُمُوها فَاحْتَقِبُوها دَبِرَةَ الظَّهْرِ، نَقِبَةَ الْخُفِّ، باقِیةَ الْعارِ، مَوْسُومَةً بِغَضَبِ الْجَبَّارِ وَ شَنارِ الْاَبَدِ، مَوْصُولَةً بِنارِ اللَّـهِ الْمُوقَدَةِ الَّتی تَطَّلِعُ عَلَی الْاَفْئِدَةِ.

فَبِعَینِ اللَّـهِ ما تَفْعَلُونَ، وَ سَیعْلَمُ الَّذینَ ظَلَمُوا اَی مُنْقَلَبٍ ینْقَلِبُونَ، وَ اَنَا اِبْنَةُ نَذیرٍ لَكُمْ بَینَ یدَی عَذابٌ شَدیدٌ، فَاعْمَلُوا اِنَّا عامِلُونَ، وَ انْتَظِرُوا اِنَّا مُنْتَظِرُونَ.
لوگو میں گویا دیكھ رہى كہ تم پستى كى طرف جارہے ہو، اس آدمى كو جو حكومت كرنے كا اہل ہے اسے دور ہٹا رہے ہو اور تم گوشہ میں بیٹھ كر عیش اور نوش میں مشغول ہوگئے ہو زندگى اور جہاد كے وسیع میدان سے قرار كر كے راحت طلبى كے چھوٹے محیط میں چلے گئے ہو، جو كچھ تمہارے اندر تھا اسے تم نے ظاہر كردیا ہے اور جو كچھ پى چكے تھے اسے اگل دیا ہے لیكن آگاہ رہو اگر تم اور تمام روئے زمین كے لوگ كافر ہوجائیں تو خدا تمہارا محتاج نہیں ہے۔ اے لوگو جو كچھ مجھے كہنا چاہیئے تھا میں نے كہہ دیا ہے حالانكہ میں جانتى ہوں كہ تم میرى مدد نہیں كروگے۔ تمہارے منصوبے مجھ سے مخفى نہیں، لیكن كیا كروں دل میں ایك درد تھا كہ جس كو میں نے بہت ناراحتى كے باوجود ظاہر كردیا ہے تا كہ تم پر حجت تمام ہوجائے۔ اب فدك اور خلافت كو خوب مضبوطى سے پكڑے ركھو لیكن تمہیں یہ معلوم ہونا چاہیئے كہ اس میں مشكلات اور دشواریاں موجود ہیں اور اس كا ننگ و عار ہمیشہ كے لئے تمہارے دامن پہ باقى رہ جائے گا، اللہ تعالى كا خشم اور غصہ اس پر مزید ہوگا اور اس كى جزا جہنم كى آگ ہوگى اللہ تعالى تمہارے كردار سے آگاہ ہے، بہت جلد ستم گار اپنے اعمال كے نتائج دیكھ لیں گے۔ لوگو میں تمہارے اس نبى كى بیٹى ہوں كہ جو تمہیں اللہ كے عذاب سے ڈراتا تھا۔ جو كچھ كرسكتے ہو اسے انجام دو ہم بھى تم سے انتقام لیں گے تم بھى انتظار كرو ہم بھى منتظر ہیں
فأجابها أبوبكر عبداللَّـه بن عثمان، و قال:

یا بِنْتَ رَسُولِ اللَّـهِ! لَقَدْ كانَ اَبُوكِ بِالْمُؤمِنینَ عَطُوفاً كَریماً، رَؤُوفاً رَحیماً، وَ عَلَی الْكافِرینَ عَذاباً اَلیماً وَ عِقاباً عَظیماً، اِنْ عَزَوْناهُ وَجَدْناهُ اَباكِ دُونَ النِّساءِ، وَ اَخا اِلْفِكِ دُونَ الْاَخِلاَّءِ، اثَرَهُ عَلی كُلِّ حَمیمٍ وَ ساعَدَهُ فی كُلِّ اَمْرٍ جَسیمِ، لایحِبُّكُمْ اِلاَّ سَعیدٌ، وَ لایبْغِضُكُمْ اِلاَّ شَقِی بَعیدٌ.

