مندرجات کا رخ کریں

"سورہ ملک" کے نسخوں کے درمیان فرق

ویکی شیعہ سے
imported>S.J.Mosavi
مکوئی خلاصۂ ترمیم نہیں
Hakimi (تبادلۂ خیال | شراکتیں)
سطر 19: سطر 19:
* اس سورت کی دوسری آیت میں خلقت، موت اور حیات کو آزمایش الہی اور صالح ترین افراد کے انتخاب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے؛
* اس سورت کی دوسری آیت میں خلقت، موت اور حیات کو آزمایش الہی اور صالح ترین افراد کے انتخاب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے؛
* اس سورت کی نویں آیت میں مذکور ہے کہ جب [[جہنم]] کے پہریدار پوچھیں گے "کیا تمہاری جانب کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا؟" تو وہ حسرت و افسوس کے ساتھ جواب دیں گے کہ " کیوں نہیں ہدایت کرنے والا ضرور آیا مگر ہم نے جھٹلایا"۔<ref>دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1257۔</ref>
* اس سورت کی نویں آیت میں مذکور ہے کہ جب [[جہنم]] کے پہریدار پوچھیں گے "کیا تمہاری جانب کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا؟" تو وہ حسرت و افسوس کے ساتھ جواب دیں گے کہ " کیوں نہیں ہدایت کرنے والا ضرور آیا مگر ہم نے جھٹلایا"۔<ref>دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1257۔</ref>
{{سورہ ملک}}


==متن سورہ==
==متن سورہ==

نسخہ بمطابق 15:27، 14 اگست 2018ء

تحریم سورۂ ملک قلم
ترتیب کتابت: 67
پارہ : 29
نزول
ترتیب نزول: 77
مکی/ مدنی: مکی
اعداد و شمار
آیات: 30
الفاظ: 335
حروف: 1388

سورہ ملک [سُورَةُ الْمُلْك] کو اس نام سے موسوم کیا گیا ہے کیونکہ اس کی پہلی آیت میں لفظ ملک استعمال ہوتا ہے۔ اس سورت کے مختلف عناوین سے معنون ہونے کا سبب یہ ہے کہ اپنے قاریوں اور اپنے مندرجات و احکام پر عمل کرنے والوں کو عذاب جہنم سے نجات دلاتی ہے اور دوزخ کی آگ کو ان تک نہیں پہنچنے دیتی۔

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (ترجمہ: بابرکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)[؟–1]

سورہ ملک، نام اور کوائف

  • اس سورت کو ملک کہتے ہیں کیونکہ اس کی پہلی آیت میں ہے کہ "بزرگ و برتر ہے وہ خدا جس کے ہاتھ میں "‌مُلک‌" (فرمانروائی) ہے۔
  • اس سورت کا دوسرا نام سورہ تبارک ہے کیونکہ اس کا آغاز اس لفظ سے ہوتا ہے اور یہ سورت بھی بہت سی دوسری سورتوں کی مانند ہے جن کے نام کا تعین ان کے ابتدائی لفظ سے ہوتا ہے اس سورت کو تبارک رکھا گیا۔
  • اس سورت کا تیسرا نام مانعہ یعنی باز رکھنے والی، چوتھا نام واقیہ (حفاظت کرنے والی) اور پانچواں نام منّاعہ (یعنی بہت زيادہ باز رکھنے والی اور روکنے والی) ہے۔
  • ان عناوین سے اس کے معنون ہونے کا سبب یہ ہے کہ یہ اپنے قاریوں کو دوزخ سے محفوظ رکھتی ہے اور دوزخ کی آگ کو ان تک نہیں پہنچنے دیتی۔
  • اس آیت کی آیات کی تعداد 30 اور بعض قراء کی رائے کے مطابق 31 ہے لیکن اول الذکر عدد مشہور ہے۔
  • یہ سورت ترتیب مصحف کے لحاظ سے قرآن کی سرسٹھویں اور ترتیب نزول کے لحاظ سے ستترویں سورت ہے۔
  • سورہ ملک مکی سورت ہے۔
  • یہ سورت سور مفصلات کے زمرے میں آتی ہے اور تقریبا نصف حزب کے برابر ہے۔ یہ سورت انتیسویں پارے کے آغاز میں مندرج ہے۔

