مندرجات کا رخ کریں

مسودہ:سجدہ شکر

ویکی شیعہ سے

سجدہ شکر ایک مستحب سجدہ ہے جسے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے بجا لایا جاتا ہے۔ شیعہ فقہ میں نماز کے بعد، کسی نعمت کے حصول پر یا کسی مصیبت و بلا کے ٹل جانے پر سجدہ شکر بجالانے کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ سجدہ ایک مرتبہ پیشانی کو زمین پر رکھنے سے ادا ہو جاتا ہے، البتہ دو مرتبہ سجدہ کرنا بھی مستحب قرار دیا گیا ہے۔ روایات میں اس کے لیے رضائے الہی کا حصول کا سبب، اجر و ثواب میں اضافہ اور دیگر فضائل بیان ہوئے ہیں۔ اسی طرح اس سجدے میں مختلف اذکار اور دعائیں، جیسے «شُکْراً لِلّٰہ» اور «عَفْواً عَفْواً» پڑھنے کا بھی ذکر ملتا ہے۔

اہمیت اور فضیلت

سجدہ شکر مستحب اعمال میں سے ہے اور نماز کے تعقیبات کا حصہ شمار ہوتا ہے۔ روایات میں نماز کے بعد اس کے بجالانے پر تاکید کی گئی ہے اور اس کے لیے ثواب میں اضافہ، گناہوں کی بخشش اور رحمتِ الٰہی کے حصول جیسے انعامات بیان کیے گئے ہیں۔ امام جعفر صادقؑ سے منقول ایک روایت کے مطابق نماز کے بعد سجدہ شکر، نماز کی قدر و منزلت میں اضافہ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا سبب بنتا ہے۔[1] ایک اور روایت میں حصول نعمت کے شکرانے کے طور پر سجدہ شکر بجالانے پر نیکیوں کے اندراج، گناہوں کی معافی اور جنتی درجات کی بلندی جیسے اجر و ثواب کا ذکر کیا گیا ہے۔[2] امام مہدیؑ نے سجدہ شکر کو مہم ترین مستحبات میں شمار کیا ہے اور اسے واجبات کے بعد دعا اور تسبیح کے برابر قرار دیا ہے۔[3]

سجدہ شکر بجالانے کے مواقع

سجدہ شکر مستحب ہے اور درج ذیل مواقع پر اس کی خاص تاکید کی گئی ہے:

  1. واجب نمازوں اور مستحب نمازوں کے بعد؛ روایات میں خصوصاً نمازمغرب کے بعد سجدہ شکر کی تاکید کی گئی ہے۔[4]
  2. کسی نعمت کے حاصل ہونے یا کسی نئی نعمت کے عطا ہونے پر۔
  3. کسی بلا، مصیبت یا مشکل کے ٹل جانے پر۔
  4. کسی نیک عمل کی توفیق ملنے یا گناہ سے بچنے کی کامیابی پر۔
  5. کسی مصیبت زدہ یا گناہ میں مبتلا شخص کو دیکھتے وقت، اس بات پر اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے کہ انسان خود اس حالت سے محفوظ ہے۔ [5]

سجدہ شکر کا طریقہ

ایک مرتبہ پیشانی زمین پر رکھنے سے سجدہ شکر ادا ہو جاتا ہے، اگرچہ بعض فقہاء کے نزدیک دو مرتبہ سجدہ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ دو سجدوں میں پہلے پیشانی اور چہرے کا دایاں حصہ اور پھر بایاں حصہ زمین پر رکھا جاتا ہے؛[6] فقہی اصطلاح میں اس عمل کو «تَعفیرُ الجَبین» کہا جاتا ہے۔[7]

سجدہ شکر میں نماز کی طرح تکبیرِ افتتاح، تشہد اور سلام نہیں ہوتا ہے۔[8] البتہ بعض فقہاء نے سجدے سے سر اٹھانے کے بعد تکبیر کہنا مستحب قرار دیا ہے۔[9] آیا سجدہ شکر کے صحیح ہونے کے لیے سجدے کے دیگر اعضاء کا زمین پر رکھنا بھی ضروری ہے یا صرف پیشانی کا زمین پر رکھنا کافی ہے؟۔ اس بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔[10]