فَاَنْتُمْ عِتْرَةُ رَسُولِاللَّـهِ الطَّیبُونَ، الْخِیرَةُ الْمُنْتَجَبُونَ، عَلَی الْخَیرِ اَدِلَّتُنا وَ اِلَی الْجَنَّةِ مَسالِكُنا، وَ اَنْتِ یا خِیرَةَ النِّساءِ وَ ابْنَةَ خَیرِ الْاَنْبِیاءِ، صادِقَةٌ فی قَوْلِكِ، سابِقَةٌ فی وُفُورِ عَقْلِكِ، غَیرَ مَرْدُودَةٍ عَنْ حَقِّكِ، وَ لامَصْدُودَةٍ عَنْ صِدْقِكِ.

وَ اللَّـهِ ما عَدَوْتُ رَأْی رَسُولِاللَّـهِ، وَ لاعَمِلْتُ اِلاَّ بِاِذْنِهِ، وَ الرَّائِدُ لایكْذِبُ اَهْلَهُ، وَ اِنّی اُشْهِدُ اللَّـهَ وَ كَفی بِهِ شَهیداً، اَنّی سَمِعْتُ رَسُولَاللَّـهِ یقُولُ: «نَحْنُ مَعاشِرَ الْاَنْبِیاءِ لانُوَرِّثُ ذَهَباً وَ لافِضَّةًّ، وَ لاداراً وَ لاعِقاراً، وَ اِنَّما نُوَرِّثُ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ الْعِلْمَ وَ النُّبُوَّةَ، وَ ما كانَ لَنا مِنْ طُعْمَةٍ فَلِوَلِی الْاَمْرِ بَعْدَنا اَنْ یحْكُمَ فیهِ بِحُكْمِهِ».
اس کے جوا ب میں ابو بکر (عبد اللہ بن عثمان)نے یوں جواب دیتے ہوئے کہا:

دختر رسول خداؐ: آپ کے بابا مومنین پر بہت مہربان۔رحم وکرم کرنے والے اور صاحب عطوفت تھے۔وہ کافروں کے لئے دردناک عذاب اور سخت ترین قہرالہی تھے۔آپ اگر ان کی نسبتوں پر غور کریں تو وہ تمام عورتوں میں صرف آپ کے باپ تھے اور تمام چاہنے والوں میں صرف آپ کے شوہر کے چاہنے والے تھے اور انھوں نے بھی ہر سخت مر حلہ پر نبیؐ کا سا تھ دیا ہے۔آپ کا دوست نیک بخت اور سعید انسان کے علاوہ کوئی نہیں ہو سکتا ہے او ر آ پ کا دشمن شقی اور بد بخت کے علاوہ کوئی نہیں ہوسکتا۔ آپ رسول اکرمؐ کی پاکیزہ عترت اور ان کے منتخب پسندیدہ افراد ہیں۔آپ ہی حضرات راہ خیر میں ہمارے رہنما اور جنت کی طرف ہمیں لے جانے والے ہیں۔اور خود آپ اے تمام خواتین عالم میں منتخب اور خیر الانبیاء کی دختر۔یقیناًاپنے کلام میں صادق اور کمال عقل میں سب پر مقدم ہیں۔آپ کو نہ آپ کے حق سے روکا جا سکتا ہے اور نہ آپ کی صداقت کا انکار کیا جا سکتا ہے مگر خدا کی قسم میں نے رسولؐ کی رأے میں عدول نہیں کیا ہے اور نہ کو ئی کام ان کی اجازت کے بغیر کیا ہے اور میر کارواں قافلہ سے خیانت بھی نہیں کر سکتا ہے۔میں اللہ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں اور وہی گواہی کے لئے کافی ہے کہ میں نے خود رسول اکرمؐ سے سنا ہے کہ ہم گر وہ انبیأ ۔سونے چاندی اور خانہ وجایداد کا مالک نہیں بناتے ہیں۔ہماری وراثت کتاب، حکمت، علم و نبوت ہے اور جو کچھ مال دنیا ہم سے بچ جاتا ہے وہ ہمارے بعد ولی امر کے اختیار میں ہوتا ہے۔وہ جو چاہے فیصلہ کر سکتا ہے۔