مفاہیم

  • اس سورت کا آغاز اللہ کی فرمانروائی اور حاکمیت نیز قدرت مطلقہ کے حوالے سے تبریک و تحسین سے ہوتا ہے؛
  • اس سورت کی دوسری آیت میں خلقت، موت اور حیات کو آزمایش الہی اور صالح ترین افراد کے انتخاب کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے؛
  • اس سورت کی نویں آیت میں مذکور ہے کہ جب جہنم کے پہریدار پوچھیں گے "کیا تمہاری جانب کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا؟" تو وہ حسرت و افسوس کے ساتھ جواب دیں گے کہ " کیوں نہیں ہدایت کرنے والا ضرور آیا مگر ہم نے جھٹلایا"۔[1]
سورہ ملک کے مضامین[2]
 
 
 
 
کائنات اور انسانی زندگی پر اللہ کی حکمرانی اور تدبیر
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسرا گفتار؛ آیہ ۱۵-۳۰
انسانی زندگی میں اللہ کی تدبیری کی نشانیاں
 
دوسرا گفتار؛ آیہ ۶-۱۴
انسان کے انجام میں اللہ کی ربوبیت کے عقیدے کی تأثیر
 
پہلا گفتار؛ آیہ ۱-۵
کائنات پر اللہ کی فرمانروائی کی دلیلیں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلی نشانی؛ آیہ ۱۵-۱۸
انسان کے استفادے کے لیے زمین تیار کرنا
 
پہلا مطلب؛ آیہ ۶-۱۱
اللہ کی ربوبیت کے منکروں کی سزا اور اس کی علت
 
پہلی دلیل؛ آیہ ۱
دنیا کا اللہ کی ہمیشہ لطف سے وابستہ ہونا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری نشانی؛ آیہ ۱۹
آسمان پر پرندوں کی پرواز
 
دوسرا مطلب؛ آیہ ۱۲
ربوبیت الہی کے عقیدے کا اجر
 
دوسری دلیل؛ آیہ ۲
انسان کی حیات و ممات کی حکیمانہ تخلیق
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری نشانی؛ آیہ ۲۰-۲۲
انسانوں کے لیے اللہ کی مدد
 
تیسرا مطلب؛ آیہ ۱۳-۱۴
انسانی عقائد سے اللہ کا علم
 
تیسری دلیل؛ آیہ ۳-۵
ہم آہنگ اور بامقصد نظام کائنات
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چوتھی نشانی؛ آیہ ۲۳
انسان میں سماعت، بصارت اور تعقل کی طاقت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پانچویں نشانی؛ آیہ ۲۴-۲۷
انسان کا اللہ کی طرف جانا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
چھٹی نشانی؛ آیہ ۲۸-۲۹
مومنوں پر اللہ کی رحمت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
ساتویں نشانی؛ آیہ ۳۰
زمین پر پانی جاری کرنا


متن سورہ

سورہ ملک مکیہ ـ نمبر 67 ـ آیات 30 - ترتیب نزول 77
بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