سجدہ شکر کے اذکار

سجدہ شکر کے لیے کوئی ایسا مخصوص ذکر مقرر نہیں کیا گیا جس کا پڑھنا صحتِ سجدہ کے لیے شرط ہو۔ اس میں ہر قسم کا ذکر اور دعا پڑھنا جائز ہے۔ البتہ روایات میں اس کے لیے مختلف اذکار اور دعائیں نقل ہوئی ہیں۔ امام رضاؑ سے منقول ہے کہ سجدہ شکر میں سو مرتبہ «شُکْراً شُکْراً» یا «عَفْواً عَفْواً» کہنا مستحب ہے۔[11] اسی طرح امام جعفر صادقؑ سے روایت ہے کہ نماز کے بعد سجدہ شکر میں کم از کم تین مرتبہ «شُکْراً لِلّٰہ» کہنا کافی ہے۔[12]

بعض روایات میں سجدہ شکر کے دوران «یَا رَؤُوفُ، یَا رَحِیمُ، یَا رَبُّ، یَا سَیِّدِی» پڑھنے اور اہل بیتؑ کی ولایت کی نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی بھی تاکید کی گئی ہے۔[13] یہ بھی نقل ہوا ہے کہ امام جعفر صادقؑ اور امام موسیٰ کاظمؑ سجدہ شکر میں کثرت سے یہ دعا پڑھا کرتے تھے: «اَسْألُک الرّاحَۃَ عِنْدَ الْمَوتِ وَ الْعَفْوَ عِندَ الْحِسابِ.»[14]

شرائط اور مستحبات

سجدہ شکر کے صحیح ہونے کے لیے طہارت اور قبلہ رخ ہونا شرط نہیں ہے؛[15] تاہم فقہاء نے ان دونوں امور(قبلہ رخ ہونے[16] اور طہارت[17]) کو سجدہ شکر کے مستحبات میں شمار کیا ہے۔ سجدے کو طویل کرنا، دونوں ہاتھوں کو زمین پر رکھنا، سینہ اور پیٹ کو زمین سے لگانا، تعفیرُ الجبین؛ (یعنی پہلے پیشانی کے دائیں اور پھر بائیں حصے کو زمین پر رکھنا)، وارد شدہ دعاؤں اور اذکار کا پڑھنا اور سجدے سے سر اٹھانے کے بعد ہاتھ سے جائے سجدہ کو مسح کرنا اور پھر ہاتھ کو چہرے اور جسم کے اگلے حصے پر پھیرنا سجدہ شکر کے دیگر مستحبات میں شامل ہیں۔[18]

بعض جزئی مسائل، جیسے سجدے کی جگہ کا مباح ہونا یا پیشانی رکھنے کی جگہ کا شرعاً صحیح ہونا وغیرہ کے سلسلے میں فقہاء کے مابین اختلافِ رائے پایا جاتا ہے۔[19]

پہلا سجدہ شکر

بعض تاریخی اور روائی مصادر کے مطابق اسلام میں سب سے پہلا سجدہ شکر، امام علیؑ نے انجام دیا تھا۔ واقعہ لیلۃ المبیت میں جب رسول اکرمؐ مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرما رہے تھے تو آنحضرتؐ نے امام علیؑ کو اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا۔ جب امام علیؑ کو رسول خداؐ کی سلامتی اور محفوظ رہنے کا یقین ہوگیا تو آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ شکر بجا لایا۔ اسی بنا پر بعض روایات میں اس سجدے کو اسلام کا پہلا سجدہ شکر قرار دیا گیا ہے۔[20]