وَ قَدْ جَعَلْنا ما حاوَلْتِهِ فِی الْكِراعِ وَ السِّلاحِ، یقاتِلُ بِهَا الْمُسْلِمُونَ وَ یجاهِدُونَ الْكُفَّارَ، وَ یجالِدُونَ الْمَرَدَةَ الْفُجَّارَ، وَ ذلِكَ بِاِجْماعِ الْمُسْلِمینَ، لَمْ اَنْفَرِدْ بِهِ وَحْدی، وَ لَمْ اَسْتَبِدْ بِما كانَ الرَّأْی عِنْدی، وَ هذِهِ حالی وَ مالی، هِی لَكِ وَ بَینَ یدَیكِ، لاتَزْوی عَنْكِ وَ لانَدَّخِرُ دُونَكِ، وَ اَنَّكِ، وَ اَنْتِ سَیدَةُ اُمَّةِ اَبیكِ وَ الشَّجَرَةُ الطَّیبَةُ لِبَنیكِ، لایدْفَعُ مالَكِ مِنْ فَضْلِكِ، وَ لایوضَعُ فی فَرْعِكِ وَ اَصْلِكِ، حُكْمُكِ نافِذٌ فیما مَلَّكَتْ یدای، فَهَلْ‌ترین اَنْ اُخالِفَ فی ذاكَ اَباكِ (صَلَّی اللَّـهُ عَلَیهِ وَ الِهِ وَ سَلَّمَ). اور میں نے آپ کے تمام مطلوبہ اموال کو سامان جنگ کے لئے مخصوص کر دیا ہے جس کے ذریعہ مسلمان کفار سے جہاد کریں گے اور سرکش فاجروں سے مقابلہ کریں گے اور یہ کام مسلمانوں کے اتفاق رأے سے کیا ہے(۶) ۔یہ تنہا میری رأے نہیں ہیں اور نہ میں نے ذاتی طور پر طے کیا ہے۔ یہ میرا ذاتی مال اور سرمایہ آپ کے لئے حاضر ہے اور آپ کی خدمت میں ہے جس میں کو ئی کوتاہی نہیں کی جا سکتی ہے۔ آپ تو اپنے باپ کی امت کی سردار ہیں اور اپنی اولاد کے لئے شجرۂ طیبہ ہیں۔آپ کے فضل وشرف کا انکار نہیں کیا جا سکتاہے اور آپ کے اصل و فرع کو گرایا نہیں جا سکتا ہے۔آپ کا حکم تو میری تمام املاک میں بھی نافذ ہے تو کیسے ممکن ہے میں اس مألہ میں آپ کے بابا کی مخالفت کر دوں؟
فقالت:

سُبْحانَ اللَّـهِ، ما كانَ اَبی رَسُولُ اللَّـهِ عَنْ كِتابِ اللَّـهِ صادِفاً، وَ لا لِاَحْكامِهِ مُخالِفاً، بَلْ كانَ یتْبَعُ اَثَرَهُ، وَ یقْفُو سُوَرَهُ، اَفَتَجْمَعُونَ اِلَی الْغَدْرِ اِعْتِلالاً عَلَیهِ بِالزُّورِ، وَ هذا بَعْدَ وَفاتِهِ شَبیهٌ بِما بُغِی لَهُ مِنَ الْغَوائِلِ فی حَیاتِهِ، هذا كِتابُ اللَّـهِ حُكْماً عَدْلاً وَ ناطِقاً فَصْلاً، یقُولُ: «یرِثُنی وَ یرِثُ مِنْ آلِ یعْقُوبَ»[51]، وَ یقُولُ: «وَ وَرِثَ سُلَیمانُ داوُدَ».[52]

بَینَ عَزَّ وَ جَلَّ فیما وَزَّعَ مِنَ الْاَقْساطِ، وَ شَرَعَ مِنَ الْفَرائِضِ وَالْمیراثِ، وَ اَباحَ مِنْ حَظِّ الذَّكَرانِ وَ الْاِناثِ، ما اَزاحَ بِهِ عِلَّةَ الْمُبْطِلینَ وَ اَزالَ التَّظَنّی وَ الشُّبَهاتِ فِی الْغابِرینَ، كَلاَّ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْراً، فَصَبْرٌ جَمیلٌ وَ اللَّـهُ الْمُسْتَعانُ عَلی ما تَصِفُونَ.[53]
یہ سن کر جناب فاطمہ زہرا ؑ نے فرمایا:

سبحان اللہ۔ نہ میرا باپ احکام خدا سے روکنے والا تھا اور نہ اس کا مخالف تھا۔وہ آثار قرآن کا اتباع کرتا تھا اور اس کے سوروں کے ساتھ چلتا تھا۔ کیا تم لوگوں کا مقصد یہ ہے کہ اپنی غداری کا الزام اسکے سر ڈال دو۔ یہ ان کے انتقال کے بعد ایسی ہی سازش ہے جیسی ان کی زندگی میں کی گئی تھی۔ دیکھو یہ کتاب خدا حاکم عادل اور قول فیصل ہے جو اعلان کر رہی ہے کہ خدایا وہ ولی دیدے جو میرا بھی وارث ہو اور آل یعقوب کا بھی وارث ہو اورسلمان ؑ داؤدؑ کے وارث ہوئے۔

خدائے عز و جل نے تمام حصے اور فرا ئض کے تمام احکام بیان کر دیے ہیں جہاں لڑکوں اور لڑکیوں کے حقوق کی بھی وضاحت کر دی ہے اور اس طرح تمام اہل باطل کے بہانوں کو باطل کر دیا ہے اور قیامت تک کے تمام شبہات اور خیالات کو ختم کر دیا ہے۔ یقینایہ تم لوگوں کے نفس نے ایک بات گڑھ لی ہے تو اب میں بھی صبر جمیل سے کام لے رہی ہوں اور اللہ ہی تمہارے بیانات کے بارے میں میرا مدد گار ہے۔
فقال أبوبكر: صَدَقَ اللَّـهُ وَ رَسُولُهُ وَ صَدَقَتْ اِبْنَتُهُ، مَعْدِنُ الْحِكْمَةِ، وَ مَوْطِنُ الْهُدی وَ الرَّحْمَةِ، وَ رُكْنُ الدّینِ، وَ عَینُ الْحُجَّةِ، لااَبْعَدُ صَوابَكِ وَ لااُنْكِرُ خِطابَكِ، هؤُلاءِ الْمُسْلِمُونَ بَینی وَ بَینَكِ قَلَّدُونی ما تَقَلَّدْتُ، وَ بِاتِّفاقٍ مِنْهُمْ اَخَذْتُ ما اَخَذْتُ، غَیرَ مَكابِرٍ وَ لامُسْتَبِدٍّ وَ لامُسْتَأْثِرٍ، وَ هُمْ بِذلِكَ شُهُودٌ.(اس کے بعد ابوبکر نے کہا) اللہ، رسولؐ اور رسولؐ کی بیٹی سب سچے ہیں۔آپ حکمت کے معادن، ہدایت ورحمت کا مرکز، دین کے رکن ، حجت خدا کا سر چشمہ ہیں۔میں نہ آپ کے حرف راست کو دور پھینک سکتا ہوں اور نہ آپ کے بیان کا انکار کر سکتا ہوں۔مگر یہ ہمارے اورآپ کے سامنے مسلمان ہیں۔جنہوں نے مجھے خلافت کی ذمہ داری دی ہے اور میں نے ان کے اتفاق رائے سے یہ عہدہ سنبھالا ہے۔اس میں نہ میری بڑائی شامل ہے نہ خود رائی اور نہ شوق حکومت۔ یہ سب میری اس بات کے گواہ ہیں۔
فالتفت فاطمة علیهاالسلام الی النساء، و قالت: مَعاشِرَ الْمُسْلِمینَ الْمُسْرِعَةِ اِلی قیلِ الْباطِلِ، الْمُغْضِیةِ عَلَی الْفِعْلِ الْقَبیحِ الْخاسِرِ، اَفَلاتَتَدَبَّرُونَ الْقُرْانَ اَمْعَلی قُلُوبٍ اَقْفالُها، كَلاَّ بَلْ رانَ عَلی قُلُوبِكُمْ ما اَسَأْتُمْ مِنْ اَعْمالِكُمْ، فَاَخَذَ بِسَمْعِكُمْ وَ اَبْصارِكُمْ، وَ لَبِئْسَ ما تَأَوَّلْتُمْ، وَ ساءَ ما بِهِ اَشَرْتُمْ، وَ شَرَّ ما مِنْهُ اِعْتَضْتُمْ، لَتَجِدَنَّ وَ اللَّـهِ مَحْمِلَهُ ثَقیلاً، وَ غِبَّهُ وَ بیلاً، اِذا كُشِفَ لَكُمُ الْغِطاءُ، وَ بانَ ما وَرائَهُ الضَّرَّاءُ، وَ بَدا لَكُمْ مِنْ رَبِّكُمْ ما لَمْ تَكُونُوا تَحْتَسِبُونَ، وَ خَسِرَ هُنالِكَ الْمُبْطِلُونَ. جسے سن کر جناب فاطمہ زہراؑ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اورفرمایا:

اے گروہ مسلمین جو حرف باطل کی طرف تیزی سے سبقت کرنے والے اور فعل قبیح سے چشم پوشی کرنے والے ہو۔ کیا تم قرآن پر غور نہیں کرتے ہواور کیا تمھارے دلوں پر تالے پڑے ہؤے ہیں۔یقیناًتمھارے اعمال نے تمھارے دلوں کو زنگ آلود کر دیا ہے اور تمھاری سماعت اور بصارت کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے۔تم نے بد ترین تاویل سے کام لیا ہے۔

اور بدترین راستہ کی نشان دہی کی ہے اور بد ترین معاوضہ پر سودا کیا ہے۔ عنقریب تم اس بوجھ کی سنگینی کا احساس کرو گے اور اس کے انجام کو بہت درد ناک پاؤ گے جب پردے اٹھا ئے جائیں گے اور پس پردہ کے نقصانات سامنے آجا ئیں گے اور خدا کی طرف سے وہ چیزیں سامنے آجأے گی جن کا تمھیں وہم گمان بھی نہیں ہے اور اہل باطل خسارہ کو بر داشت کریں گے۔
ثم عطفت علی قبر النبی صلی اللَّـه علیه و آله، و قالت:پھر جناب فاطمہ زہراؑ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا:

قَدْ كانَ بَعْدَكَ اَنْباءٌ وَهَنْبَثَةٌ، لَوْ كُنْتَ شاهِدَها لَمْ تَكْثِرِ الْخُطَبُ،

اِنَّا فَقَدْ ناكَ فَقْدَ الْاَرْضِ وابِلَها، وَ اخْتَلَّ قَوْمُكَ فَاشْهَدْهُمْ وَ لاتَغِبُ،

وَ كُلُّ اَهْلٍ لَهُ قُرْبی وَ مَنْزِلَةٌ، عِنْدَ الْاِلهِ عَلَی الْاَدْنَینِ مُقْتَرِبُ،

اَبْدَتْ رِجالٌ لَنا نَجْوی صُدُورِهِمُ، لمَّا مَضَیتَ وَ حالَتْ دُونَكَ التُّرَبُ

تَجَهَّمَتْنا رِجالٌ وَ اسْتُخِفَّ بِنا، لَمَّا فُقِدْتَ وَ كُلُّ الْاِرْثِ مُغْتَصَبُ،

وَ كُنْتَ بَدْراً وَ نُوراً یسْتَضاءُ بِهِ، عَلَیكَ تُنْزِلُ مِنْ ذِی الْعِزَّةِ الْكُتُبُ،

وَ كانَ جِبْریلُ بِالْایاتِ یؤْنِسُنا، فَقَدْ فُقِدْتَ وَ كُلُّ الْخَیرِ مُحْتَجَبُ،

فَلَیتَ قَبْلَكَ كانَ الْمَوْتُ صادِفُنا، لَمَّا مَضَیتَ وَ حالَتْ دُونَكَ الْكُتُبُ۔

بابا آپؐ کے بعد بڑی نئی نئی خبریں اور مصیبتیں سامنے آئیں کہ اگر آپ سامنے ہوتے تو مصائب کی یہ کثرت نہ ہوتی۔ ہم نے آپ کو ویسے ہی کھو دیا جیسے زمین ابر کرم سے محروم ہو جأے۔ اور اب آپ کی قوم بالکل ہی منحرف ہوگئی ہے۔