تَبَارَكَ الَّذِي بِيَدِهِ الْمُلْكُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ﴿1﴾ الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ ﴿2﴾ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا مَّا تَرَى فِي خَلْقِ الرَّحْمَنِ مِن تَفَاوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرَى مِن فُطُورٍ ﴿3﴾ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنقَلِبْ إِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِأً وَهُوَ حَسِيرٌ ﴿4﴾ وَلَقَدْ زَيَّنَّا السَّمَاء الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَجَعَلْنَاهَا رُجُومًا لِّلشَّيَاطِينِ وَأَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِيرِ ﴿5﴾ وَلِلَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ ﴿6﴾ إِذَا أُلْقُوا فِيهَا سَمِعُوا لَهَا شَهِيقًا وَهِيَ تَفُورُ ﴿7﴾ تَكَادُ تَمَيَّزُ مِنَ الْغَيْظِ كُلَّمَا أُلْقِيَ فِيهَا فَوْجٌ سَأَلَهُمْ خَزَنَتُهَا أَلَمْ يَأْتِكُمْ نَذِيرٌ ﴿8﴾ قَالُوا بَلَى قَدْ جَاءنَا نَذِيرٌ فَكَذَّبْنَا وَقُلْنَا مَا نَزَّلَ اللَّهُ مِن شَيْءٍ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا فِي ضَلَالٍ كَبِيرٍ ﴿9﴾ وَقَالُوا لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ أَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِي أَصْحَابِ السَّعِيرِ ﴿10﴾ فَاعْتَرَفُوا بِذَنبِهِمْ فَسُحْقًا لِّأَصْحَابِ السَّعِيرِ ﴿11﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُم بِالْغَيْبِ لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ ﴿12﴾ وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ ﴿13﴾ أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ ﴿14﴾ هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِن رِّزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُورُ ﴿15﴾ أَأَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يَخْسِفَ بِكُمُ الأَرْضَ فَإِذَا هِيَ تَمُورُ ﴿16﴾ أَمْ أَمِنتُم مَّن فِي السَّمَاء أَن يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا فَسَتَعْلَمُونَ كَيْفَ نَذِيرِ ﴿17﴾ وَلَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ ﴿18﴾ أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الطَّيْرِ فَوْقَهُمْ صَافَّاتٍ وَيَقْبِضْنَ مَا يُمْسِكُهُنَّ إِلَّا الرَّحْمَنُ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ بَصِيرٌ ﴿19﴾ أَمَّنْ هَذَا الَّذِي هُوَ جُندٌ لَّكُمْ يَنصُرُكُم مِّن دُونِ الرَّحْمَنِ إِنِ الْكَافِرُونَ إِلَّا فِي غُرُورٍ ﴿20﴾ أَمَّنْ هَذَا الَّذِي يَرْزُقُكُمْ إِنْ أَمْسَكَ رِزْقَهُ بَل لَّجُّوا فِي عُتُوٍّ وَنُفُورٍ ﴿21﴾ أَفَمَن يَمْشِي مُكِبًّا عَلَى وَجْهِهِ أَهْدَى أَمَّن يَمْشِي سَوِيًّا عَلَى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ ﴿22﴾ قُلْ هُوَ الَّذِي أَنشَأَكُمْ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَّا تَشْكُرُونَ ﴿23﴾ قُلْ هُوَ الَّذِي ذَرَأَكُمْ فِي الْأَرْضِ وَإِلَيْهِ تُحْشَرُونَ ﴿24﴾ وَيَقُولُونَ مَتَى هَذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿25﴾ قُلْ إِنَّمَا الْعِلْمُ عِندَ اللَّهِ وَإِنَّمَا أَنَا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿26﴾ فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ ﴿27﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَهْلَكَنِيَ اللَّهُ وَمَن مَّعِيَ أَوْ رَحِمَنَا فَمَن يُجِيرُ الْكَافِرِينَ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ ﴿28﴾ قُلْ هُوَ الرَّحْمَنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ ﴿29﴾ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَصْبَحَ مَاؤُكُمْ غَوْرًا فَمَن يَأْتِيكُم بِمَاء مَّعِينٍ ﴿30﴾