حوالہ جات

  1. ↑ شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج1، ص333۔
  2. ↑ شیخ صدوق، ثواب الأعمال، 1406ھ، ص35۔
  3. ↑ مجلسی، بحارالأنوار، دار احیاء التراث العربی، ج53، ص161؛ حر عاملی، وسائل الشیعہ، مؤسسۃ اہل البیت لاحیاء التراث، ج6، ص409۔
  4. ↑ شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج‌1، ص331۔
  5. ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1365شمسی، ج10، ص234-240؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص584-585؛ کرکی، جامع المقاصد، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ج2، ص317۔
  6. ↑ شہید ثانی، مسالک الأفہام،‌ دار الہدی للطباعۃ والنشر، ج1، ص223؛ بحرانی، الحدائق الناضرۃ، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج8، ص351۔
  7. ↑ طریحی، مجمع البحرین، 1375شمسی، ج3، ص408۔
  8. ↑ کرکی، جامع المقاصد، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ج2، ص317۔
  9. ↑ شیخ طوسی، المبسوط، 1387شمسی، ج1، ص114۔
  10. ↑ کرکی، جامع المقاصد، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ج2، ص317؛ بحرانی، الحدائق الناضرۃ، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج8، ص349-350۔
  11. ↑ شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج1، ص332۔
  12. ↑ شیخ صدوق، من لایحضرہ الفقیہ، 1413ھ، ج1، ص333۔
  13. ↑ بروجردی، جامع احادیث، 1388شمسی، ج5، ص469۔
  14. ↑ قمی، مفاتیح الجنان، نشر اسوہ، ص99-102۔
  15. ↑ علامہ حلی، تذکرۃ الفقہاء، مؤسسۃ اہل البیت لاحیاء التراث، ج1، ص137؛ ج3، ص15۔
  16. ↑ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص312-313۔
  17. ↑ نجفی، جواہر الکلام، 1365شمسی، ج10، ص245۔
  18. ↑ کرکی، جامع المقاصد، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ج2، ص316-317؛ بحرانی، الحدائق الناضرۃ، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج8، ص347-349؛ ص352؛ طباطبایی یزدی، العروۃ الوثقی (محشی)، 1419ھ، ج2، ص585۔
  19. ↑ کرکی، جامع المقاصد، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، ج2، ص317؛ کاشف الغطا، کشف الغطاء، دفتر تبلیغات اسلامی، ج3، ص215؛ بحرانی، الحدائق الناضرۃ، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ج8، ص349-350۔
  20. ↑ مجلسی، بحار الانوار، 1403ھ، ج19، ص60۔

مآخذ

  • بحرانی، یوسف بن احمد، الحدائق الناضرۃ فی أحکام العترۃ الطاہرۃ، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی (التابعۃ) لجماعۃ المدرسین بقم المشرفۃ۔
  • بروجردی، سید حسین، جامع احادیث الشیعہ، مترجمان احمد اسماعیل تبار، احمدرضا حسینی، محمدحسین مہوری، تہران، فرہنگ سبز، 1388ہجری شمسی۔
  • حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشيعۃ إلی تحصيل مسائل الشريعۃ، قم، مؤسسۃ اہل البیت لاحیاء التراث۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین بن علی، مسالک الافہام، قم،‌دار الہدی للطباعۃ والنشر، تاریخ اشاعت درج نہیں۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال، دار الشریف الرضی للنشر، قم، دوسری اشاعت، 1406ھ۔
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، من لایحضرہ الفقیہ، محقق و مصحح: غفاری، علی‌اکبر، دفتر انتشارات اسلامی، قم، دوسری اشاعت، 1413ھ۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، المبسوط فی فقہ الإمامیۃ، تہران، مکتبۃ المرتضویۃ، 1387ہجری شمسی۔
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی (محشی)، محقق: احمد محسنی سبزواری، قم، دفتر انتشارات اسلامی، 1419ھ۔
  • طریحی، فحرالدین، مجمع البحرین، تحقق سید احمد حسینی، تہران، کتابفروشی، 1416ھ۔
  • علامہ حلی، حسن بن یوسف، تذکرۃ الفقہا، قم، مؤسسۃ اہل البیت لاحیاء التراث۔
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان، قم، نشر اسوہ، تاریخ اشاعت درج نہیں۔
  • کاشف الغطا، شیخ جعفر، کشف الغطاء عن مبہمات الشریعۃ الغراء، قم، دفتر تبلیغات اسلامی۔
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی، تاریخ اشاعت درج نہیں۔
  • محقق کرکی، علی بن حسین، جامع المقاصد، قم، مؤسسۃ آل البیت لاحیاء التراث، تاریخ اشاعت درج نہیں۔
  • نجفی، محمدحسن، جواہر الکلام، تہران،‌ دار الکتب الاسلامیۃ، 1365ہجری شمسی۔