ذرا آپ آکر دیکھ تو لیں دنیا کا جو خاندان خدا کی نگاہ میں قرب ومنزلت رکھتا ہے وہ دوسروں کی نگاہ میں محترم ہوتا ہے مگر ہمارا کوئی احترام نہیں ہے کچھ لوگوں نے اپنے دل کے کینوں کا اس وقت اظہار کیا جب آپ اس دنیا سے چلے گئے اور میرے اورآپ کے درمیان خاک قبر حائل ہوگئی۔لوگوں نے ہمارے اوپر ہجوم کرلیا اور آپ کے بعد ہم کو بے قدر وقیمت سمجھ کر ہماری میراث کو ہضم کر لیا۔ آپ کی حیثیت ایک بدر کامل اور نور مجسم کی تھی جس سے روشنی حاصل کی جاتی تھی اور اس پر ربِّ عزت کے پیغامات نازل ہوتے تھے۔

جبریل آیات الہی سے ہمارے لئے سامان انس فراہم کرتے تھے مگر آپ کیا گئے کہ ساری نیکیاں پس پردہ چلی گئیں۔ کاش مجھے آپ سے پہلے موت آگئی ہوتی اور میں آپ کے اور اپنے درمیان خاک کے حائل ہونے سے پہلے مر گئی ہوتی۔

خطبے کی شرحیں

خطبہ فدکیہ کی شرحیں لکھی گئی ہیں۔ آقا بزرگ تہرانی کتاب الذریعہ میں ان میں بعض کے ناموں کا تذکرہ کیا ہے: جیسے کشف المحجة فی شرح خطبة اللمة شارح سید عبد اللہ شبر، شرح خطبة اللمہ شارح کرمانی مشہدی، شرح خطبة اللمہ شارح سید علی نقی نقوی لکھنوی و شرح خطبة اللمہ شارح فضل علی قزوینی۔[54] اسی طرح سے علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں اس خطبہ اور اس کے مصادر کو ذکر کرنے کے بعد اس کی شرح و تفسیر لکھی ہے۔[55] نقل ہوا ہے کہ علامہ مجلسی کی شرح اس کی سب سے اہم شرح ہے۔[56]

اس خطبہ کی بعض دیگر شرحیں مندرجہ ذیل ہیں:

  • خطبہ حضرت فاطمہ زهرا (س) و واقعہ فدک شارح حسین علی منتظری، انتشارات خرد آوا
  • خطبہ آتشین بانوی اسلام در بستر شهادت تألیف ناصر مکارم شیرازی
  • شرح خطبہ حضرت زهرا (س) مولف سید عز الدین حسینی زنجانی، انتشارات بوستان کتاب
  • بحثی کوتاه پیرامون خطبہ فدکیہ مولف مجتبی تهرانی، مؤسسہ پژوهشی مصابیح الهدی
  • خطبہ فدکیہ، مبانی معرفتی و زمینہ ‌های تاریخی مولف سید محمد مهدی میر باقری، نشر تمدن نوین اسلامی