ترجمہ
اللہ کے نام سے جو بہت رحم والا نہایت مہربان ہے

بابرکت ہے وہ جس کے ہاتھ میں سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے (1) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں سے کون اعمال کے لحاظ سے بہتر ہے اور وہ زبردست ہے بخشنے والا (2) جس نے سات آسمان بنائے تہ پر تہ تم اس بڑے فیض پہنچانے والے کی تخلیق میں کوئی بے نظمی نہیں پاؤ گے تو موڑو نگاہ کو کہ کیا تمہیں کوئی گڑ بڑ دکھائی دیتی ہے (3) پھر دوبارہ نگاہ موڑو تو نگاہ تمہاری طرف ناکام واپس آئے گی اس عالم میں کہ وہ تھکی ہوئی ہے (4) ہم نے نزدیک والے آسمان کو بڑے خاص چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور انہیں شیطانوں کے لئے تیرباراں کا ذریعہ بنایا اور ان کے لئے ہم نے دوزخ کا عذاب تیار رکھا ہے (5) اور ان کے لئے جنہوں نے اپنے پروردگار کے ساتھ کفر اختیار کیا، دوزخ کا عذاب ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے (6) جب وہ اس میں ڈالے جائیں گے تو اس کا ہولناک شور سنیں گے (7) اور وہ جوش میں ہو گا جیسے کہ غیظ وغضب کی شدت سے وہ پھٹا جاتا ہو جب اس میں کسی دستے کو ڈالا جائے گا تو وہاں کے پہریدار پوچھیں گے کیا تمہاری جانب کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا؟(8) وہ کہیں گے کیوں نہیں ہدایت کرنے والا ضرور آیا مگر ہم نے جھٹلایا، اور کہا کہ اللہ نے کچھ اتارا ہی نہیں ہے تم لوگ نہیں ہو مگر بڑی گمراہی میں (9) اور انہوں نے کہا اگر ہم سنتے یا سمجھتے تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے (10) اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اپنے جرم کا اقرار کر لیا تو لعنت ہو ان دوزخ والوں پر (11) بلاشبہ جو لوگ ان دیکھے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش ہے اور بڑا اجروثواب (12) اور تم چپکے چپکے اپنی بات چیت کرویا اسے آواز کے ساتھ کرو وہ تو سینوں کے اندر کی باتوں کا بھی جاننے والا ہے (13) کیا جس نے پیدا کیا ہے، وہ واقف نہ ہو گا؟ حالانکہ وہ باریک بین باخبر ہے (14) وہ وہ ہے جس نے زمین کو تمہارے لئے قابل استعمال بنا دیا ہے کہ چلو اس کے کاندھوں پر اور کھاؤ اس (اللہ) کی (دی ہوئی) روزی سے اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے (15) کیا تمہیں ڈر نہیں اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تمہیں زمین میں دھنسا دے تو وہ ایک دم ہچکولے کھانے لگے (16) یا تمہیں ڈر نہیں اس سے جو آسمان میں ہے کہ وہ تم پر پتھر برسانے والی ہوا بھیج دے تو بہت جلدی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ میری طرف کا ڈرانا کیسا ہوتا ہے (17) اور ان کے پہلے جو تھے، انہوں نے بھی جھٹلایا تو میری طرف کی سزا کیسی تھی (18) کیا انہوں نے نہیں دیکھا پرندوں کو اپنے اوپر پر پھیلائے ہوئے اور سمیٹ بھی لیتے ہیں، انہیں نہیں سنبھالے رہتا (کوئی) سوا (خدائے) رحمن کے وہی ہر چیز کی نگرانی کرنے والا ہے (19) آخر کون تمہارا لاؤ لشکر ہے جو اللہ کو چھوڑ کر تمہاری مدد کرے یہ کافر لوگ نہیں ہیں مگر دھوکے میں (20) آخر کون ہے یہ جو تمہیں روزی عطا کرے اگر وہ اپنی روزی کو روک لے، بلکہ وہ ہٹ دھرمی کے ساتھ سرکشی اور حق سے وحشت پر جمے ہوئے ہیں (21) تو کیا جو اوندھے منہ چل رہا ہو زیادہ صحیح راستہ پائے گا یا وہ جو سیدھا راہِ راست پر جا رہا ہو (22) کہئے وہی تو ہے جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے لئے سننے اور دیکھنے کی طاقتیں اور دِل ودماغ قرار دئیے مگر بہت کم تم شکر ادا کرتے ہو (23) کہئے کہ وہی ہے جس نے تمہیں اِدھر اُدھر پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تمہیں سمیٹ کر لے جایا جائے گا (24) اور وہ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (بتاؤ) کہ یہ وعدہ وعید پورا کب ہو گا؟(25) کہئے کہ اس کا علم تو بس اللہ کو ہے اور میں صرف صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں (26) تو جب وہ اسے نزدیک دیکھیں گے تو کافروں کے چہروں کا برا عالم ہو گا اور کہا جائے گا یہی ہے وہ جس کا تم تقاضا کرتے تھے (27) کہئے کہ کیا تم نے غور کیا ہے کہ اگر اللہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ختم بھی کر دے یا اپنی رحمت ہمارے شامل حال رکھے تو (بہرصورت) کافروں کو دردناک عذاب سے کون پناہ میں رکھے گا (28) کہئے کہ وہ خدائے رحمن ہے جس پر ہم ایمان لائے ہیں اور اسی پر بھروسا رکھتے ہیں اب تمہیں جلد ہی معلوم ہو جائے گا کہ کون کھلی ہوئی گمراہی میں ہے (29) کہئے کہ کیا تم نے غور کیا ہے اگر تمہارا پانی تہہ نشین ہو جائے تو کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پانی کے سوتے پھر جاری کر دیے (30)