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. آموزه‌های هفت‌ گانہ خطبہ تاریخی حضرت زهراء پایگاه اطلاع‌ رسانی آیت‌ الله مکارم شیرازی
  2. میرزایی، «اهمیت ضرورت و جایگاه امامت در نگاه حضرت صدیق طاهره(س)»، ص۴۱ و ۴۵.
  3. آموزه‌های هفت ‌گانہ خطبہ تاریخی حضرت زهراء پایگاه اطلاع‌ رسانی آیت الله مکارم شیرازی
  4. پور سید آقایی، «خطبہ ‌های فاطمی»، ص۴۷.
  5. شرف‌ الدین موسوی، المراجعات، ۱۴۰۲ق، ص۳۹۲.
  6. ندری ابیانہ، «ویژگی‌های خطابی خطبہ فدکیہ»، ص۱۳۳.
  7. ابن طیفور، بلاغات النساء، ۱۳۲۶ق، ص۱۶.
  8. یاقوت حموی، معجم ‌البلدان، ۱۹۹۵م، ذیل ماده فدک، ص۲۳۸.
  9. یاقوت حموی، معجم ‌البلدان، ۱۹۹۵م، ج۴، ص۲۳۸.
  10. بلادی، معجم معالم الحجاز، ۱۴۳۱ق، ج۲، ص۲۰۶ و ۲۰۵ و ج۷، ص۲۳.
  11. شہیدی، زندگانی فاطمہ زہراؑ، ص۹۷_۹۶
  12. مقریزی، امتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۱، ص۳۲۵.
  13. سوره حشر، آیہ ۶و۷.
  14. سبحانی، فروغ ولایت، ۱۳۸۰ش، ص۲۱۸.
  15. سوره اسراء، آیہ ۲۶.
  16. شیخ طوسی، التبیان،‌ دار احیاء التراث العربی، ج۶، ص۴۶۸؛ طبرسی، مجمع البیان، ۱۳۷۲ش، ج۶، ص۶۳۳-۶۳۴: حسکانی، شواهد التنزیل، ۱۴۱۱ق، ج‌۱، ص۴۳۸-۴۳۹؛ سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۰۴ق، ج۴، ص۱۷۷.
  17. بلاذری، فتوح البلدان، ۱۹۵۶م، ص۴۰ و ۴۱.
  18. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۹۱؛ سید جعفر مرتضی، الصحیح من سیرة النبی، ۱۴۲۶ق، ج۱۸، ص۲۴۱.
  19. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۵۴۳؛ شیخ مفید، المقنعة، ۱۴۱۰ق، ص۲۸۹ و ۲۹۰.
  20. حلبی، السیرة الحلبیة، ۱۹۷۱م، ج۳، ص۵۱۲.
  21. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۵۴۳؛ حلبی، السیرة الحلبیة، ۱۹۷۱م، ج۳، ص۵۱۲.
  22. بلاذری، فتوح البلدان، ۱۹۵۶م، ص۴۰.
  23. اربلی، کشف الغمة، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۳۵۳-۳۶۴.
  24. ابن طیفور، بلاغات النساء، ۱۳۲۶ق، ص۱۶.
  25. الویری، «خطبة اللمة-سندها و مکانتها عند الشیعه»، ۱۵.
  26. الویری، «خطبة اللمة-سندها و مکانتها عند الشیعہ»، ۱۵.
  27. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۹، ص۲۱۵.
  28. صدوق، من لا یحضر، ۱۴۰۴ق، ج۳، ص۵۶۷-۵۶۸.
  29. منتظری، خطبہ حضرت زهرا علیها السلام، ۱۳۸۵ش، ص۳۷.
  30. ابن طیفور، بلاغات النساء، ۱۳۲۶ق، ص۱۷-۲۵.
  31. شهیدی، زندگانی فاطمہ زهرا، ۱۳۶۲ش، ص۱۲۲.
  32. آذربادگان، «نگاهی گذرا بہ اسناد و منابع مکتوب خطبہ فدک» پرتال جامع علوم انسانی.
  33. پور سید آقایی، «خطبہ‌ های فاطمی»، ص۵۱.
  34. شہیدی، زندگانی فاطمہؑ زہرا علیہا السلام، صص ۱۲۶-۱۳۵
  35. سورہ فاطر:28
  36. سورہ توبہ:128
  37. سورہ آل عمران:103
  38. سورہ مائدہ:64
  39. سورہ توبہ:49
  40. سورہ آل عمران:85
  41. سورہ نمل:16
  42. سورہ مریم: 6
  43. سورہ انفال:75
  44. سورہ نساء:11
  45. سورہ بقرہ:180
  46. سورہ انعام:67
  47. سورہ ہود:39
  48. سورہ آل عمران: 144
  49. سورہ توبہ:13
  50. سورہ ابراہیم:8
  51. سورہ مریم:6
  52. سورہ نمل:16
  53. سورہ یوسف:18
  54. آقا بزرگ تهرانی، الذریعہ، ۱۴۰۳ق، ج۱۳، صص۲۲۴ و ج۱۸، ص۵۸.
  55. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۲۹، ص۲۱۵-۳۳۵.
  56. پور سیدآقایی، «خطبہ ‌های فاطمی»، ص ۵۸.


مآخذ

  • آذربادگان، حسین علی، «نگاهی گذرا بہ اسناد و منابع مکتوب خطبہ فدک»، فصلنامہ علوم حدیث، شماره ۲۶، ۱۳۸۶ش.
  • آقا بزرگ تهرانی، محمد محسن، الذریعہ الی تصانیف الشیع، بیروت، دار الاضواء، ۱۴۰۳ھ
  • ابن شهر آشوب، محمد بن علی، مناقب آل أبی ‌طالب، نجف، المكتبة والمطبعة الحیدریة، ۱۳۷۶ھ
  • اربلی، علی بن عیسی، کشف الغمة فی معرفة الأئمة، قم، رضی، چاپ اول، ۱۴۲۱ھ
  • الویری، محسن، «خطبة اللمة-سندها و مکانتها عند الشیعه»، الدراسات فی العلوم الانسانیہ، السنہ ۱۶، شماره۴، شوال ۱۴۳۰ھ
  • بلادی، عاتق بن غیث، معجم معالم الحجاز، دار مکه/مؤسسہ الریان، ۱۴۳۱ھ
  • بلاذری، احمد بن یحیی، فتوح البلدان، بیروت،‌ دار و مکتبة الهلال، ۱۹۸۸ء
  • پور سیدآقایی، مسعود، «خطبہ های فاطمی»، در دانشنامہ فاطمی، ۱۳۹۳ش.
  • حسكانی، عبیدالله بن احمد، شواهد التنزیل لقواعد التفضیل، تحقیق: محمد باقر محمودی، تهران: سازمان چاپ وانتشارات وزارت ارشاد اسلامی، ۱۴۱۱ھ
  • حلبی، علی بن ابراهیم، السیرة الحلبیہ، تحقیق عبدالله محمد خلیلی، بیروت،ب‌دار الکتب العلمیة، ۱۹۷۱ء
  • سبحانی، جعفر، فروغ ولایت: تاریخ تحلیلی زندگانی امیر مؤمنان علی (ع)، قم، مؤسسہ امام صادق (ع)، چاپ ششم، ۱۳۸۰ش.
  • سید جعفر مرتضی عاملی، الصحیح من سیرة النبی الاعظم، قم، دارالحدیث، ۱۴۲۶ھ
  • سیوطی، جلال‌ الدین، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، بیروت، دار المعرفة للطباعة والنشر، بی‌تا.
  • شرف الدین موسوی، سید عبد الحسین، المراجعات، بیروت، الجمعیة الاسلامیة، ۱۴۰۲ھ
  • شهیدی، سید جعفر، زندگانی فاطمہ زهرا علیها السلام، تهران، دفتر نشر فرهنگ اسلامی، ۱۳۶۲ش.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، التبیان فی تفسیر القرآن، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • شیخ مفید، محمد بن محمد بن نعمان، المقنعة، قم، مؤسسة النشر الإسلامی، چاپ دوم، ۱۴۱۰ھ
  • صدوق، محمد بن علی، من لا یحضره الفقیہ، قم، نشر اسلامی، ۱۴۰۴ھ
  • طبرسی، احمد بن علی، الأحتجاج علی أهل اللجاج، بہ تحقیق محمد باقر خرسان، مشهد، نشر مرتضی، چاپ اول، ۱۴۰۳ھ
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع ‌البیان فی تفسیر القرآن، تهران، ناصر خسرو، ۱۳۷۲ش.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تحقیق علی‌ اکبر غفاری، تهران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۳۶۳ش.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیا التراث العربی، ۱۴۰۳ھ
  • مروزی، احمد بن ابی‌ طاهر، بلاغات النساء، قاهره، مطبعة مدرسة والدة عباس الأول، ۱۳۲۶ھ
  • مقریزى‏، احمد، إمتاع الأسماع بما للنبي من الأحوال و الأموال و الحفدة و المتاع‏، بیروت، دارالكتب العلمية، چاپ اول ۱۴۲۰ھ
  • مکارم شیرازی، ناصر، «هفت ‌گانہ خطبہ تاریخی حضرت زهراء سلام الله علیها»، پایگاه اطلاع رسانی دفتر آیت الله مکارم شیرازی
  • منتظری، حسین علی، خطبہ حضرت فاطمہ زهرا علیها السلام و ماجرای فدک، تهران، مؤسسه فرهنگی خرد آوا، ۱۳۸۵
  • میرزایی، علی رضا، «اهمیت جایگاه و ضرورت امامت در نگاه حضرت صدیقہ طاهره(س)»، در دو فصلنامہ اندیشنامہ ولایت، شماره ۲، ۱۳۹۴ش.
  • ندری ابیانہ، فرشتہ، «ویژگی‌ های خطابی خطبہ فدکیہ»، در مجلہ بانوان شیعہ، شماره ۴، ۱۳۸۴ش.
  • یاقوت حموی، یاقوت بن عبدالله، معجم البلدان، بیروت، دار صادر، چاپ دوم، ۱۹۹۵ء