پچھلی سورت: سورہ تحریم سورہ ملک اگلی سورت:سورہ قلم

1.فاتحہ 2.بقرہ 3.آل‌عمران 4.نساء 5.مائدہ 6.انعام 7.اعراف 8.انفال 9.توبہ 10.یونس 11.ہود 12.یوسف 13.رعد 14.ابراہیم 15.حجر 16.نحل 17.اسراء 18.کہف 19.مریم 20.طہ 21.انبیاء 22.حج 23.مؤمنون 24.نور 25.فرقان 26.شعراء 27.نمل 28.قصص 29.عنکبوت 30.روم 31.لقمان 32.سجدہ 33.احزاب 34.سبأ 35.فاطر 36.یس 37.صافات 38.ص 39.زمر 40.غافر 41.فصلت 42.شوری 43.زخرف 44.دخان 45.جاثیہ 46.احقاف 47.محمد 48.فتح 49.حجرات 50.ق 51.ذاریات 52.طور 53.نجم 54.قمر 55.رحمن 56.واقعہ 57.حدید 58.مجادلہ 59.حشر 60.ممتحنہ 61.صف 62.جمعہ 63.منافقون 64.تغابن 65.طلاق 66.تحریم 67.ملک 68.قلم 69.حاقہ 70.معارج 71.نوح 72.جن 73.مزمل 74.مدثر 75.قیامہ 76.انسان 77.مرسلات 78.نبأ 79.نازعات 80.عبس 81.تکویر 82.انفطار 83.مطففین 84.انشقاق 85.بروج 86.طارق 87.اعلی 88.غاشیہ 89.فجر 90.بلد 91.شمس 92.لیل 93.ضحی 94.شرح 95.تین 96.علق 97.قدر 98.بینہ 99.زلزلہ 100.عادیات 101.قارعہ 102.تکاثر 103.عصر 104.ہمزہ 105.فیل 106.قریش 107.ماعون 108.کوثر 109.کافرون 110.نصر 111.مسد 112.اخلاص 113.فلق 114.ناس


متعلقہ مآخذ

پاورقی حاشیے

  1. دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، ص1257۔
  2. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.

مآخذ